قول (۲۷): جب سیدنا امام شافعی مزارِ فائض الانوار حضرت امام اعظم پر تشریف لے گئے رضی اﷲ تعالٰی عنہما وعن اتباعہما، نماز صبح میں قنوت نہ پڑھی، لوگوں نے سبب پوچھا، فرمایا:
کیف اقنت بحضرۃ الامام وھو لایقول بہ ۱؎۔ ذکرہ سیدی علی الخواص والامام الشعرانی فی المیزان و نحوہ العلامۃ ابن حجر مکی فی خیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان فی اولہا واعادہ فی اٰخرھا عن بعض شراح منہاج الامام النووی وعن غیرہ ونحوہ فی عقود الجمان فی مناقب النعمان عن شیخ شیوخہ الامام الزاھد الولی شہاب الدین شارح المنہاج
میں امام کے سامنے کیونکر قنوت پڑھوں حالانکہ وہ اس کے قائل نہیں (اسے سیدی علی خواص نے اور امام شعرانی نے میزان الشریعۃ الکبرٰی میں ذکر کیا اور اسی کے ہم معنی علامہ ابن حجر نے ''الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان'' کے شروح میں ذکر کیا او راس کے آخر میں دوبارہ منہاج امام نووی کے بعض شارحین وغیرہ کے حوالہ سے ذکر کیا۔ اسی طرح عقود الجمان فی مناقب النعمان میں اپنے شیخ الشیوخ امام، زاہد، ولی اللہ شہاب الدین شارح منہاج سے نقل کیا۔ (ت)
(۱؎ المیزان الکبرٰی فصل فیما نقل عن الامام الشافعی مصطفی البابی مصر ۱ /۶۱)
بعض روایات میں آیا بسم اللہ شریف بھی جہر سے نہ پڑھی
نقلہ الفاضل الشامی فی ردالمحتار عن بعض العلماء وکذا الامام ابن حجر فی الخیرات الحسان ۔
اسے فاضل شامی نے ردالمحتار میں بعض علماء سے نقل کیا، ایسے ہی امام ابن حجر نے الخیراب الحسان میں ذکر کیا۔(ت)
بعض میں ہے تکبیرات انتقال میں رفع یدین نہ فرمایا، سبب دریافت ہوا، جواب دیا:
ادبنا مع ھذا الامام اکثر من ان نظھرخلافہ بحضرتہ ۲؎۔ ذکرہ علی القاری فی المرقاۃ ۔
اس امام کے ساتھ ہمارا ادب اس سے زائد ہے کہ ان کے حضور ان کا خلاف ظاہر کریں، (اسے ملاّ علی قاری نے مرقاۃ میں ذکر کیا۔ ت)
(۲؎ مرقاہ شرح مشکوٰۃ تذکرہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۳۰)
شرح لباب میں خاص بلفظ استحیا نقل کیا کہ امام شافعی نے فرمایا:
استحیی ان اخالف مذہب الامام فی حضورہ ۱ ؎۔ ذکرہ فی باب الزیارۃ النبویۃ نبوی، فصل المقام بالمدینۃ المنورۃ۔
مجھے شرم آتی ہے کہ امام کے سامنے ان کے مذہب کے خلاف کروں ، (اسے علامہ قاری نے شرح لباب، باب زیارت فصل اقامتِ مدینہ منورہ میں ذکر کیا۔ ت)
(۱؎ منسک متوسط مع ارشاد الساری فصل ولیغتنم ایام مقامہ بالمدینۃ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۳۴۲)
سبحان اللہ اگر اموات دیکھتے سنتے نہیں تو جہر واخفاء یارفع وترک ومکث قنوت وتعجیل سجود میں کیا فرق تھا ، ﷲ انصاف، اگر بنائے قبر حجاب مانع ہو توا مام ہمام کا سامنا کہاں تھا اور اس ادب ولحاظ کا کیا باعث تھا۔
قول (۲۸تا ۳۱): علامہ فضل اللہ بن غوری حنفی وغیرہ ایک جماعت علماء نے تصریح فرمائی کہ زیارت بقیع شریف میں قبہ حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ابتدا کرے کہ پہلے وہی ملتا ہے ہے تو بے سلام کے وہاں سے گزر جانا بے ادبی ہے۔ اسی طرح اس بقعہ پاک میں جو مزار پہلے آتا جائے اس پر سلام کرتا جائے کہ جو ذرا بھی عزت و عظمت رکھتا ہے اس کے سامنے سے بے سلام چلے جانا مروّت و ادب سے بعید ہے۔ مولانا علی قاری نے شرح لباب میں اسے نقل فرما کر مسلم رکھا، شیخ محقق نے جذب القلوب میں، بعض دیگر علما سے اس کی تحسین نقل کی ہے کہ یہ ایک عمدہ مقصد ہے جس کے ساتھ افضل واشرف کی رعایت نہ کرنی کچھ مضائقہ نہیں، مسلک مقتسط میں ہے۔
ذکر العلامۃ فضل اﷲ بن الغوری من اصحابنا ان البدائۃ بقبۃ العباس والختم بصفیۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما اولٰی لان مشہد العباس اول مایلقی الخارج من البلد عن یمینہ فمجاوزتہ من غیر سلام علیہ جفوۃ فاذاسلم علیہ وسلم علی من یمر بہ اولا فیختم بصفیۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا فی رجوعہ کما صرح بہ ایضا کثیر من مشائخنا۲؎ الخ۔
علامہ فضل اللہ بن غوری حنفی وغیرہ ایک جماعتِ علماء نے تصریح فرمائی کہ زیارت بقیع شریف میں قبہ حضرت عباس رضی ا للہ تعالٰی عنہ سے ابتداء کرے اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے مزار پر ختم کرے یہ بہتر ہے کیونکہ باہر والا جب دائیں طرف سے شروع کرے تو پہلے وہی ملتا ہے تو ان کو سلام کئے بغیر گزرجانا بے ادبی ہے، جب ان پر گزرے اور جو مزار پہلے آتا جائے سلام کرتا جائے ، تو واپسی مزار حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر ختم کرے جیساکہ بہت سے ہمارے مشائخ نے تصریح فرمائی الخ (ت)
(۲؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری فصل ولیغتنم ایام مقامہ بالمدینۃ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۳۴۵)
جذب القلوب میں ہے :
متاخیرین علماء اختلاف کردہ اند کہ ابتداء بزیارت کہ کند طائفہ برآنند کہ ابتداء بہ زیارت حضرت عباس کند وہرکہ باوے دریک قبہ آسود انداز ائمہ اہل بیت رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین زیرا کہ اسہل و اقرب است و از پیش ایشاں در گزشتن وبزیارت دیگراں متوجہ شدن نوعے ازجفا وسوئے ادب باشد الخ ۱؎۔
علمائے متاخرین نے اختلاف کیا ہے کہ زیارت میں ابتداء کسی سے کرے۔ ایک جماعت کے ہاں حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے ساتھ قبہ میں جو اہلبیت ائمہ کرام رضوان علیہم آرام فرماہیں سے شروع کرے کیونکہ یہ آسان اورا قرب ہے اور ان کے آگے سے بغیر سلام گزرجانا اور دوسروں کی زیارت میں متوجہ ہوجانا ایک قسم کی لاپروائی اور بے ادبی ہے۔ الخ (ت)
محصل کلام بعضے از علماء آں است کہ ابتداء قبہ عباس کند رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعمن معہ وبعد ازاں بہر کہ پیش آیا زیرا کہ ہر ابادنی جلالت شان بود بے سلام از پیش وے گزشتن وجائے دیگر رفتن از عالم مروت وحفظ طریقہ ادب بغایت دو راست قال بعضھم وھو مقصد صالح لا یضرمعہ عدم ریایۃ الافضل والاشرف ۲؎ الخ
بعض علماء کے کلام کا ماحاصل یہ ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ اور قبہ میں ان کے ساتھ والوں سے ابتداء کرے اور اس کے بعدہر پہلے آنے والے کو سلام کرتا جائے کیونکہ کسی ادنٰی شان والے سے بے سلام گزرنا اور دوسری جگہ چلے جانا بھی مروت اور حفظِ ادب سے بعید ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ مقصد صالح ہے جس کی وجہ سے افضل واشرف کی عدم رعایت مضر نہیں ا لخ (ت)
فصل پنجم افعال احیاء سے تاذی اموات میں :
قول (۳۲تا ۳۴): مراقی الفلاح میں فرمایا :
اخبرنی شیخ العلامۃ محمد بن احمد الحموی رحمہم اﷲ تعالٰی بانھم یتاذون بخفق النعال ۳؎۔
مجھے میرے استاذ علامہ محمد بن احمد حنفی رضی اللہ تعالٰی نے خبر دی کہ جوتی کی پہچل سے مرُدے کو ایذا ہوتی ہے۔
(۳؎ مراقی الفلاھ علی ھامش حاشیۃ الطحطاوی فصل فی زیارۃ القبور نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۴)
(۳۴)علامہ طحطاوی نے اس پر تقریر فرمائی ۔
قول (۳۵): حدیث میں جو تکیہ قبر پر لگانے سے ممانعت فرمائی اور اسے ایذائے میّت ارشاد ہوا جیسا کہ حدیث ۲میں گزرا، شیخ محقق رحمہ اللہ ا س پر شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں:
شاید کہ مراد آنست کہ روحِ وے ناخوش می دارد و راضی نیست بہ تکیہ کردن بر قبرے از جہت تضمن وے اہانت واستخفاف رابوی ۱؎ واللہ اعلم ،
ہوسکتا ہے کہ یہ مراد ہو کہ اس کی روح کو ناگوار ہوتا ہے اور وہ اپنی قبر پر تکیہ لگانے سے راضی نہیں ہوتی اس لیے کہ اس میں اس کی اہانت اور بے وقعتی پائی جاتی ہے، اور خدا خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
(۱؎ اشعتہ اللمعات باب دفن المیّت فصل ۳ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۹۹)