Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
188 - 243
قول (۱۳): اسی میں ہے :
ان الروح اذا انخلعت من ھذا الھیکل و انفکت من القبور بالموت تجول الی حیث شاءت ۲؎۔
بیشک روح جب اس قالب سے جدا اور موت کے باعث قیدوں سے رہاہوتی ہے جہاں چاہتی ہے جولان کرتی ہے۔
 (۲؎ التیسیر شرح جامع صغیر    تحت حدیث ان روحی المومنین   مکتبہ الامام الشافعی الریاض السعودیہ     ۱ /۳۲۰)
قول (۱۴): شرح الصدور میں منقول کہ دلائل قرآن وحدیث لکھ کر کہا :
فصح ان الارواح اجسام حاملۃ لاعراضھا من التعارف والتناکر وانھا عارفۃ متمیزہ  ۳؎۔
ان سے ثابت ہوا کہ روحیں اجسام ہیں اپنے اوصاف شناخت وناشناخت وغیرہ کی حامل جو بذاتِ خودا دراک و تمیز رکھتی ہے۔
(۳؎ شرح الصدور    باب مقرالارواح      خلافت اکیڈمی سوات       ص۹۹)
یہاں وہ تقریر یاد کرنی چاہئے جو زیر حدیث دوم گزری۔
قول (۱۵): مقاصد وشرح مقاصد علامہ تفتازانی میں ہے :
عند المعتزلۃ وغیرھم البدنیۃ المخصوصۃ شرط فی الادراک فعند ھم لایبقی ادراک الجزئیات عند فقد الاٰلات وعندنا یبقٰی و ھوالظاھر من قواعد الاسلام ۴؎۔
معتزلہ وغیرہم کے مذہب میں یہ بدن شرط ادراک ہے توان کے نزدیک جب اس کے آلات نہ رہے ادراک جزئیات بھی نہ رہا اور ہم اہل سنت وجماعت کے مذہب میں باقی رہتاہے اور یہی ظاھر ہے قواعد دین اسلام سے۔
 (۴؎ شرح المقاصد    المبحث الرابع مدر ک الجزئیات   دارالمعارف النعمانیہ لاہور    ۲ /۴۳)
قول (۱۶): لمعات شرح مشکوٰۃ میں ہے :
سیبیہ الحواش للاحساس وللادراک عادیۃکما تقرر فی المذھب اما العلم فبالروح و ھو باق ۱؎ اھ ملتقطا۔
حواس کا سبب احساس وادراک ہونا اک امر عادی ہے جیساکہ مذہب اہل سنت میں ثابت ہوچکا اور علم توروح سے ہے وہ باقی ہے اھ مختصراً۔
 (۱؎ لمعات شرح مشکوٰۃ        کتاب ا لجہاد)
قول (۱۷): امام سیوطی فرماتے ہیں :
ذھب اھل الملل من المسلمین وغیر ھم الی ان الروح تبقی بعد موت البدن و خالف فیہ الفلاسفۃ دلیلتا ماتقدم من الاٰیات والاحادیث فی بقائھا وتصرفہا ۲؎ الخ (ملخصاً)
تمام اہل ملت مسلمین اور ان کے سوا سب کا یہی مذہب ہے کہ روحیں بعد موت بدن باقی رہتی ہیں فلاسفہ یعنی بعض مدعیان حکمت نے اس میں خلاف کیا ، ہماری دلیل۔ وہ آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے ثابت کہ روح بعد موت باقی رہتی اور تصرفات کرتی ہے۔ الخ
 (۲؎ شرح الصدور        خاتمہ فی فوائد تتعلق بالروح    خلافت اکیڈمی سوات        ص۱۳۵)
قول (۱۸): ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ہے :
قد انکرعذاب القبر بعض المعتزلۃ والروافض محتجین  بان المیّت جماد لاحیاۃ لہ ولاادراک ۳؎الخ۔
بعض معتزلہ اور روافض عذاب قبر سے منکر ہوئے یہ حجت لا کر کہ مُردہ جماد ہے نہ اس کے لیے حیات ہے نہ ادراک الخ۔
 (۳؎ ارشاد الساری شرح البخاری    باب قتل ابی جہل            دارالکتب العربی بیروت    ۶ /۲۵۵)
قول  (۱۹): کشف الغطاء مستند مولوی اسحٰق دہلوی میں ہے :
مذہب اعتزال است کہ گویند میّت جماد محض است۴؎۔
میّت کو جماد محض بتانا معتزلہ کا مذہب ہے۔ (ت)
 (۴؎ کشف الغطاء	   فصل در احکام دفن میت 	مطبع احمدی دہلی 	  ص ۵۷ )
قول (۲۰): اسی میں ہے :
فرقے نیست در ارواح کا ملان درحین حیات و بعدا ز ممات مگر بترقیہ کمال۵؎۔
اہل کمال کی روحوں میں حالتِ حیات  وموت میں کوئی فرق نہیں ہوتا سوا اس کے کہ بعد موت کمالات میں ترقی ہوجاتی ہے۔ (ت)
 (۵؎ کشف الغطاء	فصل در احکام دفن میت 	مطبع احمدی دہلی 	  ص ۵۷ )
فصل سوم : ان تصریحوں میں کہ اموات کے علم وادراک دینا و اہل دینا کو بھی شامل۔

قول (۲۱): امام جلال الدین سیوطی رسالہ منظومہ انیس الغریب میں فر ماتے ہیں: ؎
یعرف من یغسلہ ویحمل    ویبلس الاکفان ومن ینزل۱؎

(مُردہ اپنے نہلانے والے، اٹھانے والے، کفن پہنانے والے، قبر میں اتارنے والے سب کو  پہچانتا ہے)
 (۱؎ انیس الغریب)
قول (۲۲تا ۲۴): امام ابن الحاج مدخل اور(۲۳) امام قسطلانی مواہب اور (۲۴)علامہ زرقانی شرح میں تقریراً فرماتے ہیں :
واللفظ لاحمد من انتقل الٰی عالم البرزخ من المؤمنین یعلم احوال الاحیاء غالباً وقد وقع کثیر من ذلک کما ھو مسطور فی مظنۃ ذلک من الکتب۲؎۔
احمد کے الفاظ ہیں جو مسلمان برزخ میں ہیں اکثر احوال احیاء پر رکھتے ہیں اور یہ امر بکثرت واقع ہے جیسا کہ کتابوں میں اپنے محل پر مذکور ہے۔
 (۲؎ المواہب اللدنیہ    من آداب الزیارت    المکتب الاسلامی بیروت    ۴ /۵۸۱)

( زرقانی علی مواہب اللدنیہ    المقصد العاشر      المطبعۃ العامرہ مصر        ۸ /۳۴۹)

(المدخل   فصل فی الکلام علٰی زیارت سیدا لاولین    دارالکتب العربیہ بیروت    ۱ /۲۵۳)
قول (۲۵): اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں علم وادراکِ مَوتٰی کی تحقیق وتفصیل لکھ کر فرماتے ہیں :
بالجملہ کتاب وسنت مملو ومشحون اند باخبار  و آثار کہ دلالت مے کند بر وجود علم موتٰی بدنیا واہل آں  پس منکر نہ شود آں  را مگر جاہل باخبار ومنکر دین ۳؎۔
الحاصل کتاب و سنت ایسے اخبار وآثار سے لبریز ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ مردوں کو دینا واہل دنیا کا علم ہوتا ہے تو اس کا انکار  وہی کرے گا جو اخبار و احادیث سے بے خبر اور دین منکر ہو۔ (ت)
 (۳؎ اشعۃ اللمعات     کتاب الجہاد    فصل اول       نوریہ رضویہ سکھر        ۳ /۴۰۱)
فصل چہارم: اموات سے حیا کرنے میں۔

قول (۲۶): ابن ابی الدنیا کتاب القبور میں سلیم بن عمیر سے راوی، وہ ایک مقبرہ پر گزرے، پیشاب کی حاجت سخت تھی، کسی نے کہا یہاں اتر کر قضائے حاجت کر لیجئے، فرمایا:
سبحان اﷲ واﷲ انی لایستحیی من الاموات کما استحیی من الاحیاء ۴؎۔
سُبحان اللہ! خدا کی قسم میں مردوں سے ایسی ہی شرم رکھتا ہوں جیسی زندوں سے۔
 (۴؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    بحوالہ ابن ابی الدنیا    زیارت القبور     مکتبہ امدادیہ ملتان    ۴ /۱۱۷)
Flag Counter