روایت دوم : وہی عالی جناب حضرت سیدی ابو علی قدس سرہ، سے راوی، میں نے ایک فقیر کو قبر میں اتارا، جب کفن کھولا اور ان کا سر خاک پر رکھ دیا کہ اللہ ان کی غربت پر رحم کرے، فقیر نے آنکھیں کھول دیں اور مجھ سے فرمایا:
یا اباعلی أتذلنی بین یدی و من دللنی۳؎۔
اے ابو علی ! مجھے اس کے سامنے ذلیل کرتے ہو جو میرے ناز اٹھاتا ہے۔
(۳؎ الرسالۃ القشیریۃ باب احوالھم عند الخروج من الدنیا مصطفی البابی مصر ص۱۴۰)
میں نے عرض کی:ا ے سردار میرے! کیا موت کے بعد زندگی؟ فرمایا:
میں زندہ ہوں اور خدا کا ہر پیارا زندہ ہے بیشک وہ جاہت وعزت جو روز قیامت میں ملے گی اس سے تجھے کوئی ضرر نہ پہنچے گا بلکہ میں تیری مدد کروں گا اے روذ باری۔
(۴ ؎ الرسالۃ القشیریۃ باب احوالھم عند الخروج من الدنیا مصطفی البابی مصر ص ۱۴۰)
روایت سوم : وہی جناب مستطاب حضرت ابراہیم بن شیبان قدس سرہ، سے راوی، میرا ایک مرید جوان مرگیا، مجھے سخت صدمہ ہوا، نہلانے بیٹھا، گھبراہٹ میں بائیں طرف سے ابتداء کی، جوان نے وہ کروٹ ہٹا کر اپنی داہنی کروٹ میری طرف کی، میں نے کہا: جان پدر ! تو سچّا ہے مجھ سے غلطی ہوئی۔
روایت چہارم : وہی امام حضرت ابویعقوب سوسی نہر جوری قدس سرہ، سے راوی، میں نے ایک مرید کو نہلانے کے لیے تختے پر لٹایا اس نے میرانگوٹا پکڑلیا میں نے کہا: جان پدر ! میں جانتا ہوں کہ تو مُردہ نہیں یہ تو صرف مکان بدلنا ہے۔ لے میرا ہاتھ چھوڑ دے۔۱؎
(۱الرسالۃ القشیریۃ فصل فان قیل فما الغالب علی الولی فی حال الخ مصطفی البابی مصر ص۱۷۰)
روایت پنجم: جناب ممدوح انہی عارف موصوف سے راوی، مکہ معظمہ میں ایک مرید نے مجھ سے کہا پیر ومرشد! میں کل ظہر کے وقت مرجاؤں گا، حضرت! یہ اشرفیاں لیں اور آدھی میں میرا دفن آدھی میں میرا کفن کریں، جب دوسرا دن ہوا اور ظہر کاوقت آیا مرید مذکور نے آکر طواف کیا۔ پھر کعبہ سے ہٹ کر لیٹا تو روح نہ تھی، میں نے قبر میں اتارا، آنکھیں کھول دیں، میں نے کہا: موت کے بعد زندگی کہاں؟
اناحی وکل محب اﷲ حی۲؎
میں زندہ ہوں اوراللہ کا ہر دوست زندہ ہے۔
(۲؎الرسالۃ القشیریۃ فصل فان قیل فما الغالب علی الولی فی حال الخ مصطفی البابی مصر ص ۱۷۱)
اس قسم کی صدہا روایات کلماتِ ائمہ کرام میں مذکور
ومن لم یجعل اﷲ لہ نورا فمالہ من نور ۳؎
(اور خدا جسے نور نہ دے اس کے لیے کوئی نور نہیں۔ ت)
(۳؎ القرآن ۲۴ /۴۰)
فصل دوم: موت سے روح میں اصلاً تغیر نہیں آتا اور اس کے علوم وافعال (عہ)بدستور رہتے ہیں بلکہ زیادہ ہوجاتے ہیں، پھر جمادیت کیسی اوراثبات تخصیص ادراک۔ ذمہ مخصص۔
عہ: امام سیو طی شرح الصدور میں مذہب اہلسنت کتاب الروح سے یوں نقل فرماتے ہیں :
ان الروح ذات قائمہ بنفسھا تصعد وتنزل وتتصل وتنفصل وتذھب وتجیئ وتتحرک وتسکن وعلی ھذا اکثرمن مائۃ دلیل مقررۃ۴ ؎۔
یعنی روح ایک مستقل ذات ہے کہ چڑھتی اترتی ملتی جدا ہوتی آتی جاتی حرکت کرتی ساکن ہوتی ہے اور اس پر سو سے زیادہ دلائل ثابت ہوتے ہیں۔ (م)
النفس باقیۃ بعد موت البدن عالمۃ باتفاق المسلمین بل غیرالمسلمین من الفلاسۃ وغیرھم ممن یقول ببقاء النفوس یقولون بالعلم بعد الموت ولم یخالف فی بقاء النفوس الا من لایعتد بہ ۱؎ اھ ملتقطا۔
یعنی مسلمان کا اجماع ہے کہ روح بعد مرگ باقی اور علم وادراک رکھتی ہے۔ بلکہ فلاسفہ وغیرہم کفار بھی علم مانتے ہیں اور بقائے روح میں کسی نے خلاف نہ کیا مگر ایسوں نے جو کسی گنتی شما ر میں نہیں اھ ملتقطا۔
فیھا دلالۃ علی ان الارواح جواھر قائمۃ بانفسھا مغائرۃ لما یحس بہ من البدن تبقٰی بعد الموت دراکۃ وعلیہ جمہور الصحابۃ والتابعین وبہ نطقت الاٰیات والسنن ۲؎۔
یہ آیۃکریمہ دلیل ہے کہ روحیں جوہر قائم بالذات میں یہ بدن جو نظر آتی ہے اس کے سوا اور چیز ہیں، موت کے بعد اپنے اسی جوش ادراک پر رہتی ہیں، جمہور صحابہ وتابعین کایہی مذہب ہے اور اس پر آیات و احادیث ناطق۔
(۲؎تفسیر بیضاوی تحت آیۃ بل احیاء ولکن لایشعرون مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۷)
قول (۸): امام غزالی احیاء ف میں فرماتے ہیں :
لاتظن ان العلم یفارقک بالموت فالموت لایھدم محل العلم اصلا ولیس الموت عدما محضاً حتی تظن انک اذا عدمت عدمت صفتک۳؎۔
یہ گمان نہ کرنا کہ موت سے تیرا علم تجھ سے جدا ہوجائیگا کہ موت محلِ علم یعنی روح کا توکچھ نہیں بگاڑتی، نہ وہ نیست ونابود ہوجانے کا نام ہے کہ تو سمجھے جب تو نہ رہا تیرا وصف یعنی علم وادراک بھی نہ رہا۔
(۳؎ التیسیر بحوالہ الغزالی تحت حدیث من طلب العلم الخ مکتبہ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ۲ /۴۲۹)
ف: سعی بسیار کے باوجود حوالہ احیاء العلوم سے دستیاب نہیں ہوسکا، تیسیر میں بحوالہ الغزالی بعینہٖ یہ عبارت موجود ہے اس لیے تیسیر سے یہ حوالہ نقل کیا ہے۔ نذیر احمد
قول (۹، ۱۰): امام نسفی عمدۃ الاعتقاد، پھر علامہ نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں:
ا لروح لا یتغیر بالموت۴؎۔
مرنےسے روح میں کچھ نہیں آتا۔
(۴؎ الحدیقۃ الندیۃ الباب الثانی فی الامور الھمۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۲۹۰)