Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
186 - 243
نوعِ اول : ا قوال علماء سلف وخلف میں، ایک تمہید اور پندرہ (۱۵) فصل پر مشتمل۔

(۱) ابن عساکر تاریخ دمشق میں امام محمد بن وضاح سے راوی، امام اجل سحنون بن سعید قدس سرہ، سے کہا گیا ایک شخص کہتا ہے بدن کے مرنے سے روح بھی مرجاتی ہے۔فرمایا:
معاذاﷲ ھذا من قول اھل البدع ۱ ؎
خدا کی پناہ یہ بدعتیوں کا قول ہے۔
(شرح الصدور   بحوالہ ابن عساکر   خاتمۃ فی فوائد تتعلق بالروح     خلافت  اکیڈمی منگورہ سوات   ص۱۳۵ )
(۲) امام ابن امیرالحاج خاتمہ حلیہ میں دربارہَ فوائد غسلِ میّت فرماتے ہیں:
اذا اعتنی المولی بتطھیر جسد یلقی فی التراب تنبہ العبد الی تطہیر ماھوا باق وھو النفس فانہ لایفنی عند اھل السنۃ والجماعۃ ؂۱ ۔
یعنی جب بندہ دیکھے گا کہ مولٰی تبارک وتعالٰی نے ہم  پر اس بدن کی تطہیر فرض کی جو خاک میں ڈالا جائیگا تو متنبہ ہو گا کہ اس کی تطہیر اور بھی ضرور  ہے جو باقی رہنے والا ہے یعنی روح کہ اہل سنت وجماعت کے نزدیک فنا نہیں ہوتی۔
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
 (۳) امام غزالدین بن عبدالسلام (عہ۱) فرماتے ہیں کہ:
لا تموت ارواح الحیاۃ بل ترفع الی السماء حیۃ  ۲؎۔
روحیں مرتی نہیں بلکہ زندہ آسمان کی طرف اُٹھالی جاتی ہیں۔
عہ۱:  نقلہ فی شرح الصدور وعن امالیہ۱۲ منہ (م)
اسے شرح الصدور میں ان کے امالی سے نقل کیا ۔ ت
 (۲؎ شرح الصدور     بحوالہ عزالدین بن عبدالسلام    خاتمہ فی فوائد تتعلق بالروح    خلافت اکیڈمی سوات    ص۱۳۴)
 (۴) امام جلال الحق والدین سیوطی شرح الصدور میں ناقل،
باقیہ بعد خلقھا بالاجماع ۳ ؎
روحیں پیدائش کے بعد بالاجماع جاوداں رہتی ہیں۔
 (۳؎ شرح الصدور          بحوالہ کتاب ابن قیم        خاتمہ فی فوائد تتعلق بالروح    خلافت اکیڈمی سوات    ص ۱۳۵)
 (۵) خودا مام ممدوح اس امرکی تائید کہ شہداء کی زندگی صرف روحانی بلکہ روح وبدن دونوں سے ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں:
لوکان المرادحیات الروح فقط لم یحصل لہ تمیز عن غیرہ لمشارکۃ سائرا لاموات لہ فی ذلک ولعلم المومنین باسرھم حیاۃ کل الارواح فلم یکن لقولہ تعالٰی ولکن لاتشعرون ۴؎۔
یعنی اگر آیت کریمہ میں حیات شہید سے صرف زندگی روح مراد ہوتی ہے تو اس میں اس کی کیا خصوصیت تھی، یہ بات تو  ہر مُردے کو حاصل ہے اور تمام مسلمان جانتے ہیں کہ سب کی روحیں بعد موت زندہ رہتی ہیں۔ حالانکہ حیات شہداء کی نسبت آیت میں فرمایا کہ تمھیں خبرنہیں یہاں سے اجماع صحابہ ثابت ہوا۔
 (۴؎ شرح الصدور    باب زیارۃ القبور        خاتمہ فی فوائد تتعلق بالروح    خلافت اکیڈمی سوات  ص۸۵)
فصل اوّل : موت صرف ایک مکان سے دوسرے مکان میں چلا جاتا ہے نہ کہ معاذ اﷲ جماد ہوجانا۔

قول (۱): ابو نعیم حلیہ میں بلال (عہ) بن سعد رحمۃ اﷲ تعالٰی سے راوی کہ اپنے وعظ میں فرماتے :
یا اھل الخلوت یا اھل البقاء انکم لم تخلفوا للفناء وانما خلقتم للخلوت و الابداولکنکم تتقلون من دارٍ الٰی دار  ۱؎۔
اے ہمیشگی والو! اے بقا والو! تم فنا کو نہ بنے بلکہ دوام وہمیشگی کے لیے بنے ہو، ہاں ایک گھر سے دوسرے گھر میں چلے جاتے ہو ۔
عہ ۲: تابعی جلیل ،عابد، فاضل، ثقہ، رجال نسائی وغیرہ سے  ۱۲منہ (م)
(۱؎ شرح الصدور     بحوالہ حلیہ    باب فضل الموت    خلافت اکیڈمی منگورہ سوات    ص۵)
قول (۲): شرح الصدور میں ہے :
قال العلماء الموت لیس بعدم محض ولافناء صرف وانما ھو انقطاع تعلق الروح بالبدن ومفارقۃ وحیلولۃ بینھما وتبدل حال وانتقال من دارالی دار۲ ؎۔
علماء نے فرمایا موت کے یہ معنی نہیں کہ آدمی نیست ونابُود ہوجائے بلکہ وہ تویہی روح وبدن کے تعلق چھونے اور ان میں حجاب وجُدائی ہوجانے اور ایک طرح کی حالت بدلنے اور  ایک گھر سے دوسرے گھر چلے جانے کا نام ہے۔
 (۲؎ شرح الصدور     بحوالہ حلیہ    باب فضل الموت    خلافت اکیڈمی منگورہ سوات    ص۵)
تنبیہ :  تعلق چھوٹنے کے یہ معنی کہ وہ علاقہ معہودہ جو عالم حیات تھا، جاتا رہا۔اور اس طرح حجاب و جدائی ہوجانے سے یہ مراد کہ ویسا اتصال تام باقی نہیں، ورنہ مذہب اہلسنت میں روح کو بعدموت بھی بدن سے ایک تعلق واتصال رہتا ہے جیسا کہ فصولِ آئندہ کے اقوال کثیرہ میں آئے گا ان شاء اللہ تعالٰی۔
 (۳): جامع البرکات میں فرمایا :
موت عدم محض میّت چنانکہ وہریاں وطبعیان گویند بلکہ انتقال  ست از حالے بحالے واز دارے بدارے ۳؎۔
موت نیست ونابود ہوجانے کا نام نہیں جیسا کہ دہریہ اور طبعیین کہتے ہیں بلکہ ایک حال سے دوسرے حال اور ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہوجانے کا نام ہے۔ (ت)
 (۳؎ جامع البرکات    )
قول (۴): اشعۃ المعات شرح مشکوٰۃ میں فرمایا کہ:
اولیائے خدا نقل کردہ شد ندازیں دارفانی بہ دار بقا و زندہ اند نزد پروردگار و مرزوق اند خوشحال اند ومردم را ازاں شعور نیست  ۴؎۔
اولیاء اس دارفانی سے دار بقاء میں منتقل کردئے جاتے ہیں، وہ اپنے پرورگار کے یہاں زندہ ہیں، انھیں رزق ملتا ہے اور خوشحال رہتے ہیں او رلوگوں کو اس کی خبر نہیں۔ (ت)
 (۴؎اشعۃ المعات    باب حکم الاسراء فصل    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳ /۴۰۲)
قول (۵): مرقاۃشرح مشکوٰۃ میں فرمایا:
لافرق لھُم فی الحالین ولذا قیل اولیاء اﷲ لایموتون ولکن تنتقلون من دار الٰی دار  ۱؎۔
اولیاء کی دونوں حالت و ممات میں اصلاً فرق نہیں،ا سی لیے کہا گیا کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر تشریف لے جاتے ہیں ۔
 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    کتاب الصلٰوۃ    باب الجمعہ         مکتبہ امدادیہ ملتان    ۳ /۲۴۱)
روایت مناسبہ (عہ): امام عارف باﷲ استاذ ابوالقاسم قشیری قدس سرہ، اپنے رسالہ میں بسند خود حضرت ولی مشہور سیدنا ابو سعید خراز قدس سرہ الممتاز سے راوی کہ میں مکہ معظمہ میں تھا بابِ بنی شیبہ پر ایک جوان مُردہ پڑا پایا۔ جب میں نے اس کی طرف نظر کی، مجھے دیکھ کر مسکرایا اور کہا:
یا ابا سعید اماعلمت ان الاحباء احیاء و ان ماتوا وانما ینقلون من دار الٰی دار  ۲؎۔
اے ابو سعید! کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ کے پیارے زندہ ہیں اگر چہ مرجائیں، وہ تو یہی ایک گھر سے دوسرے گھر میں بلائے جاتے ہیں ۔
عہ : ھذہ والاربعۃ بعدھا کل ذلک فی شرح الصدور ۱۲ منہ (م)
یہ روایت  اور اسکے بعد کی دوچاروں روایتیں سب شرح الصدور میں ہیں۔ (ت)
 (۲ ؎ الرسالۃ القشیریۃ     باب احوالھم عند الخروج من الدنیا    مصطفی البابی مصر    ص۱۴۰)
Flag Counter