تنبیہ: فقیر غفراللہ تعالٰی لہ، نے ان ائمۃ سلف وعلمائے خلف سے صرف سے انھی اکابر کے اسمائے طیبہ گِنے جن کے کلام میں خاص سماع وادراک وعلم و شعور اہل قبور کے نصوص خاص قاہرہ یادلائل باہرہ ہیں، پھر ان میں بھی حصر استتیعاب کا قصد نہ کیا کہ اس کی راہ میں بلاد شاسعہ و برابری واسعہ وجبال شاہقہ وبحار زاخرہ ہیں، بلکہ حاشا وہ بھی بالتمام (عہ) ذکر نہ کیے جن کے اقوال ہدایت اشتمال اس وقت میرے سامنے جلوہ فرما و متیسر حالت حاضرہ ہیں،
فتلک مائۃ کاملۃ فیھم وفاء القلوب وفاء عاقلۃ
(یہ مکمل سَو ہیں جو اصحاب مہم کے لیے کافی ہیں۔ ت) ؎
اولئک ساداتی فجئنی بمثلھم اذ اجمعتنا یا جریر المجامع ۱؎
(یہ ہیں میرے سردار، پس توان کی مثل پیش کر، اے جریر جب محفلیں ہم سب کو اکھٹا کریں)
عہ: قولہ وہ بھی بالتمام ذکر نہ کیے، اقول ا س دعوٰی کی صحت پر خود یہی رسالہ دلیل کافی ہے۔ ناظر اول تا آخر اس کے مقامات کو مطالعہ کرے گا تو ائمہ مذکورین کے سوا بہت علماء ومشائخ کے اسماء دیکھے گا۔ میں اتمام کلام کو ان کے نام بھی شمار کرتا اورعدد کو پونے دوسو (۱۷۵) نام تک پہنچاتا ہوں، متن میں سو ائمہ سلف وخلف اور دس معتمدین مخالف کے اسماء گنائے کہ سب ایک سو دس ہوئے۔ آگے چلئے
من الصحاب والتابعین واتباعھم:
(۱۱۱) حضرت عبداللہ بن سلام (۱۱۲)حضرت ام المومنین صدیقہ (۱۱۳)حضرت امام زین العابدین علی بن حسین بن علی مرتضٰی (۱۱۴)حضرت امام حسن مثنٰی ابن حسن مجتبٰی ابن مولٰی مشکل کشا صلی اللہ علٰی سیدہم وبارک وسلم دائماً ابداً (۱۱۵) افضل التابعین امام سعید بن المسیب (۱۱۶) حبان بن ابی حیلہ (۱۱۷) ابن مینا (۱۱۸) ابوقلابہ بصری (۱۱۹) سلیم بن عمیر (۱۲۰) عبداللہ بن ابن نجیح مکی من العلماء والاولیاء من کلا النوعین المذکورین فی المتن (۱۲۱) امام محدث مفسر مجتہد ابن جریر طبری (۱۲۲) امام محدث اجل ابو محمد عبدالحق صاحب احکام کبرٰی واحکام صغرٰی (۱۲۳) امام ابو عمرو بن الصلاح محدث (۱۲۴) امام قاضی مجدد الشریعۃ کرمانی (۱۲۵) امام اجل ابوالبرکات عبداللہ نسفی صاحب تصانیف مشہورہ (۱۲۶) امام علامہ بدالدین محمود عینی احمد عینی حنفی صاحب عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری (۱۲۷) علامہ ابن ملک شارح مشارق الانوار (۱۲۸) علامہ فضل اللہ بن الغوری حنفی (۱۲۹)امام فخر الدین ابو محمد عثمان بن علی زیلعی صاحب تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق (۱۳۰) محمد بن محمد حافظ بخاری صاحب فصل الخطاب (۱۳۱) امام شہاب الدین شارح منہاج استاذ ابن حجر مکی (۱۳۲) حضرت سیدی علی قرشی قدس سرہ العرشی (۱۳۳) امام جلیل نورالدین ابوالحسن علی مصنف بہجۃ الاسرار (۱۳۴) امام مجدالدین عبداللہ بن محمود موصلی حنفی صاحب مختار و اختیار (۱۳۵) صاحب مطالب المومنین (۱۳۶) صاحب خزانۃ الروایات (۱۳۷) صاحب کنز العباد، ہرسہ از مستندان متکلمین طائفہ (۱۳۸) علامہ جمہوری صاحب تصانیف کثیرہ (۱۳۹)علامہ زیادی (۱۴۰)علامہ داؤدی شارح منہج (۱۴۱) علامہ حلبی محشی صاحب درمختار (۱۴۲) شیخ احمد نخلی (۱۴۳) شیخ احمد شناوی (۱۴۴) شیخ احمد قشاشی (۱۴۵) مولانا ابراہیم کردی استاذ الاستاذ شاہ ولی اللہ صاحب (۱۴۶)مولٰنا ابوطاہر مدنی خاص استاذ شاہ ولی اللہ (۱۴۷) مولانا محمد بن حسین کبتی حنفی مکی (۱۴۸) مولانا حسین ابراہیم مالکی مکی (۱۴۹)حضرت مولٰنا شیخ الحرم احمد زین دھلان شافعی مکی مصنف سیرت نبویہ ورَدِّ وہابیہ وغیرہما تصانیف علیہ (۱۵۰) مولانا محمد بن غرب شافعی مدنی (۱۵۱) مولٰنا عبدلجبار حنبلی بصری مدنی (۱۵۲) مولٰنا ابراہیم بن خیار شافعی مدنی (۱۵۳)عبد صالح ہاشم بن محمد (۱۵۴) ان کے والد ماجد محمد عمری مدنی (۱۵۵) حضرت سیدی ابویزید بسطامی (۱۵۶)حضرت سیدی ابوالحسن خرقانی (۱۵۷) حضرت سیدی ابوعلی فارمدی (۱۵۸) حضرت سیدی ابوسعید خراز (۱۵۹) حضرت ستاد امام ابوالقاسم قشیری۔ (۱۶۰)حضرت عارف باﷲسیدی ابی علی (۱۶۱)حضرت سیدی ابراہیم بن شیبان (۱۶۲)حضرت سیدی ابویعقوب (۱۶۳) حضرت سیدی علی خواص شیخ امام شعرانی (۱۶۴)حضرت میر ابولعلی اکبر ا ۤبادی سردار سلسلہ نقشبندیہ ابوالعلائیہ (۱۶۵) شاہ محمد غوث گوالیاری صاحب جواہر خمسہ (۱۶۶) مولانا وجیہ الدین علوی شیخ حضرت مولٰناعبدالحق محدث دہلوی (۱۶۷) حضرت سیدصبغتہ اللہ بروجی (۱۶۸) شیخ بایزید ثانی (۱۶۹) مولٰنا عبدالملک (۱۷۰) شیخ اشرف لاہوری (۱۷۱) شیخ محمد سعید لاہوری کہ ساتوں صاحب مشائخ شاہ ولی اللہ سے ہیں۔ (۱۷۲) جناب شیخ مجدد الف ثانی (۱۷۳) شیخ عبدالاحد پیر سلسلہ مجددیہ (۱۷۴) شیخ ابوالرضا محمد جد شاہ ولی اللہ (۱۷۵) سید احمد بریلوی پیر میاں اسمٰعیل دہلوی کہ صراط مستقیم جن کی ملفوظات قرار دی گئی۔
یہ مجموعہ پونے دو سو (۱۷۵) ہُوا من بعضھم صریح البیان ومن بعضھم افادۃ البرھان ومن بعضھم التقریر والاذعان ولبعضھم لیس الخبر کالعیام والحمد ﷲ فی کل حین وآٰن
(بعض کا صریح بیان ہے۔ بعض کی جانب سے افادہ برہان ہے۔ بعض سے تقریر اور اذعان ہے۔ اور بعض کا حال یہ ہے کہ خبر مشاہدے کی طرح نہیں، اور اللہ ہی کی حمد ہے ہر وقت اور ہر آن۔ ت) اور ہنوز اس کتاب میں اور باقی ہیں اور جو حصرواستیعاب کی طرف راہ کیا ہے بلکہ استقصائے تام قدرت خامہ و وسعت کاغذ کے ورا آخر نوع اول مقصد سوم میں ارشاد ان علماء سے مذکور ہوگا کہ علم و سمع وبصر موتٰی پر تمام اہلسنت وجماعت کا اجماع ہے۔ تو آج تک جس قدر عمائداہلسنت گزرے سب کے نام اسی فہرست میں اندراج کے قابل، پھر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کتنے لاکھ ہے، والحمد اللہ رب العٰلمین۔ اور لُطف یہ کہ ان مذکورین میں گنتی کے بعض ایسے ہیں جن کے دو ایک ظواہر کلمات سے وہابیہ اس مسئلہ میں استناد کرتے اور انھیں کے باقی اقوال کو پس پشت ڈال کرمقامِ تحقیق و مرام توفیق ونظام تطبیق اور موافق ومبائن جمہور کی تفریق سے محض غافل یا اغوائے عوام کو متغافل گزرتے ہیں
واﷲ من یشاء الٰی صراط مستقیم
(اور اللہ جسے چاہتاہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے۔ ت) ۱۲ منہ فیوضہ (م)
اب انھیں لیجئیے جن پر اعتماد مخالف کو ضرور : شاہ ولی اللہ صاحب (۲)ان کے والد ماجد شاہ عبدالرحیم صاحب (۳) ان کے فرزند ارجمند مولٰنا شاہ عبدالعزیز صاحب (۴) ان کے برادر مولٰنا شاہ عبدالقادر صاحب (۵) ان کے ممدوح جناب میرزا مظہر جانجاناں (۶) ان کے مرید رشید قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی(۷) مولوی اسحاق صاحب دہلوی (۸) ان کے شاگرد نواب قطب الدین خاں دہلوی (۹) مولوی خرم علی صاحب بلہوری
تجاوز اﷲ عنا و عن کل من صح ایمانہ فی النشاتین ورحم کل من یشھد صدقا بالشھاد تین
(اللہ درگزرے فرمائے ہم سے اور ہر اس شخص سے جس کا ایمان دونوں نشأتوں میں صحیحح ہے اور ان سب پر رحم فرمائے جو سچائی سے دونوں شہادتوں کی گواہی دینے والے ہیں۔ ت) (۱۰) ان سب سے قوی مجتہد نو میاں اسمٰعیل دہلوی
( اور خدا ہی راہ راست کی ہدایت دینے والا ہے ا وراسی سے ہر گمراہ کے خلاف استعانت ہے۔ اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر خدا ئے غالب وبرتر سے۔ ت)
واضح ہوا کہ ارشادات علیہ صحابہ وتابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین مقصدِ احادیث میں مذکور ہوئے کہ حدیث اصطلاحِ (عہ۱) محدثین میں انھیں شامل، معہٰذا امور قبور واحوالِ ارواح مفارقہ میں رائے کو دخل نہیں تو یہاں (عہ۲) موقوف بھی مرفوع میں داخل۔ ہاں بعض اقوال تابعین مثل بلال بن سعد اس مقصد سوم میں ذکر ہوئے او ر اس کی وجہ اقوال باب سے مناسبت ، جس طرح مثلاً امام سفیان کا قول، ایسے ہی مناسب کے سبب اقوال تابعین کے ساتھ منقول ہوا۔ا ب بقیہ حضرات کے کلمات طیبات واقوال وتصریحات اگر بوجہ استیعاب لکھیے پھر دفتر ہوتا ہے۔ لہذا صرف تین سو قول پر اقتصار کرتاہوں ۔ علماء صنف اول کے دوسوں اور اہل صنف دوم کے سو کہ دیدہ انصاف صاف ہو تو اتنے کیا کم ہیں ع
درخانہ اگرکس است یکحرف بس است
(اگر خانہ عقل میں شعور ہو تو اشارہ ہی کافی ہے)
عہ۱ : علامہ سید شریف رحمۃ اللہ تعالٰی مقدمہ مصطلحات الحدیث میں فرماتے ہیں :
الحدیث اعم ان یکون قول الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والصحابی والتابعی وفعلھم وتقریرھم۔
حدیث رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور صحابی و تابعی سب کے قول ، فعل اور تقریر کو شامل ہے۔ (ت)
عہ۲ : امام علامہ سیوطی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ اپنی ارجوزہ مسمّٰی بالثبیت عند التثبیت میں فرماتے ہیں:
یکرر السوال للانام ÷ فی مارو دا فی سبعۃ ایام÷ کذا رواہ احمد بن حنبل÷ فی الزھد عن طاؤس البحر العلی÷ وحکمہ الرفع کما قد قالوا÷ اذالیس للرأی فیہ مجال÷ ولیس للقیاس فی ذاالباب÷ من مدخل عند ذوی الالباب÷ وانما التسلیم فیہ اللائق÷ والنقیاد حیث أبنا الصادق ۱۲ منہ (م)
(۱) روایت محدثین کے مطابق مخلوق سے سوال سات دنوں کے اندر مکرر ہوگا (۲) امام احمد بن حنبل نے زہد میں متبحر بلند رتبہ تابعی امام طاؤس سے ایسا ہی روایت کیا ہے (۳) وہ حسبِ ارشاد عُلمائے مرفوع کے حکم میں ہے۔ ا س لیے کہ اس بارے میں رائے کا گذر نہیں (۴) اور قیاس کا اس باب میں ارباب عقول کے نزدیک کوئی دخل نہیں (۵) جب صادق نے خبر دی ہے تو اس میں تسلیم وقبول اور تابعداری ہی مناسب ہے ۔ (ت)
تنبیہ: عدت قول، جدت مقول یا تعدد مقول سے ہے، ابتداً خواہ تقریراً اور درصورت اخیر ہر عالم کی عبارت جُدا جُدا لکھنا باعث طول۔ لہذا انھیں ایک ہی سرخی میں گن کر اسامی علماء پر ہندسہ لگادیا جائے گا۔ یہ مقصد بھی مثل اپنے دوبرادر پیشیں کے دونوں پر منقسم
واﷲ سبحٰنہ ھوالموفق للحق والصواب فی کل مھم
(اور خدائے پاک ہی ہر مہم میں ثواب کی توفیق دینے والا ہے۔ ت)