| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز) |
حدیث (۶۰): ابن عساکر نے ایک طویل حدیث روایت کی جس کا حاصل یہ ہے کہ عہد معدلت مہد فاروقی میں ایک جوان عابد تھا۔ امیرالمؤمنین اس سے بہت خوش تھے، دن بھر مسجد میں رہتا،بعد نماز عشاء باپ کے پاس جاتا ، راہ میں ایک عورت کا مکان تھا اس پر عاشق ہوگئی ، ہمیشہ اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی، جوان نظر نہ فرماتا، ایک شب قدم نے لغزش کی، ساتھ ہولیا، دروازے تک گیا، جب اندر جانا چاہا خدا یاد آگیا اور بے ساختہ یہ آیہ کریمہ زبان سے نکلی:
ان ۤالذین اتقوا اذا مسھم طائف من الشیطٰن تذکروافاذاھم مبصرون ۲؎۔
ڈر والوں کو جب کوئی جھپٹ شیطان کی پہنچتی ہے خدا کو یاد کرتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
(۲؎القرآن ۷ /۲۰۱)
آیت پڑھتے ہی غش کھا کر گرا، عورت نے اپنی کنیز کے ساتھ اٹھا کر اس کے دروازے پر ڈال۔ باپ منتظر تھا۔ آنے میں دیر ہوئی، دیکھنے نکلا، دورازے پر بیہوش پڑا پایا۔ گھر والوں کو بلا کر اندر اُٹھوایا، رات گئے ہوش آیا، باپ نے حال پوچھا،کہا خیر ہے، کہا بتادے، ناچار قصہ کہا۔ باپ بولا جان پدر ! وہ آیت کو ن سی ہے؟ جوان نے پھر پڑھی، پڑھتے ہی غش آیا، جنبش دی، مُردہ پایا، رات ہی کو نہلا کفنا کر دفن کردیا، صبح کو امیر المؤمنین نے خبر پائی، باپ سے تعزیت اور خبر نہ دینے کی شکایت فرمائی، عرض کی: یا امیرالمومنین! رات تھی، پھر امیرالمؤمنین ہمراہیوں کو لے کر تشریف لے گئے ____ آگے لفظ حدیث یوں ہیں :
فقال عمر یافلان ولمن خاف مقام ربہ جنتٰن، فاجابہ الفتی من داخل القبر یا عمر قد اعطانیہا ربی فی الجنۃ مرتین ۱؎۔
یعنی امیر المومنین نے جوان کا نام لے کر فرمایا: اے فلان! جو اپنے رب کے پاس کھڑے ہونے کا ڈر کرے اس کے لیے دو باغ ہیں، جوان نے قبر میں سے آواز دی، اے عمر! مجھے میرے رب نے یہ دولت عظمی جنت میں دو بار عطا فرمائی۔
(۱کنز العمال بحوالہ ک حدیث ۴۶۳۴ موسستہ الرسالہ بیروت ۲ / ۱۷۔۵۱۶)
نسأل اﷲ الجنۃ لہ الفضل والمنۃ وصلی اﷲ تعالٰی علی نبی الانس والجنۃ واٰلہ وصحبہ واصحابہ السنۃ اٰمین اٰمین اٰمین!
ہم اللہ سے جنت کے خواستگار ہیں، اسی کے لیے فضل و احسان ہے۔ اور خدائے برتر کا درود سلام ہو انس و جِن کے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور ان کی آل واصحاب اور اہل سنت پر۔ الٰہی! قبول فرما، قبول فرما، قبول فرما! (ت)