حدیث (۵۴تا ۵۶): امام سعید بن منصور شاگرد امام مالک واستاذ امام احمد اپنے سنن میں راشد(عہ۱) ۱ بن سعد وضمرہ بن حبیب (عہ۲) وحکیم بن عمیر (عہ۳)سے راوی، ان سب نے فرمایا :
اذا سوی علی المیّت قبرہ وانصرف الناس عنہ کان یستحب ان یقال للمیّت عندہ قبرہ یافلان قل لا الٰہ الا اﷲ ثلث مرات یافلان قل ربی اﷲ ودینی الا سلام ونبی محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۲؎۔
جب میّت پر مٹی دے کر قبر درست کر چکیں اور لوگ واپس جائیں تو مستحب سمجھا جاتا تھا کہ مُردے سے اس کی قبر کے پاس کھڑے ہوکر کہا جائے : اے فلاں ! کہہ لا الٰہ الاّ اﷲ تین بار، اے فلاں! کہ میرا رب اللہ ہے اور میرا دین اسلام اور میرے نبی محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔
عہ ۱ : تابعی ثقہ رجال سنن اربعہ سے ۱۲ منہ (م)
عہ۲ : تابعی ثقہ رجال صحاص ستہ سے ۱۲ منہ (م)
عہ۳ : تابعی صدوق رجال ابوداؤد و ابن ماجہ سے ۱۲منہ (م)
(۲؎ شرح الصدور بحوالہ سن سعید بن منصور باب مایقال عند الدفن خلافت اکیڈمی سوات ص۴۴)
وصل اٰخر من ھذا الفصل:
فصل پنجم کی حدیثوں نے جس طرح بحمد اللہ سماع موتٰی کی تصریح فرمائی یونہی ان میں اکثر نے ثابت کردکھا یا کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم وصحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کا اہل قبور سے کلام صرف سلام پر مقتصر نہ تھا اور بدیہ ہے کہ جماد محض سے مخاطبہ وگفتگو معقول نہیں۔ لہٰذا ہم آخر فصل میں وہ بعض حدیثیں جن میں اجلہ صحابہ کا اہل قبور سے سوائے سلام دیگر انواع کلام فرمانا مذکور، نقل کرکے مقصد ثانی کو ختم اور مقصد ثالث کی طرف ان شاء اللہ تعالٰی تصمیمِ عزم کرتے ہیں، وباللہ ا لتوفیق،
حدیث (۵۷): ابن ماجہ بسند (عہ) حسن صحیح عبداللہ بن عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
قال جائز اعرابی الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فذکرالحدیث الٰی ان قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حیثما مررت بقبر مشرک فبشرہ بالنار، قال فاسلم الاعرابی بعد وقال لقد کلفنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تعبا مامررت بقبرکافر الا بشرتہ بالنار ۱؎۔
یعنی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے فرمایا: جہاں کسی مشرک کی قبر پرگزرے اسے آگ کا مژدہ دینا ___ اس کے بعد وہ اعرابی مسلمان ہوگیا تو وہ صحابی فرماتے ہیں مجھے مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس ارشاد سے ایک مشقت میں ڈالا، کسی کافر کی قبر پر میراگذر نہ ہوا مگر یہ کہ اسے آگ کا مژدہ دیا۔
ہر عاقل جانتا ہے کہ مژدہ دینا بے سماع محال، اور صحابی مخاطب نے ارشاد اقدس کو معنٰی حقیقی پر حمل کیا، ولہٰذا عمر بھر اس پر عمل فرمایا فتبصر ،
عہ فائدہ: یہ حدیثیں طبرانی نے معجم الکبیر میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ۱۲ منہ (م)
(۱؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی زیارۃ القبور المشرکین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۴)
حدیث (۵۸): ابن ابی الدنیا کتاب القبور میں امیرالمؤمنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی :
انہ مربالبقیع فقال السلام علیکم یا اھل القبور اخبار ما عندنا ان نساء کم قد تزوجن ودیارکم قد سکنت واموالکم قد فرقت فاجابہ ھا تف یاعمر ابن الخطاب اخبار ماعندنا ان ماقدمناہ فقد وجدناہ وما انفقنا فقد ربحناہ وما خلفناہ فقد خسرناہ ۱؎۔
یعنی ایک بار امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ بقیع پر گزرے اہل قبور پر سلام کرکے فرمایا: ہمارے پاس کی خبریں یہ ہیں کہ تمھاری عورتوں نے نکاح کرلیے اور تمھارے گھروں میں اور لوگ بسے، تمھارے مال تقسیم ہوگئے۔ اس پر کسی نے جواب دیا: اے عمر بن الخطاب! ہمارے پاس کی خبریں یہ ہیں کہ ہم نے جو اعمال کئے تھے یہاں پائے اور
جو راہ خدا میں دیا تھا اس کا نفع اٹھایا اور جو پیچھے چھوڑا وہ ٹوٹے میں گیا ۔
(۱؎ شرح الصدور بحوالہ کتاب القبور لابن ابی الدنیا باب زیارۃ القبور خلافت اکیدمی سوات ص۸۷)
حدیث (۵۹): امام احمد تاریخ نیشاپورا ور بہیقی اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں سعید بن المسیّب سے راوی:
قال دخلنا مقابر المدینۃ مع علی ابن ابی الطالب فنادٰی یا اھل القبور السلام علیکم ورحمۃ اﷲ تخبرونا باخبارکم تریدون ان نخبرکم قال فسمعت صوتا و علیک السلام ورحمہ اﷲ وبرکاتہ یا امیر المومنین اخبرنا عماکان بعدنا فقال علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ اما ازواجکم فقد تزوجن واما اموالکم فقد اقتسمت و اولاد فقد حشر وا فی زمرۃ الیتامٰی والبناء الذی شیدتم فقد سکن اعداء کم فھذہ اخبار ما عندنا فما عندکم فاجابہ میّت فقد تخرفت الاکفان وانتثرت الشعور و تقطعت الجلود وسالت الاحداق علی الخدود وسالت مناخیر بالقیح والصدید وماقدمناہ ربحناہ وماخلفناہ خسرنا ونحن مرتھنون بالاعمال ۲؎۔
یعنی ہم مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ہمرکاب مقابر مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے۔ حضرت مولا علی نے اہل قبر پر سلام کرکے فرمایا: تم ہمیں اپنی خبریں بتاؤ گے یا یہ چاہتے ہو کہ ہم تمھیں خبردیں؟ سعد بن مسیب فرماتے ہیں: میں نے آواز سنی کسی نے حضرت مولٰی کو جواب سلام دے کر عرض کی: امیرالمومنین! آپ بتائیے ہمارے بعد کیا گذری؟ امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: تمھاری عورتوں نے تو نکاح کرلیے، اور تمھارے مال سو وہ بٹ گئے، اورا ولاد یتیموں کے گروہ میں اٹھی، اور وہ تعمیر جس کا تم نے استحکام کیا تھا اس میں تمھارے دشمن بسے، ہمارے پاس کی خبریں تو یہ ہیں اب تمھارے پاس کیا خبر ہے؟ ایک مُردے نے عرض کی کہ کفن پھٹ گئے، بال جھڑ پڑے، کھالوں کے پرزے پُرزے ہوگئے، آنکھوں کے ڈھیلے بہہ کر گالوں تک آئے، نتھنوں سے پیپ اور گندا پانی جاری ہے اور جو آگے بھیجا تھا اس کا نفع ملا اور جو پیچھے چھوڑا ا سکا خسارہ ہوا اور اپنے اعمال میں محبوس ہیں،
(۲؎ شرح الصدور بحوالہ کتاب القبور الابن ابی الدنیا تاریخ ابن عساکر خلافت اکیدمی سوات ص ۸۷)
ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ کیاہی اچھا کارساز ہے، طاقت و قوت نہیں مگر عظمت وبلندی والے خدا ہی سے پاک ہے وہ جو اکیلا باقی رہنے والا ہے، اور اپنے بندوں کو موت کے تابع فرمان کردیا ہے۔ پاک ہے وہ حیات والا جسے کبھی موت نہیں، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ (ت)
تنبیہ : جن صاحبوں نے جواب حدیث چہلم میں اس خطاب جناب ولایت مآب کرم اللہ وجہہ کو محض وعظ وتنبیہ احیاء کے لیے قرار دیا
غالباً انھوں نے پوری حدیث ملاحظہ نہ فرمائی ورنہ اس کے لفظ اول سے آخر تک پکار رہے ہیں کہ یہاں حقیقۃ اموات ہی سے خطاب مقصود تھا۔ اسی قدر کو دیکھ لیجئے کہ جناب مولا نے ابتداءۡ یہ لفظ ارشاد نہ کئے بلکہ اول ان سے استفسار فرمایا کہ پہلے تم اپنی خبریں بتاؤ گے یاہم شروع کریں، کہئے بے ارادہ خطاب حقیقی اس دریافت کرنے اور اختیار دینے کے کیا معنٰی تھے، پھران کی درخواست پر حضرت نے اخبار دینا ارشاد فرما کر انھیں حکم دیا:ا ب تم اپنی خبریں بتاؤ۔ چنانچہ انھوں نے عرض کیں۔ پھر مخاطبہ حقیقی میں کیاشک ہے! واللہ الموفق۔