Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
181 - 243
حدیث (۴۶): صحیح بخاری شریف وغیرہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سےمروی:
اطلع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی اھل القلیب فقال وجدتم ما وعد ربکم حقافقیل لہ اتدعوا مواتا فقال ما انتم باسمع منہم ولکن لا یجیبون  ۱؎۔
یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم چاہ بدر  پر تشریف لے گئے۔ جس میں کفار کی لاشیں پڑیں تھیں۔۔ پھر فرمایا: تم نے پایا جو تمھارے رب نے تمھیں سچا وعدہ دیاتھا۔ یعنی عذاب ۔ کسی نے عرض کی: حضور مُردہ کو پکارتے ہیں، ارشادفر مایا: تم کچھ ان سے زیادہ نہیں سننے والے  پر وہ جواب نہیں دیتے۔
 (۱؎ الصحیح للبخاری    باب ماجاء فی عذاب القبر        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۸۳)
حدیث (۴۷): صحیح مسلم شریف میں امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یرینا مصارع اھل بدر و ساق الحدیث الٰی ان قال فانطلق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی انتھٰی الیھم فقال یا فلان بن فلان  ویا فلان بن فلان ھل وجہتم ما وعدکم اﷲ ورسولہ حق فانی قد وحدت ماوعدنی اﷲ حقا قال عمر یا رسول اﷲ کیف تکلم اجسادا لا ارواح فیھا قال ما انتم باسمع لما اقول منھم غیر انھم لایستطیعون ان یردوا علی شیئا ۔۲؎۔
یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہمیں کفار بدر کی قتل گاہیں دکھاتے تھے کہ یہا ں فلاں کافر قتل ہوگا اوریہاں فلاں، جہاں جہاں حضور نے بتایا تھا وہیں وہیں ان کی لاشیں گریں۔ پھر بحکم حضور  وہ جیفے ایک کنویں میں بھردئےگئے۔ سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور نام بنام ان کفار لیام کو  ان کا اور ان کے باپ کا نام لے کر  پکارا۔، اور فرمایا: تم نے بھی پایا جو سچا وعدہ خدا ا ور  رسول نے تمھیں دیا تھا کہ میں نے تو پالیا جو حق وعدہ اللہ تعالٰی نے مجھے دیاتھا۔ امیرالمومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ! حضور نے ان جسموں سے کیونکر کلام کرتے ہیں جن میں روحیں نہیں۔ فرمایا: جو میں کہہ رہاہوں کسے کچھ تم ان سے زیادہ نہیں سنتے مگر انھیں یہ طاقت نہیں کہ مجھے لوٹ کر جواب دیں ۔
 (۲؎صحیح مسلم        باب ماجاء مقعد المیّت      قدیمی کتب خانہ کراچی      ۲ /۳۸۷)
حدیث (۴۸): یونہی صحیح مسلم وغیرہ میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی اور اس میں ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تین دن بعد اس کنویں  پر  تشریف لے گئے اور عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے جواب میں فرمایا:
والذی نفسی بیدہ ما انتم باسمع لما اقول منھم ولکنھم لایقدرون ان یجیبوا۳ ؎۔
قسم اس کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں جو فرما رہاہوں اس کے سننے میں تم اور وہ برابر ہو مگر وہ جواب دینے کی طاقت ن ہیں رکھتے۔
 (۳؎ صحیح مسلم        باب ماجاء مقعد المیّت    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲ /۳۸۷)
حدیث (۴۹): یو ہی صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حدیث ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی  ۱؎:
اما البخاری فساقہ بطالہ واما مسلم فاحالہ علی حدیث انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔
امام بخاری نے تو اسے تفصیل سے ذکر کیا مگر امام مسلم نے تفـصیل حدیث انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے کی۔ (ت)
 (۱؎ الصحیح للبخاری    باب ماجاء فی عذاب القبر        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۸۴۔ ۱۸۳)

 (صحیح مسلم    باب مقعدالمیّت     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۳۸۷)
حدیث (۵۰): طبرانی نے بسند صحیح عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
یسمعون کما تسمعون ولکن لا یجیبون  ۲؎۔
جیسا تم سنتے ہو ویسا ہی وہ بھی سنتے ہیں مگر جواب نہیں دیتے۔
 (۲؎ فتح االباری     بحوالہ عبداللہ بن سیدان    باب قتل ابی جہل    دارالمعرفہ بیروت    ۸ /۲۵۹)
حدیث (۵۱): اسی طرح امام سیلمان بن احمد مذکور نے حدیث عبداللہ بن سیدان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔

تنبیہ نبیہ: ان چھ حدیثوں کے جواب میں جو کچھ کہا گیا تخصیص بے مخصص و دعوٰی بے دلیل سے زیادہ نہیں۔ مثلا یہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا خاص اعجاز تھا۔ یا یہ امر صر ف ان  کفار کے لئے ان کی حسرت و ندامت بڑھانے کو واقع  ہو ا حالانکہ ان کی تخصیصوں  پر  اصلاً کوئی دلیل نہیں۔ ایسی گنجائش ملے تو ہرنص شرعی جیسے چاہیں مخصص ہوسکے۔ اور ان سے بڑھ کر  یہ رکیک تاویل ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ خطاب حقیقۃً اموات سے خطاب نہ تھا بلکہ زندوں کو عبرت و نصیحت تھا، حالانکہ نفسِ حدیث اس کے رد پر حجت کافیہ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے امیر المومنین فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے جواب میں صاف ان کا سننا ارشاد فرمایا، نہ یہ کہ ہمارا  یہ کلام صرف تنبیہ احیاء کے لیے ہے۔ جیسے مر ثیہ سیدنا امام حسین (رضی اﷲ تعالٰی عنہ) میں کسی کا مصرع:
اے آب خاک شو کہ ترا آبرو نماند
       ( اے آب! خاک ہو جا کہ تیری آبرو نہ رہی ۔ت)
باقی ا س کے متعلق ابحاث فتح البخاری و ارشاد الساری وعمدۃ القاری شروح صحیح بخاری و مرقاۃ و لمعات و اشعۃ اللمعات شروح مشکوۃ مدارج النبوہ وغیرہ صدہا تصانیف علماء میں طے ہوچکی ہیں ۔ جن کی تفصیل موجب ، تطویل ۔ مولوی صاحب اگر امور طے شدہ کی طرف پھر رجعت کریں تو ذرا کتب مذکورہ پر نظر کرکے تقریر وہ فرمائی جائے جس میں ان کی تنقیحات جلیلہ سے عہدہ برآئی سمجھ لیں ، اس کے بعد ان شاء اللہ فقیر بھی وہ شوارق ساطعہ و بوارق لامعہ حاضر کرے گا جو اس وقت میرے پیش نظر جولانیوں پر ہے ، اور شاید ان میں سے چند حروف مقصد سوم میں استطرادًا مسکور ہو ں وباللہ التوفیق ۔
حدیث (۵۲): ابو الشیخ عبید بن مرزوق سے راوی :
کانت امرأۃ تقم المسجد فماتت ولم یعلم بھا النبی  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فمر علی قبرھا فقال ما ھذا القبر قالوا  ام محجن ،  قال التی کانت تقم المسجد قالوا نعم فصف الناس  فصلی علیھا ثم قال ای العمل وجدت افضل  قالوا یارسو ل اللہ اتسمع قال ما انتم باسمع منھا فذکر انھا اجابتہ ان اقم المسجد  ۱؂ ۔
یعنی ایک بی بی مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ان کا انتقال ہوگیا۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  کو کسی نے خبر دی  حضور ان کی قبر  پر گذرے ۔ دریافت فرمایا یہ قبر کیسی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : ام محجن کی ۔ فرمایا وہ ہی جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی عرض کی ہاں ۔ حضور نے صف باندھ کر نماز پڑھائی پھر ان بی بی کی طرف خطاب کرکے فرمایا توں نے کون سا عمل افضل پایا صحابہ نے عرض کیا یار سول اللہ ! کیا وہ سنتی ہے ؟ فرمایا کچھ تم اس سے زیادہ نہیں سنتے پھر فرمایا اس نے جواب دیا کہ مسجد میں جھاڑو دینی ۔
(۱؂ شرح الصدور بحوالہ ابو شیخ باب معرفۃ المیت من یغسلہ        خلافت اکیڈمی سوات      ص ۴۰ )
حدیث ( ۵۳): طبرانی معجم کبیر و کتاب الدعاء  میں اور ابن مندہ اور امام ضیائی مقدسی کتاب الاحکام اور ابراہیم حربی کتاب اتباع  الاموات اور ابوبکر علماء  الخلال کتاب الشافی اور ابن زہیرہ وصایا العلماء عند الموت اور ابن شاہین  کتاب ذکر الاموت ویگر علماء محدثین اپنی تصانیف حدیثیہ میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالے عنہ سے راوی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا مات احد من اخوانکم فسویتم التراب علی قبرہ فلیقم احدکم علی راس قبرہ ثم لیقل یافلان بن فلانۃ   فانہ یسمعہ  ولایجیب ثم یقول یا فلان بن فلانۃ فانہ یستوی قاعدا  ثم یقول یا فلان بن فلانۃ فانہ یقول ارشد نا رحمک اللہ ولکن لاتشعرون، فلیقل ذکر ماخرجت علیہ من الدنیا شھادۃ ان لا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ وانک رضیت باللہ ربّاوباالاسلام دینا وبمحمد نبیا وبالقران اماما فان منکرا و  نکیرا یاخذ کل و احد منھما بید صاحبہ ویقول ان انطلق بنا مانقعد عند من قدلقن حجتہ  ۱؂ ۔  الحدیث
جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی مرے اور اس کی قبر  پر مٹی برابر کر چکو تم میں سے کوئی اس کے سرہانے کھڑا ہو اور فلاں بن فلانہ (عہ)  کہہ کر پکارے بیشک وہ سنے گا اور جواب نہ دے گا دوبارہ پھر یوں ہی ندا کرے وہ سیدھا ہوبیھٹے گا سہ بارہ پھر اسی طرح آواز دے اب  وہ جواب دے گا کہ ہمیں ارشاد کہ اللہ تجھ پر رحم کرے مگر تمہیں اس کےجواب کی خبر نہیں ہوتی اس وقت کہے یاد کر وہ بات جس پر توں دنیا سے نکلا تھا  گواہی اس کی کہ اللہ کے سوا ء کوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ توں نے پسند کیا اللہ تعالی کو پروردگار اور اسلام کو دین اور  محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو نبی اور قرآن کو پیشوا منکر و نکیر ہر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہے گے چلو ہم کیا بھیٹے اس کے پاس جسے لوگ اس کی حجت سکھا چکے ۔
عہ : یعنی اسے  اس کی ماں کی طرف نسبت کرکے مثلا اے زید بن ہندہ ، اور اگر ماں کانام نہ معلوم ہو تو بن حوا کہے کہ وہ سب کی ماں ہیں ۔ خود اسی حدیث میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے یہ معنی مروی ۱۲منہ
 (۱؂  المعجم الکبیر             حدیث ۷۹۷۹   مکتبہ فیصلیہ بیروت       ۸ /۹۹ ، ۲۹۸  )
فائدہ: امام ابن الصلاح وغیرہ محدثین اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں
اعتضد بشواہد وبعمل اھل الشام  قدیما ؂۲ نقلہ العلامۃ ابن امیر الحاج فی الحلیۃ
یعنی اس کو دو وجہ سے قوت ہے ایک تو حدیث اس کی موید ، دوسرے زمانہ صلف سے علماء شام اس پر عمل کرتے آئے ( علامہ ابن امیر الحاج نے اسے حلیہ میں نقل کیا ۔ ت)
 (۲؂  حاشیہ الطحطاوی   علی المراقی الفلاح     فصل فی حملہا و دفنہا      نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی  ص ۳۳۸)
اسی طرح امام نقاد الحدیث ضیائی مقدسی و امام خاتم الحفاظ حافظ الشان ، ابو الفضل احمد بن حجر عسقلانی نے اس کی تقویت اور امام شمس الدین سخاوی نے اس کی تقریر فرمائی اور اس باب میں خاص ایک رسالہ تالیف فرمایا ، اور امام احمد رضی اللہ عنہ نے اس پر عمل کرنا علماء شام سے نقل فرمایا ، اور امام ابوبکر ابن العربی نے اھل مدینہ اور بعض دیگر علماء میں اھل قرطبہ وغیرہ سے اس کا عمل نقل کیا میں کہتا ہوں یہ عمل زمانہ صحابہ وتابعین سے ہے حضرت ابو امامہ صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے خد اپنے لئے تلقین کی وصیت فرمائی  ؂۳ ۔
(۳؂  شرح  الصدور           باب مایقال عند الدفن و التلقین         خلاف اکیڈمی    سوات                   ص ۴۴ )
کما اخرجہ ابن مندہ من و جہ اٰ خر کما ذکرہ الامام السیوطی فی شرح الصدور قلت بل والطبرانی ایضاً علٰی ماساق لفظہ البدر المحمود فی البنایۃ شرح الھدایۃ ۔
جیسا کہ ابن مندہ نے دوسرے طریق سے ا س کی روایت کی، اسے امام سیوطی نے شرح الصدور میں ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں بلکہ طبرانی نے بھی اسے روایت کیا ہے، جیسا کہ علامہ بدر الدین محمود عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں اس کے الفاظ ذ کر کیے ہیں۔ (ت)

اور تین تابعیوں سے عنقریب منقول ہوگا کہ اسے مستحب کہا جاتا تھا۔ ظاہر ہے ان کی یہ نقل نہ ہوگی مگر صحابہ یا اکابر تابعین سے جو  ان سے  پہلے ہوئے۔ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ علامہ ابن حجر مکی کی شرح مشکوٰۃ میں ہے :
اعتضد بشواھد یرتقی بھا الٰی درجۃ الحسن   ۱؎
 ( یہ حدیث بوجہ شواہد درجہ حسن تک ترقی کیے ہے) اسی طرح ذیل مجمع  بحار الانوار میں تصریح کی کہ اس نے شواہد سے قوت پائی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ مرقاۃ المفاتیح     شرح مشکوٰۃ    باب اثبات عذاب القبر    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۱ /۲۰۹)
Flag Counter