Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
180 - 243
فصل پنجم: میں وہ جلیل حدیثیں جن سے ثابت کہ سماعِ اہل قبور سلام ہی پر مقصود نہیں بلکہ دیگر کلام و اصوات بھی سنتے ہیں:

حدیث (۴۰): بخاری ومسلم و ابوداؤد وترمذی ونسائی اپنے صحاح اور امام احمد مسند میں انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور پر نور سید العالم  صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
واللفظ لمسلم ان المیّت اذا وضع فی قبرہ انہ یسمع خفق نعالھم اذا انصرفوا۔۱؎۔
 (مسلم کے الفاظ یہ ہیں۔ ت) مردہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور لوگ دفن کرکے پلٹتے ہیں بیشک وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتاہے۔
 (۱؎ صحیح مسلم        باب عرض مقعد المیّت        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۳۸۶)
حدیث (۴۱): احمد و ابوداؤد بسند جید براء بن عازب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
ان المیّت یسمع خفق نعالھم اذاولو امدبرین ۲؎۔
بیشک مردہ جوتیوں کی پہچل سنتا ہے جب لوگ اسے پیٹھ دے کر پھرتے ہیں۔
 (۲؎ مسندا حمد بن حنبل    مرویات البراء ابن عاذب    دارالفکر بیروت    ۴ /۲۹۶)
حدیث (۴۲): بیہقی وطبرانی عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی، سرورِ عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  فرماتے ہیں :
ان المیّت اذا دفن یسمع خفق نعالھم اذا ولّوا عنہ منصرفین ۳؎۔
بیشک جب مردہ دفن ہوتاہے اور لوگ واپس آتے ہیں وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے۔
 (۳؎ کنز ا لعمال بحوالہ طبرانی    حدیث ۴۲۳۷۹    مکتبۃ التراث الاسلامی مصر    ۱۵ /۶۰۰)
حدیث بیہقی کو امام سیوطی نے شرح الصدور میں فرمایا: باسناد حسن۴؎ (اس کی سند حسن ہے۔ ت)
 (۴؎ شرح الصدور    باب فتنۃ القبر    خلافت اکیڈمی سوات        ص۵۰)
اور سند طبرانی کو علامہ مناوی نے تیسیر میں کہا: رجالہ ثقات ۱؎ (اس کے رجال ثقہ ہیں۔ ت) 

حدیث (۴۳): ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف اور ابنِ حبان نے صحیح مسمی بالتقاسیم والانواع اور حاکم نیشاپوری نے الصحیح المستدرک علی البخاری ومسلم اور بغوی نے شرح السنہ اور طبرانی نے معجم اوسط اور ہنادنے کتاب الزہد اور سعیدبن السکن نے اپنی سنن اور ابن جریر وابن منذر وابن مردویہ وبیہقی نے اپنی اپنی تصانیف میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، حضور سیدعالم ـ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
والذی نفسی بیدہ ان المیّت اذا وضع فی قبرہ انہ لیسمع خفق نعالھم حین یولون عنہ ۲؎۔
قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب مردہ قبرمیں رکھا جاتا ہے کفش پائے مردم کی آوازسنتاہے جب اس کے پاس سے پلٹتے ہیں۔
 (۱؎ التیسیر بشرح الجامع الصغیر    تحت ان المیّت اذا دفن    مکتبۃ الامام الشافعی ریاض  ۱ /۳۰۳)

(۲؎ المستدرک للحاکم        المیّت یسمع خفق نعالہم    دارالفکر بیروت        ۱ /۳۸۰)
حدیث (۴۴): جویبر نے اپنی تفسیر میں عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ایک حدیث طویل روایت کی جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
فانہ یسمع خفق نعالھم ونقض ایدیکم اذا ولیتم عنہ مدبرین ۳؎۔
بیشک وہ یقینا تمھارے جوتوں کی پہچل اور ہاتھ جھاڑنے کی آواز سنتا ہے جب تم اس کی طرف سے پیٹھ پھیر کر چلتے ہو۔
 (۳؎ شرح الصدو ر   بحوالہ جویبر باب فتنۃ القبر    خلافت اکیڈمی سوات        ص۵۱)
حدیث (۴۵): طبرانی و ابن مردویہ ایک حدیث طویل میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسندحسن راوی:
قال شھد نا جنازۃ مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی وسلم فلما فرغ من دفنھا وانصرف الناس قال انہ الان یسمع خفق نعالکم ۴؎۔ الحدیث
فرمایا: ہم ایک جنازہ میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ہمراہ رکاب حاضر تھے۔ جب اس کے دفن سے فارغ ہوئے اور لوگ پلٹے حضور نے ارشاد فرمایا: اب وہ تمھاری جوتیوں کی آواز سن رہا ہے۔
 (۴؎ شرح الصدو ر        بحوالہ طبرانی اوسط باب فتنۃ القبر    خلافت اکیڈمی سوات   ص۵۴)
فائدہ جلیلہ: چالیس(۴۰) سے پینتالیس تک جو چھ حدیثیں مذکور ہوئیں پہلے ہی لاجواب ٹھہر چکی ہیں، آج تک کوئی جواب معقول ان سے نہ ملا نہ ملے۔ غایت سعی ان کی طرف سے یہ ہے کہ سماع مذکور کو اول وضع فی القبرسے تخصیص کریں یعنی جب قبرمیں  رکھ کر مٹی دیتے ہیں اس وقت میّت کو ایسی قوت سامعہ ملتی ہے کہ اب عنقریب سوال منکر نکیر ہونے والا ہے اس کے لیے پیشتر سے ایسے حواس عطا ہو جاتے ہیں ، پھربعد سوال یہ قوت نہیں رہتی ۔ حالانکہ عند الانصاف یہ ادعا محض بے دلیل ولاطائل ہے۔

اولاً یہ تخصیص ظاہر حدیث کے خلاف جس پر کوئی دلیل قائم نہیں۔ حدیثیں صاف صاف ارشاد فرمارہی ہیں کہ میّت کی قوت سامعہ قبر میں اس درجہ تیز اور قوی ہے کہاں سے جانا کہ یہ اسی وقت کے لیے ملتی ہے اور پھر جاتی رہتی ہے۔

ثانیاً مقدمہ سوال کے لیے پیشتر سے حواس مل جانا کیا معنٰی کیا فوراً وقتِ سوال نہ مل سکتی تھی یا عطائے الٰہی میں معاذاللہ کچھ دیر لگتی ہے کہ پہلے سے اہتمام ہو رہنا ضرور ہوا۔
یہ دونوں اعتراض شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے مدارج النبوۃ میں افادہ فرمائے:
حیث قال ایں تخصیص خلاف ظاہر است ودلیلے نیست برآن وظاہر حدیث آنست کہ ایں حالت حاصل ست میّت دارد قبر  و زندہ گر دانیدن میت در وقت سوال است وپیش ازاں زندہ گردانیدن برائے مقدمہ سوال چہ معنی دارد۔۱؎
یہ تخصیص ظاہر کے خلاف ہے۔ اس پر کوئی دلیل بھی نہیں، ظاہر حدیث یہ ہے کہ قبر کے اندر میّت کی یہ حالت ہوتی ہے __ میّت کو زندہ کرنا سوال کے وقت ہے تو اس سے پہلے  مقدمہ سوال کے لیے زندہ کرنا کیا معنٰی رکھتا ہے۔ (ت)
 (۱؎ مدارج النبوۃ   اصل درسماعت    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۹۵)
وثالثاً کما اقول سلمنا
 (جیسے کہ میں کہتاہوں ہم تسلیم ہم کرتے) کہ پہلے ہی سے ہوش وحواس مل جانا ضروری تھا مگر حاجت اسی قدر تھی جس میں وہ نکیرین کی بات سن سمجھ لیتا اس قدر قوت عظیمہ کی کیا ضرورت تھی کہ باوجود اتنے حائلوں کے ایسی ہلکی آوازیں بے تکلف سُنے۔ خود یہی حضرات مسئلہ یمین فی الضرب (مارنے کے بارے میں قسم) کی یہی توجیہ کرتے ہیں کہ ہمارے مارے سے مُردے کو تکلیف یا ایذا(عہ)  نہیں ہوتی اس کا ادراک عذاب الٰہی کے واسطے ہے ۔ یونہی چاہیے تھا  کہ ا س کا سماع سوال نکیرین کے لیے ہو، نہ اصواتِ خارجہ کے واسطے۔
عہ تنبیہ: یہ بات بھی خلاف تحقیق ہے کہ بیشک ایذا ہوتی ہے۔ دیکھو اس مقصد کی فصل سوم اور مقصد سوم کی پنجم ۱۲۱۲منہ سلمہ اللہ تعالٰی۔
ورابعاً کما اقول ایضاً
اگر مسئلہ یمین فی الکلام عدمِ سماع پر مبنی ہو کما زعموا۔ اور اب آپ نے بھی بشوکت احادیث قاہرہ  اتنی دیر کے لیے سماع تسلیم کیا تو  واجب کہ اس میّت سے کلام کرنے ولا حانث ہو کہ وہ مبنٰی آپ کے اقرار سے یہاں منتفی، حالانکہ مسئلہ قطعاً مطلق ہے، لاجرم ماننا پڑے گا کہ ایمان عرف پر مبنی اور عرفاً اس قسم سے بعدموت کلام کرنا نہیں سمجھاجاتا ۔ لہذا حالتِ حیات سے مقیدرہا، ہم کہیں گے اب حق کی طرف رجوع ہوئے، واقعی اس مسئلہ کا یہی مبنٰی ہے اورا ب انکار سماع موتٰی سے اسے کچھ علاقہ نہ رہا کما لایخفی، اسی طرح حضرات نجدیہ سے کہا جائے کہ اگر آپ بھی احادیث صحیحہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان لاکر سماعت میّت تسلیم کرتے ہیں۔ اگرا س وقت خاص ہی  میں سہی، تو اب حکم ارشاد ہو، اگر کوئی بندہ مسلمان کسی عبد صالح کے دفن ہوتے ہی فوراً اس سے استمداد وطلب دعا کرے تو بھی وہ بربنائے انکار  یعنی عدم سماع متحقق نہ ہو۔ ذرا جی کڑا کرکے اس وقت خاص ہی میں اجازت دے دیجئے۔
وخامساً کما اقول ایضاً
موت کو تمام احواس وادراکات ودیگر اوصافِ حیات سے یکساں نسبت ہے۔ معاذ اﷲ اگر  پتھر ہونا ٹھہرا تو سننا، دیکھنا، سمجھنا، بولنا سب کا بطلان لازم ۔ اور یہ حضرات کرام خود فرما چکے کہ موت منافی فہم ہے۔ اب کیا جواب ہے ان حدیثوں سے جو فصل اول و دوم  و سوم میں گزریں، جن سے ثابت کہ اموات ہمیشہ اپنے زائروں کو پہچانتی ہے او ران سے انس حاصل کرتی اوران کے سلام کا جواب دیتی اور ان کی بے اعتدالیوں سے ایذا پاتی ہیں
الٰی غیر ذلک من المامور المذکورۃ
 (امور  مذکورہ جیسے دیگر امور۔ ت) _____ بھلا یہاں تو مقدمہ سوال کی تخصیص نکلی تھی ان مقدمات میں کونسی خصوصیت آئے گی۔ 

تنبیہ: میرا  یہ سب کلام حقیقتاً اُن حضراتِ منکرین سے ہے جو عبارات علماء کے یہ معنی سمجھے، ورنہ فقیر کے نزدیک ان کے ارشاد کا وہ محل ممکن جو عقیدہ اہل حق سے مخالف نہ ہو۔ مولوی صاحب اگر جواب فقیر میں ان عبارات کو یاد کریں گے اس وقت انشاء اللہ تعالٰی وہ تحقیق تدفیق انیق حاضر کروں گا۔ اور عجب نہیں کہ مقصد سوم میں اس کی بعض کی طرف عودہو۔
والعود احمد
 ( اور عود کرنا اچھا ہے۔ ت)
وبا ﷲ سبحٰنہ وتعالٰی التوفیق۔
Flag Counter