طُرفہ یہ ہے کہ جواب سوال نوز دہم میں صاحب مائۃ مسائل نے بھی اس حدیث کو
عن القاری عن السیوطی عن العقیلی
نقل کیا اور اموات کے لیے سلام احیاء کاسننا مسلّم رکھا ۱؎۔ اسی قدرے اپنی وہ سب جولانیاں جو زیر سوال ۲۶ کے ہیں باطل مان لیں کہ وہاں جن پانچ عبارتوں سے استناد کیا ان سب میں نفی مطلق ہے۔
اسی طرح آیہ کریمہ بفرض غلط نافی سماع ہو تووہاں بھی سلام وکلام کچھ تخصیص نہیں، اور عبارت دوم میں تو صاف منافات موت وافہام مذکور کیا بعض جگہ متنا فیین بھی جمع ہوجاتے ہیں، اور عبارت پنجم میں صریحاً لفظ جمادات موجود، پھر پتھروں کے آگے سلام کلام سب ایک سا۔غرض اگر آیت اور ان عبارات کا وہی مطلب تو سماع سلام کی تسلیم میں ان سب استنادوں کو دفعتاً سلام ہواجاتا ہے۔ پھر ناحق اپنے یہاں حدیث عقیلی سے استناد اور کلمات قاری وسیوطی کی سنئے گا تو بہت کچھ ماننا پڑے گا۔ ان کی تحقیقاتِ قاہرہ وتصریحات باہرہ عنقریب ان شاء اللہ تعالٰی مقصد ثالث میں جگر شگاف مکابرہ واعتسفاف ہوتے ہیں، ادھر مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیثوں پر کان رکھا اور ارواح گزشتگان کو جماد وسنگ ماننے کا دھرم گیا۔ ذرا خدا لگتی کہنا ایک عقیلی کی حدیث سے آپ نے سماع سلام تو تسلیم کیا، بخاری ومسلم وغیرہ کی احادیث صحیحہ سے جو توں کی پہچل اور ہاتھ جھاڑنے کی اواز اورسلام کے سوا اور انواع کلام بھی سننا اورا ن پتھروں کا اپنے زائروں کوپہچاننا ، ان کا جواب سلام دینا اور ان سے اُنس حاصل کرنا، اور ان کے سوا صدہا امور جو ثابت ومذکورہ وہ کس جی سے مانئے گا، یا وہاں پھر
فالف بعض الحدیث وکان ببعض
(کسی حدیث کا الف اور کسی حدیث کا کاف لیجئے گا۔ ت) کی ٹھہرے گی، علاوہ بریں خود یہ حدیث عقیلی اس تخصیص سلام کے رَد کو کیا تھوڑی ہے۔ یہاں بھی اموات سے فقط السلام علیکم نہ کہا گیا ۔ ذرا آنکھیں مل کر ملاحظہ ہو آگے ان پتھروں سے کچھ کلام وخطاب بھی نظر آتے ہیں کہ تم ہمارے سلف ، ہم تمھارے خلف، ہم ان شاء اللہ تعالٰی تم سےملیں گے۔ اس سارے کلام پر ابوزرین رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ! کیا وہ سنتے ہیں؟ فرمایا: ہاں سنتے ہیں۔ اور لطف یہ کہ اس حدیث کے بعد امام سیوطی کا وہ قول بھی نقل کر گئے کہ حدیث میں جواب نہ دینے سے یہ مراد ہے۔ ورنہ اموات واقع میں جواب دیتے ہیں سبحان اللہ سلام بھی سنیں، کلام بھی سنیں، جواب بھی دیں۔اور پھر پتھر کے پتّھر، انا اﷲ واناّ الیہ راجعون۔
سچ فرمایا مولوی معنوی قدس سرہ، نے: ع
( ہم سمیع وبصیر ہیں اور خوش ہیں مگر تم نامحرموں کے سامنے مہر بہ لب ہیں۔ ت)
(۱؎ مثنوی مولوی معنوی دفتر سوم حکایت مارگیری کہ اژدہائے افسردہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ص۲۷)
حدیث (۳۶):طبرانی معجم اوسط میں عبداللہ بن عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مصعب بن عمیر اور ان کے ساتھیوں کے قبور پر ٹھہرے اور فرمایا:
والذی نفسی بیدہ لایسلم علیہم احد الا ردوا الٰی یوم القیمۃ ۲؎۔
قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت تک جو ان پرسلام کرے گا جواب دیں گے،
(۲؎ شرح الصدور بحوالہ المعجم الاوسط باب زیارۃ القبو ر خلافت اکیڈمی سوات ص ۸۵)
حدیث (۳۸): بعینہ اسی طرح حاکم نےصحیح مستدرک میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کر کے تصحیح کی حدیث (۳۸):حاکم مستدرک میں با فادہ تصحیح اور بیہقی دلائل النبوۃ میں بطریق عطاف بن خالد مخزومی عبد الاعلٰی بن عبد اللہ سے وہ اپنے والد ماجد عبداللہ بن ابی فروہ سے راوی، حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم زیارت شہدائے احد کو تشریف لے گئے اور عرض کی:
الھم ان عبدک ونبیک یشھد ان ھٰؤلاء شہداء وانہ من زارھم اوسلم علیھم الٰی یوم القٰیمۃ ردوا علیہ ۳؎۔
الٰہی! تیرا بندہ اورتیرا نبی گواہی دیتا ہے کہ یہ شہید ہیں اور قیامت تک جو ان کی زیارت کو آئے گا اور ان پر سلام کرے گا یہ جواب دیں گے۔
(۳؎ المستدرک للحاکم کتاب المغازی دارالفکر بیروت ۳ /۲۹)
تتمہ حدیث: عطاف کہتے ہیں میری خالہ مجھ سے بیان کرتی تھیں میں ایک بار زیارت قبور شہداء کوگئی میرے
ساتھ دولڑکو ں کے سوا کو ئی نہ تھا جو میری سواری کا جانور تھامے تھے۔ میں نے مزارات پر سلام کیا، جواب سنا، اور آواز آئی:
واﷲ انا نعرفکم کمایعرف بعضنابعضا
خدا کی قسم تم لوگوں کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو میرے بدن پر بال کھڑے ہوگئے۔ سوار ہوئی اور واپس آئی۔۱؎
(۱؎ المستدرک للحاکم کتاب المغازی دارالفکر بیروت ۳ /۲۹)
روایت دوم مناسب او: امام بیہقی نے ہاشم بن محمد عمری سے روایت کی: مجھے میرے باپ مدینہ سے زیارت قبور اُحد کو لے گئے، جمعہ کا روز تھا، صبح ہوچکی تھی، آفتاب نہ نکلا تھا، میں اپنے باپ کے پیچھے تھا، جب مقابر کے پاس پہنچے انھوں نے بآواز کہا:
سلامٌ علیکم بماصبر تم فنعم عقبی الدار۔
جو اب آیا:
وعلیکم السلام یا ابا عبد اﷲ۔
باپ نے میری طرف مڑ کر دیکھا اور کہا کہ اے میرے بیٹے! تو نے جواب دیا؟ میں نے کہا: نہ۔ انھوں نے میر اہاتھ پکڑ کر اپنی داہنی طرف کرلیا اور کلام مذکور کا اعادہ کیا ، دوبارہ ویسا ہی جواب ملا، سہ بارہ کیا پھر وہی جواب ہوا۔ میرے باپ اللہ تعالٰی کے حضور سجدہ شکر میں گر پڑے۲؎۔
(۲؎ دلائل النبوۃ باب قول اللہ لاتحسین الذین دارالکتب العربیہ بیروت ۳ /۳۰۹)
روایت سوم: ابن ابی الدنیا اور بیہقی دلائل میں انھیں عطاف مخزومی کی خالہ سے راوی: ایک دن میں نے قبر سیدنا حمزہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس نماز پڑھی، اس وقت جنگل بھر میں کسی آدمی کا نام ونشان نہ تھا۔ بعد نماز مزار مطہر پر سلام کیا۔ جواب آیا اور اس کے ساتھ یہ فرمایا:
من یخرج من تحت القبر ا عرفہ کما اعرف ان اﷲ خلقنی وکما اعرف اللیل والنھار ۳؎۔
جو میری قبر کے نیچے سے گزرتا ہے میں اسے پہچانتا ہوں جیسا یہ پہچانتاہوں کہ اللہ تعالٰی نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس طرح رات اور دن کو پہچانتا ہوں۔
(۳؎ دلائل النبوۃ باب قول اللہ لاتحسین الذین دارالکتب العربیہ بیروت ۳ /۳۰۸)
حدیث (۳۹): ابن ابی الدنیا اور بیہقی شعب الایمان میں حضرت محمد بن واسع(عہ) سے راوی:
قال بلغنی ان الموتٰی یعلمون بزوار ھم یوم الجمعۃ ویوما قبلہ ویوما بعدہ ۴؎۔
مجھے حدیث پہنچی ہے کہ مردے اپنے زائروں کو جانتے ہیں جمعہ کے دن اور ایک دن اس سے پہلے اور ایک دن اس سے بعد۔
عہ: یہ تابعی ہیں، ثقہ ، عابد، عارف باﷲ، کثیر المناقب، رجال صحاح ستہ سے، الاالطرفین ۱۲ منہ (م)
تنبیہ: ا س حدیث کے یہ معنی کہ بوجہ برکتِ جمعہ ان تین د ن میں ان کے علم وادراک کو زیادہ وسعت دیتے ہیں، جو معرفت وشناسائی انھیں ان روزں میں ہوتی ہے اور دنوں سے بیش وافزوں ہے نہ یہ کہ صرف یہی تین دن علم وادراک کے ہوں، ابھی سن چکے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی احادیث کثیرہ مطلق ہیں جن میں بلاتخصیص ایام ان کا علم وادراک ثابت فرمایا۔ تصریح اس معنی کی ان شاء اللہ مقصد سوم میں مذکور ہو گی۔