Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
178 - 243
حدیث (۳۱): سعید بن منصور اپنے سنن میں راوی، کسی نے اس جناب سے قبر پر پاؤں رکھنے کا مسئلہ پوچھا ، فرمایا:
کما اکرہ اذی المومن فی حیاتہ فانی اکرہ اذاہ بعد موتہ ۲؎۔
مجھے جس طرح مسلمان زندہ کی ایذا ناپسند ہے یونہی مُردہ کی۔
 (۲؎ شرح الصدو ر    بحوالہ سنن سعید بن منصور    باب تاذی المیّت   خلافت اکیڈمی سوات        ص۱۲۶)
حدیث (۳۲ ): طبرانی عبدالرحمن بن علابن لجلاج سے ان کے والد علا(عہ) ر حمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ان سے فرمایا:
یابنی اذا وضعتنی فی لحدی فقل بسم اﷲ وعلی ملۃ رسول ثم شن لی التراب شناثم اقرأعند راسی بفاتحہ القبرۃ وخاتمہا فانی سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول ذلک۔۳؎
اے میرے بیٹے!ٍجب مجھے لحدمیں رکھے بسم اللہ وعلی ملتہ رسول اللہ کہنا۔ پھر مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا، پھر میرے سرہانے سورہ بقرہ کا شروع یعنی مفلحون تک اور خاتمہ یعنی اٰمن الرسول  سے پڑھنا کہ میں نے سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا۔
عہ : تابعی ثقہ ہیں اور ان کے بیٹے عبدالرحمان تبع تابعین مقبول الروایۃ سے دونوں صاحب رجال جامع الترمذی میں ہیں ۱۲ ۱۲منہ (م)
 (۳؎ مجمع الزوائد    بحوالہ طبرانی     باب مایقول عند ادخال المیّت قبر   دارالکتب العربی بیروت  ۳ /۴۴)
اور حضرت عمر وبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ارشاد صحیح مسلم سے ابھی گزرا کہ مجھ پر مٹی تھم تھم کر بہ نرمی ڈالنا، شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ وترجمہ مشکوٰۃ میں ا س حدیث کے نیچے لکھتے ہیں:
چہ می دفن کنید مراپس بنرمی وبسہولت بیندا زید برمن خاک رایعنی اندک اندک زید واین اشارت است بآں کہ میّت احساس می کند ودروناک می شود بانچہ دردناک مے شود بآن زندہ ۴؎۔
جب مجھے دفن کرنا مجھ پر مٹی نرمی وسہولت سے یعنی ذرا ذرا کرکے ڈالنا، یہ اشارہ ہے اس بات کا کہ مردے کو احساس ہوتاہے اور جس چیز سے زندہ کو تکلیف ہوتی ہے ا سے بھی ہوتی ہے۔
 (۴؎ اشعۃ اللمعات     کتاب الجنائز     باب دفن المیّت    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۶۹۷)
فصل چہارم: میں وہ احادیث جن میں صراحۃً وارد کہ مُردے اپنے ائرین کو پہچانتے اور ان کا سلام سنتے اور انھیں جواب دیتے ہیں۔

حدیث (۳۳): امام ابو عمر ابن عبدالبرکتاب الاستذکار والتمہید میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور پر نور سید عالم صـلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
مامن احدیمر بقبرا خیہ المؤمن کان یعرفہ فی الدنیا فیسلم علیہ الاعرفہ ورد علیہ السلام ۱؎ ۔
جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی قبر پر گزرتا اور ا سے سلام کرتا ہے اگر وہ اسے دنیا میں پہچانتا تھا اب بھی پہچانتا اور جواب سلام دیتا ہے۔
 (۱؎ شرح الصدور     بحوالہ التمہید لابن عبدالبر    باب زیارت القبور    خلافت اکیڈمی سوات        ص۸۴)
امام ابو محمد عبدالحق کہ اجلہ علمائے حدیث سے ہیں ا س حدیث کی تصحیح کرتے ہیں ۲؎ ،
ذکرہ الامام السیوطی فی شرح الصدور والفاضل الزرقانی فی شرح المواھب
(اسے امام سیوطی نے شرح الصدور میں اور علامہ زرقا نی نے شرح مواہب میں ذکر کیا۔ ت) اسی طرح امام ابوعمر سید علامہ سمہودی نے ا س کی تصحیح فرمائی،
ذکرہ الشیخ المحقق فی جامع البرکات وجذب القلوب
(اسے شیخ محقق نے جامع البرکات اور جذب القلوب میں ذکر فرمایا ہے۔ ت)
 (۲؎ شرح الصدور     بحوالہ التمہید لابن عبدالبر    باب زیارت القبور    خلافت اکیڈمی سوات        ص۸۴)
امام سبکی شفاء السقام میں یہ  حدیث لکھ کر فر ماتے ہیں:
ذکرہ جماعۃ وقال القرطبی فی التذکرۃ ان عبد الحق صححہ ورویناہ فی الخلعیات من حدیث ابی ھریرۃ ایضا۳؂ انتہی
  اسے ایک جماعت نے ذکر کیا اور اما م قرطبی نے تذکرہ میں لکھا ہےکہ امام عبد الحق نے اسے صحیح کہا اور خلعیات میں اسے ہم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بھی بیان کیا ہے انتہی (ت)
قلت وستسمع ذلک
 (میں نے کہا: وہ حدیث آگے سنو گے)
 (۳؎ شفاء السقام    الباب الخامس    مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ص۸۸)
حدیث (۳۴): ابن ابی الدنیا وبیہقی وصابونی وابن عساکر وخطیب بغدادی وغیرہم محدثین ا بوہریرہ رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا مر  الرجل بقبر یعرفہ فسلم علیہ رد علیہ السلام وعرفہ واذا مربقبر لا یعرفہ فسلم علیہ ردعلیہ السّلام ۱؎۔
جب آدمی ایسی قبر پر گزرتاہے جس سے دنیا میں شناسائی تھی اور اسے سلام کرتا ہے میّت جوابِ سلام دیتااور اسے پہچانتا ہے، اورجب ایسی قبر پر گزرتا جس سے جان پہچان نہ تھی اور سلام کرتاہے میّت اسے جواب سلام دیتا ہے (عہ)۔علامہ سمہودی فرماتے ہیں اس معنی میں احادیث بہت ہیں اور یہ معنی ہونا خود ہی ثابت ہے افراد اُمت اورعام مومنین میں متحقق ہے۔ (ت)
عہ: سمہودی گوید کہ احادیث درینمعنی بسیار است وایں معنی درآحادست وعموم مومنین متحقق ۱۲ منہ (م)
علامہ سمہودی فرماتے ہیں اس معنی میں احادیث بہت ہیں اور یہ معنی ہونا خود ہی ثابت ہے افراد اُمت اورعام مومنین میں متحقق ہے۔ (ت)
 (۱؎ شعب الایمان    حدیث ۹۲۹۶    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۷ /۱۷)
حدیث (۳۵): امام عقیلی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
قال قال ابوزرین یا رسول اﷲ ان طریقی علی الموتٰی فھل من کلام اتکلم بہ اذا مررت علیھم؟ قال قل السلام علیکم یا اھل القبور من المسلمین والمؤمنین انتم لنا سلفا ونحن لکم تبع تبعا وانا ان شاء اﷲ بکم لاحقون قال ابوزرین یا رسول اﷲ یسمعون قال یسمعون ولکن لایستطیعون ان یجیبوا ۲؎۔
یعنی ابو زرین رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ! میرا راستہ مقابر پر ہے۔ کوئی کلام ایسا ہے کہ جب ان پر گزروں کہا کروں، فرمایا: یوں کہہ سلام تم پر اے قبر والو! اہل اسلام اور اہل ایمان سے تم پر ہمارے آگے ہو ااورہم تمھارے پیچھے ، اورہم ان شاء اللہ تعالٰی تم سے ملنے والے ہیں، ابوزرین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی یارسول اللہ! کیا مردے سنتے ہیں؟ فرمایا سنتے ہیں مگر جواب نہیں دے سکتے۔
 (۲؂ کتاب الضعفاء الکبیر     مترجم ۱۵۷۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۱۹)
تنبیہ نبیہ: امام جلال الدین سیوطی شرح الصدور میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
ای جواباً یسمعہ الحی والا فھم یردون حیث لایسمع ۳؎۔
یعنی حدیث کی یہ مراد ہے کہ مردے ایسا جواب نہیں دیتے جو زندے سن لیں ورنہ وہ ایسا جواب تو دیتے ہیں جو ہمارے سننے میں نہیں آتا۔
 (۳ ؂شرح الصدور    باب زیارۃ القبور    خلافت اکیڈمی سوات        ص۸۴)
اقول یہ معنی خود اسی فصل کی دو حدیث سابق سے واضح کہ ان میں تصریحاً فرمایا مُردے جواب سلام دیتے ہیں، اور اس کی نظیر وہ ہے جو حدیث ۱۵میں بکر بن عبداللہ مزنی سے گزرا کہ روح سب کچھ دیکھتی ہے مگربول نہیں سکتی کہ شور وفریاد سے منع کرے۔ اس کے معنٰی بھی وہی ہیں کہ اپنی بات احیاء کو سنا نہیں سکتے، ورنہ صحیح حدیثوں میں اس کا کلام کرنا وارد۔ جیسا کہ حدیث ۳ وغیرہ میں گزرا۔

تنبیہ دوم: فقیر کہتا ہے پھر یہ ہمارا نہ سُننا بھی دائمی نہیں، صدہا بندگانِ خدا نے اموات کا کلام و سلام سنا ہے۔ جن کی بکثرت روایات خود شرح الصدور وغیرہ میں مذکور ۔ اور بعض اسی مقصد میں فقیر نے بھی نقل کیں ا ور عجب نہیں کہ ان شاء اللہ تعالٰی اپنے محل پر اور بھی مذکور ہوں۔
Flag Counter