Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
177 - 243
فصل سوم: احیاء کی بے اعتدالی سے اموات کے ایذا پانے میں____ ظاہر ہے کہ افعال واحوال احیاء پر انھیں اطلاع نہیں تو ایذا پانی محض بے معنی۔

حدیث (۲۵): امام احمد بسند حسن عمارہ  بن جزم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے ایک قبر سے تکیہ لگائے دیکھا، فرمایا:
لا تؤذ صاحب ھذا القبر
یعنی اس قبر والے کو ایذا نہ دے۔ یا فرمایا:
لاتؤذہ۲؎
اسے تکلیف نہ پہنچا۔
 (۲؎ مشکوٰۃالمصابیح بحوالہ احمد    کتاب الجنائز باب دفن المیّت     مطبع مجتبائی دہلی        ص۱۴۹)
حاکم وطبرانی کی روایت میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا۔ فرمایا:
یاصاحب القبر انزل من علی القبر لا تؤذی صاحب القبر ولایؤذیک ۳؎
( اوقبر والے! قبر سے اترآ، نہ تو صاحب قبرکو ایذا دے نہ ہو تجھے)
 (۳؎ مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی الکبیر        باب البناء علی القبور الخ    دارالکتاب بیروت       ۳ / ۶۱)
مقصد سوم: میں اس حدیث کی شرح امام اجل حکیم ترمذی سے منقول ہوگی۔
روایت مناسبہ:
ابن ابی الدنیا ابو قلابہ بصری (عہ ۱) سے راوی:
عہ ۱ : تابعی، ثقہ، فاضل، رجال صحاح ستہ سے ۱۲منہ (م)
میں ملک شام سے بصرہ کو جاتا تھا، رات کو خندق میں اترا وضو کیا، دور کعت نماز پڑھی، پھر ایک قبر پر سر رکھ کر سوگیا، جب جاگا تو صاحب قبر کو دیکھا کہ مجھ سے گلہ کرتا ہے اور کہتا ہے :
لقد اٰذیتنی منذ اللیلۃ
اے شخص تونے مجھے رات بھر ایذا دی۔
روایت دوم:
امام بیہقی دلائل النبوۃ میں اورا بن ابی الدنیا حضرت ابو عثمان (عہ ۲)نہدی سے وہ ابن مینا تابعی سے راوی:

میں مقبرے میں گیا، دو رکعت پڑھ کر لیٹ رہا، خدا کی قسم میں خوب جاگ رہاتھا کہ سنا کہ کوئی شخص قبر میں سے کہتا ہے:
قم فقد اٰذیتنی
اُٹھ کہ تونے مجھے اذیت دی۔ پھر کہا کہ تم عمل کرتے ہو اور ہم نہیں کرتےخدا کی قسم اگر تیری طرح دو رکعتیں میں بھی پڑھ سکتا مجھے تمام دنیا سے زیادہ عزیز ہوتا ۱؎۔
عہ۲ : اجلہ اکابر تابعین سے ہیں، زمانہ رسالت پائے ہوئے ثقہ ثبت عمائد رجال صحاح ستہ سے ۱۲ منہ (م)
 (۱؂ شرح الصدو ر    بحوالہ بیہقی فی دلائل النبوۃ    باب زیارۃ القبور    خلافت اکیڈمی سوات   ص۸۹)
روایت سوم:
حافظ بن مندہ امام قاسم (عہ ) بن مخیمرہ رحمہ اللہ تعالٰی سے راوی :

 اگرمیں تپائی ہوئی بھال پر پاؤں رکھوں کہ میرے قدم سے پار ہوجائے تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے ا س سے کہ کسی قبر پر پاؤں رکھوں، پھر فرمایاـ : ایک شخص نے قبر پر پاؤں رکھا جاگتے میں سُنا
الیک عنی یا رجل ولاتؤذنی۲؎
اسے شخص! الگ ہٹ مجھے ایذا نہ دے۔
عہ: تابعی، ثقہ فاضل رواۃ صحاح ستہ سے غیرانہ عندخ فی التعلیقات (البتہ امام بخاری نے تعلیقات میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ت) ۱۲ منہ (م)
 (۲؎ شرح الصدو ر  بحوال ابن مندہ   باب تأذیہ بسائر وجوہ الاذٰی  خلافت اکیڈمی سوات ص۱۲۶)
حدیث (۲۶): امام مالک واحمد وابوداؤد وابن ماجہ وعبدالرزاق وسعید بن منصور وابن حبان ودارقطنی اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے راوی، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
واللفظ لا حمد کسر عظم المیّت واذاہ ککسرہ حیا ۳؎
مردے کی ہڈی توڑنی اور اسے ایذا دینی ایسی ہے جیسی زندہ کی ہڈی توڑنی۔

بعض روایات دارقطنی میں
لفظ فی الالم ۴؎
اور زائد درد پہنچنے میں زندہ ومردہ برابر ہیں،
ذکرہ فی مقا صد الحسنۃ
(اسے مقاصد حسنہ میں ذکر کیا گیا۔ ت) ____ مقصد سوم میں ا س کے متعلق امام ابوعمر کا قول آئے گا۔
 (۳؎ مسند احمد بن حنبل    مرویات حضرت عائشہ      دارالفکر بیروت    ۶ /۱۰۵)

(۴؎ المقاصد الحسنہ    حدیث ۸۰۱     دارالکتب العلمیۃ بیروت    ص۲۱۶)
حدیث (۲۷): دیلمی و ا بن مندہ ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے راوی، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
احسنوا الکفن ولاتؤذو اموتاکم بعویل ولا بتاخیر وصیۃ ولا بقطعیۃ وعجلوا قضاء دینہ، واعدلو عن جیران السوء ۵؎ ۔
کفن اچھادو اور اپنی میّت کو چلا کر رونے یا اس کی وصیت میں دیر لگانے یا قطع رحم کرنے سے ایذا نہ پہنچا اور اس کا قرض جلد ادا کرو اور برے ہمسایہ سے الگ رکھو،یعنی قبور کفار واہل بدعت وفسق کے پاس فن نہ کرو۔
 (۵؎ الفردوس بماثور الخطاب    حدیث ۸۰۱        دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۱/۹۸)
حدیث (۲۸): امام احمد ابوالربیع سے راوی:
کنت مع ابن عمر فی جنازۃ فسمع صوت انسان یصیح فبعث الیہ فاسکتہ فقلت لم اسکتہ یا ابا عبدالرحمن قال انہ یتاذی بہ المیّت حتی یدخل فی قبرہ ۱؎۔
میں عبداﷲا بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے ساتھ ایک جنازہ میں تھا کسی کے چلانے کی آواز سنی، آد می بھیج کر اسے خاموش کرادیا، میں نے عرض کی: اے ابوعبدالرحمن! آپ نے اسے کیوں چپایا، فرمایا: اس سے مردے کو ایذا ہوتی ہے یہاں تک کہ قبر میں جائے۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    مرویات عبداللہ بن عبدالرحمان    دارالفکر بیروت    ۲ /۱۳۵)
حدیث (۲۹): امام سعید بن منصور اپنے سنن میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
انہ رأی نسوۃ فی جنازۃ فقال ارجعن مازورات غیر مأجورات ان کن لتفتن الاحیاء وتؤذین الاموات ۲؎۔
یعنی انھوں نے ایک جنازے میں کچھ عورتیں دیکھیں اورا رشاد فرمایا پلٹ جاؤ گناہ سے بوجھل ثواب سے اوجھل۔ تم زندوں کو فتننے میں ڈالتی اور مردوں کو اذیت دیتی ہو۔
 (۲؎ سنن سعید بن منصور)
تنبیہ: سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جو حدیث صحیح مشہور میں فرمایا:
المیّت یعذب ببکاء الحی علیہ۳؎
زندوں کے رونے سے مردے پر عذاب ہوتا ہے ۔ جسے امام احمد وشیخین نے عمر فاورق وعبداللہ بن عمر و مغیرہ بن شعبہ، اور ابو یعلٰی نے ابوبکر صدیق و ابوہریرہ، اور ابن حبان نے انس بن مالک وعمران  بن حصین اور طبرانی نے سمرہ بن جندب سے روایت کیا۔ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین، ایک جماعت ائمہ کے نزدیک اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ زندوں کے چلانے سے مردوں کو صدمہ ہوتا ہے۔ امام اجل سیوطی نے شرح الصدور میں اس معنٰی کو ایک حدیث مرفوع سے مؤید کرکے فرمایا امام ابن جریر کا یہی قول ہے، اور اسی کوایک گروہِ ائمہ نے اختیار فرمایا ، پھر اس کی تائید میں یہ دو حدیثیں ابن مسعود وابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی کہ ہم نے بیان کیں۔ ذکرفر مائیں، اس تقدیر پر اراشاد اقدس
المیّت یعذب، الحدیث
کی آٹھوں روایتیں بھی یہاں شمار کے قابل تھیں مگر ازانجا کہ علماء کو اس کے معنی میں بہت اختلاف ہے۔ نہ ہمارا قصد وحصر واستیعاب۔ لہٰذا انہیں معد ود نہ کیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ صحیح مسلم    کتاب الجنائز        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۰۲)
حدیث (۳۰): ابن ابی شیبہ اپنے مصنف میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی :
اذی المؤمن فی موتہ کاذاہ فی حیاتہ ۱؎۔
مسلمان کو بعد موت ایذ دینی ایسی ہے جیسے زندگی میں اسے تکلیف پہنچائی۔
 (۱؎ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجنائز      ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی     ۳ /۳۶۷)
Flag Counter