Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
176 - 243
حدیث (۱۷): یہی عبدالرحمن بن ابی لیلٰی ( عہ۲) علیہ رحمۃ اللہ وسبحانہ وتعالٰی سے راوی:
عہ۲ : یہ تابعی عظم القدر جلیل الشان میں رجال صحاح ستہ سے ۱۲ منہ (م)
الروح بید ملک بمشی بہ مع الجنازۃ یقول لہ اسمع ما یقال لک ۲؎الحدیث ۔
روح ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے کہ اسے جنازہ کے ساتھ لے کر چلتااور اس سے کہتا ہے سن تیرے حق میں کیا کہا جاتا ہے۔
 (۲؎ شرح الصدو ر       بحوالہ ابن ابی الدنیا    باب معرفۃ المیّت  خلافت اکیڈ می سوات ص۴۰)
حدیث (۱۸): یہی ابن ابی نجیح ( عہ۳) سے راوی :
عہ۳ : تبع تابعین وعلمائے مکہ ورواۃِ صحاح ستہ سے ۱۲ منہ (م)
مامن میّت یموت الاروحہ فی یدر ملک ینظر الٰ جسد ہ کیف یغسل وکیف یکفن وکیف یمشی بہ الٰی قبرہ ۳؎ الحدیث۔
جو مردہ مرتا ہے اس کی روح ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے کہ اپنے بدن کو دیکھتی ہے کیونکر نہلایا جاتا ہے، کیونکر کفن پنایا جاتا ہے،کیونکر قبر کی طرف لے کر چلتے ہیں۔
 (۳؎ شرح الصدو ر    عن ابن نجیح    باب معرفۃ المیّت    خلافت اکیڈ می سوات    ص۴۰)
حدیث (۱۹): یہی ا بو عبداللہ بکر مزنی( عہ۴) رحمۃ اللہ علیہ سے راوی:
عہ۴:  تابعی جلیل القدر کمامر ۱۲ منہ (م)
حدثت ان المیّت لیستبشر بتعجیلہ الی المقابر ۱؎۔
مجھ سے حدیث بیان کی گئی ہے کہ دفن میں جلدی کرنے سے مردہ خوش ہوتا ہے۔
 (۱؎ شرح الصدور    عن بکر المزنی     باب معرفۃ المیّت    خلافت اکیڈمی سوات    ص۴۰)
جعلنا اﷲ بمنہ وکرمہ من السرورین المستبشرین برحمۃ المسریحین بالموت بجودہ وسابغ نعمتہ اٰمین بجاہ النبی الکریم الرؤف الرحیم واٰلہ وصحبہ واولیاء امۃ افضل الصلوۃ والتسلیم ( عہ) ۔
عہ : اس نوع کی بعض احادیث بوجہ مناسبت نوع دوم میں مذکور ہوئیں، واللہ تعالٰی اعلم ۲ ۱منہ (م)
اللہ اپنے فضل وکرم سے ہمیں ان لوگوں میں سے بنائے جو اس کی رحمت سے شاداں وفرحاں ہوتے، اس کے وجود وانعام کا مل کے سبب موت سے راحت پاتے ہیں، الٰہی! قبول فرما نبی کریم رؤف ورحم کی وجاہت کے صدقے، ان پر ان کی آل واصحاب اور ان کی میّت کے اولیاء پر بہترین درود وسلام ہو۔
نوع دوم: احادیث سمع وادراک اہل قبور میں، اور اس میں چند فصلیں ہیں :

فصل اول اصحاب قبور سے حیاکرنے میں:
حدیث (۲۰): اُم المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی ا ﷲ تعالٰی عنہما کا ارشاد جو مشکوٰۃ شریف میں بروایت امام احمد منقول اور اسے حاکم نے بھی صحیح مستدرک میں روایت کیا اور بشرط بخاری ومسلم صحیح کہا کہ فرماتیں:
کنت ادخل بیت الذی فیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وانی واضع ثوبی واقول انما ھو زوجی وابی فلما دفن عمر معھما فواﷲ مادخلتہ الا وانا مشدودۃ علی ثیابی حیاء من عمر ۲؎۔
میں اس مکان جنت آستان میں جہان حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا مزار پاک ہے یونہی بے لحاظ ستر وحجاب چلی جاتی اور جی میں کہتی وہاں کون ہے۔ یہی میرے شوہر یامیرے باپ صلی اﷲ تعالٰی علے زوجہاثم ابیہا ثم علیہا وبارک وسلم۔ جب سے عمر دفن ہوئے خداکی قسم میں بغیر سراپا بدن چھپائے نہ گئی عمر سے شرم کے باعث رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
 (۲؎ مشکوۃ المصابیح    زیارۃ القبور        فصل ثالث     مطبع مجتبائی دہلی    ص۱۵۴

مستدرک للحاکم    کتاب معرفۃ الصحابہ     دارالفکر بیروت    ۴ /۷)
فرمائیے اگر اربابِ مزارات کو کچھ نظر نہیں آتا اس شرم کے کیامعنی تھے؟ اور دفن فاروق سے پہلے ا س لفظ کا کیا منشاء تھا کہ مکان میں میرے شوہر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سوا میرے باپ ہی تو ہیں غیر کون ہے!

حدیث (۲۱): ابن ابی شیبہ وحاکم حضرت عقبہ بن عامر صحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
ماابالی فی القبور قضیت حاجتی اما فی السوق والناس تنظرون ۱؎۔
یعنی میں ایک سا جانتاہوں کہ قبرستان میں قضائے حاجت کو بیٹھوں یا بیچ بازار میں کہ لوگ دیکھتے جائیں۔

مقصد ثالث میں اس کے مناسب سلیم بن عمیر سے مذکور ہوگا کہ شرمِ اموات کے باعث مقابر میں پشاب نہ کیا حالانکہ سخت حاجت تھی۔
 (۱؎ مصنف ابن ابی شیبہ    کتاب الجنائز            ادارۃ القرآن کراچی    ۳ /۳۳۹)
فصل دوم: احیاء کے آنے، پاس بٹھنے، بات کرنے سے مردون کے جی بہلنے میں ____ ظاہر ہیں کہ اگر دیکھتے، سنتے، سمجھتے نہیں تو ان امور سے جی بہلنا کیسا!

حدیث (۲۲): شفاء السقام امام سبکی واربعین طائیہ پھرشرح الصدور میں ہے سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی:
اٰنس مایکون المیّت فی قبرہ اذازارہ من کان یحبہ فی دارلدنیا ۲؎۔
قبر میں مردے کا زیادہ جی بہلنے کا وقت وہ ہوتاہے جب اس کا کوئی پیارا زیارت کوآتاہے۔
 (۲؎ شرح الصدور     بحوالہ اربعین طائیہ    باب زیارۃ القبور    خلافت اکیڈمی سوات    ص۸۵)
حدیث (۲۳): ابن ابی الدنیا کتاب القبور میں اور امام عبدالحق کتاب العاقبہ میں اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور پُر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
مامن رجل یزور قبر اخیہ ویجلس عندہ الاّاستأنس وردعلیہ حتی یقوم۳؎۔
جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی زیارت قبر کو جاتا ہے اور وہاں بیٹھتا ہے میّت کا دل اس سے بہلتا ہے اور جب تک وہاں سے اٹھے مردہ اس کا جواب دیتا ہے۔
 (۳؎ شرح الصدور   بحوالہ کتاب القبور    ابن ابی الدنیا      باب زیارۃ القبور خلافت اکیڈمی سوات    ص۸۴)
حدیث (۲۴): صحیح مسلم شریف میں ہے عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اپنے صاحبزادے عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ وہ بھی صحابی ہیں نزع میں فرمایا:
اذا دفنتمونی فشنوا علی التراب شنا ثم اقیموا حول قبری قدرما تنحر جزور ویقسم لحمھا حتی استانس بکم وانظر ماذا ا راجع بہ رسل ربی ۱؎۔
جب مجھے دفن کر چکو مجھ پر تھم تھم کر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا پھر میر قبر کے گرد اتنی دیر ٹھہرے رہنا کہ ایک اونٹ ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت تقسیم ہویہاں تک کہ میں تم سے انس حاصل کروں اور جان لوں کہ اپنے رب کے رسول کوکیا جواب دیتاہوں ۔
 (۱؎ صحیح مسلم     باب کون الاسلام یہدم ماقبلہ الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۷۶)
Flag Counter