Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
175 - 243
حدیث (۹): ابن ابی الدنیا وبہیقی سعید بن مسیب سے راوی:
ان سلمان الفارسی وعبداﷲ بن سلام التقیا فقال احدھما لصاحبہ ان لقیت ربک قبلی فاخبرنی فی ماذا لقیت، فقال اوتلقی الاحیاء الاموات، قال نعم اماالمومنون فان رواحہ فی الجنۃ وھی تذھب حیث شاءت ۲؎ ۔
سلمان فارسی وعبداﷲ بن سلام رضی اﷲ تعالٰی عنہما ملے، ایک صاحب نے دوسرے سے فرمایا: اگر آپ مجھ سے پہلے انتقال کریں تو مجھے خبر دیں کہ وہاں کیا پیش آیا، دوسرے صاحب نے پوچھا کہ کیا زندے اور مردے بھی آپس میں ملتے ہیں؟ فرمایا: ہاں مسلمانوں کی روحیں توجنت میں ہوتی ہیں اور انھیں اختیار ہوتا ہیے جہاں چاہے جائیں۔
 (۲؎ شعب الایمان    حدیث ۱۳۵۵         دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲ /۱۲۱)
مغیرہ بن عبدالرحمان کی روایت میں تصریح آئی کہ یہ ارشاد فرمانے والے حضرت سلمان عہ فارسی تھے رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔ سعید بن منصور اپنے سُنن اور ابن جریرطبری کتاب الادب میں ان سے راوی:
عہ  صحابی ،عظیم الشان الجلیل القدر صحابی ان چاروں میں سے جن کی طرف  جنت مشتاق ہے ۱۲ منہ سلمہ (م)
قال لقی سلمان الفارسی عبداﷲ بن سلام فقال لہ ان مت قبلی فاخبرنی بما تلقی، وان مت قبلک اخبرتک الحدیث ۳؎۔
یعنی سلمان فارسی نے عبداﷲبن سلام سے فرمایا: اگر تم مجھ سے پہلے مرو تو مجھ خبردینا کہ وہاں کیا پیش آیاا ور اگر میں تم سے پہلے مروں گا تومیں تمھیں خبردونگا۔
(۳؎ شرح الصدو ر    بحوالہ کتاب الادب لابن جریر    خلافت اکیڈمی سوات    ص۹۸)
حدیث (۱۰): ابن ابی شیبہ استادِ بخاری ومسلم اپنے مصنف میں سیدنا ابوہرہ عہ ۱  رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہ انھوں نے فرمایا:
لا یقبض المومن حتٰی یری البشرٰی فاذا قبض نادی فلیس فی الدار دابۃ صغیرۃ ولاکبیرۃ الاﷲ وھی تسمع صوتہ الاّ الثقلین الجن والانس، تعجلو ابی الٰی ارحم الراحمین فاذا وضع علٰی سریرہ قال ما ا بطاء ماتمشون ۱؎۔الحدیث
مسلمانوں کی روح نہیں نکلتی جب تک بشارت نہ دیکھ لے۔ پھر جب نکل چکتی ہے تو ایسی آواز میں جسے انس وجن کے سوا گھر کا ہر چھوٹا بڑا جانور سنتا ہے۔ ندا کرتی ہے مجھے لے چلو ارحم الراحمین کی طرف، پھر جب جنازے پر رکھتے ہیں کہتی ہے کتنی دیر لگارہے ہو چلنے میں۔ الحدیث۔
عہ ۱: صحابی، جلیل القدرر فیع الذکر ہیں جن کی عام شہرت ان کی تعریف سے مغنی ۱۲ منہ (م)
 (۱؎ مصنف ابن ابی شیبہ    کتاب الذہد کلام ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ    ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۳ ۱ /۳۴۸)
حدیث (۱۱): امام احمد کتاب الزہد میں ام الدرداء( عہ۲) رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہ فرماتیں:
عہ ۲: یہ دو خاتونو ں کی کنیت ہے دونوں حضرت ابودرداء صحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی بیبیاں ہیں، پہلی کبرٰی کہ صحابیہ ہیں خیرہ نام،دوسری صغرٰی تابعیہ ثقہ فقیہ مجتہدہ رواۃ صیاح ستہ سے ہجمیہ نام رضی اﷲ تعالٰی عنہا ۱۲ منہ (م)
ان المیّت اذا وضع عی سریرہ فانہ ینادی یااھلاہ ویاجیراناہ ویا حملۃ سریراہ لاتغرنکم الدنیا کما غرتنی ۲؎الحدیث۔
بیشک مردہ جب چا رپائی پر رکھا جاتاہے  پکارتا ہے اے گھروالو، اے ہمسایوں، اے جنازہ اٹھانے والو! دیکھو دنیا تمھیں دھوکا نہ دے جیسا مجھے دیا۔
(۲؎ شرح الصدو ر    بحوالہ کتاب الزہد لاحمد    باب معرفۃ المیّت    خلافت اکیڈمی سوات   ص۴۰)
حدیث (۱۲): ابن ابی الدنیا امام مجاہد( عہ۳) رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے راوی:
عہ ۳: تابعی جلیل الشان امام مجتہد مفسر ثقہ علماء مکہ معظمہ واجلہ تلامذہ عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے سب صحاح میں ان سے روایت ہے ۱۲ منہ (م)
اذامات المیّت فملک قابض نفسہ فما من شیئ الا وھویراہ عند غسلہ وعند حملہ حتی یوصلہ الٰی قبرہ ۳؎۔
جب مردہ مرتا ہے ایک فرشتہ اس کی روح ہاتھ میں لیے رہتا ہے، نہلاتے اٹھاتے وقت جو کچھ ہوتا ہے وہ سب دیکھتا جاتاہے یہاں تک کہ فرشتہ اسے قبر تک پہنچا دیتا ہے۔
 (۳؎ شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا     باب معرفۃ المیّت      خلافت اکیڈمی سوات        ص ۳۹)
حدیث (۱۳): وہی عمر وبن دینار عہ ۱ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے راوی:
عہ۱:  یہ بھی تابعی جلیل ثقہ ثبت ہیں علماء مکہ معظمہ ورجال صحاح ستہ سے ۱۲ منہ (م)
مامن المیّت یموت الاّ وھو یعلم مایکون فی اھلہ بعدہ وانھم یغسلونہ ویکفونہ وانہ لینظر الیھم ۱؎۔
ہر مردہ جانتا ہے کہ اس کے بعد اس کے گھر والوں میں کیا ہورہا ہے لوگ اسے نہلاتے ہیں کفناتے ہیں اور وہ انھیں دیکھتا جاتا ہے۔
 (۱؎شرح الصدو ر    بحوالہ عمر و بن دینار    باب معرفۃ المیّت    خلافت اکیڈمی سوات        ص۳۹)
حدیث (۱۴): ابو نعیم انہیں  سے راوی:
مامن  میّت یموت الاروحہ فی ید ملک ینظر الی جسدہ کیف یغسل وکیف یکفن وکیف یمشی بہ ویقال لہ وھو علٰی سریرہ اسمع ثناء الناس علیک ۲؎۔
ہر مردے کی روح ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے کہ اپنے بدن کو دیکھتی جاتی ہے کیونکرغسل دیتے ہیں، کس طرح کفن پہناتے ہیں، کیسے لے کر چلتے ہیں اور وہ جنازے پر ہوتا ہے کہ فرشتہ اس سے کہتا ہے سن تیرے حق میں بھلا یا بُرا کیا کہتے ہیں۔
 (۲؂حلیۃ الاولیاء    مترجم نمبر ۲۴۶       دارالکتاب العربی بیروت    ۳ /۳۴۹)
حدیث (۱۵): امام ابوبکر عبداﷲ بن محمد بن عبید ابن ابی الدنیا کہ امام ابن ماجہ صاحب سنن کے استاد ہیں امام اجل بکرعہ ۲ بن عبداﷲ مزنی  رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے راوی کہ انھوں نے فرمایا:
عہ ۲: تابعی جلیل ثقہ ثبت ہیں رواۃ صحاح ستہ سے ۱۲ منہ سلمہ ربہ (م)
بلغنی انہ مامن میّت یموت الاوروح فی ید ملک الموت فھم یغسلونہ ویکفنونہ وھو یرٰی مایصنع اھلہ فلم یقدر علی الکلام لینھا ھم عن الرنۃ والعویل ۳؎ ۔
مجھے حدیث پہنچی کہ جو شخص مرتا ہے اس کی روح ملک الموت کے ہاتھ میں ہوتی ہے، لوگ اسے غسل وکفن دیتے ہیں اور وہ دکھتا ہے کہ اس کے گھر والے کیا کرتے ہیں، وہ ان سے بول نہیں سکتا کہ انھیں شور وفریاد سے منع کرے۔

اقول اس نہ بولنے کی تحقیق زیر حدیث ۳۵ مذکور ہوگی، ان شاء اللہ تعالٰی۔
 (۳؎ شرح الصدو ر    بحوالہ ابن ابی الدنیا    باب معرفۃ المیّت    خلافت اکیڈمی سوات     ص۴۰۔ ۳۹)
حدیث (۱۶): یہی امام سفیان ( عہ۱) علیہ رحمۃ المنان سے راوی :
عہ۱ : تبع تابعین ومجتہدان کو فہ ورجال ستہ سے ہیں، امام ثقہ حجت محدّث مجتہد عارف باللہ ۱۲ منہ (م)
ان المیّت لیعرف کل شی حتی انہ لینا شد غاسلہ باﷲ الاخففت علی قال ویقال لہ وھو علٰی سریرہ اسمع ثناء الناس علیک ۱؎۔
بیشک مردہ ہر چیز کو پہچانتا ہے یہاں تک کہ اپنے نہلانے والے کو خدا کی قسم دیتا ہے کہ آسانی سے نہلانا، اور یہ بھی فرمایا کہ اس سے جنازے پر کہا جاتا ہے کہ سن لوگ تیرے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
 (۱؎ شرح الصدو ر    عن سفیان        باب معرفۃ المیّت    خلافت اکیڈ می سوات    ص۴۰)
Flag Counter