Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
174 - 243
حدیث (۱): امام اجل عبدا للہ بن مبارک وا بوبکر بن ابی شیبہ عبداللہ عہ  بن عمر وبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہما

عہ  صحابی ابن صحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہما ۱۲ منہ (م)

سے موقوف اور امام اجل احمد بن حنبل اپنی مسند اور طبرانی معجم الکبیر اور حاکم صحیح مستدرک اور ابو نعیم حلیہ میں بسند صحیح حضور پر نور سید عالم صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مرفوعاً راوی:
والموقوف ابسط لفظا واتم معنی وانت تعلم انہ فی الباب کمثل المرفوع وھذا لفظ امام ابن المبارک قال ان الدنیا جنۃ الکافر وسجن المؤمن وانما مثل المؤمن حین تخرج نفسہ کمثل رجل کان فی سجن فاخرج منہ فجعل یتقلب فی الارض ویتفسح فیھا۱؎۔
 (اور حدیث موقوف لفظاً زیادۃ مبسوط اور معناً زیادہ تام ہے۔ اور معلوم ہے کہ اس باب میں موقوف بھی مرفوع کا حکم رکھتی ہے۔ اور یہ روایت امام ابن مبارک کے الفاظ ہیں۔ ت) بیشک دنیا کافر کی جنت اور مسلمان کی زندان ہے، اور ایمان والے کی جب جان نکلتی ہے توا س کی کہاوت ایسی ہے جیسے کوئی قید خانہ میں تھا اب اس سے نکال دیا گیا کہ زمین میں گشت کرتاا ور بافراغت چلتا پھرتا ہے۔
 (۱؎ کتاب الزہد لابن مبارک    حدیث ۵۹۷     دارالکتب العلمیۃ بیروت    ص۲۱۱)
ولفظ ابی بکر ھکذا الدنیا سجن المومن وجنۃ الکافر فاذا مات المومن یخلی سربہ یسرح حیث شاء ۲؎۔
 (اور روایت ابوبکر کے الفاظ یہ ہیں۔ ت) دنیا مسلمان کا قید خانہ او رکافر کی بہشت ہے۔ جب مسلمان مرتاہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے سیر کرے۔
  (۲؎ المصنف لا بن ابی شیبۃ    حدیث ۱۶۵۷۱   ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی۱۳ /۳۵۵)
حدیث (۲): سیدی محمد علی ترمذی انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ماشبھت خروج المومن من الدنیا الامثل خروج الصبی من بطن امہ من ذٰلک الغم والظلمۃ الٰی روح الدنیا ۳؎۔
یعنی دنیا سے مسلمان کا جانا(عہ)  ایسا ہے جیسے بچے کا ماں کے پیٹ سے نکلنا اس دم گٹھنے اور اندھیری کی جگہ سے اس فضائے وسیع دنیا میں آنا۔
 (۳؎ نوادر الاصول    الاصل الثالث والخمسون فی ان الکبائر لاتجامع    دارصادر بیروت    ص۷۵)
عہ فائدہ: اسی کے موید دو ۲ حدیثین اور ہیں مرسل سلیم بن عامر و بن دینار سے
اخرجھا ابن ابی الدنیا
 (ابن ابی الدنیا نے ان دونوں کو روایت کیا ہے۔ ت) (م)
اسی لیے علماء فرماتے ہیں دنیا کو برزخ سے وہی نسبت ہے جو رحمِ مادر کو دنیا سے۔ پھر برزخ کو آخرت سے یہی نسبت ہے جو دنیا کو برزخ سے ۔ اب اس سے برزخ ودنیا کے علوم و ادراک میں فرق سمجھ لیجئے، وہی نسبت چاہئے جو علم جنین کو علکم اہل دنیا سے، واقعی روح طائر ہے اور بدن قفس،ا ور علم پرواز، پنجرے میں پرند کی پَر فشانی، کتنی؟ ہاں، جب کھڑکی سے باہر آیا اس وقت اس کی جو لاناں قابل دید ہیں،
حدیث (۳): صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابو سعید خُدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا وصف الجنازہ واحتملھا الرجال علٰی اعناقھم، فان کانت صالحۃ قالت قد مونی وانکانت غیر صالحۃ قالت لاھلہا یا ویلھا ان تذھبو بھا بسمع صوتھا کل شیئ الا الانسان ولو سمع الانسان لصعق۱؎۔
جب جنازہ رکھا جاتا ہے اور مرد اسے اپنی گردنوں پر اٹھا تے ہیں، اگر نیک ہوتا ہے کہتا ہے مجھے آگے بڑھاؤ، اور اگر بد ہوتاہے کہتا ہے ہائے خرابی اس کی کہاں لیے جاتے ہو، ہرشے اس کی آواز سنتی ہے مگر آدمی کہ وہ آدمی وہ سُنے تو بیہوش ہوجائے۔ (ت)
(۱؎صحیح البخاری        باب قول المیّت وھو علی الجنازۃ         قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۶)
اقول اگر چہ اہلسنت کا مسلک ہے کہ نصوص ہمیشہ ظاہر پر محمول ہوں گے۔ جب تک کہ اس میں محذور نہ ہو۔ لہذا ہم اس کلامِ جنازہ کو یوں بھی کلام حقیقی پر محمول کرتے ہیں، مگر بحمد اﷲ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان پچھلے لفظوں سے نص کر مفسر فرمادیا کہ ہر شے اس کی آواز سنتی ہے اب کسی طرح مجال تاویل وتشکیک باقی نہ رہی، وﷲ الحمد!
حدیث (۴): ابو داؤد طیالسی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مرفوعاً روایت کیا:
اذا وضع المیّت علٰی سریرہ   ۲؎۔
الحدیث مانند حدیث ابوسعید رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
 (۲؎ مسند ابی داؤد الطیالسی    حدیث ۲۳۳۶            دارالفکر بیروت    ص۳۰۷)
حدیث (۵): امام احمد وابن ابی الدنیا وطبرانی ومروزی وابن مندہ ابو سعید خدری رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان المیّت یعرف من یغسلہ ویحملہ ومن یکفنہ ومن یدلیہ فی حفرتہ ۳؎ ۔
بیشک مُردہ پہچانتا ہے اسے کو غسل دے اور جو اٹھائے اور جو کفن پہنائے او رجو قبر میں اتارے۔ (ت)
 (۳ ؂ مسند احمد بن حنبل    مروی از ابو سعید خدری    دارالفکر بیروت        ۳/۳)
حدیث (۶): ابوالحسن بن البراء کتاب الروضہ میں بسند خود عبدا للہ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
مامن میّت یموت الاوھو یعرف غاسلہ وینا شد حاملہ ان کان بُشّر بروح وریحان وجنۃ نعیم ان یجعلہ وان کان بشر بنزل من حمیم وتصلیۃ جحیم، ان یحبسہ ۱؎۔
ہر مردہ اپنے نہلانے والے کو پہچانتاا ور اٹھانے والے کو قسمیں دیتا ہے اگر اسے آسائش اور پھولوں اور ارام کے باغ کا مژدہ ملا، تو قسم دیتا ہے مجھے جلد لے چل، اور اگر آبِ گرم کی مہمانی اور بھڑکتی آگ میں جانے کی خبر ملتی ہے قسم دیتا ہے مجھے روک رکھ۔
 (۱؎ شرح الصدور    بحوالہ کتاب الروضۃ        باب معرفۃ المیّت من یغسلہ    خلافت اکیڈمی سوات    ص۳۹)
حدیث (۷): ابن ابی الدنیا کتاب القبور میں حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
مامن میّت یوضع عیل سریرہ فیخطی بہ ثلٰچ خطوات الاتکلم بکلام یسمع من شاء اﷲ الاّ الثقلین الجن والانس یقول یا اخوتاہ ویاحملۃ نعشاہ لاتغر نکم الدنیا کما غرتنی ولا یلعبن بکم الزمان کما لعب بی خلفت ما ترکت لورثتی والدیان یوم القٰیمۃ یخاصمنی ویحاسبنی وانتم تشیعونی وتدعونی ۲؎۔
جب مردے کو جنازہ پر رکھ کرتین قدم لے چلتے ہیں ایک کلام کرتاہے جسے سب سنتے ہیں، جنھیں خدا چاہے سوا جن وانس کے، کہتا ہے اے بھائیو! اے نعش اٹھانے والو! تمھیں دنیا وفریب نہ دے جیسا مجھے دیا اور تم سے نہ کھیلے جیسا مجھ سے کھیلی، اپنا تر کہ تو میں وارثوں کے لیے چھوڑ چلا اور بدلہ دینے ولاقیامت میں مجھ سے جھگڑے گا اور حساب لے گا۔ تم میرے ساتھ چل رہے اور اکیلا چھوڑ آؤ گے۔
 (۲؎ شرح الصدور        کتاب القبور لا بن ابی الدنیا    باب معرفۃ المیّت من یغسلہ    خلافت اکیڈمی سوات ص۴۰)
حدیث (۸): ابن مندہ راوی، حِبّان بن ابی جبلہ (عہ)نے فرمایا:
بلغنی ان رسول اﷲ صـلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ان الشھید اذا استشھد انزل اﷲ تعالٰی جسد اکاحسن جسد ثم یقال لروحہ ادخلی فیہ فینظر الٰی جسدہ الا ول مایفعل بہ ویتکلم فیظن انھم یسمعون کلامہ وینظر الیھم فیظن انھم یرونہ حتی یاتیہ ارواجہ یعنی من الحور العین فیذھبن بہ ۱؎۔
مجھے حدیث پہنچی کہ سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: شہید کے لیے جسم نہایت خوبصورت  یعنی اجسامِ مثالیہ سے اتر تاہے اور اس کی روح کو کہتے ہیں اس میں داخل ہو، پس وہ اپنے بدن کو دیکھتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں اور کلام کرتا ہے اور اپنے ذہن میں سمجھتاہے کہ لوگ اس کی باتیں سن رہے ہیں، اور آپ جو انھیں دیکھتا ہے تو یہ گمان کرتا ہے کہ لوگ بھی اسے دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ حور عین میں سے اس کی بیبیاں آکر اسے لے جاتی ہیں (ت)
عہ: یہ تابعی ثقہ ہیں رجال بخاری سے، کتاب الادب المفرد میں ۱۲ منہ (م)
(۱؎ شرح الصدور     بحوالہ ابن مندہ باب مقرالارواح    خلافت اکیڈمی سوات    ص۱۰۳)
Flag Counter