Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
173 - 243
جواب سوم : مانا کہ اصل سماع ہی منفی مگر کس سے ، موتٰی سے، موتٰی کون ہے؟ ابدان، کہ روح تو کبھی مرتی ہی نہیں، اہل سنت وجماعت کا یہی مذہب ہے جس کی تصریحات بعونہٖ تعالٰی تمہید وفصلہ اول ودوم، نوع اول مقصد سوم میں آئیں گی۔ ہاں کسی سے نفی فرمائی؟ من فی قلبور سے یعنی جو قبر میں ہے۔ قبر میں کون ہے؟ جسم ، کہ روحیں تو علّیّین یا جنّت یا آسمان یا چاہِ زمزم وغیرہا مقامات عزوکرام میں ہیں، جس طرح ارواح کفار سجین یا نار وادی برہوت وغیرہا مقامات ذلت واآلام میں۔ امام سبکی شفاء السقام میں فرماتے ہیں:
لاندعی ان الموصوف بالموت موصوف بالسماع انما السماع بعد الموت لحی وھو الروح ۴؎۔
ہم یہ دعوٰی نہیں کرتے کہ جو موت سے متصف ہے وہی سننے سے بھی متصف ہے، مرنے کے بعد سننا ایک ذی حیات کا کام ہے جو روح ہے۔ (ت)
 (۴؎ شفاء السقام    الباب التاسع الفصل الخامس    نوریہ رضویہ سکھر        ص۲۵۹)
شاہ عبدالقادر صاحب برادر حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب موضح القرآن میں زیر کریمہ
وما انت بمسمع من القبور
فرماتے ہیں: حدیث میں آیا ہے کہ ''مردوں سے سلام علیک کرو، سنتے ہیں، بہت جگہ مردوں کوخطاب کیاہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ مردے کی روح سنتی ہے اور قبر میں پڑا ہے دھڑ، و ہ نہیں سُن سکتاہے ؂۵۔
 (۵؎ موضح القرآن    تحت سورہ ۳۵ آیت ۲۲    ناشران قرآن مجید لمٹیڈ، اردو بازار لاہور    ص۶۹۷)
یہ تینوں جواب بتوفیق الوہاب قبل مطالعہ کلام علماء ذہن فقیر میں آئے تھے، پھر ان کی تصریحیں کلمات علماء میں دیکھیں
کما سمعت وﷲ الحمد
 (جیسا کہ آپ نے سنا اور اللہ ہی کے لیے حمدہے۔ ت) اورا بھی ائمہ علماء کے جواب اور بھی ہیں:
وفیما ذکرنا کفایۃ لمن القی السمع وھو شہید ان اﷲ یسمع من یشاء ویھدی الٰی صراط الحمید۔
اور جو ہم نے بیان کیا وہ کافی ہے اس کے لیے جو کان لگائے اور متوجہ ہو۔ بیشک اللہ جسے چاہتا ہے سناتا ہے اور ذات حمید کے راستے کی ہدایت دیتا ہے (ت)

مخالفت (۹): سائل نے مطلق کہا تھا ایک بزرگ کے مزار شریف پر واسطے زیارت کے گیا جو اپنے ارسال و اطلاق سے شہر میں جانے اور سفر کرکے جانے دونوں کو شامل ، کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) اور آپ نے بھی یو نہی برسبیل اطلاق زیارت قبور کی تحسین فرمائی او سند میں حدیث بھی وہ ذکر کی جس میں امربزیارت مطلق وارد۔ یہ اطلاقات مذہب جمہور اہل حق سے تو بیشک موافق، مگر مشرب طائفہ میں آپ پر لازم تھا کہ بلاسفر کے قید لگادیتے، ورنہ سائل ودیگر ناظرین اگر اطلاق دیکھ کر زیارت مزارات کو جانا مطلق جائز سمجھے تو مانعین کے نزدیک ان کا یہ وبال اطلاق فتوٰی کے ذمہ رہے گا۔
المقصد الثانی فی الاحادیث

(مقصد دوم احادیث میں)
اگرچہ حیات و ادراک وسماع وابصار ارواح میں احادیث وآثار اس درجہ کثرت ووفور سے وارد جن کے استیعاب کو ایک مجلد عظیم ودفترِ ضخیم درکار اورخود ان کے احاطہ واستقصا کی طرف راہ کہاں، مگر یہاں بقدر حاجت صرف ساٹھ حدیثوں پر اقتصار اور مثل مقصد اول اس میں بھی دونوں پر انفسامِ گفتار۔

نوع اول: بعد موت بقائے روح وصفات وافعال روح میں، یہاں وہ حدیثیں مذکو ر ہوں جن سے ثابت کہ روح فنا نہیں ہوتی اور اس کے افعال وادر اکات جیسے دیکھنا، بولنا، سننا، آنا جانا، چلنا پھرنا، سب بدستور رہتے ہیں، بلکہ اس کی قوتین بعد مرگ اور صاف وتیز ہوجاتی ہیں، حالت حیات میں جو کام ان آلاتِ خاکی یعنی آنکھ، کان، ہاتھ، پاؤں، زبان سے لیتے تھے اب بغیر ان کے کرتی ہے۔ اگر چہ جسم مثالی کی یاد آوری سہی، ہر چند اس مطلب نفیس کے ثبوت میں وہ بے شمار احادیث وآثار سب حجۃ کا فیہ دلائل شافیہ جن میں :
 (۱) بعد انتقال عقل وہوش بدستور رہنا۔          (۲) روح کا پس ازمرگ آسمانوں پر جانا۔

(۳) اپنے رب کے حضور سجدے میں گرنا۔     	(۴) فرشتوں کو دیکھنا۔

(۵) ان کی باتیں سننا۔                                   	(۶) ان سے باتیں کرنا۔

(۷) اپنے منازل جنّت کا پیشِ نظر رہنا۔           	(۸) نیک ہمسایوں سے نفع پانا۔

(۹) بدہمسایوں سے ایذا اٹھانا۔                      	(۱۰) ملائکہ کا ان کے پا س تحفے لانا۔

(۱۱) ان کی مزاج پرسی کو آنا۔                        	(۱۲) ان کا منتظرِ صدقات رہنا۔

(۱۳) قبر کا ان سے بزبان فصیح باتیں کرنا۔     	(۱۴) ان کے منتہائے نظر تک وسیع ہونا۔

(۱۵) زندوں کے اعمال انھیں سنائے جانا۔      	(۱۶) نیکیوں پرخوش ہونا، بُرائیوں پرغم کرنا۔

(۱۷) پسماندوں کے لیے دعائیں مانگنا۔       	(۱۸) ان کے ملنے کا مشتاق رہنا۔

(۱۹) روحوں کاباہم ملنا جلنا۔                      	 (۲۰) ہر گُونہ کلام کے دفتر کُھلنا۔

(۲۱) منزلوں کی فصل سے آپس کی ملاقات کو جانا        (۲۲) اگلے اموات کامُردہ نوکے استقبال کو آنا۔

(۲۳) اس کا گزرے قریبوں کو دیکھ کر پہچاننا، ان سے مل کر شاد ہونا۔

(۲۴) ان کا اس سے باقی عزیزوں دوستوں کے حال پوچھنا۔ (۲۵) آپس میں خوبی کفن سے مفاخرت کرنا۔

(۲۶) بُرے کفن والے کا ہم چشموں میں شرمانا۔ (۲۷) اپنے اعمال حسنہ یا سیّئہ کو دیکھنا۔ 

(۲۸) ان کی صحبت سے انس وفرحت یا معاذ اللہ خوف ووحشت پانا۔

(۲۹) عالم دین کا علم شریعت 		(۳۰) اہلسنت کا مذہب سنّت

(۳۱) مسلمان کے دل خوش کرنے والے کا اس سرور و فرحت سے صحبت دلکشا رکھنا۔ 

(۳۲) تالیِ قرآن کاقرآن عظیم کی پاکیزہ طلعت سے صحبت دلکشا رکھنا

(۳۳) دشمنانِ عثمان کا اپنی قبروں میں عیاذاً باﷲ دجال پر ایمان لانا۔

(۳۴) نیک بندوں کا خدمتِ اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعباد اﷲ الصالحین میں حاضر ہونا۔ 

(۳۵) اپنی قبور میں نمازیں پڑھنا۔  	(۳۷)حج کرنالبیک کہنا	   (۳۷) تلاوت قرآن میں مشغول رہنا۔

(۳۸) بلکہ ملائکہ کا انھیں تمام وکمال قرآن عظیم حفظ کرانا۔  (۳۹) اپنے رب جل جلالہ، سے باتیں کرنا۔

(۴۰) رب تبارک وتعالٰی کا ان سے کلامِ جانفزا فرمانا۔

(۴۱) بیل اور مچھلی کا لڑتے ہوئے ان کے سامنے آنا تماشا دیکھ کر جی بہلانا، (۴۲) جنّت کی نہروں میں غوطے لگانا۔

(۴۳) جو تلاوت قرآن میں مشغول مرے قرآن عظیم کا ہر وقت ان کی دلجوئی فرمانا، ہر صبح وشام ان کے اہل وعیال کی خبریں انھیں پہنچانا۔     

(۴۴) دودھ پیتے شہزادے کا انتقال ہوا، جنت کی دائیاں مقرر ہونا، مدّت رضاعت تمام فرمانا۔

(۴۵) نیکوں کا شوق قیامت میں جلدی کرنا۔    (۴۶) بدوں کا نام قیامت سے گھبرانا۔

(۴۷) مقتولان  راہِ خدا کے دل میں دوبارہ قتل کی آرزو ہونا۔

(۴۸) مسلمانوں کا سبز یا سپید پرندوں کے روپ میں جہاں چاہنا اُڑتے پھرنا۔ (۴۹) جنّت کے پھل پانی کھانا پینا۔

(۵۰) سونے کی قندیلوں میں عرش کے نیچے بسیرا لینا۔ اللھم ارزقنا۔
اور ان کے سوا بہت سے امور وارد ہوئے۔ جوا ن کے علم وادراک وسمع وبصر وکلام سیر وغیرہا صفات و احوال حیات پر برہان ساطع، بلکہ تمام آیات واحادیث عذاب قبرو نعیم قبر اس مدعا پرحجت قاطع، جسے ان تمام باتوں پر اطلاع تفصیل منظور ہو تصانیف ائمہ دین خصوصاً کتاب مستطاب شرح الصدور بکشف حال الموتی والقبور تصنیف لطیف امام اجل خاتمہ الحفاظ المحقیقین امام علامہ جلال الملۃ والدین سیوطی قدس سرہ، المکین کی طرف رجوع کرے۔ مگرمیں ا س نوع میں صرف چند حدیثیں ذکر کروں گا جن میں ارواح کا بعد انتقال، اہل دنیا کو دیکھنا، ان سے باتیں کرنا، ان کی باتیں سننا اوراسی قسم کے امور متعلقہ بدنیا مذکور ہیں، اور ان میں بھی وقائع جزئیہ نہ لکھوں گا کہ کوئی کہے
واقعۃحال لا عموم لھا
 (ایک واقعہ ہے جو عام نہیں ہوتا۔ ت) اگر چہ دقیق النظر کو ان سے دلیل کی ترتیب اور اتمام تقریب دشوار نہ ہو۔ معہذا پھر ان میں وہ اکثر جن کا ایراد موجب اطالت، لہذا صرف انھیں بعض امور کلیہ کی روایت پر اقتصار چاہتا ہوں، جو ایک عام طور پر حال ارواح میں وارد ہوئے۔ میرے لیے ان احادیث نوع اول میں دو غرضیں ہیں:

اولا جب بعد فراق بدن ان کا علم وادراک وسمع وبصر ثابت ہو ا تویہ بعینہٖ مسئلہ مقصودہ کا ثبوت ہے کہ اسی وقت سے نام میّت ان پر صادق ہوتاہے۔ قبر میں بند ہونےنہ ہونے  کواس میں دخل نہیں، تو عام منکرین پر حجت ہوں گے۔

ثانیاً جب ان سے ثابت ہوگا کہ روح بعد موت اپنے صفات وافعال پر باقی۔ او ران آلات جسمانیہ سے مستغنی، توا س وقت خاس مولوی صاحب کے مقابل یوں گزارش ہو سکتی ہے کہ جس پر جناب مٹی وغیرہ کے حائل وحجاب دیکھ رہے ہیں وہ جسم خاکی ہے نہ کہ روح پاک ،ا ور سمع وبصر وعلم وخبر جس کے اوصاف ہیں وہ جان پاک ہے نہ کہ یہ تو دہ خاک۔
حسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
Flag Counter