Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
172 - 243
مخالفت (۳): سوال سائل میں درود وفاتحہ دونوں کامعاً پڑھنا مذکورتھااور اسی پرحضرت کا جواب وراد۔ بالفرض اگر فرد اً فرداً ان کا پڑھنا ثابت بھی فرمالیں تواصول طائفہ پرہیأت اجتماعیہ محل میں کلام رہیں گے۔ اس بناپر آپ کو حکم بدعت دینا تھا۔ یا تسلیم فرمائیے کہ بعد حسن احادحسن مجموعہ میں کلام نہیں جب تک خصوصی اجتماع میں کوئی مفسدہ نہ ہو۔

مخالفت (۴): متکلمین طائفہ کی تقریریں گواہ کہ جو فعل فی نفسہٖ حسن ہو مگر عوام میں ان کے زعم پر خلط مفاسد کے ساتھ جاری۔ وہ اصل کو ممنوع ٹھہراتے ہیں، نہ کہ مفاسد سے منع۔ او راصل کی تجویز کریں، جب آپ کے نزدیک زیارت مزارات متبرکہ بطور شرک رائج کہ استمداد مذکورشائع وشہور۔ تو اصول طائفہ پراصل زیارت کو حرام کہنا تھا۔ نہ مندوب ومسنون۔
مخالفت (۵): مولوی اسحاق مائۃ مسائل میں لکھتے ہیں:
اذان دادن بعد از دفن بدعت ومکروہ است زیر اکہ معہود از سنت نیست وانچہ معہود از سنت نیست بموجب روایات کتب فقہ مکروہ می باشد۔ وعبارۃ الکتب ھذا یکرہ عند القبر مالم یعھد من السنۃ والمعھود منھا لیس الازیارتہ والدعاء عندہ قائما کما فی فتح القدیر والبحر الرائق والنھر الفائق والفتاوی العالمگیری۱؎۔
دفن کے بعد اذان دینا بدعت اور مکروہ ہے اس لےے کہ سنت سے معہود نہیں۔ اور جو کچھ سنت سے معہود نہ ہو کُتب فقہ کی روایات کے مطابق مکروہ ہوتا ہے اور کتابوں کی عبارت یہ ہے قبر کے پاس جو سنت سے معہود نہیں مکروہ ہے۔ا ور سنت سے معہود صرف یہ ہے کہ زیارت اور وہاں کھڑے ہو کر دعا ہو جیساکہ فتح القدیر، البحرالرائق، النہر الفائق اور فتاوٰی عالمگیری میں ہے (ت)
(۱؎ مائۃ مسائل    سوال بست وہشتم    مکتبہ توحید وسنت پشاور    ص۶۹)
اگر چہ ان عبارات کا مطلب جو صاحبِ مائۃ مسائل نے ٹھہرایا انھیں کتابوں کی بہت عبارتوں سے مردود۔ مگر عجب ہے کہ جناب نے اس کلیہ پر عمل فرما کر وقتِ زیارت درود وفاتحہ پڑھ کر ثواب بخشنے کو کیوں نہ مکروہ فرمایا:

مخالفت (۶):جناب نے امتناع رویت وسماع کوان حجب عدیدہ کی حیلولت پر مبنی فرمایا یہ ابتنٰی باعلی ندامنادی کہ اموات کو فی انفسہم قوت سمع وابصار حاصل ہے مگر ان حائلوں کے سبب باہر کی صوت وصورت کا ادراک نہیں ہوتا ورنہ اگر خود ان میں راساً یہ قوتیں نہ ہوتیں تو بنائے کار حیلولت پر رکھنی محض بے معنی، دیوار بیت کی نسبت کوئی نہ کہے گا کہ باہرکی چیزیں اس وجہ سے نہیں دیکھتے کہ بیچ میں آڑ ہے۔ اب متکلمین طائفہ سے استفسار ہوجائے کہ وہ اس تخصیص کے مقرہوں گے یا راساً منکر۔ معلم ثانی منکرین ہند یعنی مولوی اسحاق دہلوی سے سوال ہوا:
سماعت موتٰی سوائے سلام جائزاست
 (سوائے سلام کے مردے کا سننا جائز ہے؟۔ ت)
جواب دیا ثا بت نیست ۲؎
 ( ثابت نہیں۔ ت) کیا آدمی اسی وقت میّت ہوتا ہے جب قبر میں رکھ کر مٹی دے دیں
(۲؎ مائۃ مسائل    سوال بست وششم    مکتبہ توحید وسنت پشاور    ص۵۰،۵۱ )
مخالفت (۷): جب آپ کے نزدیک مانع ادراک حیلولت خاک۔ تو جب تک مٹی نہ دی ہو یا جہاں دفن ہے اس طرح کرتے ہوں کہ باہرکی آواز اندر جانے سے روک نہ ہو، جیسے علامہ ابن الحاج مدخل میں اہل مصر کا رواج بتاتے ہیں کہ اموات کی قبریں نہیں بناتے بلکہ تہ خانوں میں رکھ کر آتے ہیں اور ان کے لیے دروازوے ہوتے ہیں جب چاہو اندر جاؤ باہر آؤ۔ وہاں کے لیے حکم الٰہی ارشاد ہو۔ اگر ایسی جگہ کوئی یوں پکارے اور اموات سے دعا کرنے کو کہے تو قطعاً مشرک یا شائبہ وشبہہ شرک میں گرفتار ہوگا یا نہیں، متکلمین طائفہ تو ہر گز نہ مانیں گے آپ اپنے کلام کا لحاظ فرمائیں۔
مخالفت (۸): الحمد اللہ کہ جناب کا طرز کلام اول سے آخرتک شاہد عدل کہ آیت کریمہ
انک لاتسمع الموتٰی ۱؎
کو نفی سماع سے کچھ علاقہ نہیں، نہ ہر گز اس سے یہ مفہوم۔ ورنہ کلام جناب کلام اللہ کے صریح خلاف ہوگا۔
(۱ ؎ القرآن            ۲۷ /۸۰ )
اوّلاً آیہ کریمہ یقینا عام، پس اگر اس سے نفی سماع مستفاد ہو توقطعاً سلب کلی پردلالت کرے گی ۔ پھر آپ ارشاد ربّانی کے خلاف بعض اموات کے لیے ایجاب کیونکر کہہ سکتے ہیں۔

ثانیاً اس تقدیر پر مفاد آیت یہ ہو گاکہ نفس موت منافی سماع ہے۔ نہ یہ کہ موتٰی کو اصل قوت حاصل اور عدم ادراک بوجہ حائل۔ پھر آپ کیونکر برخلاف قرآن حیلولت حجب پر بنائے کار رکھتے ہیں۔
لا جرم واضح ہوا کہ آیہ کریمہ کے صحیح معنی ذہن سامی میں ہیں اور آپ خوب سمجھ چکے ہیں کہ اس میں نفی سماع کا اصلاً ذکر نہیں
کما ھوا الحق الناصع
 (جیسا کہ یہی حق خالص ہے۔ ت) اور عجب نہیں کہ اسی لیے آپ نے آیہ کریمہ کا ذکر نہ فرمایا، ورنہ اسی کے ہوتے بیگانہ باتوں کی کیا حاجت ہوتی۔ لہٰذا فقیر نے بھی اس بحث کو بشرطیکہ مولوی صاحب جواب میں اس کی طرف رجعت فرمائیں جو اب الجواب پرمحمول رکھا۔
واﷲ الموفق۔
مگر از انجا کہ مقام خالی نہ رہے بتو فیقہ تعالٰی بعض جوابوں کی طرف اشارہ کروں۔
فاقول وباﷲ استعین
 (میں تو کہتا ہوں اور خدا ہی سے مدد کا طالب ہوں۔ ت)
جواب اوّل: آیت کا صریح منطوق نفیِ اسماع ہے۔ نہ نفی سماع، پھرا سے محل نزاع سے کیا علاقہ۔ نظیر اس کی آیہ کریمہ
انک لا تھدی من احببت ۲؎
ہے۔
(۲ ؎ القرآن       ۲۸ /۵۶)
اسی لیے جس طرح وہاں فرمایا
ولکن اﷲ یھدی من یشاء ۳؎
یعنی لوگوں کا ہدایت پانانبی کی طرف سے نہیں خدا کی طرف سے ہے۔
(۳ ؎ القرآن    ۲ /۲۷۲)
یو نہی یہاں بھی ارشاد ہوا:
ان ا ﷲ یسمع من یشاء ۱؎
 (بیشک اللہ جسے چاہتاہے سناتا ہے۔ ت) وہی حاصل ہو ا کہ اہل قبور کا سُننا تمھاری طرف سے نہیں اللہ عز وجل کی طرف سے ہے۔
( ۱؎ القرآن       ۳۵ /۲۲)
مرقاہ شرح مشکوٰۃ میں ہے:
الاٰیۃ من قبیل انک لا تھدی من احببت ولکن اﷲ یھدی من یشاء ۲؎۔
یہ آیت اس آیت کی قبیل سے ہے۔ بیشک تم ہدایت نہیں دیتے مگر خدا دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ (ت)
 (۲؎ مرقاۃ المصا بیح    باب حکم الاسراء  مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۷ /۵۱۹)
جواب دوم: نفی سماع ہی مانو تو یہاں سے سماع قطعاً بمعنی سمعِ قبول وانتفاع ہے۔ باپ اپنے عاق بیٹے کو ہزار بار کہتا ہے ، وہ میری نہیں سنتا۔ کسی عاقل کے نزدیک اس کے یہ معنی نہیں کہ حقیقۃً کان تک آواز نہیں جاتی۔ بلکہ صاف یہی کہ سنتا توہے، مانتا نہیں، اور سننے سے اسے نفع نہیں ہوتا، آیہ کریمہ میں اسی معنے کے ارادہ پر ہدایت شاہدکہ کفار سے انتفاع ہی کا انتفا ہے نہ کہ اصل سماع کا ۔ خود اسی آیہ کریمہ
انک لا تسمع الموتٰی
کے تتمہ میں ارشاد فرماتا ہے عزو جل :
ان تسمع الامن یومن باٰیٰتنا فہم مسلمون ۳؎۔
تم نہیں سناتے مگر انھیں جو ہماری آیتوں پر یقین رکھتے ہیں تو وہ فرمانبردار ہیں۔
(۳؎ القرآن        ۲۷ /۸۱)
اورپُر ظاہر کہ پندو نصیحت سے نفع حاصل کا وقت یہی زندگی دنیا ہے۔ مرنے کے بعد نہ کچھ ماننے سے فائدہ نہ سننے سے حاصل قیامت کے دن سہی کافر ایمان لے آئیں گے ، پھر اس سے کیا کام
الاٰن وقد عصیت قبل ۴؎
 (کیااب جبکہ اس سے پہلے نافرمان ہے۔ ت)
 (۴؎القرآن      ۱۰ /۹۱)ؕؕؕؕؕؕؕؕؕؕؕؕؕؕؕ
توحاصل یہ ہو کہ جس طرح اموات کو وعظ سے انتفاع نہیں، یہی حال کافروں کا ہے کہ لاکھ سمجھائیے نہیں مانتے۔ علاّمہ حلبی نے سیرت انسان العیون میں فرمایا:
السماع المنفی فی الایت بمعنی السماع النافع وقد اشار الٰی ذلک الحافظ الجلال السیوطی بقولہ ؎
آیت میں جس سننے کی نفی کی گئی ہے وہ سماع نافع کے معنی میںہے،اور اس کی طرف حافظ جلال الدین السیوطی نے اپنے اس کلام سے اشارہ فرمایا ہے: ؎
سماع موتی کلام الخلق قاطبۃ 		قد جاءت بہ عندنا الا ثار فی الکتب

واٰیت النفی معناھا سماع ھدی	 لایقبلون ولایصغو ن للادب ۱؎۔
مردوں کاکلام مخلوق سننا حق ہے، اس سے متعلق ہمارے پاس کتابوں میں آثار وارد ہیں۔

اور آیت نفی کامعنی سماع ہدایت ہے یعنی وہ قبول نہیں کرتے اور ادب کی بات پر کان نہیں دھرتے۔ (ت)
 (۱؎ السیرۃ الحلبیۃ    باب غزوۃ الکبرٰی        المکتبۃ الاسلامیۃ بیروت    ۲ /۱۸۲)
امام ابوالبرکات نسفی نے تفسیر مدارک التنزیل میں زیر آیہ سورہ فاطر میں فرمایا:
شبہ الکفار بالموتی حیث لا ینتفعون بمسموعھم ۲؎۔
کفار کو مُردوں سے تشبیہ دی اس لحاظ سے کہ وہ جو سنتے ہیں اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ (ت)
 (۲؎تفسیر مدارک التنزیل    تحت سورہ ۳۵ آیت ۲۲    دارالکتاب العربیۃ بیروت    ۳ /۳۳۹)
مولانا علی قاری نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا:
النفی منصب علی نفی النفع لاعلی مطلق السمع ۳؎۔
مطلق سننے کی نفی نہیں بلکہ معنٰی یہ ہے کہ ان کاسننا نفع بخش نہیں ہوتا۔ (ت)
 (۳؎ مرقاۃ المصابیح    باب حکم الاسراء        مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ        ۷ /۵۱۹)
Flag Counter