Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
171 - 243
 (۶) ایک روایت میں ہے امیر المومنین فاروق وامیر المومنین مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہما دونوں کو حضرت اویس سے طلب دعا کا حکم تھا۔ دونوں صاحبوں نے اپنے لیے دعاکرائی ۳؎۔
اخرجہ ابن عساکر
 (اسے ابن عساکر نے روایت کیا ۔ ت)
 (۳؎ مختصر تاریخ ابن عساکر    فی ترجمہ اویس قرنی       دارالفکر بیروت     ۵ /۸۳ و ۸۴)
 (۷)امام ابوبکر بن ابی شیبہ استاذ امام بخاری ومسلم اپنے مصنف اور امام بیھقی دلائل النبوۃ کی مجلد یازدہم میں بسند صحیح (عہ۱) بطریق ابومعٰویۃ عن الاعمش عن ابی صالح عن مالک الدار رضی اﷲ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں:
قال اصاب الناس قحط فی زمن عمر بن الخطاب فجاء  رجل (عہ۲) الٰی قبر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یا رسول اﷲ استسق اﷲ لا متک فانھم قدھلکوا فاتاہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی المنام فقیل لہ ائت عمر فاقرأہ السلام واخبرہ انکم مستقیون ۱؎ الحدیث ۔
یعنی عہد معدلت مہد فاروقی میں ایک بار قحط پڑا۔ ایک صاحب یعنی حضرت بلال بن حارث مزنی صحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مزار اقدس حضور ملجاء بیکساں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر حاضر ہو کر عرض کی: یارسول اﷲ! اپنی امت کے لیے اللہ تعالٰی سے پانی مانگئے کہ وہ ہلاک ہوئے جاتے ہیں۔ رحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان صحابی کے خواب میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا عمر (رضی اللہ عنہ) کے پاس جا کر اسے سلام پہنچا اور لوگوں کو خبر دے کہ پانی آیا چاہتا ہے۔ الحدیث (ت)
عہ۱: نص علی صحتہ الاما م القسطلانی فی المواھب ۱۲ منہ (م)
امام قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں اس کے صحیح ہونے کی تصریح فرمائی۔ (ت)
عہ۲ :ھو بلال بن الحارث المزنی الصحابی کما عند سیف فی کتاب الفتوح۱۲ زرقانی شرح مواہب (م)
وہ بلال بن حارث مزنی صحابی ہیں ، جیسا کہ سیف کی کتاب الفتوح میں ہے۱۲ زرقانی شرح مواہب (ت)
 (۱؎ مصنف ابن ابی شیبہ    فضائل عمر    ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱۲ /۳۲)
شاہ ولی اللہ قرۃ العینین میں یہ حدیث نقل کرکے کہتے ہیں:
رواہ ابو عمر فی الاستیعاب ۲؎
 (اسے ابو عمر بن عبدالبر نے استیعاب میں روایت کیا۔ ت)
(۲؎ قرۃ العینین   نوع چہلم    المکتبۃالسلفیہ، لاہور     ص۱۹ )
تنبیہ نبیہ: یہ چند حدیثیں ہیں احیائے حقیقی سے طلب دعا میں۔ اور اموات سے طلب کی قدر ے بحث کہ اصل مسئلہ مسئولہ سائل ہے، ان شاء اللہ تعالٰی مقصدسوم میں مذکور ہوگی۔ یہاں ایک نکتہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو بات شرک ہے اس کے حکم میں احیاء واموات وانس وجن وملائک وغیر ہم تمام مخلوق الٰہی یکساں ہیں کہ غیر خدا کوئی ہو خدا کا شریک نہیں ہوسکتا تو امور شرک میں حیات وموت تفرقہ، جیسا کہ اس طائفہ جدیدہ کا شیوہ قدیمہ ہے۔ دائرہ عقل وشرع دونوں سے خروج، کیا زندے خدا کے شریک ہوسکتے ہیں،صرف شراکت اموات ہی ممنوع ہے۔ مولوی صاحب اپنی مقیس علیہ یعنی قسم غیر کو ملاحظہ کریں کہ حلال نہیں تو مردے زندے کسی کے لیے حلال نہیں، یو نہی اگر طلب دعامیں شرک ہوتو ہرگز یہ حکم فقط اموات سے خاص نہ ہوگابلکہ یقینا احیاء سے دعا کرانی بھی حرام ٹھہرے گی کہ خدا کا شریک نہ ہوسکنے میں زندے مُردے سب ایک سے۔ ولہٰذا شیخ الشیوخ علمائے ہند مولٰنا وبرکتنا سیدی شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی قدس اللہ سرّہ العزیز نے شرح مشکوٰۃ شریف میں فرمایا:
اگر ایں معنی کہ درامداد و استمداد ذکر کر دیم موجب شرک و توجہ بماسوائے حق باشد چنانکہ منکر زعم می کہ کند پس باید کہ منع کردہ شود، توسل وطلب دعا ازصالحان و دوستان خدا درحالت حیات نیز وایں ممنوع نیست بلکہ مستحب ومستحسن است باتفاق وشائع است دردین ؂۱۔
یہ معنٰی جو ہم نے امداد اور مدد طلبی میں بیان کیا اگر شرک کا موجب اور غیر کی طرف توجہ قرار پائے ، جیسا کہ منکر خیال رکھتا ہے تو چاہئے کہ صالحین اور اولیاء اللہ سے زندگی میں بھی توسل اور دعا طلبی سے منع کیا جائے حالانکہ یہ ممنوع نہیں بلکہ بالاتفاق مستحب و مستحسن اور دین میں عام ہے۔ (ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات    باب حکم الاسراء    فصل اول     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۴۰۱)
عزیز! یہ نکتہ بہت کار آمد ہے، اور اکثر اوہام وشبہات کا رَد۔
فاحفظ تحفظ وتحظی من الرشد با وفی حظ
(اسے یاد رکھو گے تومحفوظ رہوگے اور ہدایت سے بھر پور حصہ پاؤگے۔ ت)
نوع دوم: مخالفات مولوی صاحب وہم مذہبانِ مولوی صاحب میں۔ یہان اس امرکا ثبوت ہوگا کہ مولوی صاحب کی تحریر مذہب منکرین سے بھی موافق نہیں۔ بوجوہ عدیدہ واصول وفروع طائفہ جدیدہ سے صریح مخالفت اور مذہب مہذب اہل حق سے بعض باتوں میں گونہ موافقت فرمائی ہے۔ پھر یہی نہیں کہ صرف ہم مذہبوں ہی سے خلاف ہوں اور خود مولوی صاحب ان مخالفات کا بخوشی التزام فرمالیں۔ نہیں، نہیں، بلکہ بہت وہ بھی ہیں جونا دانستہ سرزد ہوگئیں کہ ظاہر ہوئے پر خود بھی آپ کو گوارا نہ ہوں۔ اور اگر تسلیم فرمالیں توا س سے کیا بہتر۔ دیکھئے تو،یہیں کتنے مسائل نزاعیہ طے ہوئے جاتے ہیں۔
مخالفت (۱): مولوی صاحب فرماتے ہیں: زیارتِ قبور مومنین خاصۃً بزرگان دین مندوب ومسنون ہے۔ یہ خصوصیت ہمارے طور پر بیشک حق، مگر صاحب مائۃ مسائل کے بالکل خلاف۔ انھوں نے جو قسم زیارت شرعاً بلا کراہت جائز مانی اس میں مزاراتِ عالیہ حضرات اولیا اور ہر شرابی زنا کار کی قبر یکساں جانی۔ حیث قال (ان کے الفاظ یہ ہیں):
دریں قسم زیارت کر دن قبر ولی وغیر ولی وشہید و غیر شہید وصالح وفاسق وغنی وفقیر برابراسست ۲؎۔
اس قسم میں ولی، غیرو لی، شہید،غیر شہید، صالح، فاسق، غنی اور فقیر سب کی قبر کی زیارت یکساں ہے۔ (ت)
(۲؎ مائۃ مسائل   سوال سیزدہم    مکتبہ توحید وسنۃ پشاور    ص۲۴۔ ۲۳)
پھر اس برابری پر بھی صبر نہ آیا۔ آگے الٹی ترقی معکوس کرکے فرمایا:
بلکہ زیارت قبور اغنیاء وملوک زیادہ ترعبرت حاصل می گردد۔ ۳؎
بلکہ مالداروں اور بادشاہوں کی قبر وں کی زیارت سے زیادہ عبرت حاصل ہوتی ہے۔ (ت)
(۳؎ مائۃ مسائل    سوال سیزدہم      مکتبہ توحید وسنۃ پشاور    ص۲۳۔۲۴)
مطلب یہ کہ جس (عہ)فائدہ کے لیے شرع نے زیارت قبور جائز کی ہے وہ مزارات اولیاء میں ہر گز ایسا نہیں جیسا روپے والوں کی قبروں میں ہے۔ تو آدمی کو چاہئے کہ وہیں جائے جہاں دو آنے زیادہ پائے،
اناّ اﷲ وانا الیہ راجعون
عہ:  اقول وباللہ التوفیق
ان مرد عاقل محرر مائۃ مسائل سے پوچھنا چاہئے کہ اگر تمھا رابیان حق ہے تو واجب تھا کہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اگر قبور اُحد و بقیع پر سوباررونق افروز ہوئے تو باد شاہوں جباروں کے مقابر پر دو سو بار تشریف لے گئے ہوتے تا کہ امت کو اختیار نفع وافضل کی طرف ارشاد فرمائے یا نہ سہی۔برابرہی سہی ، کم ہی سہی، کبھی ہی سہی، ایک ہی بار ثابت کردو کہ حضور اقدس صلی ﷲ تعلی علیہ وسلم کسی بادشاہ کی خاک پر تشریف فرما ہوئے ہوں یا قبرغنی کی بوجہ غناء تخصیص فرمائی ہوپھرسخت عجب ہے کہ جس خاص امرکے لیے حضورنے زیارت قبورجائز فرمائی اس کا حصول جہاں بیشتر اور منفعت شرعیہ اتم واوفر اُسی کو دائماً ترک فرمائیں نہ وہ صحابہ کرام میں ہر گز رواج پائے۔ پھر ہرقرن وطبقہ کے اہل اسلام ہمیشہ زیارت مزارات صلحاء کا اہتمام واعتنا رکھیں ، نہ یہ کہ فلاں بادشاہ یاسیٹھ کی گور پر چلو وہاں نفع زائد ملے گا۔ حق یہ ہے کہ مزارات عالیہ حضرات اولیاء کرام قدست اسرارہم پر امر عبرت میں بھی ترجیح، ممنوع او رمشروعیت زیارت کی غرض اس میں منحصر ہونا قطعاً باطل و مدفوع، خود انھیں حضرت کی مظاہر الحق ترجمہ مشکوٰۃ کی بعض عبارات مقصد سوم میں ملیں گے۔ جوظاہر کردیں گی کہ صاحب مائۃ مسائل
نسی ماقدمت یداہ
 ( پہلے جو کچھ لکھ چکے اسے بھول گئے۔ ت)
واﷲ سبحانہ وتعالٰی علم ۱۲ منہ سلمہ اللہ تعالٰی (م)
مخالفت (۲): مولوی صاحب وقت زیارت قبور درود و فاتحہ پڑھ کر اموات کو ثواب بخشنا مند وب ومسنون فرماتے ہیں۔ بہت اچھا، قرآن وحدیث سے درود فاتحہ کی خصوصیت ثابت کردکھائیں، یا قرون ثلاثہ میں اس  تخصیص کا رواج بتائیں، ورنہ ندب واستنان درکنار اصول طائفہ پر
کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار۱؂
میں داخل ٹھہرائیں۔
( ۱؎ الدرالمنثور    بحوالہ مسلم وغیرہ    تحت آیت من یھدی اللہ    منشورات مکتبہ آیُۃ اللہ العظمی ایران    ۳ /۱۴۷)
Flag Counter