Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
170 - 243
سوال (۲۳): خیر قسم غیرسے توآپ کے نزدیک یہ صرف ظاہر ہی ہوتا تھا کہ وہ اپنے عقیدے میں غیر خدا کو بھی نفع وضرر رسان جانتا ہے۔ بگمان جناب اتنی ہی بات پر شرع مطہر میں بنائے تحریم ہوئی حالانکہ اس کے دل کا حال خدا جانے۔ اب ان کی نسبت حکم ارشاد ہو۔ جو صاف صاف بالتصریح غیر خدا کو نہ فقط نفع وضرر رسان بلکہ مالک نفع وضرر بتائیں، اور وہ بھی کسے۔ اس شقی کو جو مدعی الوہیت رہا ہو۔ اور برسوں خرانِ بے عقل نے اسے پوجا ہو۔ وہ کون، فرعون بے عون۔
نسأل اﷲ عن حالہ الصون
 (خدا سے دعا ہے کہ ہمیں اس کی حالت سے بچائے۔ ت) شاہ عبد العزیز صاحب اس امر کے ثبوت میں کہ سامری والوں کی گوسالہ پرستی قبطیوں کی فرعون پرستی سے بدتر تھی، تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں:
تعظم بادشاہ صاحبِ اقتدار کہ مالک نفع وضرر باشد فی الجملہ وجہ معقولیت دارد۔ گوسالہ لایعقل کہ دربلادت وحمق ضرب المثل است ہیچ وجہ شایان تعظیم نیست۔۱؎
ایسے صاحب اقتداربادشاہ کی تعظیم جو نفع وضرر کامالک ہو فی الجملہ ایک وجہ معقولیت رکھتی ہے مگر بے عقلی گائے کا بچھڑا جو بلادت اور بیوقوفی میں ضرب المثل ہے کسی طرح قابل تعظیم نہیں۔ (ت)
 (۱؎ تفسیر عزیزی  سورۃ البقرۃ  بیان رفتن موسٰی علیہ السلام برائے آورد ن کتاب الخ افغانی دارالکتب لال کنواں دہلی۲۳۸)
سوال (۲۴): یہ تو آیندہ عرض کروں گاکہ طلب دعا کو اعتقاد نفع وضرر سے کتنا تعقل۔ بالفعل اسے یونہی فرض کرکے گزارش کرلوں کہ دعا منگوانے میں تووہ اعتقاد نفع وضرر نکلا، جو معنًی شرک۔ حالانکہ وہ خود ان سے کسی حاجت کی خواستگار ی نہیں۔ پھر:

(۱) ان کے مزارات عظیمہ البرکات پر حاضر ہوکر خود ان سے بھیک مانگنا۔

(۲) یا رُوح یا رُوح پکار کر ان کے فیض کا منتظر رہنا۔

(۳) اپنی مشکلوں کا ان سے حل چاہنا۔

(۴) بیمار پڑیں تو شفاء ملنے کوان کی طرف توجہ کرنا کہ ابھی صنفِ سابق میں منقول ہوئے ان میں کتنا اعتقاد نفع و ضرر ثابت ہوتاہے ۔اور

(۵)لفظ انتفاع واستمداد خود بمعنے نفع یافتن وفائدہ خواستن، اس کا قصد بے اعتقاد نفع ، کس عاقل سے معقول، ہاں ہاں، انصا ف کیجئے تودعا طلبی سے دریوزہ گری وحاجت خواہی کہیں زیادہ ہے، اس میں صرف نیت سائل پر مدار تفرقہ ہے۔ اگر سبب ظاہری ومظہر عون باری جا نا تو خالص حق، اور معاذاﷲ مستقل مانا تونرا شرک، بخلاف طلب دعا کہ وہاں نفس کلام مطلوب منہ کی غلامی وبندگی اور حضرت غنی جل جلالہ، کی طرف محتاجی پر دلیل واضح ۔ یہاں تک کہ توہّم استقلال سے اس کا اجتماع محال
کما لا یخفٰی علی اولی النہٰی
 (جیسا کہ اہل عقل پر مخفی نہیں۔ ت) بااینہمہ اگر یہ شرک ہے تو اس کے لیے تو کوئی لفظ مجھے شرک سے بدتر ملتا بھی نہیں جس کا مصداق ٹھہراؤں ع؎
ضاق عن وصفکم نطاق البیان
 (آپ کے وصف سے بیان کا دائرہ تنگ ہے۔ ت)
سوال (۲۵): اگر مان بھی لیں کہ غیر خدا کی قسم اس لیے حرام ہوئی تو اس کو مسئلہ دائرہ سے کیا علاقہ۔ کیا کسی سے دعا کے لیے کہنے میں بھی اسی طرح کے نفع وضرر کا اعتقاد ظاہر ہوتا ہے جو معناً شرک ہے۔

(۱) خود مصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے دعا چاہی جب وہ مکہ معظمہ جاتے تھے۔ ارشاد فرمایا:
لاتنسنا یا اخی من دعانک ۱؎۔ رواہ ابوداؤد عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اے بھائی! اپنی دعا میں ہمیں نہ بھول جانا ( اسے ابوداؤد نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد    باب الدّعا        آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۲۱۰)
احمد وابن ماجہ کی روایت میں ہے۔ فرمایا :
اشرکنا یا اخی فی صالح دعائک ولاتنسنا ۲؎۔
بھائی! اپنی نیک دعا میں ہمیں بھی شریک کرلینا اور بھول نہ جانا۔
 (۲؎ سنن ابن ماجہ    باب فضل دعاء الحاج    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۲۱۳)
 (۲) حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی جب دفنِ میّت سے فارغ ہوتے تو قبر پر ٹھہر کر صحابہ کرام سے ارشاد فرماتے :
استغفر والاخیکم واسئلو الہ التثبیت فانہ الاٰن یسأل ۳؎۔ رواہ ابوداؤد والحاکم والبیھقی بسند حسن عن عثمان الغنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے ثابت رہنے کی دعا مانگو کہ اب اس سے سوال ہوگا (اسے ابوداؤد، حاکم اور بہیقی نے بسند حسن حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
 (۳؎ سنن ابی داؤد    باب الاستغفار    آفتاب علم پریس لاہور    ۲ /۱۰۳)
(۳) امام احمد عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :۔
اذالقیت الحاج فسلم علیہ وصافحہ ومرہ ان یستغفرلک قبل ان یدخل بیتہ فانہ مغفورلہ ؂۴۔
جب تو حاجی سے ملے سلام ومصافحہ کراورقبل اس کے کہ وہ اپنے گھرمیں جائے اپنی مغفرت کی دعااس سے منگواکہ وہ بخشاہواہے ۔
 (۴؎ مسند احمد بن حنبل    مروی از عبداللہ ابن عمر دارالفکر بیروت        ۲ /۶۹)
 (۴) حضورنے اویس قرنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ذکر کرکے صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو حکم دیا:
فمن لقیہ منکم فلیامرہ فلیستغفرلہ ۵؎۔ ۤاخرجہ مسلم والبیھقی عن عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
تم میں جو اسے پائے اپنے لیے اس سے دعائے بخشش کرائے۔ اسے مسلم اور بیھقی نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ سے رروایت کیا ۔ (ت)
 (۵؎ صحیح مسلم        فضائل اویس قرنی    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۳۱۱)
ایک روایت میں ہے حضرت فاروق کو بالتخصیص بھی حکم ہوا ان سے دعا کرانا کہ وہ اللہ کے حضور عزت والے ہیں،
ا خرجہ الخطیب وابن عساکر ۱؎
 (اسے خطیب اور ابن عساکر نے روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ مختصر تاریخ ابن عساکر    فی ترجمہ اویس قرنی        دارالفکر بیروت    ۵ /۸۲)
 (۵) حسب الحکم امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ان سے دعا چاہی ۲؎ ۔
اخرجہ ابن سعد والحاکم وابو عوانہ و الرویانی والبیھقی فی الدلائل وابو نعیم فی الحلیۃ کلھم من طریق اسیربن جابر عن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اسے بطریق اسیربن جابر حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ابن سعد، حاکم، ابوعوانہ، رویائی، دلائل میں بیھقی ، اور حلیہ میں ابونعیم نے روایت کیا۔ (ت)
 (۲؎المستدرک للحاکم    ذکر لقاء اویس قرنی    دارالفکر بیروت    ۳ /۴۰۳)
Flag Counter