سوال (۱۹): شاہ ولی اللہ کے والد شاہ عبد الرحیم صاحب کی نسبت کیا حکم ہے؟ وہ بھی ا س شرک عالمگیر سے محفوظ نہ رہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب قول الجمیل میں لکھتے ہیں:
وایضا تادب شیخنا عبدالرحیم علی روح جدہ لامہ الشیخ رفیع الدین محمد ۲؎ ۔
شفاء العلیل میں اس کا ترجمہ یوں کیا: ''اور بھی ہمارے مرشد شاہ عبدالرحیم ادب آموز ہوئے اپنے نانا شیخ رفیع الدین کی روح سے۔''
اور حاشا یہ فیض یوں نہ تھا کہ ادھر سے بے طلب آیا ہو، بلکہ یہی جاکر قبر پر متوجہ ہوا کرتے۔ خود شاہ ولی اللہ اپنے والد ماجد سے انفاس العارفین میں ناقل:
می فرمودند مرادر مبد ءحال بمزار شیخ رفیع الدین الفتے پیداشد۔ آں جاہی رفتم وبقبر شاں متوجہ می شدم۱؎الخ
فرماتے تھے مجھے ابتدائے حال میں شیخ رفیع الدین کے مزار سے ایک الفت پیدا ہوگئی۔ وہاں جاتا اور ان کی قبر کی طرف متوجہ ہوتا تھا الخ (ت)
(۲؎ القول الجمیل مع شفاء العلیل گیارھویں فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۹۔۸۰)
(۱؎ انفاس العارفین (اردو ترجمہ) زندہ جاوید المعارف گنج بخش روڈ۔ لاہور ص۳۶)
یارب! جب مولوی اسمٰعیل کے اساتذہ ومشائخ سب گرفتار شرک ہوئے یہ انھیں کے خوشہ چین، انھیں کے نام لیوا، ان کے مداح، ان کے مقلد کیونکر مومن موحد رہے ؎
وحسن نبات الارض من کرم البذر
(زمین کا پودہ عمدہ جب ہی ہوتا ہے کہ بیج اچھاہو۔ ت)
صنف اٰخر من ھٰذا لنوع
(اسی نوع کی ایک اور قسم)
اس میں وہ سوالات مذکور ہوں گے جو مولوی صاحب کے استدلال دوم یعنی تمسک بحدیث من حلف الخ سے متعلق ہیں:
سوال (۲۰): حدیث من حلف بغیر اﷲ فقد اشرک ۲؎
کی جو عمدہ شرح افادہ فرمائی، ذرا کتب ائمہ حدیث و فقہ پر نظر کرکے ارشاد ہوجائے کہ کلمات عُلماء سے کہاں تک موافق ہے، فقیر بہت ممنون احسان ہوگا اگرایک عالم معتمد کی تحریر سے بھی آپ نے اپنا بیان مطابق کر دکھایا۔ الفاظ شریفہ پیش نظر رہیں کہ '' اس حرمت کا سبب سوا اس کے نہیں'' الخ
(۲؎مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲابن عمر دارالفکر بیروت ۲ /۸۷)
سوال (۲۱): اعتقاد نفع وضر ر پر قسم کی دلالت، کسی قسم کی دلالت، آیا لغۃً اس کے معنی سے یہ امر مفہوم، یا عقلاً خواہ عرفاً لازم وملزوم، کہ آدمی اسی کی قسم کھائے جس سے نفع وضرر کی امید رکھے۔
صدر اسلام میں جو صحابہ کرام کعبہ معظمہ کی قسم کھاتے۳
کما رواہ النسائی وغیرہ
(جیساکہ نسائی وغیرہ نے روایت کیا۔ ت)اس وقت کعبہ کی نسبت کیا اعتقاد(عہ) رکھتے تھے؟ بینو اتوجروا
(۳؎ سُنن نسائی الحلف بالکعبۃ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۱۴۳)
عہ : ذکر نسخ نافع نہ ہوگا۔ کیا شرک و توحید میں بھی نسخ جاری ہے ۱۲ منہ (م)
سوال (۲۲): غیر خدا کو کسی طرح نافع یا ضارجاننا مطلقاً شرک ہے یا خاص اسں صورت میں کہ اسے نفع وضرر میں مستقل بالذات مانے۔ برتقدیر اول یہ وہ شرک ہے جس سے عالم میں کوئی محفوظ نہیں۔ جہان شہد کو نافع اور زہر کو مضر جانتا ہے۔ سچے دوست سے نفع کی امید، پکے دشمن سے ضرر کا خوف رکھتا ہے۔ عالم کی خدمت حاکم کی اطاعت اسی لیے کرتے ہیں کہ دینی یا دنیاوی نفع کی توقع ہے۔ مخالف مذہب سے احتیاط، سانپ سے احتراز اسی لیے رکھتے ہیں کہ روحانی یا جسمانی ضرر کا اندیشہ ہے۔ خود قرآن عظیم ارشاد فرماتا ہے :
آٰباؤکم وابناؤکم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعا ۱؎۔
تمھارے باپ اوت تمھارے بیٹے تم نہیں جانتے ان میں کون تمھیں نفع دینے میں زیادہ نزدیک ہے۔
(۱؎ القرآن ۴ /۱۱)
اور فرماتا ہے:
وماھم بضارین بہ من احد الاّباذن اﷲ ۲؎۔
اور وہ اس سے کسی کو ضرر نہ پہنچائیں گے بے حکم خدا کے۔
(۲؎ القرآن ۲/۱۰۲)
صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی : حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من استطاع منکم ان ینع اخاہ فلینفعہ ۳؎۔
تم میں جو اپنے بھائی مسلمان کو نفع دے سکے نفع دے۔
(۳؎ صحیح مسلم باب استحباب الرقیہ من العین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۲۴)
امام احمد و ابوداؤد وترمذی ونسائی و ابن ماجہ بسند حسن مالک بن قیس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور پرنور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من ضارّ ضار اﷲ بہ ومن شاق شق اﷲ علیہ ۴؎۔
جو کسی کو ضرر دے گا اللہ تعالٰی اسے نقصان پہنچائے گا اور جو کسی پر سختی کرے گا اللہ تعالٰی اسے مشقت میں ڈال دے گا۔
(۴؎ جامع الترمذی باب ماجاء فی الخیانۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/۲۸۷)
حاکم کی حدیث میں ہے مولا علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم نے امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حجرِ اسود کی نسبت فرمایا:
بلٰی یا امیرالمومنین یضروینفع ۱؎۔
کیوں نہیں اے امیرا لمومنین! یہ پتھر نقصان دے گا اور نفع پہنچائے گا۔ (الحدیث)
(۱؎المستدرک للحاکم الحجر الاسود یمین اللہ دارالفکر بیروت ۱ /۴۵۷)
بر تقدیر ثانی واقع ونفس الامر اس گمان کے خلاف پر شاہد عادل، لاکھوں آدمی اپنے یا اپنے محبوب کے سر یا آنکھوں یا جان کی قسم کھاتے ہیں، اور ہر گز ان کے خواب میں بھی یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ چیزیں بالاستقلال ہمارے نفع وضرر کی مالک ہیں۔نہ ہرگز سامع کا ذہن اس طرف جاتا ہے۔ بھلا حضرت نابغۂ جعدی رضی اللہ عنہ کے اس قول کے کیا معنی ہیں:
لعمری وما عمری علٰی بھین
لقد نطقت بطلا علیّ الاقارع
(میری زندگی کی قسم، اور میری زندگی کوئی معمولی چیز نہیں__ بلاشبہہ اژدہوں (دشمنوں) نے مجھ پر جھوٹ باندھا ہے۔ ت)
اور جناب کے نزدیک اس سے کیا اعتقاد ظاہر ہوتا ہے__ اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا وغیرھما پیشوایانِ دین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین سے اپنے باپ اور اپنی جان کی قسم کھانی کہ خادم حدیث پر مخفی نہیں۔