Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
168 - 243
سوال (۱۴): یہی شاہ صاحب '' قول الجمیل'' میں لکھتے ہیں۔، ان کی عبارت عربی لاکر ترجمہ کروں، اس سے یہی بہتر ہے کہ مولوی خرم علی صاحب بلہوری مصنفِ نصیحۃ المسلمین کا ترجمہ نقل کروں۔ یہ صاحب بھی عمائد و کبرائے منکرین سے ہیں، شفاء العلیل میں کہتے ہیں:

''مشائخ چشتیہ نے فرمایا: قبرستان میں میّت کے سامنے کعبہ معظمہ کو پشت دے کر بیٹھے ، گیارہ بار سورہ فاتحہ پڑھے پر میّت سے قریب ہو پھر کہے یا رُوح اور یا روح الرّوح کی دل میں ضرب کرے،

یہاں تک کہ کشائش ونور پائے، پھر منتظر رہے اس کا جس کا فیضان صاحب قبر سے ہو اس کے دل پر ۱؎اھ ملخصا
 (۱؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل        پانچویں فصل        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی      ص۷۲)
اقول اوّلاً اس ندائے یا رُوح کا حکم ارشاد ہو۔

ثانیاً یہ سائلان فیض جو تقریر وتسلیم واشاعت و تعلیم شاہ صاحب ومترجم صاحب جب چاہا بلاحصول علم قبور کے سامنے
یارُوح یا رُروح
کرنے اور فیض مانگنے بیٹھ گئے۔ آپ کے طور پر اہل قبور کو سمیع وبصیر ومعطی ومفیض علی الاطلاق مان کر اورماتن ومترجم بتا جتاکر مشرک ہوئے یا نہیں؟

سوال (۱۵): شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر فتح العزیز میں، وہیں جہاں انھوں نے بعض خواص اولیاء کو ایسی زیادت ادراک ملنی لکھی ہے۔ یہ بھی فرماتے ہیں کہ:
''اویسیان تحصیل مطلب کمالات باطنی ازانہا مے نمایند واربابِ حاجات ومطالب حل مشکلات خود ازانہامی طلبند ومے یابند۔''۲؎
اُویسی لوگ اپنے کمالات باطنی کا مقصد ان سے حاصل کرتے ہیں، اور اہل حاجات ومقاصد اپنی مشکلوں کا حل ان سے مانگتے اور پاتے ہیں (ت)
 (۲؎ تفسیر فتح العزیز    پارہ عم    بیان صدقات وفاتحہ الخ   مسلم بک ڈپو لال کنواں دہلی     ۲۰۶)
کہئے زیادت ادراک مسلم ، مگر توجہ خاص کا انکشاف حال تو خارج از علم بحیز اختیار پروردگار ہے۔ پھر اویسی لوگ جوبلا حـصول علم مرتکب استفادہ ہوتے ہیں کیونکر مصداق ان لفظوں کے نہ ہوئے اور ایسی نسبت کہ معاذاﷲ بذریعہ شرک ملتی ہے۔ کیونکر صحیح ومقبول ٹھہری، یہی شاہ صاحب اپنے والد شاہ ولی اﷲ صاحب سے ناقل اویسیت  کی نسبت قوی اور صحیح ہے۔ شیخ ابوعلی فارمدی کو ابوالحسن خرقانی سے روحی فیض ہے اور ان کو بایزید بسطامی کی روحانیت سے، اور ان کو امام جعفر صادق کی روحانیت سے تربیت ہے ۳؎ اھ
نقلہ البلھوری فی شفاء العلیل
 (اسے مولوی خرم علی لاہوری نے شفاء العلیل میں نقل کیا۔ ت)
(۳؎شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل    گیارھویں فصل     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ص ۱۷۸)
ثانیاً ذرا شاہ صاحب کے پچھلے لفظ کہ ''اہل حاجت اپنی مشکلوں کا حل ان سے مانگتے اور پاتے ہیں'' ملحوظ خاطر رہیں، کس دھوم دھام سے ارواح اولیاء کو حاجت روا مشکل کشا بتایا ہے۔ واﷲ! کہا سچ ، اگر چہ بُرامانیں ناواقف ؂
الناس اعداء لما جھلوا
(لوگ جس چیز کو نہیں جانتے اس کے دشمن ہوتے ہیں۔ ت)
؎ غوثِ اعظم بمن بے سر وساماں مددے

قبلہ دیں مددے کعبہ ایماں مددے
(غوث اعظم! مجھ بے سروسامان کی مدد فرمائیں، قبلہ دیں! مدد فرمائیں، کعبہ ایمان ! مدد فرمائیں)
سوال (۱۶): اُسی تفسیر عزیزی میں دفن کو نعمت الہٰی ٹھہرا کر اس کے منافع وفوائد میں لکھتے ہیں:
ازاولیائے مدفونین انتفاع واستفادہ جاریست ۱؎۔
مدفون اولیاء سے نفع پانا اور فائدہ طلب کرنا جاری ہے۔ (ت)
 (۱؎ تفسیر فتح العزیز    پارہ عم      استفادہ ازاولیاء مدفونین  مسلم بک ڈپو لال کنواں دہلی  ص۱۴۳)
اقول اولاً انتفاع تک خیر تھی کہ بے مقصد منتفع بھی ممکن، استفادہ نے غضب کردیا کہ وہ نہیں مگر طلب فائدہ، پھر کیا اچھا نفع دفن میں نکالا کہ بند گانِ خدا بے حصول علم مرتکب سوال ہو کر معاذاﷲ مشرک ہوتے ہیں ۔

ثانیاً لفظ ''جاری ست'' پر لحاظ رہے کہ اس سے مراد نہیں مگر مسلمانوں میں جاری ہونا، اور جو مسلمانوں میں جاری ہر گز شرک نہیں کہ جن میں شرک جاری ہر گز مسلمان نہیں۔
سوال (۱۷): مرزا مظہر جانجاناں صاحب جنھیں شاہ ولی اﷲ صاحب اپنے مکاتیب میں قیم طریقہ احمدیہ و داعی سنت نبویہ لکھتے ہیں، اور حاشیہ مکتوبات ولویہ پر انھیں شاہ صاحب سے ان کی نسبت منقول ہند و عرب وولایت میں ایسا متبع کتاب وسنت نہیں سلف میں بھی کم ہوئے اھ ملخصا مترجماً، یہ مرزا صاحب اپنے ملفوظات میں تحریر فرماتے ہیں:
نسبت مابجناب امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ می رسد، وفقیر رانیازی خاص بآنجناب ثابت است۔ دروقت عروض عارضہ جسمانی توجہ بآنحضرت واقع می شود وسبب حصول شفامی گردد ۲؎۔
امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بارگاہ تک نسبت پہنچتی ہے اور فقیر کو اس جناب سے خاص نیاز حاصل ہے، جب کوئی جسمانی عارضہ لاحق ہوتا ہے تو آنحضور کی جانب میری توجہ ہوتی ہے اور شفایابی کا سبب بنتی ہے۔ (ت)
 (۲؎ مکاتیب مرزامظہر   از کلمات طیبات    ملفوظات مرزا صاحب    مطبع مجتبائی دہلی    ص۷۸)
سوال (۱۸): آگے فرماتے ہیں:
یکبار قصیدہ کہ مطلعش اینست ؎فروغ چشمِ اگاہی امیرالمومنین حیدر

زانگشت ید اللّہی امیرالمومنین حیدر

بجناب ایشاں عرض نمودم نواز شہا فرمود ند اھ۱؎۔
ایک بار وہ قصیدہ جس کا مطلع یہ ہے: ؎چشم معرفت کو روشنی عطا ہو اے امیر المومنین حیدر

خدائی ہاتھ والی انگشت سے اے امیرالمومنین حیدر

حضرت کی بارگاہ میں عرض کیا تو بڑی نوازشیں فرمائیں اھ (ت)
 (۱؎ مکاتیب مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات ملفوظات مرزا صاحب مطبع مجتبائی د ہلی ص۷۸)
اقول اولاً جب جناب مرزا صاحب امراض میں بارگاہ مشکل کشائی کی طرف توجہ کرتے تھے انھیں کیاخبر تھی کہ حضرت مولا علی کرم اللہ وجہ الاسنی ا س وقت میری طرف متوجہ ہیں یا میری طرف سے التفات فرمائیں گے۔ 

ثانیاً یو نہی جب قصیدہ عرض کرنے بیٹھے، کیا جانتے تھے کہ حضرت والا اس وقت سن لیں گے، تو ان سب اوقات میں بے حصول علم، مرتکب عرض وتوجہ ہو کر انھوں نے جناب اسد اللّٰہی کو سمیع وبصیر علی الاطلاق ٹھہرایا، اور حضرت کے طورپر وہ برا لقب پایا یا نہیں۔

ثالثاً مزار پر جا کر کلام وخطاب تو وہ آفت تھا، مرزا صاحب جو بے حضور مزار ہی توجہیں کرتے قصیدے سناتے ا ن کے لیے حکم کچھ زیادہ سخت ہوگا یا نہیں۔

رابعاً اس نیازی خاص پر بھی نظر رہے کہ یہ معالجہ کرے گا ان جُہال کے وہم کا جو "نیاز" کے لفظ کو خاص بجناب بے نیاز مانتے ، اور اسی بنا پر فاتحہ فائحہ حضرات اولیاء کو نیاز کہنا شرک وحرام جانتے ہیں،

خامساً یہ بڑی گزارش تو باقی ہی رہ گئی کہ دفع امراض کے لئے ارواح طیبہ کی طرف توجہ استمدادبالغیر تو نہیں۔ اور جناب کے نزدیک بھلا ایسا شخص اتباعِ شریعت میں یکتا وبے نظیر جیسا کہ شاہ ولی اللہ صاحب نے کہا تھا، بالائے طاق، سرے سے متبع سنت بلکہ ازروئے ایمان، تقویۃ الایمان، راساً مسلم وموحد کہاجائے گا یانہیں
Flag Counter