سوال(۷): کیابات سننے کے لیے صورت دیکھنی بھی ضرور، جب تو واجب کہ تمام اندھے بہرے ہوں اور فرشتہ مذکور، آپ کے طور پر بصیر علے الاطلاق بلکہ اس سے بھی کچھ زائد، ورنہ فقط خطاب کرنے سے بصیر ماننا کیونکر مفہوم ہوا ، عموم واطلاق توبالائے طاق۔
سوال (۸) :بغرض لزوم سماع کلام کو مطلق بصر درکار۔ جو رویتِ مخاطب سے حاصل، یابصرعلے الاول ملازمت باطل، وعلی الثانی لازم کہ تمام مخلوق الہٰی بہری اور کسی بات کا سننا کسی غیر خدا کے لیے ماننا مطلقا مستلزم شرک ہو، تو سب مشرک ہیں، یا ہر ذی سمع، بصیر علے الاطلاق تو آفت اشد ہے۔ والعیاذ باﷲ۔
سوال (۹): ان اولیاء کی زیاررت ادراک اگر اسے مستلزم نہیں کہ ہر کلام زائر سن لیں تو اسے بھی نہیں کہ سب کو نہ سنیں آپ خود عدم استلزام فرماتے ہیں، نہ استلزام عدم، تو دونوں صورت میں محتمل رہیں، پھر ایک امر محتمل پر جزم شرک کیونکر ہوسکتا ہے، غایت یہ کہ بے دلیل ہو تو غلط سہی، کیا ہر غلط بات شرک ہوتی ہے!
سوال (۱۰): مجھے نہیں معلوم کہ قرآن عظیم میں ایک جگہ بھی بیان فرمایا ہو کہ مزارات پر جاکر کلام وخطاب کرنا شرک یاحرام ہے۔ یا اتناہی ارشادہو اہو۔ جو ایسا کرتا ہے گویا اصحاب قبور کو سمیع یا بـصیر علے الاطلاق مانتاہے۔ اور حضرات کی صحتِ استدلال انھیں امور پر مبنی، آپ فرماتے ہیں فرقان حمید میں، بمقامات متعددہ اس کا بیان بتصریح تام موجود، میں مقاماتِ متعدد ہ کی تکلیف نہیں دیتا۔ ایک ہی آیت فرما دیجئے جس میں صاف صاف مضمون مذکور مزبور ہو۔ بینوا توجروا
سوال (۱۱): سورہ یوسف کی آیۂ کریمہ کہ تلاوت فرمائی اس کا ترجمہ ومطلب میں کیوں عرض کروں مولوی اسمٰعیل سے سنئے ۔ تقویۃ الایمان میں لکھا ہے :
''نہیں مسلمان ہیں اکثر لوگ مگر کہ شرک کرتے ہیں ۱؎ یعنی اکثر لوگ جو دعوٰی ایمان کا رکھتے ہیں سو وہ شرک میں گرفتار ہیں''ا نتہی
(۱؎ تقویۃ الایمان پہلا باب توحید وشرک کے بیان میں مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۴)
خدارا س میں مزارات اولیاء پر جانے یا ان سے کلام و خطاب کرنے کا کون سا حرف ہے۔ استغفراللہ! نام کو بو بھی نہیں، تصریح تام تو بڑی چیز ہے۔ پھر اُس آیت نے جناب کا کون سا دعوٰی ثابت کیا یا حضار مزار کو کیا الزام دیا۔ اگر ایسے ہی بے علاقہ استناد کا نام صریح تام ، تو ہر شخص اپنے دعوے پر قرآن عظیم کی آیت پیش کر سکتا ہے، مثلاً فلسفی کہے: توسیط عقول حق ہے ورنہ لازم آئے کہ تمام اشیاء متکثرہ اس واحد حقیقی سے بالذات صادر ہوئی ہوں، اور یہ خدائے عزوجل پر افتراء۔
فان الواحد لایصدر عنہ الا الواحد
(کیونکہ واحد سے واحد ہی صادر ہوسکتا ہے۔ ت) اور اللہ تعالٰی پر افتراء حرام قطعی۔ قرآن حمید میں بمقامات متعددہ اس کا بیان بتصریح تام موجود ، ازانجملہ ہے سورہ انعام میں :
ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لا یفلحون ۲؎
(جو لوگ اللہ پر جھوٹا افتراء کرتے ہیں وہ مرادکو پہنچنے والے نہیں ۔ت)
(۲؎القرآن ۱۶ /۱۱۶)
یا نصرانی کہے انکار تثلیث گناہ عظیم ہے کہ تثلیث ایت انجیل محرف سے ثابت ،ا ور آیت الٰہیہ کی تکذیب موجب عذاب شدید، فرقان حمید میں بمقامات متعدد ہ اس کا بیان بتصریح تام موجود از ا نجملہ ہے سورۂ عنکبوت میں:
وما یجحد باٰیتنا الاّالظٰلمون ۱؎
(ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر وہی جو ظالم ہیں۔ ت)
(۱؎ القرآن ۲۹ /۴۹)
ارشادفرمائیے کیا ان تقریروں سے ان کی استدلال تام ہوگئی ، اور ان کے جھوٹے دعوے معاذاﷲ قرآن عظیم نے ثابت کردئے؟
حاش ﷲ، واستغفر اﷲ ولاحول ولاقوۃ الاّباﷲ____
میں نہیں چاہتاکہ عیاذاً باﷲ فلا ں وہماں کی طرح آیات الٰہیہ کو ان کے موقع ومحل سے بیگانہ کرکے بزور زبان دوسری طرف پھیرا جائے، ورنہ حضرات منکرین کے مقابل آیہ کریمہ
کمایئس الکفار من اصحاب القبور ۲؎
(جیسے کفار اہل قبور سے ناامید ہو بیٹھے۔ ت)
(۲؎ القرآن ۶۰ /۱۳)
بہت اچھی طرح پیش ہوسکتی ہے۔ اور وہ آیت کی نسبت جو آپ نے تلاوت کی ہزار درجہ زیادہ محل وموقع سے تعلق رکھتی ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے: اہل قبور سے کافر لوگ نا امید ہو بیٹھے۔ اب غور کر لیا جائے کہ کون لوگ اہل قبور سے امید رکھتے ہیں ا ور کون یاس کے ہاتھوں آس توڑے بیٹھے ہیں،
انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون۔
صنف اٰخر من ھٰذ ا النوع
(اسی نوع کی ایک اور قسم)
یہاں ان اکابر خاندان عزیزی کے بعض اقوال رنگ تحریر فرمائیں گے جنھوں نے بے حصول علم ارتکاب سوال جائز رکھا اور مولوی صاحب کے طور پر شرک خالص یا ہارے درجے شائبہ شرک میں گرفتار ہوئے۔
سوال (۱۲): شاہ ولی اﷲ ہمعات میں حدیث نفس کا علاج بتاتے ہیں:
بارواحِ طیبہ مشائخ متوجہ شود وبرائے ایشاں فاتحہ خواند یا بزیارت قبر ایشاں رود ازانجا انجذاب دریوزہ کند ۳؎ ۔
مشائخ کی پاک روحوں کی جانب متوجہ ہو اور ان کے لیے فاتحہ پڑھے یا ان کے مزارات کو جائے اور وہاں سے بھیک مانگے۔ (ت)
(۳ہمعات ہمعہ ۸ اکادیمیۃ الشاہ ولی اللہ حیدر آباد ص۳۴)
اقول اولاً جناب کے نزدیک مزار تِ اولیاء سے بھیک مانگنے کا کیا حکم ہے۔ وہاں تو ان سے دُعامنگوانا شرک ہوا جاتا تھا یہاں خود ان سے بھیک مانگی جاتی ہے۔
ثانیاً کسی سے بھیک مانگنی یونہی معقول کہ وہ اس کی عرض سنے اور اس کی طرف توجہ کرے، ورنہ دیواروں پتھروں سے کیا بھیک مانگنا۔ مگر آپ فرماچکے کہ ''توجہ خاص کا انکشاف حال خارج از علم زائر بحیز اختیار پرودگار عالم ہے۔'' اب یہ جو بھیک مانگنے والا شاہ صاحب کے حکم سے بیحصول علم مرتکب سوا ل کا ہے اس نے گویا اہل قبر کوسمیع وبصیر علی الاطلاق قرار دیا یا نہیں؟ اور شاہ صاحب نے یہ شرک خالص یاشائبہ شرک تعلیم کیایانہیں؟ اور ایسی چیز کا سکھانے والا کافر یامشرک یا بدعتی بد مذہب ہو ایانہیں؟ بینوا توجروا
ثالثاً انھوں نے مزارپر جاکر گدائی تو پیچھے بتائی، پہلے گھر ہی بیٹھے ارواح طیبہ کی طرف توجہ کرا رہے ہیں اب تو اطلاق کا پانی سر سے اونچا ہوگیا۔
سوال (۱۳): انھی شاہ صاحب نے ایک رباعی لکھی: ؎
آنا نکہ زادناس بہیمی جستند بالجۂ انوار قدم پیوستند
فیض قدس از ہمت ایشاں می جو دروازۂ فیض قدس ایشاں ہستند ۱؎
(جو لوگ نفس حیوانی کی آلودگیوں سے باہر ہوگئے وہ ذات قدیم کے انوار کی گہرائیوں سے جاملے: فیض قدس ان کی ہمت سے طلب کرو، فیض قدس کا دروازہ یہی لوگ ہیں۔ ت)
(۱؎ ،مکتوبات ولی اللہ از کلمات طیبات مکتوب بست ودوم درشرح بعض اشعار مطبع مجتبائی دہلی ص۱۹۴)
اور مکتوب شرع رباعیات میں خود اس کی شرح یوں کی:
یعنی توجہ بارواحِ طیبہ مشائخ درتہذیب روح وسر نفع بلیغ دارد۲؎ ۔
یعنی مشائخ کی ارواح طیبہ کی جانب توجہ روح اور باطن کو سنوارنے میں نفع بلیغ رکھتی ہے (ت)اقول (میں کہتا ہوں ۔ ت) کیا اچھا نفع بلیغ ہے کہ بلاحصول علم ان کی ہمت سے فیض چاہ کر مشرک ہوگئے۔
(۲؎ ،مکتوبات ولی اللہ از کلمات طیبات مکتوب بست ودوم درشرح بعض اشعار مطبع مجتبائی دہلی ص۱۹۴)