المقصد الاوّل فی الاعتراضات وازاحۃ الشبھات
( پہلا مقصد اعتراضات اور ازالۂ شُبہات میں)
اور اس میں دو نوع ہیں:
نوع اوّل اعتراضات مقصودہ میں___ شاید مولوی صاحب نام اعتراضات سے ناراض ہوں، لہٰذا مناسب کہ پیرایہ سوال میں اعتراض ہوں۔
فاقول وبہ التوفیق وبہ الوصول الٰی ذری التحقیق
(تو میں کہتا ہوں،ا ور خداہی سے توفیق ، اور اسی کی مدد سے بلندئ تحقیق تک رسانی ہے ۔ت)
(۱؎ الصحیح البخاری باب الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳)
سوال (۱): جناب نے قبر کی مٹی حائل دیکھ کر آواز سننی، صورت دیکھنی محال ٹھہرائی، اس سے مراد محال عقلی یا شرعی یا عادی، بر تقدیر اول کا ش کوئی برہان قاطع ا س کے استحالہ پر قائم فرمائی ہوتی۔ میں پوچھتا ہوں کہ اللہ تعالٰی قادر ہے کہ یہ حائل مانع احساس نہ ہو، اگر کہیے نہ، تو
ان اﷲ علٰی کل شیئ قدیر ۱؎
(بیشک اللہ تعالٰی ہر شے پر قادر ہے۔ ت) کا کیا جواب؟____ اورفرمائیے ہاں تو استحالہ کہاں؟ ____ بر تقدیر ثانی آیات قرآنیہ و احادیث صحیحہ سے ثابت کیجئے کہ جب تک یہ حجاب حائل رہیں گے ابصار وسماع نہ ہوسکیں گے، الفاظ شریفہ ملحوظ خاطر رہیں___ بر تقدیر ثالث عادتِ اہل دنیا مراد یا عادت اہل برزخ۔ در صورت اول کیا دلیل ہے کہ مانع دنیوی حائل برزخ بھی ہے۔ کیا جناب کے نزدیک برزخ دنیا کا ایک رنگ ہے؟ اہل دنیا ملائکہ کو نہیں دیکھتے مگر بطور خرق عادت اور برزخ والے عموما دیکھتے ہیں، حتی کہ کفار بھی۔ احادیث نکیرین چھپنے کی چیز نہیں، درصورت دوم جناب نے یہ عادت اہل برزخ کیونکر جانی، اموات نے تو آکر بیان ہی نہ کیا، اور طریقے سے علم ہو ا توا رشاد ہو، اور مامول کہ دعوٰی بتمامہا زیر لحاظ رہے۔
سوال (۲):اسی تشقیق سے احد الشقین الاولین مراد تو آپ ہی کا آخر کلام اس کا اول رادکہ محال عقلی ، صالح تعلق اذن نہیں، اور محال شرعی سے ہر گز اذن متعلق نہ ہوگا، وبر شقِ ثالث ا سکا اعتقاد ممکن کا اعتقاد کہ ہر محال عادی، ممکن عقلی ہے اور شرک اعظم محالات عقلیہ کا اعتقاد، تو اعتقاد ممکن عقلی کا شرک ہونا محال عقلی بین الفساد وبعبارۃ اخری اوضح واجلی (اور بعبارات دیگر زیادہ واضح وروشن ۔ ت) جناب کی پچھلی عبارت صاف گواہ کہ بعض اموات کوا یسی زیادتِ ادراک عطا ہوتی ہے کہ وہ تو جہ خاص کریں تو باذن اللہ دعائے زائرین سن سکتے ہیں___ میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالٰی قادر ہے یا نہیں کہ یہ قوت انھیں ہروقت کے لیے بخشے____ برتقدیر انکار سخت مشکل،
افعیینا بالخلق الاول ۲؎
(توکیا ہم پہلی تخلیق سے تھک گئے۔ ت) در صورت اقرار میّت یہ وصف ملنے سے خدا کا شریک ہوگیا یا نہیں؟ میں جانتاہوں ہاں نہ کہئے گا، اور جب نہ کہ ٹھہری تو میں عرض کروں، وہ وصف جس کے ثبوت سے خد اکی شرکت لا زم نہ آئی، اس کے اثبات سے خدا کا شریک ہو نا کیونکر قرار پایا؟ او رجس کی حقیقت شرک نہیں اس کا گویا شائبہ کیونکر ہوا؟
سوال (۳) :کیا آدمی اسی کام کو حلال جانے جس کے بکار آمد ہونے پر یقین رکھتاہو، باقی کو حرام سمجھے یاصرف امید کافی اگر چہ علم نہ ہو، درصورت اولٰی واجب کہ نماز روزہ اور تمام اعمال حسنہ کوحرام جانیں کہ وہ بے قبول وبکار آمد نہیں اورہم میں کوئی نہیں کہ سکتا کہ اس کے اعمال قطعا مقبول____
(۱؎ القرآن ۲ /۱۰۹)(۲؎ القرآن ۵۰ /۱۵)
در صورت ثانیہ جب آپ کے نزدیک بھی بعض اکابر کا ایسا قوی الادراک عہ۱ ہونا مسلم کہ بتوجہ خاص باذن اﷲ تعالٰی دعائے زائر سن لیں تو وہاں کرم الہٰی سے ہر وقت امید و توقع موجود کہ سننے کا علم نہیں، تو نہ سننے پر بھی جزم نہیں، پھر کلام کیوں کر، ناروا ہوسکتا ہے۔ جناب کو اپنا اطلاق حکم ملحوظ خاطر عاطر رہے۔
عہ ۱: اگر تسلیم تحقیقی ہے توا مرظاہر اور بطور تجویزو تقدیر ہے۔تویہی عرض کیا جاتا ہے کہ یہ صورت مان کرپھر اس کلام کی کیا گنجائش ہے۔ یہ نکتہ محفوظ رہنا چاہئے، ۱۲ منہ
سوال (۴): یہ تو ظاہر کہ سائل جن کے دروازوں پر سوال کرتے ہیں وہ ہر وقت فراخ دست نہیں ہوتے، اب ان سائلوں کو حضرت کے اعتقاد میں ہر شخص کے حالِ خانہ پر اطلاع و وقوف ہے یا نہیں، اگر کہے ہاں توجس طرح جناب کے نزدیک زا ئر بیچاروں نے حضرت اولیاء کو سمیع وبصیر علی الاطلاق مانا، یونہی عہ۲ آپ نے ان بھیک مانگنے والوں، جوگیوں، سادھووں کو علیم وخبیر علی الاطلاق جانا۔
والعیاذ باﷲ سبحٰنہ وتعالٰی،
عہ۲: تشبیہ مقصود بالذات ہے کہ یہ سوال نقض اجمالی ہے ورنہ ہمارے نزدیک نہ صرف اتنا علم وخبر مطلق نہ فقط اتنا سمع وبصرمطلق۔ ۱۲ منہ
اور اگر فرمائیے نہ، توجبکہ سائل بلاحصول علم مرتکب سوال ہوتے ہیں، آپ کے طور پر گویا اہل بیوت کو معطی وقدیر علی الاطلاق قرار دیتے ہیں یا نہیں____ بر تقدیر اول واجب ہوا کہ سوال شرک نہ ہو تو ادنٰی درجہ شائبہ وشبہہ شرک ضرور ہو حالانکہ بہت اکابر علماء اولیاء نے وقت حاجت اس پر اقدام فرمایا ہے، حضرت ابوسعید خراز قدس سرہ،العزیز جن کی عظمت عرفان وجلالت شان آفتاب نیمروز سے اظہر، ہنگامہ فاقہ ہاتھ پھیلاتے اور شیأ للہ فرماتے ___ یو نہی سیدالطائفہ جنید بغدادی کے استاد حضرت ابوحفص حداد وحضرت ابراہیم ادھم وامام سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین سے وقت ضرورت شرعیہ سوال منقول ۱؎
نقل کل ذلک العلامۃ المناوی فی التیسیر عہ۳
( یہ سب علامہ مناوی نے تیسیر میں نقل کیا ہے۔ ت)
عہ۳: تحت قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من سأل من غیر فقر فکا نمایا کل الجمر ۱۲ منہ
زیر ارشاد رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم: جس نے بغیر احتیاج کے سوال کیا گویا وہ اپنے پیٹ میں انگارے بھرتاہے ۱۲منہ (ت)
(۱؎ التیسیر شرح جامع الصغیر تحت حدیث من سأل مکتبۃ الامام الشافعی ریاض سعودیہ ۲ /۴۲۱)
کتب فقہیہ شاہد عادل کہ بعض صور میں علمائے کرام نے سوال فرض بتایا ہے۔ معاذاﷲ ! یہ آپ کے طور پر شرک یا شائبہ شرک فرض ہونا ہوگا۔ برتقدیر ثانی زائر بیچارہ بلا حصول علم سوال کرنے پر کیوں ان الفاظ کا مصداق ہوا۔
سوال (۵): جو شخص ایک جگہ خاص پر ہو کہ وہاں جاکر جس وقت بات کیجئے سن لے۔ اس قدر سے اسے سمیع علی الاطلاق کہا جائے گایا نہیں۔ اور اگر کہیے ہاں، تو اپنے نفس نفیس کو سمیع علی الاطلاق مانیے، ہم نے تو ہمیشہ یہی دیکھا ہے کہ دولت خانہ پر جا کر جب کسی نے بات کی ہے آپ کے کا ن تک پہنچی ہے۔ اور فرمائیے نہ۔ تو مزار پر جاکر سمیع علی الاطلاق جانا کیونکر سمجھا گیا!
سوال (۶): زمانہ وجود مخاطب کے استغراق ازمنہ باوصف خصوص مکان کو جناب نے مثبت سمع علی الاطلاق ٹھہرا یا تواستغراق ازمنۂ وجود و امکنۂ دنیا بدرجہ اولٰی موجب ہوگا۔ اب کیا جواب ہے اس حدیث سے کہ امام بخاری نے تاریخ میں اور طبرانی وعقیلی اور ابن النجار و ابنِ عساکر و ابوالقاسم اصبہانی نے عمار بن یا سر رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے روایت کی۔ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سُنا :
ان ﷲ تعالٰی ملکا اعطاہ اسماع الخلائق (زاد الطبرانی کلھا) قائم علے قبری (زاد الٰی یوم القٰیمۃ) فما من احد یصلّی صلٰوۃ الاّ ابلغنیھا۱؎ ۔
بیشک اللہ تعالٰی کا ایک فرشتہ ہے جسے خدا نے تمام جہاں کی بات سن لینی عطاکی ہے۔ وہ قیامت تک میری قبر پر حاضر ہے۔ جو مجھ پر درود بھیجتا ہے جو مجھ سے عرض کرتاہے۔ (ت)
(۱؎ الترغیب بحوالہ المعجم الکبیر الترغیب فی اکثار الصلٰوۃ علی النبی مصطفی البابی مصر ۲ /۴۹۹ ۔۵۰۰)
علامہ زرقانی شرح مواہب اور علامہ عبدالرؤف شرح جامع صغیر میں اعطاہ اسماع الخلائق کی شرح میں یوں فرماتے ہیں:
ای قوۃ یقتد ربھا علٰی سماع ماینطق بہ کل مخلوق من انس وجن وغیرھما (زاد ا لمناوی فی ای موضع کان ۲؎ ۔
یعنی اللہ تعالٰی نے اس فرشتے کو ایسی قوت دی ہے کہ انسان جن وغیر ہما تمام مخلوقِ الہٰی کی زبان سے جو کچھ نکلے اسے سب کے سننے کی طاقت ہے چاہے کہیں کی آواز ہو (ت)
(۲ التیسیر شرح جامع الصغیر تحت ان اللہ ملکا الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/۳۳۰)
اور دیلمی نے مسند الفردوس میں سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی، حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اکثر واالصلٰوۃ علی فان اﷲ تعالٰی وکل لی ملکا عند قبری فاذا صلی علی رجل من امتی قال لی ذلک الملک یامحمد ان فلان بن فلان یصلی علیک الساعۃ ۱؎۔
مجھ پر درودبہت بھیجو کہ اللہ تعالٰی نے میرے مزار پر ایک فرشتہ متعین فرمایا ہے جب کوئی امتی میرا مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھ سے عرض کرتا ہے: یارسول اللہ! فلاں بن فلاں نے ابھی ابھی حضور پر درود بھیجی ہے (ت)
اے اﷲ! درود اور برکت نازل فرما اس حبیب پر جو برگزیدہ ہیں اور اس شفیع پر جن سے کرم کی امید ہے او ر ان کی آل ، اصحاب ، ان کی امت کے اولیاء ان کی ملت کے علماء سب پر ایسا درود جسے تیرے دوام کے ساتھ دوام اور تیری بقا کے ساتھ بقا ہو، ایساد رود جس کے وہ اہل ہیں اور جو تیری شان کے لائق ہو، قبول فرما، قبول فرما اے معبود برحق قبول فر ما! (ت)
؎ جاں می دہم درآرزو اے قاصد آخر بازگو
درمجلس آں نازنین حرفے گر از مامے رود
(اے قاصد! اس آرزو میں جان دے رہاہوں کہ اس محبوب کی مجلس میں پھر ایک بات پہنچادو اگر پہنچ سکے۔ ت)
بھلا ارشاد ہو۔ اولیاء کرام تو خاص حاضرانِ مزار کی بات سننے پر سمیع علی الاطلاق ہوئے جاتے ہیں، یہ بندہ خدا کہ بارگاہ عرش جاہ سلطانی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے جدا نہیں ہوتا اور وہیں کھڑے کھڑے ایک وقت میں شرقاً غرباً جنوباً شمالاً تمام دنیا کی آوازیں سنتاہے اسے کیا قرار دیا جائے گا۔ آپ کوتو کیا کہوں مگر ان نجدی شرک فروشوں نے نہ خدا کی قدرت دیکھی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو کیا کیا عطا فرماسکتاہے۔نہ اس کی عظمت صفات سمجھی ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر شر ک کا ماتھا ٹھنکتا ہے۔
ماقدرو ا اﷲ حق قدرہ ۲؎
( انھوں نے خداکی قدرت نہ جانی جیسا کہ ا س کی قدر کا حق تھا۔ ت)