Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
165 - 243
رسالہ

حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات(۱۳۰۵ھ)

(بے جان کی زندگی، مُردوں کی سماعت کے بیان میں)
بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد ﷲ الذی خلق الانسان÷ علمہ البیان÷ واعطاہ سمعا وبصرا وعلمافزان÷ وجعلہ مظھر الصفات الرحمن÷ ولم یجعلہ معدوما بفناء الابدان÷ والصلٰوۃ والسلام الاتمان الاکملان÷ علی السمیع البصیر العلیم الخبیر الملک المستعان÷ المولی الکریم الرؤف الرحیم العظیم الشان÷ سیدنا ومولٰنا محمد النافذ حکمہ فیک عوالم الامکان÷ وعلٰی اٰلہ وصحبہ وابنہ الغوث الباھر السلطان÷ الحیّ المنعم فی القبر المکرم بفضل المنان÷ واشھدان لا الٰہ الاّ اﷲ وحدہ لاشریک لہ شھادۃ یحیی بھا وجہ الدیان÷ واشھد انّ محمدًا عبدہ، ورسولہ شھادۃ توردنا موارد الرضوان÷ فصلی اﷲ وسلم وبارک وانعم علی ھذ الحبیب القریب الملتجی، البعید المرتقی الرفیع المکان÷ وعلٰی اٰلہ وصحبہ وعیالہ وحزبہ اولی العلم والعرفان÷ وعلینا معھم وبھم ولھم یاجلیل الاحسان÷ وجمیل الامتنان÷ اٰمین الٰہ الحق اٰمین ط
تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے انسان کو پیدا کیا۔ اسے بیان سکھایا۔ اسے سماعت، بصارت اور علم دے کر سنوارا۔ اسے رحمان کی صفات کا مظہر بنایا۔ اور بدنوں کے فناہونے سے اس کو معدوم نہ فرمایا، اورزیادہ تام وکامل تر درود وسلام ہو ان پر جو سننے، دیکھنے، جاننے، خبردینے والے سُلطان ہیں جن سے مدد مانگی جاتی ہے۔ جو کریم آقا، بڑے مہربان، رحم کرنے والے، بڑی شان والے ہیں، ہمارے سردار اور ہمارے آقا حضرت محمد جن کا حکم امکان کے جہانوں میں نافذ ہے اور ان کی آل واصحاب اور ان کے فرزند روشن دلیل والے غوث والے پر جو بہت احسان فرمانے والے رب کے فضل سے قبر مکرم میں زندہ انعام یافتہ ہیں، اور میں شہادت دیتاہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ایسی شہادت جس سے جزا دینے والے رب کو تحیت پیش کی جائے۔ اور میں شہادت دیتاہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ایسی شہادت جو ہمیں رضوان کے مقامات میں اتارے۔ توخدا کا درود وسلام اور برکت وانعام ہو اس محبوب پر جو التجا کے لیے قریب، منزل ارتقا میں بلند مرتبے والے ہیں، اور ان کی آل و اصحاب وعیال اور علم وعرفان والی جماعت پر، اور ان کے ساتھ، ان کے طفیل، ان کے سبب ہم پر بھی، اے بزرگ احسان، جمیل امتنان والے، قبول فرما، قبول فرما، اے معبود برحق قبول فرما! (ت)
امابعد! یہ معدود سطریں ہیں یا منضود سلکین، تنقیح مسئلہ علم وسماع موتٰی، وطلب دعا بمشاہد اولیاء ہیں، جنھیں افقرالفقراء احقر الورٰی عبد المصطفی احمد رضا محمدی، سُنی، حنفی، قادری، برکاتی، بریلوی، اصلح اللہ عملہ وحقق املہ، نے وائل ماہ رجب ۱۳۰۵ ہجری کی چند تاریخوں میں رنگ تحریر دیا، اور بلحاظ تاریخ
حیاۃ الموات فی بیان سماع الوصال (۱۳۰۵ھ)
سے مسمٰی کیا، اس سے پہلے کہ فقیر غفرلہ، نے چند کلمے
مسمّی بہ الاھلال بفیض الاولیاء بعد الوصال (۱۳۰۳ھ)
جمع کئے تھے، ان کے اکثر مطالب ومضامین بھی اس رسالہ کے بعض انواع وفصول میں مندرج ہوئے۔ اب یہ عجالہ نہ صرف علم وسماع موتٰی کا ثبوت دے گا بلکہ  بحول اللہ تعالٰی خوب واضح کرے گا کہ حضرات اولیاء بعد الوصال زندہ اور ان کے تصرف وکرامات پایندہ اور ان کے فیض بدستور جاری اور ہم غلاموں خادموں محبوں معتقدوں کے ساتھ وہی امداد واعانت ویاری،
والحمد للہ القدیر الباری۔
یہ رسالہ حق سے متصل، باطل سے منفصل مقدمہ وسہ مقصد وخاتمہ پر مشتمل
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ھو مولٰنا وعلیہ التعویل۔
مقدمہ باعث تالیف میں سلخ جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ کو ایک مسئلہ بغرض تصدیق واظہارا دعائے طلب تحقیق فقیر کے پاس آیا، صورت سوال یہ تھی:
مسئلہ ۲۷۲: بسم اللہ الرحمن الرحیم چہ می فرمایند علماء دین ومفتیان شرع متین دریں باب
 ( کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں۔ ت)کہ ایک بزرگ کے مزار شریف پر واسطے زیارت کے گیا اس وقت یہ کلمہ زبان سے نکلا کہ اے بزرگ برگزیدہ درگاہ کبریائی! آپ اللہ پاک سے میرے واسطے دعا کیجئے کہ حاجت میر ی فلانی بر آوے کیونکہ آپ بزرگ ہیں، بطفیل رسول عہ۱ مقبول،واسطے اللہ کے حاجت برآوے، بعد کو کچھ فاتحہ ودرود شریف پڑھا اور پیشتر میں پڑھا، یوں مزار گاہ میں جانا اور دعا مانگنا اور زیارت کرنا جائز ہے یانہیں؟ زیادہ والسلام، فقط انتہی بلفظہ ۔
عہ۱: صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
اس پر بعض اجلہ مخادیم کا جواب مزیّن بمہر ودستخط جناب تھا۔ جس میں صاف صاف صورت مذکورہ کو شرک اور ادنٰی، درجہ شائبہ شرک قرار دیا، اور دلیل میں ایک نئے طور پر اصحاب قبور کے انکار سماع بلکہ استحالہ و امتناع سے کام لیا، تحریر شریف یہ ہے :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس میں شک نہیں کہ زیارت قبور مومنین خاصہ بزرگان دین، اور پڑھنا درود شریف اور سورہ فاتحہ وغیرہ کا اور ثواب خیرات، اموات کو بخشنا مندوب ومسنون ہے۔ جس پر حدیث شریف جناب سید الثقلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور فزورھا ۱؎۔
میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو اب تم ان کی زیارت کرو۔ (ت)
 (۱؎ سنن ابن ماجہ      باب ماجاء فی زیارۃ القبور        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۱۳)

(مشکوٰۃ المصابیح    باب زیارۃ القبور    فصل اول        مطبع مجتبائی دہلی    ص۱۵۴)
نص صریح ناطق،لیکن بزرگانِ اہل قبور کو خطاب طلب دعائے حاجت روائی خود کرنا خالی از شائبہ وشبہہ شرک نہیں۔ کیونکہ جب درمیان زائر اور مقبور کے حجب عدیدہ سمع وبصر حائل تو سماع اصوات اور بصارت صورمحال، اگر چہ بعض اموات کو بوجہ عہ۲ قطع تعلق ازمادہ، زیادت عہ۳ ادراک بھی حاصل ہو،
عہ۲ : عجیب لطیفہ غیبی اقول باﷲ التوفیق، ذی علم اگر چہ لغزش کریں پھر بھی سخن  حق ان کے کلام میں اپنی جھلک دکھا ہی جاتا ہے، یہ بوجہ مولوی صاحب نے ایسے فرمائے جس نے مذہب حق کی وجہ موجہ ظاہر کردی۔ میں عرض کروں جب زیارت ادراک کی وجہ علائق مادی کا انقطاع ہے تو وہ عموماً ہر میّت کو حاصل کہ موت خود اسی قطعِ تعلق مادی کا نام ہے، تو بعض اموات کی تخصیص محض بے وجہ، بلکہ تمام اموات کو حاصل ہونا چاہئے، اور بیشک ایسا ہے۔ اسی لیے اکابر محققین تصریح فرماتے ہیں کہ موت کے بعد کا ادراک بہ نسبت ادراک حیات کے صاف تراور روشن تر ہے۔ مقصد اخیر میں اس کی بعض تصریحیں آئیں گی، زیادہ نہیں تو نوع دوم مقصد سوم مقال چہارم میں شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کا قول ملاحظہ ہوجائے۔ منہ

عہ۳ :مولوی صاحب اس کلام سے شاہ عبدالعزیز صاحب کے اس قول کی طرف مشیر ہیں، جس کاایک پارہ نوع ۲ مقصد ۳ مقال ۱۶میں مذکور ہوگا۔ اور تتمہ جس نے آدھی وہابیت کا کام تمام کردیا عنقریب سوال ۱۵ میں آتا ہے ان شاء اللہ تعالٰی، اس میں شاہ عبدالعزیز صاحب نے شائبہ شبہہ ثابت ماناہے کہ اللہ تعالٰی بعض اولیائے کرام کے مدارک کو ایسی وسعت دیتاہے، مولوی صاحب کے لفظ یہاں ایسے واقع ہوئے جو اقرار وانکار دونوں کا پہلو دیں، خیر اگر شاہ صاحب کوا س قول میں خاطی پائیں اور اپنی اگر چہ کو اساغت یا فرض  ہی پر محمول رکھیں تاہم ہمیں مضر نہیں، نہ آپ کے کلام کی اصلاح کرسکتاہے، کما ستری، ان شاء اللہ تعالٰی۔ منہ
لیکن یہ مستلزم اس کو نہیں بلاتوجہ خاص جس کا انکشافِ حال خارج ازعلم زائر اور بحیز اختیار پرورد گار عالم ہے۔ بروقت دعا زائر کے وہ بزرگ اس کی دعا کو سن لیں، جب زائر بلا حصول علم مرتکب سوال کا ہے تو گویا سائل نے اہل قبرکو سمیع وبصیر علی الاطلاق قررادیا ہے ، اور نہیں ہے یہ اعتقاد مگر شرک، اور ادنٰی درجہ کا شائبہ وشبہہ شرک تو ضرور ہوا، جس سے احتراز واجتناب لازم  و واجب، فرقانِ حمید میں بمقاماتِ متعددہ اس کا بیان بتصریح تام وموجودہ ازانجملہ ہے۔ سورہ یوسف میں ہے :
وما یومن اکثر ھم باﷲ الا وھم مشرکون ۱؎ ۔
اورا ن میں اکثر خدا کو نہیں مانتے مگر شرک کرتے ہوئے۔ (ت)
(۱؎ القرآن       ۱۲ /۱۰۶)
اور حدیث شریف میں ہے:
من حلف بغیر اﷲ فقد اشرک ۲؎۔
جس نے غیر خدا کی قسم کھائی اس نے شرک کا کام کیا۔ (ت)
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل    مروی از عبداللہ بن عمر   دارالمعرفہ بیروت    ۲ /۸۷)
اور اس حرمت کا سبب سوائے اس کے نہیں کہ حالف کی اس قسم غیر خدا سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ اپنے عقیدے میں غیر خدا کو بھی ضرر  رسان جانتا ہے جو معنًی شرک ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
9_10.jpg
اس جواب کو دیکھ کر زیادہ تر حیرت یہ ہوئی کہ مولوی صاحب کی کوئی تحریر ان خلاف محدثہ میں آج تک نظر سےنہ گزری تھی۔ گمان یوں تھا کہ قصداً احتراز فرماتے ہیں بلکہ غلو منکرین کو خود بھی لائق انکار ٹھہراتے ہیں۔ طرفہ تر یہ کہ پہلی بسم اللہ قلم کو اذن رقم ملا تو یوں کہ طرز ارشاد فریقین کے مضاد، پھر سراپا ناتمامی تقریب وناکامی مدعاء ۔ واجنبیت دلیل و بےتعلقی دعوٰی اگرچہ حضراتِ نجدیہ کا قدیمی دستور، مگر فضلیت سے بغایت دور، فقیر کوبعض وجوہ سے مولوی صاحب کی رعایت ایک حد تک منظور، ولہذا ان سطورمیں نام نامی مستور  و نامسطور، مگر اظہار حق بنص قرآن ضرور، اور حدیث صحیح میں
الدین النصح لکل مسلم ۱؎
 ( دین ہر مسلم کی خیر خواہی ہے۔ ت) ماثور، میرامقصد تھا کہ اس مسئلہ میں تحقیق بالغ وتنقیح بازغ سے کام لوں، اس تفصیل جامع وتحریر لامع سے اختتام دوں کہ براہین اثبات کا حصر وافی ہو، از ہاق شبہات کا احاطہ کافی ہو، مگر جب دیکھا کہ خود جواب جناب مذہب منکرین سے منزلوں دور، اور اکثر اوہام جو ادھر سے پیش ہوتے ہیں آپ ہی کی تحریر سے ہباءً منثور، تو مجھے بہت کفایتِ مؤنت وکمی مشقت ہوئی، اور آخر رائے اس پر ٹھہری کہ بالفعل جناب کی تقریر خاص پر جواعتراضات میرے ذہن میں ہیں گزارش کرکے  چند آثار واحادیث واقوال علمائے قدیم وحدیث ونبذ بحث اصل مدعا، یعنی ارواح طیبہ سے طلب دعا، اور بعد وصال ان کا فیض ونوال لکھ کر ختم کلام کروں اور بقیہ تحقیقات باہرہ وتدقیقات قاہرہ جو بحمد اللہ حاضر خاطر بندہ قاصر ہیں، انھیں بشرط جواب مولوی صاحب دور آئندہ پر محول رکھوں، بااینہمہ یہ مختصر رسالہ ان شاء اللہ تعالٰی ثابت کردے گا کہ مولوی صاحب کی یہ چند سطری تحریر اور اس پر مع ان کے اصل مذہب عہ  چار سو وجہ سے دار وگیر۔ واﷲ المعین وبہ استعین۔
عہ  اصل مذہب سے کبرائے مـذہب مولوی صاحب کی تصریح مراد ہے کہ میّت جماد ہے ۱۲ منہ سلّمہ ربہ
Flag Counter