| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز) |
الاصل ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلٰوۃ اوصوماً اوصدقۃ اوغیرھا ش کالحج وقرا ءۃ القراٰن والاذکار وزیارۃ قبور الانبیاء والشھداء والاولیاء والصالحین وتکفین الموتی وجمیع انواع البر والعبادۃ کالزکٰوۃ والصدقۃ والعشور والکفارات ونحوھا، اوبدنیۃ کالصوم والصّلٰوۃو الاعتکاف وقراءۃ القراٰن و الذکر والدعاء اومرکبۃ منھا کالحج والجھاد وفی البدائع جعل الجھاد من البدنیات وفی المبسوط جعل المال فی الحج شرط الوجوب فلم یکن الحج مرکبا قیل ھو اقرب الی الصواب ولھذ الایشترط المال فی حق المکی اذا قدر علی المشی الی عرفات فاذا جعل شخص ثواب ماعملہ من ذلک الٰی اخر یصل الیہ وینتفع بہ حیا کان المھدی الیہ او میتا ۱؎ اھ ونقلنا عبارۃ الشرح بطولھا للمافیہا من ا لفوائد۔
اصل یہ ہے کہ انسان اپنے کسی عمل کا ثواب دوسرے کے لیے کرسکتا ہے، نماز ہو یا روزہ یا صدقہ یا اس کے علاوہ، ہدایہ۔ جیسے حج تلاوتِ قرآن، اذکار، انبیاء، شہداء ،اولیاء اور صالحین کے مزارات کی زیارت، مُردے کو کفن دینا، اور نیکی وعبادت کی تمام قسمیں جیسے زکوٰۃ، صدقہ، عشر، کفارہ اور ان کے مثل مالی عبادتیں، یابدنی جیسے روزہ، نماز اعتکاف، تلاوت قرآن، ذکر،دعا یا دونوں سے مرکب جیسے حج اور جہاد ____ اور بدائع میں جہاد کو بدنی عبادتوں سے شمار کیا ہے اور مبسوط میں مال کو حج کے وجوب کی شرط بتایا ہے تو حج مالی وبدنی سے مرکب نہیں بلکہ صرف بدنی عبادت ہوا۔ کہا گیا یہ درستی سے زیادہ قریب ہے۔ اسی لیے مکی کے حق میں مال کی شرط نہیں جبکہ وہ عرفات تک پیادہ جانے پر قادر ہو، تو جب مذکورہ عبادات میں سے اپنی ادا کی ہوئی کسی عبادت کاثواب کوئی شخص دوسرے کے لیے کردے تو وہ اسے پہنچے گا اور اس سے اس کو فائدہ ملے گا۔ جسے ہدیہ کیا ہے وہ زندہ ہو یا وفات پاچکاہو اھ بنایہ۔ ہم نے شرح کی یہ طویل عبارت اس لیے نقل کردی کہ اس میں متعدد فوائد ہیں۔ (ت)
(۱؎ البنایۃ شرح الہدایۃ باب الحج عن الغیر المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ۲ /۱۶۱۱)
یوں بھی اس نیت محمود میں کچھ خلل نہیں اگرچہ افضل وہی تھا کہ صرف فقراء پر تصدق کرتے کہ جب مقصود ایصال ثواب تو وہی کام مناسب تر جس میں ثواب اکثر و وافر، پھر بھی اصل مقصود مفقود نہیں، جبکہ نیت ثواب پہنچانا ہے۔ہاں جسے یہ مقصود ہی نہ ہو بلکہ دعوت و مہمان داری کی نیت سے پکائے، جیسے شادیوں کا کھانا پکاتے ہیں توا سے بے شک ثواب سے کچھ علاقہ نہیں، نہ ایسی دعوت شرع میں پسند نہ اس کا قبول کرنا چاہئے کہ ایسی دعوتوں کا محل شادیاں ہیں نہ کہ غمی۔ ولہٰذا علماء فرماتے ہیں کہ یہ بدعت سیئہ ہے، جس طرح میّت کے یہاں روز موت سے عورتیں جمع ہوتی ہیں اور ان کے کھانے دانے، پان چھالیا کا اہتمام میّت والوں کو کرنا پڑتا ہے۔ وہ کھانا فاتحہ وایصال ثواب کا نہیں ہوتا بلکہ وہی دعوت ومہمان داری ہے کہ غمی میں جس کی اجازت نہیں،
کما بیناہ ذلک فی فتاوٰنا
(جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ ت)
یوں ہی چہلم یا برسی یا ششماہی پرکھانا بے نیت ایصال ثواب محض ایک رسمی طور پر پکاتے اور شادیوں کی بھاجی کی طرح برادری میں بانٹتے ہیں،۔ وہ بھی بے اصل ہے، جس سے احتراز چاہئے، ایسے ہی کھانے کو شیخ محقق مولانا عبدالحق صاحب محدث دہلوی مجمع البرکات میں فرماتے ہیں:
آنچہ بعد از سالے یا ششماہی یا چہل روز درین دیار پزند درمیان برادران بخشش کنند چیزے داخل اعتبار نیست بہتر آنست کہ نخورند ۲؎ اھ۔ ھکذا نقل عنہ شیخ الاسلام فی کشف الغطاء۔
وہ جو اس دیارمیں ایک سال یا چھ ماہ پر پکاتے اور برادری میں بانٹتے ہیں کوئی معتبر چیز نہیں، بہتر یہ ہے کہ نہ کھائیں اھ ____ اسی طرح ان سے شیخ الاسلام نے کشف الغطاء میں نقل کیا ہے (ت)
(۲؎ مجمع البرکات)
خصوصاً جب اس کے ساتھ ریاء وتفاخر مقصود ہو کہ جب تواس فعل کی حرمت میں اصلاً کلام نہیں۔ اور حدیث صحیح میں ہے :
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن طعام المتباریین ان یوکل ۱؎ اخرجہ ابوداؤد والحاکم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما باسناد صحیح۔ قال المناوی ای المتعارضین بالضیافۃ فخر ا و ریاء لانہ للریاء لاﷲ۲؎۔
یعنی جو کھانے تفاخر و ریاء کے لیے پکائے جاتے ہیں ان کے کھانے سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ (اسے ابوداؤد او رحاکم نے بسند صحیح حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنمہا سے نقل کیاہے۔ ت) امام مناوی نے کہا یعنی ضیافت کے ذریعہ ناموری اور دکھاوا مقصود ہو تو یہ اللہ تعالٰی کے لیے نہیں دکھاوے کے لیے ہے۔ (ت)
(۱؎المستدرک علی الصحیحین کتاب الاطعمۃ دارالفکر بیروت ۴ /۱۲۹) (۲؎فیض القدیرشرح الجامع الصغیر زیرحدیث مذکور ۹۴۹۱ دارالمعرفۃ بیروت ۶ /۳۳۵) (التیسیر شرح الجامع الصغیر زیر حدیث مذکو ر مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ۲ /۴۷۴)
مگر بے دلیل واضح کسی مسلمان کا یہ سمجھ لینا کہ یہ کام اس نے تفاخر و ناموری کے لیے کیا ہے جائز نہیں کہ قلب کا حال اللہ تعالٰی جانتاہے اورمسلمان پر بدگمانی حرام۔
ھذا ھو بحمد اﷲ القول الوسط لاوکس فیہ ولاشطط وان خالف من فرط فی الباب و افرط، واﷲ سبحانہ، وتعالٰی اعلم۔
یہ بحمد اﷲ درمیانی قول ہے جس میں نہ کمی ہے نہ زیادتی ۔ اگر چہ اس باب میں تفریط اورافراط کرنے والوں کے خلاف ہو۔ اور خدائے پاک وبرتر خوب جاننے والا ہے (ت)
مسئلہ ۲۷۰: ۳ربیع الآخر شریف ۱۳۱۱ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میّت کے گھر کا کھانا، جو اہل میّت سوم تک بطور مہمانی کے پکاتے ہیں اور سوم کے چنوں بتاشوں کالینا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب میّت کے گھر کا وہ کھانا تو البتہ بلا شبہہ ناجائز ہے جیسا کہ فقیرنے اپنے فتوے میں مفصلاً بیان کیا، اور سوم کے چنے بتاشے کہ بغرض مہمانی نہیں منگائے جاتے بلکہ ثواب پہنچانے کے قصد سے ہوتے ہیں، یہ اس حکم میں داخل نہیں، نہ میرے اس فتوے میں ان کی نسبت کچھ ذکر ہے۔ یہ اگر مالک نے صرف محتاجوں کے دینے کے لیے منگائے اور یہی اس کی نیت ہے تو غنی کو ان کا بھی لینا نا جائز ، اور اگر اس نے حاضرین پر تقسیم کے لیے منگائے تو اگر غنی بھی لے لے گاتو گنہگار نہ ہوگا، اور یہاں بحکم عرف ورواج عام حکم یہی ہے کہ وہ خاص مساکین کے لیے نہیں ہوتے تو غنی کو بھی لینا جائز نہیں، اگر چہ احتراز زیادہ پسندیدہ ۔ اور اسی پر ہمیشہ سے اس فقیر کا عمل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۱ :۴ ذی الحجہ ۱۳۱۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی موت اپنی حیات میں کردی ہے تو اس صورت میں ہندہ کو کب تک دوسرے کے یہاں کی میّت کا کھانا نہیں چاہئے، اور اگر ہندہ کے گھر میں کوئی مرجائے توا س کا بھی کھانا جائز ہے اور کب تک یعنی برسی تک یا چالیس دن تک۔ اور اگر ہندہ نے شروع سے جمعرات کی فاتحہ نہ دلائی ہو تو چالیس دن کے بعد سات جمعرات کی فاتحہ دلانا چاہئے ، ہوسکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب میّت کے یہاں جو لوگ جمع ہوتے ہیں او ران کی دعوت کی جاتی ہے اس کھانے کی تو ہر طرح ممانعت ہے، اور بغیر دعوت کے جمعراتوں، چالیسویں، چھ ماہی، برسی میں جو بھاجی کی طرح اغنیاء کو بانٹا جاتا ہے وہ بھی اگر چہ بے معنی ہے مگر اس کا کھانا منع نہیں، بہتر یہ ہے کہ غنی نہ کھائے اور فقیر کو تو کچھ مضائقہ نہیں کہ وہی اس کے مستحق ہیں، اور ان سب احکام میں وہ جس نے اپنی موت اپنی حیات میں کردی اور جس نے نہ کی سب برابر ہیں، اور اپنی یہاں موت ہوجائے تو اپنا کھانا کھانے کی کسی کو ممانعت نہیں اور چالیس دن کے بعد بھی جمعراتیں ہوسکتی ہیں، اﷲ کے لیے فقیروں کو جب او رجو کچھ دے ثواب ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم