مسئلہ ۲۶۷ تا۲۶۸: از ایرایاں محلہ سادات ضلع فتحپور مسؤلہ حکیم سید نعمت اﷲ صاحب ۲۳ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) سوم ودہم وچہلم میّت کے لیے کھانا جو پکتا ہے اس کو برادری کو کھلائے اور خود جاکر کھائے توجائز ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ تین روز کے اندر میّت کے گھر کا نہ کھائے بعد کو جائز ہے۔ یہ تفریق صحیح ہے؟اگر صحیح ہے تو وجہ ما بہ الفرق ارشاد ہو ۔
(۲) مقولہ طعام المیّت یمیت القلب
(طعام میّت دل کو مردہ کردیتا ہے۔ ت) مستند قول ہے۔ اگر مستند ہے توا س کے کیا معنٰی ہیں؟
الجواب
(۱) سوم، دہم وچہلم وغیرہ کا کھانا مساکین کو دیا جائے، برادری کو تقسیم یا برادری کے جمع کرکے کھلانا بے معنی ہے۔
کما فی مجمع البرکات
(جیسا کہ مجمع البرکات میں ہے۔ ت) موت میں دعوت ناجائز ہے۔ فتح القدیر وغیرہ میں ہے:
وہ بری بدعت ہے کیونکہ دعوت کو شریعت نے خوشی میں رکھا ہے، غمی میں نہیں۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر فصل فی الدفن مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۰۲)
(مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی فصل فی حملہا ودفنہا نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۳۹)
تین دن تک اس کا معمول ہے۔ لہٰـذا ممنوع ہے۔ اس کے بعد بھی موت کی نیت سے اگر دعوت کرے گا ممنوع ہے۔
(۲) یہ تجربہ کی بات ہے اور اس کے معنٰی یہ ہیں کہ جو طعام میّت کے متمنی رہتے ہیں ان کا دل مرجاتا ہے۔ ذکروطاعت الہٰی کے لیے حیات وچستی اس میں نہیں رہتی کہ وہ اپنے پیٹ کے لقمہ کے لیے موت مسلمین کے منتظر رہتے ہیں اور کھانا کھاتے وقت موت سے غافل اور اس کی لذت میں شاغل۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۲۶۹: از کلی ناگر ۔ پرگنہ پورن پور، ضلع پیلی بھیت ، مکان علن خاں نمبردار، مرسلہ اکبر علی شاہ ۱۶جمادی الاولٰی ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص مرے ا وراس کے گھر والے چہلم کا کھاناپکائیں اور جو برادر یا غیر ہوں ان سے کہیں کہ تمھاری دعوت ہے تووہ دعوت قبول کی جائے یانہیں؟ اور کھانا کیساہے؟ بینوتوجروا
الجواب
اللھم ہدایۃ الحق والصواب۔
عرف پر نظر شاہد کہ چہلم وغیرہ کے کھانے پکانے سے لوگوں کا اصل مقصود میّت کوثواب پہنچانا ہوتا ہے، اسی غرض سے یہ فعل کرتے ہیں، ولہٰذا اسے فاتحہ کا کھانا چہلم کی فاتحہ وغیرہ کہتے ہیں، شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر فتح العزیز میں فرماتے ہیں:
وارد ست کہ مردہ دریں حالت مانند غریقے است کہ انتظار فریادرسی مے بردو صدقات وادعیہ وفاتحہ درین وقت بسیار بکار اومی آید ازیں ست کہ طوائف بنی آدم تایک سال وعلی الخصوص تایک چلہ بعد موت درین نوع امداد کوشش تمام می نمایند۔۱؎
وار د ہے کہ مردہ اس حالت میں کسی ڈوبنے والے کی طرح فریاد رسی کا منتظر ہوتا ہے اور اس وقت میں صدقے، دعائیں اور فاتحہ اسے بہت کام آتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ لوگ مرنے سے ایک سال تک خصوصاً چالیس دن تک اس طرح مدد پہنچانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں (ت)
(۱؎ تفسیر عزیزی زیر آیۃ والقمر اذ اتسق الخ مسلم بک ڈپو۔ لال کُنواں دہلی ص۶۰۲)
اور شک نہیں کہ اس نیت سے جو کھانا پکایا جائے مستحسن ہے اور عند التحقیق صرف فقراء ہی پر تصدق میں ثواب نہیں بلکہ اغنیاء پر بھی مورث ثواب ہے، حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : فی کل ذات کبد رطبۃ اجر ۲؎ ہر گرم جگر میں ثواب ہے، یعنی زندہ کو کھانا کھلائے گا، پانی پلائے گا ثواب پائے گا۔
اخرجہ البخاری ومسلم عن ابی ھریرۃ واحمد عن عبداﷲ بن عمروہ ابن ماجۃ عن سراقۃ بن مالک رضی اﷲ عنہم
(اسے بخاری ومسلم نے حضرت ابو ہریرہ سے ، امام احمد نے حضرت عبداﷲ بن عمرو سے، اور ابن ماجہ نے حضرت سراقہ بن مالک سے روایت کیا رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ ت)
(۲؎ سنن ابن ماجہ باب فضل صدقہ الماء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۰)
حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
فیما یاکل ابن آدم اجر وفیما یاکل السبع اوالطیر اجر ۱؎۔ رواہ الحاکم عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما وصحح سندہ۔
جو کچھ آدمی کھا جائے اس میں ثواب ہے اور جودرندہ کھا جائے اس میں ثواب ہے جو پرند کو پہنچے ا س میں ثواب ہے (حاکم نے اسے حضرت جا بر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا اور اس کی سند کو صحیح کہا۔ ت)
(۱؎ مستدرک علی الصحیحین کتاب الاطعمہ دارالفکر بیروت ۴ /۱۳۳)
بلکہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مااطعمت زوجک فھو لک صدقۃ ومااطعمت ولدک فھو لک صدقۃ ومااطعمت خادمک فھو لک صدقۃ وما اطعمت نفسک فھو لک صدقۃ۔ ۲؎ اخرجہ الامام احمد والطبرانی فی الکبیر بسند صحیح عن المقدام بن معدی کرب رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو کچھ تو اپنی عورت کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے اور جو کچھ تو اپنے بچوں کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے اور جو کچھ تو خود کھائے وہ تیرے لیے ْصدقہ ہے (اسے امام احمد نے مسند میں اور طبرانی نے کبیر میں بسند صحیح حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ت)
(۲؎ المعجم الکبیر مروی از مقدام بن معدی کرب حدیث ۶۳۴ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲۰ /۲۶۸)
(مسند احمد بن حنبل حدیث المقدام بن معدیکرب دارالفکر بیروت ۴ /۱۳۱)
ردالمحتار میں ہے:
صرح فی الذخیرۃ فیھا ولو علی غنی لان المقصود فیھا الفقیر ۳؎ ۔
ذخیرہ میں صراحت ہے کہ غنی پر صدقہ کرناایک طرح کی قربت ہے جس کا درجہ فقیرپر تصدق کی قر بت سے کم ہے۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۵۷)
درمختار میں ہے:
الصدقۃ لا رجوع فیھا ولو علی غنی لان المقصود فیھا الثواب۴؎ ۔
صدقہ سے رجوع نہیں ہوسکتا اگر چہ غنی پر ہو اس لیے کہ اس کا مقصود ثواب ہوتا ہے۔ (ت)
(۴؎ درمختار فصل فی مسائل متفرقہ من کتاب الھبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۶)
اسی طرح ہدایہ وغیرہ میں ہے____ مجمع بحارالانوار میں توسط شرح سنن ابی داؤد سے ہے:
الصدقۃ ماتصدقت بہ علی الفقراء ای غالب انواعھا کذلک فانھا علی الغنی جائزۃ عندنا یثاب بہ بلاخلاف ۱؎ ۔
صدقہ وہ ہے جو تم فقراء پر تصدق کرو، یعنی صدقہ کی اکثر قسمیں فقراء ہی پر ہوتی ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک غنی پر بھی صدقہ جائز ہے بلاخلاف ا س پر وہ مستحق ثواب ہے۔ (ت)
(۱؎ مجمع بحار الانوار تحت لفظ صدق نولکشور لکھنؤ ۲ /۲۳۸)
اور مدار کار نیت پر ہے
انما الاعمال بالنیات۔
تو جوکھانا فاتحہ کے لیے پکایا گیا ہے بلاتے وقت اسے بلفظ دعوت تعبیر کرنا اس نیت کوباطل نہ کرے گا، جیسے کسی نے اپنے محتاج بھائی بھتیجوں کو عید کے کچھ روپیہ دل میں زکوٰۃ کی نیت اور زبان سے عیدی کا نام لے کر کے دئے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی ،عیدی کہنے سے وہ نیت باطل نہ ہوگی
کما نصوا علیہ فی عامۃ الکتب
( جیسا کہ عامہ کتب میں علماء نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔ ت) معہذا اپنے قریبوں عزیزوں کے مواسات بھی صلہ رحم وموجب ثواب ہے، اگر چہ وہ اغنیاء ہوں
وقد عرف ذلک فی الشرع بحیث لا یخفی الاعلٰی جاھل
( جیساکہ شریعت میں یہ ایسا معروف ہے کہ کسی جاہل ہی سے مخفی ہوگا ۔ت) او رآدمی جس امر پر خود ثواب پائے وہ فعل کوئی فعل ہو اس کا ثواب میّت کو پہنچا سکتا ہے۔ کچھ خاص تصدق ہی کی تخصیص نہیں،
کما تبین ذلک فی کتب اصحابنا رحمہم اﷲ تعالٰی
( جیسا کہ ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالٰی کی کتابوں میں یہ روشن ہوچکا ہے۔ ت)