تعزیت کرنے والوں کے لیے اہل میّت کا ضیافت کرنا اور کھانا پکانا باتفاق روایات مکروہ ہے اس لیے کہ مصیبت میں مشغولی کی وجہ سے ا س کا اہتمام ان کے لیے دشوار ہے۔ (ت)
(۳؎ کشف الغطاء فصل نہم تعزیت ص۷۴)
اسی میں ہے :
پس انچہ متعارف شدہ از پختن اہل مصیبت طعام را درسوم وقسمت نمودن آن میان اہل تعزیت واقران غیر مباح ونامشروع است وتصریح کردہ بداں در خزانہ چہ شرعیت ضیافت نزد سرور ست نہ نزد شرور وھو المشہور عند الجمہور ۴؎۔
تو یہ رواج پڑگیا ہے کہ تیسرے دن اہل میّت کا کھانا پکاتے ہیں اور اہل تعزیت اور دوستوں کو بانٹتے کھلاتے ہیں ناجائز وممنوع ہے۔ خزانۃ میں اس کی تصریح ہے اس لیے کہ شرع میں ضیافت خوشی کے وقت رکھی گئی ہے مصیبت کے وقت نہیں اور یہی جمہور کے نزدیک مشہور ہے۔ (ت)
(۴ کشف الغطاء فصل نہم تعزیت ص۷۴)
ثانیاً غالباً ورثہ میں کوئی یتیم یااور بچہ نابالغ ہوتا ہے۔ یا اور ورثہ موجود نہیں ہوتے، نہ ان سے اس کا اذن لیاجاتا ہے، جب تو یہ امر سخت حرام شدید پر متضمن ہوتا ہے۔
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
بیشک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق کھاتے ہیں بلاشبہہ وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھرتے ہیں ، اور قریب ہے
کہ جہنم کے گہراؤ میں جائیں گے۔
(۱؎ القرآن ۴ /۱۰)
مال غیر میں بے اذن غیر تصرف خود ناجائز ہے،
قال تعالٰی: لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ۲؎
(اپنے مال آپس میں ناحق نہ کھاؤ۔ ت)
(۲؎ القرآن ۲ /۱۸۸)
خصوصاً نابالغ کا مال ضائع کرنا جس کا اختیار نہ خود اسے ہے نہ اس کے باپ نہ اسے کے وصی کو
لان الولایۃ للنظر لاللضرر علی الخصوص
(اس لیے کہ ولایت فائدے میں نظر کے لیے ہے نہ کہ معین طور پر ضرر کے لیے۔ ت) اور اگر ان میں کوئی یتیم ہوا تو آفت سخت تر ہے ،
والعیاذ باﷲ رب العالمین ۔
ہاں اگر محتاجوں کے دینے کو کھانا پکوائیں توحرج نہیں بلکہ خوب ہے۔ بشرطیکہ یہ کوئی عاقل بالغ اپنے مال خاص سے کرے یا ترکہ سے کریں، تو سب وارث موجود و بالغ وراضی ہوں،
خانیہ وبزازیہ وتتارخانیہ وہندیہ میں ہے :
ان اتخذ طعا ماللفقراء کان حسنا اذاکانت الورثۃ بالغین وان کان فی الورثہ صغیر لم یتخذوا ذلک من الترکۃ ۳؎۔
اگر فقراء کے لیے کھانا پکوائے تواچھا ہے جب کہ سب ورثہ بالغ ہوں، اور اگر کوئی وارث نابالغ ہو تو یہ ترکہ سے نہ کریں۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی عشرفی الہدایا والضیافات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۴)
نیز فتاوٰی قاضی خاں میں ہے:
ان اتخذ ولی المیّت طعاما للفقراء کان حسنا الاان یکون فی الورثۃ صغیر فلا یتخذ ذلک من الترکۃ ۴؎ ۔
ولی میّت اگر فقراء کے لیے کھانا تیار کرائے تو اچھا ہے۔ لیکن ورثہ میں اگر کوئی نابالغ ہو تو ترکہ سے یہ کام نہ کرے۔ (ت)
(۴؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ منشی نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۸۱)
ثالثا یہ عورتیں کہ جمع ہوتی ہیں افعالِ منکرہ کرتی ہیں، مثلاً چلاّ کر رونا پیٹنا ، بناوٹ سے منہ ڈھانکنا، الٰی غیر ذلک، او ر یہ سب نیاحت ہے اور نیاحت حرام ہے، ایسے مجمع کے لیے میّت کے عزیزوں اور دوستوں کو بھی جائز نہیں کہ کھانا بھیجیں کہ گناہ کی امداد ہوگی،
قال تعالٰی: ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان ۵؎
(گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ ت) نہ کہ اہل میّت کا اہتمام طعام کرنا کہ سرے سے ناجائز ہے ، تواس ناجائز مجمع کے لئے ناجائز تر ہوگا،
(۵ القرآن ۵ /۲)
کشف الغطاء میں ہے:
ساختن طعام در روز ثانی وثالث برائے اہل میّت اگر نوحہ گراں جمع باشند است زیرا کہ اعانت است ایشاں را برگناہ ۱؎ ۔
اگر نوحہ کرنے والیا ں جمع ہوں تواہل میّت کے لیے دوسرے تیسرے دن کھانا پکوانا مکروہ ہے کیونکہ اس میں گناہ پر اعانت ہے۔ (ت)
(۱؎ کشف الغطاء فصل نہم تعزیت ص۷۴)
رابعاً اکثر لوگوں کواس رسم شنیع کے باعث اپنی طاقت سے زیادہ ضیافت کرنی پڑتی ہے،یہاں تک کہ میّت والے بیچارے اپنے غم کو بھول کر اس آفت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اس میلے کے لیے کھانا، پان چھالیا کہاں سے لائیں اور بار ہا ضرورت قرض لینے کی پڑتی ہے۔ ایسا تکلف شرع کو کسی امر مباح کے لیے بھی زنہار پسند نہیں، نہ کہ ایک رسم ممنوع کے لیے، پھراس کے باعث جو دقتیں پڑتی ہیں خود ظاہر ہیں پھر اگر قرض سودی ملا تو حرام خالص ہوگیا، اور معاذا ﷲ لعنت الہٰی سے پورا حصہ ملے کہ بے ضرورت شرعیہ سود دینا بھی سود لینے کے باعث لعنت ہے، جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا۔ غرض اس رسم کی شناعت وممانعت میں شک نہیں، اﷲ عزوجل مسلمانوں کو توفیق بخشے کہ قطعاً ایسی رسوم شنیعہ جن سے ان کے دین ودنیا کا ضرر ہے ترک کردیں، اور طعن بیہودہ کا لحاظ نہ کریں، واﷲ الہادی۔
تنبیہ: اگر چہ صرف ایک دن یعنی پہلے ہی روز عزیزوں کوہمسایوں کو مسنون ہے کہ اہل میّت کے لیے اتنا کھانا پکوا کر بھیجیں جسے وہ دو وقت کھا سکیں اور باصرار انھیں کھلائیں، مگریہ کھانا صرف اہل میّت ہی کے قابل ہونا سنت ہے۔ اس میلے کے لیے بھیجنے کا ہر گز حکم نہیں اور ان کے لیے بھی فقط روز اول کا حکم ہے آگے نہیں،
کشف الغطاء میں ہے:
مستحب است خویشاں وہمسایہائے میّت راکہ اطعام کنندطعام رابرائے اہل وے کہ سیر کند ایشاں رایک شبانہ روز والحاح کنند تابخورند ودرخوردن غیر اہل میّت ایں طعام رامشہور آنست کہ مکروہ است ۲؎ اھ ملخصاً
میّت کے عزیزوں، ہمسایوں کے لیے مستحب ہے کہ اہل میّت کے لیے اتنا کھانا پکوائیں جسے ایک دن رات وہ سیر ہوکر کھاسکیں، اور اصرار کر کے کھلائیں، غیر اہل میّت کے لیے یہ کھانا قول مشہور کی بنیاد پر مکروہ ہے اھ ملخصا! (ت)
(۲؎ کشف الغطاء فصل نہم تعزیت ص۷۴)
عالمگیری میں ہے:
حمل الطعام الی صاحب المصیبۃ والاکل معھم فی الیوم الاول جائز لشغلھم بالجھاز وبعدہ یکرہ کذافی التتار خانیۃ ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اہل میّت کے یہاں پہلے دن کھانا لے جانا اور ان کے ساتھ کھانا جائز ہے کیونکہ وہ جنازے میں مشغول رہتے ہیں اور اس کے بعد مکروہ ہے۔ ایسا ہی تتارخانیہ میں ہے: واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشرفی الہدایا والضیافات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۴)