ثانیاً: علم رجال بھی مردود ہوجائے کہ وہ بھی علم ہے، نہ عمل وفضل، عمل تو غیر قطعیات سب باطل ومہمل۔
ثالثاً: دو تہائی سے زائد بخاری ومسلم کی حدیثیں محض باطل ومردود قرار پائیں ۔
رابعاً : عقائد واعمال میں تفرقہ جس پر اجماع ائمہ ہے ضائع جائے، کہ احکام حلالِ وحرام میں کیا اعتقاد، حلت وحرمت نہیں لگا ہوا ہے،اور وہ عمل نہیں بلکہ علم ہے تو کسی شے کے حلال یاحرام سمجھنے کے لیے بخاری ومسلم کی حدیثیں مردود، اور جب حلالِ وحرام کچھ نہ جانیں تو اسے کیوں کریں اس سے کیوں بچیں!
خامساً: بلکہ فضائل اعمال میں بھی احادیث صحیحین کا مردود ہونا لازم ۔ حالانکہ ان میں ضعیف حدیثیں بھی یہ سفیہ خود مقبول مانتا ہے، ظاہر ہے کہ اس عمل میں یہ خوبی ہے اس پر یہ ثواب یہ جاننا خود عمل نہیں بلکہ علم ہے اور علم باب عقائد سے ہے اور عقائد میں صحاح ظنیات مردود۔
سادساً:اگلے صاحب نے تو اتنی مہربانی کی تھی کہ حدیث صحیح مرفوع متصل السند مقبول رکھی تھی، انھوں نے بخاری ومسلم بھی مردود کردیں ، جب تک قطعیات نہ ہوں کچھ نہ سنیں گے ؎
قدم عشق پیشتر بہتر
سابعا: ختم الٰہی کاثمرہ دیکھئے، اسی براہین قاطعہ
لما امراﷲ بہ ان یوصل
میں فضیلت علم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو باب فضائل سے نکلوا کر اس تنگنائے اعتقادیات میں داخل کرایا تاکہ صحیحین بخاری ومسلم کی حدیثیں بھی جو وسعت علم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر دال ہیں مردود ٹھہریں، اور وہیں وہیں اسی منہ میں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے علم عظیم کی تنقیص کو محض بے اصل وبے سند حکایت سے سند لا یا کہ شیخ عبدالحق روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں، حالانکہ حضرت شیخ
قدس سرہ، نے اسے ہر گز روایت نہ کیابلکہ اعتراضاً ذکر کرکے صاف فرمادیا تھاکہ
''ایں سخن اصلے نہ دارد و روایت بدان صحیح نشدہ است''
(اس کلام کی کوئی اصل نہیں، ا ور اس کے بارے میں روایت صحیح نہیں۔ ت)
غرض محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے فضائل ماننے کو توجب تک حدیث قطعی نہ ہو بخاری ومسلم بھی مردود اور معاذاﷲ حضور کی تنقیص فضائل کے لیے بے اصل وبے سند وبے سروپا حکایت مقبول ومحمود، اور پھر دعوٰی ایمان و امانت ودین ودیانت بد ستور موجود۔
انا ﷲ وانا الیہ راجعون ___ کذٰلک یطبع اﷲ علٰی کل قلب متکبر جبار
( اسی طرح اللہ ہر متکبر سخت گیر کے دل پر مہر کردیتا ہے۔ ت)
بالجملہ یہ مسئلہ نہ باب عقائد سے نہ باب احکامِ حلال وحرام سے۔ اسے جتنا ماننا چاہئے کہ اس کے لیے اتنی سندیں کافی ووافی ، منکر اگر صرف انکار یقین کرے یعنی اس پر جزم ویقین نہیں تو ٹھیک ہے، اور عامہ مسائل سیر ومغازی و اخبار وفضائل ایسے ہی ہوتے ہیں ، اس کے باعث وہ مردود نہیں قرار پاسکتے، اور اگر دعوٰی نفی کرے یعنی کہے مجھے معلوم وثابت ہے کہ روحیں نہیں آتیں تو جھوٹا کذاب ہے، بالفرض اگر ان روایات سے قطع نظر بھی تو غایت یہ کہ عدم ثبوت ہے نہ ثبوت عدم، اور بے دلیل عدم ادعائے عدم محض تحکم وستم، آنے کے بارے تو اتنی کتب علماء کی عبارات اتنی روایات بھی ہیں نفی وانکار کے لیے کون سی روایت ہے؟ کس حدیث میں آیا کہ روحوں کا آنا باطل وغلط ہے؟ تو ادعائے بے دلیل محض باطل وذلیل۔
کیسی ہٹ دھرمی ہے کہ طرف مقابل پر وایات موجودہ بربنائے ضعف مردود، اور اپنی طرف روایت کا نام ونشان اورادعائے نفی کا بلند نشان، روحوں کا آنا اگر باب عقائد سے ہے تو نفیاً واثباتاٍ ہرطرح اسی باب سے ہوگا، اور دعوٰی نفی کے لیے بھی دلیل قطعی درکار ہوگی، یا مسئلہ ایک طرف سے باب عقائدمیں ہے کہ صحاح بھی مردود، اور دوسری طرف سے ضروریات میں ہے کہ اصلاً حاجت دلیل مفقود،
لیکن وہابیہ بے عقل ہوتے ہیں__ اور برائی سے رکنے، نیکی کے کرنے کی طاقت نہیں مگر بلند عظیم خدا ہی کی طرف سے ۔ اور خدائے برتر اپنی مخلوق میں سب سے بہتر محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر درود نازل فرمائے۔ الہٰی! قبول کر۔ اور اللہ تعالٰی خوب جاننے والا ہے اور اس ذات بزرگ کا علم کا مل اور محکم ہے (ت)
مسئلہ۲۶۱: از کانپور محلہ مول گنج مرسلہ اما م الدین صاحب ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۲۶ھ
مرنے کے بعد میّت کو اپنے عزیزوں سے کس طرح تعلقات رہتے ہیں؟
الجواب
موت فنائے روح نہیں، بلکہ وہ جسم سے روح کا جدا ہونا ہے، روح ہمیشہ زندہ رہتی ہے، حدیث میں ہے
انما خلقتم للابد ۱؎
تم ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے بنائے گئے، تو جیسے تعلقات حیات دنیوی میں تھے اب بھی رہتے ہیں۔ حدیث میں فرمایا کہ ''ہر جمعہ کو ماں باپ پر اولاد کے ایک ہفتہ کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں، برائیوں پر رنجیدہ ہوتے ہیں، تواپنے گزرے ہوؤں کو رنجیدہ نہ کرو، اے اللہ کے بندو! واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ شرح الصدور باب مقرالارواح مطبوعہ خلافت اکیڈمی سوات ص۹۶)
مسئلہ۲۶۲: ازلاہور مسجد بیگم شاہی اندرون دروازہ مستی مرسلہ صوفی احمد الدین طالبعلم ۲۶ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ارواح مومنین کی جگہ کون ہے، کیا جسد کے ساتھ رہتے ہیں یا علیحدہ؟
الجواب
ارواح مومنین برزخ میں اجسام مثالی ہیں، جیسے شہداء کے لیے حواصل طیور خضر ۱؎ فرمایا سبز پرندوں کے بھیس میں، اوران کے مقام حسبِ مراتب مختلف ہیں، قبور پر یاچاہ زمزم میں یا فضائے آسمان میں یا کسی آسمان پر یا عرش کے نیچے نور کی قندیلوں میں،
کما فصلہ الامام السیوطی فی شرح الصدور
(جیسا کہ امام سیوطی نے شرح الصدور میں اسے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ شرح الصدور باب مقرالارواح مطبوعہ خلافت اکیڈمی سوات ص۹۶)
مسئلہ۲۶۳ تا۲۶۸: از کا نپور محلہ مول گنج مرسلہ امام الدین صاحب ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱) عزیزوں پرجو اثر ہوتاہے کیا اس کا اثر میّت پر بھی ہوتا ہے یا نہیں؟
(۲) عذاب وثواب کی کیا شکل ہے جبکہ انسان خاک میں مل جاتا ہے اور روح اپنے مقام پر چلی جاتی ہے۔
(۳) روح کا مقام مرنے کے بعد کہا ں ہے؟
(۴) خواب میں اپنے کسی مرحوم عزیزکو دیکھتے ہیں کیا اس کا اثر مرحوم پر بھی پڑتاہے یا نہیں؟
(۵) روح کیا چیز ہے؟ اکثر سنا گیاہے کہ روح تمام دنیاوی کیفیات کا ادراک ہروقت بعد موت کرتی ہے۔
(۶) قبر پر کوئی شخص جانے اس کا علم میّت کو ہوتا ہے؟
الجواب
(۱) عزیزوں کو اگر تکلیف پہنچتی ہے اس کا ملال میّت کو بھی ہوتا ہے، اموات پر رونے کی ممانعت میں فرمایا کہ جب تم روتے ہو مردہ بھی رونے لگتاہے، تو اسے غمگین نہ کرو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۲) انسان کبھی خاک نہیں ہوتا بدن خاک ہوجاتا ہے، اور وہ بھی کُل نہیں ، کچھ اجزائے اصلیہ دقیقہ جن کو عجب الذنب کہتے ہیں وہ نہ جلتے ہیں نہ گلتے ہیں ہمیشہ باقی رہتے ہیں ، انھیں پر روز قیامت ترکیب جسم ہوگی، عذاب وثواب روح وجسم دونوں کے لیے ہے۔ جو فقط روح کے لیے مانتے ہیں گمراہ ہیں، روح بھی باقی اور جسم کے اجزائے اصلی بھی باقی، او ر جو خاک ہوگئے وہ بھی فنائے مطلق نہ ہوئے، بلکہ تفرق اتصال ہوا اور تغیر ہیأت۔ پھر استحالہ کیا ہے۔ حدیث میں روح وجسم دونوں کے معذب ہونے کی یہ مثال ارشاد فرمائی کہ ایک باغ ہے اس کے پھل کھانے کی ممانعت ہے۔ ایک لنجھا ہے کہ پاؤں نہیں رکھتا اور آنکھیں ہیں وہ اس باغ کے باہر پڑا ہوا ہے،پھلوں کو دیکھتا ہے مگر ان تک جا نہیں سکتا، اتنے میں ایک اندھا آیا اس لنجھے نے اس سے کہا: تو مجھے اپنی گردن پر بٹھا کر لے چل، میں تجھے رستہ بتاؤں گا، اس باغ کا میوہ ہم تم دونوں کھائیں گے، یوں وہ اندھا اس لنجھے کو لے گیا اور میوے کھائے دونوں میں کون سزا کا مستحق ہے؟ دونوں ہی مستحق ہیں، اندھا اسے نہ لے جاتا تو وہ نہ جاسکتا، اور لنجھا اسے نہ بتاتا تووہ نہ دیکھ سکتا، وہ لنجھا روح ہے کہ ادراک رکھتی ہے اور افعال جو ارح نہیں کرسکتی ۔ا ور وہ اندھا بدن ہے کہ افعال کرسکتا ہے اورادراک نہیں رکھتا۔ دونوں کے اجتماع سے معصیت ہوئی دونوں ہی مستحقِ سزا ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۳ ) روح کا مقام بعد موت حسب مراتب مختلف ہے۔ مسلمانوں میں بعض کی روحیں قبر پر رہتی ہیں اور بعض کی چاہِ زمزم میں اور بعض کی آسمان وزمین کے درمیان، اور بعض آسمانِ اول دوم ہفتم تک،ا ور بعض اعلٰی علیین میں، اور بعض سبز پرندوں کی شکلیں میں زیر عرش نور کی قندیلوں میں، کفار میں بعض کی روحیں چاہ وادی برہوت میں، بعض کی زمین دوم سوم ہفتم تک، بعض سجین میں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۴) کبھی پڑتا ہے کبھی نہیں، دونوں قسم کے خواب شرح الصدور میں مذکور ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۵) روح میرے رب کے حکم سے ایک شے ہے اور تمھیں علم نہ دیا گیا مگر تھوڑا، روح کے ادر اکات علم وسمع و بصر باقی رہتے، بلکہ پہلے سے بھی زائد ہوجاتے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۶) قبر پر آنے والے کو میّت دیکھتا ہے۔ ا س کی بات سنتاہے۔ اگر زندگی میں پہچانتا تھا اب بھی پہچانتا ہے اگر اس کا عزیز یا دوست ہے تو اس کے آنے سے انس حاصل کرتا ہے: یہ سب باتیں احادیث اقوال ائمہ میں مصرح اوراہلسنت کا اعتقاد ہیں، ان کی تفصیل ہماری کتاب ''حیات الموات فی بیان سماع الاموات'' میں دیکھیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۲۶۴: ۱۶ جمادی الآخری ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو جمعرات کو انتقال کرے اس پر عذاب قبر ہر جمعرات کو یا دائمی معاف ہے یا نہیں؟
الجواب
جمعرات کے لیے کوئی حکم نہیں آیا۔ شب جمعہ اور رمضان مبارک میں ہر روز کے واسطے یہ حکم ہے کہ جو مسلمان ان میں مرے گا سوال نکیرینِ وعذابِ کرم سے محفوظ رہے گا
واﷲ اکرم ان یعفو من شیئ ثم یعود فیہ
اﷲ اس سے زیادہ کریم ہے کہ ایک شے کو معاف فرما کر پھر اس پر مواخذہ کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم اصل لفظ قبر ہے
مسئلہ ۲۶۵: از عبداللہ صاحب محلہ بہاری پور شہر بریلی ۱۶ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے آج یہ بیان کیا کہ ایک نام کے دوآدمی ہوں توا یسا ہوجاتا ہے کہ بجائے اس کے کہ جس کی قضا آئی ہو دوسرے آدمی کی روح قبض کرلیتے ہیں فرشتے، اور یہ بھی بیان کیا کہ یہ وقوعہ میرے روبرو کا ہے کہ ایک کی جان قبض کر لی گئی اور چندمنٹوں کے بعد وہ زندہ ہوگیا اور اس نام کا اس محلہ کے قریب ایک شخص تھا وہ مرگیا۔ جو شخص اول مرگیا تھا جب اس سے حال دریافت کیا تو اس نے بہت کچھ قصہ بیان کیا۔ اس کے بارے میں کیا حکم صادرفرماتے ہیں۔ زیادہ حدِ ادب
الجواب
یہ محض غلط ہے، اللہ کے فرشتے اس کے حکم میں غلطی نہیں کرتے
قال اﷲ تعالٰی ویفعلون مایؤمرون ۱؎
فرشتے وہ کرتے ہیں جو انھیں حکم ہوتا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم