ابن ابی الدنیا وبیہقی سعید بن مسیب رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی حضرت سلمان فارسی وعبداللہ بن سلام رضی اﷲ تعالٰی عنہما باہم ملے، ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر مجھ سے پہلے انتقال کرو تو مجھے خبر دینا کہ وہاں کیا پیش آیا، کہا کیا زندے اور مردے بھی ملتے ہیں؟ کہا:
نعم اما المومنون فان ارواحھم فی الجنۃ وھی تذھب حیث شاءت۱؎۔
ہاں مسلمان کی روحیں تو جنت میں ہوتی ہیں انھیں اختیار ہوتاہے جہاں چاہیں جائیں۔
(۱؎ شعب الایمان باب التوکل والتسلیم حدیث ۱۳۵۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۱۲۱)
ابن المبارک کتاب الزہد وابوبکر ابن ابی الدنیا وابن مندہ سلمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی :
قال ان ارواح المؤمنین فی برزخ من الارض تذھب حیث شاءت ونفس الکافر فی سجین۲؎ ۔
بیشک مسلمانوں کی روحیں زمین کے برزخ میں ہیں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں، اور کافر کی روح سجین میں مقید ہے۔
(۲؎ کتاب الزہد لابن مبارک باب ماجاء فی التوکل حدیث ۴۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۴۴)
ابن ابی الدنیا مالک بن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
قال بلغنی ان ارواح المومنین مرسلۃ تذھب حیث شاءت ۳؎ ۔
فرمایا: مجھے حدیث پہنچی ہے کہ مسلمانوں کی روحیں آزادہیں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں۔
(۳؎ شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا باب مقرالا رواح خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۹۸)
اما م جلال الدین سیوطی شرح الصدور میں فرماتے ہیں:
رجح ابن البران ارواح الشھداء فی الجنۃ وارواح غیرھم علی افنیۃ القبور فتسرح حیث شاءت ۴؎ ۔
امام ابو عمر ابن عبدالبر نے فرمایا: راجح یہ ہے کہ شہیدوں کی روحیں جنت میں ہیں ا ور مسلمانوں کی فنائے قبور پر، جہاں چاہیں آتی جاتی ہیں،
(۴؎ شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا باب مقرالا رواح خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۱۰۵ )
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
ان الروح اذا انخلعت من ھذا الھیکل وانفکت من القیود بالموت تحول الی حیث شاءت ۵؎ ۔
بیشک جب روح اس قالب سے جدا اور موت کے باعث قیدوں سے رہاہوتی ہے جہاں چاہتی ہے جولاں کرتی ہے۔
(۵؎ تیسیر شرح جامع صغیر تحتِ حدیث ان روح المو منین الخ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ۱ /۳۲۹)
قاضی ثناء اللہ بھی تذکرۃ الموتی میں لکھتے ہیں:
ارواح ایشاں (یعنی اولیائے کرام قدست اسرارہم) از زمین وآسمان وبہشت ہر جاکہ خواہندمی روند۱۱؎۔''
اولیائے کرام قدست اسرارہم کی روحیں زمین آسمان، بہشت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں (ت)
(۱؎ تذکرۃ الموتٰی والقبور اردو ترجمہ مصباح النور باب روحوں کے ٹھہرنے کی جگہ کے بیان میں نوری کتب خانہ لاہور ص ۷۶ و ۷۵)
خزانۃ الروایات میں ہے :
عن بعض العلماء المحقیقین ان الارواح تتخلص لیلۃ الجمعۃ وتنتش فجاؤ الی مقابر ثم جاؤا فی بیوتھم ۲؎۔
بعض علماء محققین سے مروی ہے کہ روحیں شب جمعہ چھُٹی پاتی اور پھیلتی جاتی ہیں، پہلے اپنی قبروں پر آتی ہیں پھر اپنے گھروں میں۔
(۲؎ خزانۃ الروایات)
دستور القضاۃ مسند صاحبِ مائۃ مسائل میں فتاوٰی امام نسفی سے ہے:
ان ارواح المومنین یاتونی فی کل لیلۃ الجمعۃ ویوم الجمعۃ فیقومون بفناء بیوتھم ثم ینادی کل و احد منھم بصوت حزین یا اھلی ویا اولادی ویا اقربائی اعطفوا علینا بالصدقۃ واذکرونا ولاتنسونا وارحمونا فی غربتنا ۳؎ الخ۔
بیشک مسلمانوں کی روحیں ہر روز و شب جمعہ اپنے گھر آتی اور دروازے کے پاس کھڑی ہو کر دردناک آواز سے پکارتی ہیں کہ اے میرے گھر والو! اے میرے بچّو! اے میرے عزیزو! ہم پر صدقہ سے مہر کرو ، ہمیں یا د کرو بھول نہ جاؤ، ہماری غریبی میں ہم پر ترس کھاؤ۔
(۳؎ دستور القضاۃ)
نیز خزانۃ الروایات مستند صاحب مائۃ مسائل میں ہے :
عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما اذا کان یوم عید اویوم جمعۃ اویوم عاشوراء ولیلۃ النصف من الشعبان تاتی ارواح الاموات ویقومون علٰی ابواب بیوتھم فیقولون ھل من احد یذکرنا ھل من احد یترحم علینا ھل من احد یذکر غربتنا۴؎ الحدیث۔
ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت ہے جب عید یا جمعہ یا عاشورہ کا دن یا شب برات ہوتی ہے اموات کی روحیں آکر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑی ہوتی اورکہتی ہیں: ہے کوئی کہ ہمیں یاد کرے، ہے کوئی کہ ہم پر ترس کھائے، ہے کوئی کہ ہماری غربت کی یاد دلائے۔
(۴؎ خزانۃ الروایات)
اسی طرح کنز العباد میں بھی کتاب الروضہ اما م زندویسی سے منقول، یہ مسئلہ کہ نہ عقائد کا ہے نہ فقہ کےحلال وحرام کا، ایسی جگہ دو ایک سندیں بھی بس ہوتیں نہ کہ اس قدر کثیرو وافر۔
امام جلال الملۃ والدین سیوطی مناہل الصفافی تخریج احادیث الشفاء زیر رثائے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
لم اجدہ فی شیئ من کتاب الاثر لکن صاحب اقتباس الانوار وابن الحاج فی مدخلہ ذکراہ فی ضمن حدیث طویل وکفٰی بذلک سندً المثلہ فانہ لیس ممایتعلق بالاحکام ۱؎ ۔
یعنی میں نے یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نہ پائی مگر صاحبِ اقتباس الانوار اور ابن الحاج نے مدخل میں اسے ایک حدیث طویل میں بے سند ذکر کیا۔ ایسی حدیث کو اتنی ہی سند کافی ہے کہ وہ کچھ احکام سے متعلق نہیں۔
(۱؎ مناہل الصفاء فی تخریج احادیث الشفاء)
باقی رہا ضلاّلِ حال کے شیخ الضّلال گنگو ہی کا'' براہین قاطعہ'' میں زعم باطل کہ ارواح کا اپنے گھر آنا یہ مسئلہ عقائد کا ہے اس میں مشہور ومتواتر صحاح کی حاجت ہے قطعیات کا اعتبار ہے نہ ظنّیات صحاح کا یعنی اگر صحیح بخاری و صحیح مسلم وصریح حدیثوں میں ہو کہ روحیں آتی ہیں اور وہ حد یثیں بھی ان کے دھرم (مذہب ۱۲) میں مردود ہوں گی کہ ان روایات میں عمل نہیں بلکہ علم ہے اور تسلیم بھی کرلیے توفقط عمل ہے نہ فضل عمل،
براھین قاطعۃ لما امر اﷲ بہ ان یو صل
( اللہ تعالٰی نے جس چیز کے ملانے کاحکم دیا اسے قطع کرنے والی کتاب۔ ت) میں چار ورق سے زائد پر یہی اعجوبہ اضحوکہ ، طرح طرح کے مزخرفات سے آلودہ اندودہ (مزین وملمع ۱۲) کیا ہے سخت جہالت فاحشہ ہے۔
اقول اگرچہ ہرجملہ خبر یہ جس میں کسی بات کا ایجاب یا سلب ہو اگر چہ اسے نفیاً واثباتاً کسی طرح عقاید میں دخل نہ ہو، نافی یا مثبت کسی پر اس نفی واثبات کے سبب حکم ضلالت وگمراہی محتمل نہ ہو سب باب عقاید میں د اخل ٹھہرے، جس میں احادیث بخاری ومسلم بھی جب تک متواتر نہ ہوں نا مقبول ٹھہریں، تو اولاً سیرو مغازی ومناقب یہ علوم کے علوم سب گاؤ خورد و دریا بُرد ہوجائیں، حالانکہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ان علوم میں صحاح درکنار ضعاف بھی مقبول،
سیرت انسان العیون میں ہے :
لا یخفی ان السیر تجمع الصحیح والسقیم، والضعیف والبلاغ، والمرسل والمنقطع، والمعضل دون الموضوع، وقد قال الامام احمد بن حنبل وغیرہ من الائمۃ ، اذا روینا فی الحلال والحرام شدد نا واذروینا فی الفضائل ونحوھا تساھلنا ۱؎ ۔
مخفی نہیں کہ کتب سیر، میں موضوع چھوڑ کر صحیح ،سقم، ضعیف، بلاغ، مرسل، منقطع، معضل ہرقسم کی روایتیں ہوتی ہیں، امام احمد وغیرہ ائمہ نے فرمایا ہے: جب ہم حلال وحرام یعنی باب احکام میں روایت کرتے ہیں تو شدت برتتے ہیں اور جب باب فضائل وغیرہ میں روایت کرتے ہیں تو نرمی رکھتے ہیں۔ (ت)
(۱؎ انسان العیون خطبۃ الکتاب مصطفی البابی مصر ۱ /۳ و ۴)
اس مبحث کی تفصیل فقیر کی کتاب منیر العین فی حکم تقبل الابھا مین میں ملاحظہ ہو، یہیں دیکھیے رثائے مذکورامیر المؤمنین کیا فضائل اعمال سے تھا، وہ بھی باب علم سے ہے۔ جس میں امام خاتم الحفاظ نے بعض علماء کی بے سند حکایت بھی کافی بتائی۔