رسالہ
اِتْیَانُ الْاَرْوَاح لِدِیَارِھَمْ بَعْدَ الرَّوَاح
(روحوں کا بعد وفات اپنے گھر آنا)
بسم اﷲ الرّحمن الرحیم
مسئلہ ۲۶۰: ۱۳ شعبان المعظم ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ جس وقت سے روح انسا ن کی جسم سے پرواز کرتی ہے بعد اس کے پھر بھی اپنے مکان پر آتی ہے یا نہیں؟ اور اس سے کچھ ثواب کی خواستگار خواہ قرآن مجید یا خیرات وغیرہ طعام ہو یا روپیہ پیسہ ہوتی ہے یا نہیں؟ اور کون کون دن روح اپنے مکان پر آیا کرتی ہے؟ اور اگر آتی ہے تو منکر اس کا گنہگار ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کس گناہ میں شامل ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
خاتمۃ المحدثین شیخ محقق مولٰنا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ شرح مشکوٰۃ شریف باب زیارۃ القبور میں فرماتے ہیں:
مستحب است کہ تصدق کردہ شوداز میّت بعد از رفتن اواز عالم تا ہفت روز تصدق ازمیّت نفع می کند او ر ا بے خلاف میان اہل علم واردشدہ است در آں احادیث صحیحہ بہ میّت رامگر صدقہ ودعا، ودربعض روایات آمدہ است کہ روح میّت می آید خانہ خود راشب جمعہ، پس نظر می کند کہ تصدق می کنند ازوے یا نہ۔'' ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم
میّت کے دنیا سے جانے کے بعد سات دن تک اس کی طرف سے صدقہ کرنا مستحب ہے۔ میّت کی طرف سےصدقہ اس کے لیے نفع بخش ہوتا ہے۔ اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں، اس بارے میں صحیح حدیثیں وارد ہیں، خصوصا پانی صدقہ کرنے کے بارے میں__ اور بعض علما ء کاقول ہے کہ میّت کو صرف صدقہ او ردعا کا ثواب پہنچتاہے __ اور بعض روایات میں آیا ہے کہ رُوح شب جمعہ کو اپنے گھر آتی ہے او رانتظار کرتی ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں یا نہیں واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات باب زیارۃ القبور مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۷۱۶ و ۷۱۷)
شیخ الاسلام ''کشف الغطاء عمالزم للموتی علی الاحیاء'' فصل ہشتم میں فرماتے ہیں:
''درغرائب وخزانہ نقل کردہ کہ ارواح مومنین می آیند خانہ ہائے خودراہر شب جمعہ روز عید وروز عاشورہ وشب برات، پس ایستادہ می شوند بیرون خانہائے خود وندامی کند ہریکے بآواز بلند اندوہ گین اے اہل و اولاد من ونزدیکانِ من مہر بانی کنید برما بصدقہ۔''۲؎
غرائب اور خزانہ میں منقول ہے کہ مومنین کی روحیں ہر شب جمعہ، روز عید، روز عاشورہ، اور شب برات کو اپنے گھر آکر باہر کھڑی رہتی ہیں اور ہر روح غمناک بلند آواز سے ندا کرتی ہے کہ اے میرے گھر والو، اے میری اولاد، اے میرے قرابت دارو! صدقہ کرکے ہم پر مہربانی کرو۔ (ت)
(۲؎ کشف الغطاء عمالزم للموتی علی الاحیاء فصل احکام دعا وصدقہ ص۶۶)
اسی میں ہے:
''شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ در شرح الصدور احادیث شتے در اکثر ازیں اوقات آوردہ اگرچہ اکثرے خالی از ضعف نیست۔''۳؎
شرح الصدور میں شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے ان میں سے اکثر اوقات کے بارے میں مختلف حدیثیں نقل کی ہیں اگر چہ ضعف سے خالی نہیں ہیں۔ (ت)
(۳؎ کشف الغطاء عمالزم للموتی علی الاحیاء فصل احکام دعا وصدقہ ص۶۶)
اکثرے کا لفظ صریح دلالت کررہا ہے کہ بعض بالکل ضعف سے خالی ہیں،۔ تو صاحب مأۃ مسائل کا مطلقاً اس کی طرف نسبت کرنا کہ
''این روایات راتضعیف ہم فرمودہ اند۔''۴؎ کذب وافترا ہے یا جہل واجترا۔
اور استناد کا صحیحہ مرفوعہ متصلۃ الاسناد میں حصر اور صحاح کا صرف کتب ستہ پر قصر، جیسا کہ صاحب مأۃ مسائل سے یہاں واقع ہوا۔ جہل شدید وسفہ بعید ہے، حدیث حسن بھی بالا جماع حجت ہے۔ غیر عقائد و احکام حلا ل وحرام میں حدیث ضعیف بھی بالا جماع حجت ہے، ہمارے ائمہ کرام حنفیہ وجمہور ائمہ کے نزدیک حدیث مرسل غیر متصل الاسناد بھی حجت ہے۔ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک حدیث موقوف غیر مرفوع قول صحابی بھی حجت ہے کہ یہ سب مسائل ادنٰی طلبہ علم پر بھی روشن ہیں، او رحدیث صحیح کا ان چھ کتابوں میں محصور نہ ہونا بھی علم کے ابجد خوانوں پر بین ومبرہن (ظاہر ودلائل سے ثابت۔ ت) ہے۔
ولکن الوھابیۃ قوم یجھلون
(لیکن وہابیہ نادان ہیں۔ ت)
(۴؎مائۃ مسائل)
طرفہ (تعجب ۔ ت) یہ کہ خود صاحبِ مائۃ مسائل نے اس کتاب اور اربعین میں اور بزرگانِ خاندان دہلی جناب مولا نا شاہ عبدالعزیز صاحب وشاہ ولی اﷲ صاحب نے اپنی تصانیف کثیرہ میں وہ وہ روایات غیر صحاح وروایات طبقہ رابعہ اوران سے بھی نازل تر (کم مرتبہ ۔ت) سے استناد کیا ہے جیسا کہ ان کتب کے ادنٰی مطالعہ سے واضح ومبین ہے
ولکن النجدیۃ یجحدون الحق وھم یعلمون
(لیکن نجدیہ جان بوجھ کر حق کا انکار کرتے ہیں۔ ت)
امام اجل عبداﷲبن مبارک وابوبکر بن ابی شیبہ استاذ بخاری ومسلم حضرت عبدا ﷲ بن عمر وبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے موقوفاً اور امام احمد مسند اورطبرانی معجم کبیر اور حاکم صحیح مستدرک اور ابونعیم حلیہ میں بسند صحیح حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مرفوعاً راوی۔
وھذا لفظ ابن المبارک قال ان الدنیا جنۃ الکافر وسجن المؤمن، وانما مثل المؤمن حین تخرج نفسہ کمثل رجل کان فی السجن فاخرج منہ فجعل یتقلب فی الارض یتفسح فیھا ۱؎۔
(اور یہ ابن مبارک کے الفاظ ہیں، ت) بیشک دنیا کافر کی بہشت اور مسلمان کا قید خانہ ہے، جب مسلمان کی جان نکلتی ہے توا س کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص زندان میں تھا اب آزاد کردیا گیا تو زمین میں گشت کرنے اور بافراغت چلنے پھرنے لگا۔
(۱؎ کتاب الزہد لابن المبارک باب فی طلب الحلال حدیث ۵۹۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۲۱۱)
ابو بکر کی روایت یوں ہے :
فاذ امات المؤمنین یخلی بہ بسرح حیث شاء ۲؎ ۔
جب مسلمان مرتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے جائے۔
(۲؎ مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الزہد حدیث ۱۶۵۷۱ ادارۃ القرآن کراچی ۱۳ /۳۵۵)