Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
157 - 243
مسئلہ ۲۴۸ تا ۲۵۰: از شہر محلہ بہاری پور مسئولہ عبدالجبار صاحب ۲۳ محرم ۱۳۳۹ھ

(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ قرآن شریف پڑھ کر یا زیارتِ قبور وختم تہلیل کرکے جس میں ایصال ثواب مقصود ہوتاہے اُجرت لینا جو حرام ہے وہ قطعی حرام ہے یا نہ؟

(۲) بلا تعین اسی وقت اگر قاری کو کچھ دے دیا جائے وہ بھی حرام ہے یا نہ؟
 (۳) المعروف کالمشروط
 ( جو معروف ہے وہ مشروط کی طرح ہے۔ ت) قاعدہ کلیہ ہے یا نہ؟ بینوا توجروا
الجواب

(۱) تلاوت وتہلیل میں اُجرت لینا ضرور حرام ہے اور گناہ ہونے میں قطعی اور غیر قطعی ہونے کا فرق نہیں، گناہ اگر چہ صغیرہ ہوں اسے ہلکا جاننا قطعی حرام ہے۔

(۲) جبکہ عادات ورواج کے مطابق قاری کو معلوم ہے کہ ملے گا اور اسے معلوم ہے کہ دینا ہوگا۔ تو ضرور اُجرت میں داخل ہے
فان المعروف کالمشروط
 (معروف مشروط کی طرح ہے۔ ت)

(۳) المعروف کالمشروط قاعدہ کلیہ ہے مگر جب صراحۃً معروف کی نفی کردے تو مشروط نہیں رہے گا۔ مثلاً قاری سے صاف کہہ دیا جائے کہ دیا کچھ نہ جائے گا۔ یا وہ کہہ دے کہ میں لوں گا کچھ نہیں، اس کے بعد پڑھے پھر جو چاہیں دے دیں وہ اجرت میں داخل نہ ہوگا،
لان الصریح یفوق الدلالۃ کما فی الخانیۃوغیرھا
 (اس لیے کہ صریح کا درجہ دلالت سے اوپر ہے جیسا کہ خانیہ وغیرہ میں ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۲۵۱ تا ۲۵۵: حاجی عبدالغنی صاحب طالب علم مدرسۃ منظرا لاسلام بریلی ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں عالم  اہلسنت، ناصر ملت اس بارے میں کہ:

(۱) میّت کے تابو ت کو لے کردس قدم چلنا پھر جانب بدلنا، اسی طرح چاروں جانب چالیس قدم چلنا سنت ہے یا نہیں؟

(۲) اوراگر قبرستان چالیس قدم سے کم ہو تو میّت کو لے کر قبرکے چاروں طرف چالیس قدم گھومنا جائز ہے یا نہیں؟

(۳) نماز جنازہ پڑھ کر اور قبور کی زیارت کرکے خیرات لینا جائز ہے یا نہیں؟

(۴)جو شخص اس کوناجائز سمجھ کر اعلان کردے کہ میں اس کوناجائز سمجھتاہوں کوئی صاحب اس کی اجرت ہم کو ہرگز نہ دو، پھر اگر کوئی بطور ہدیہ دے تو لینا جائز ہے یا نہیں؟

(۵) میّت کی روح پر ثواب رسانی کے لیے قرآن شریف ومیلاد شریف پڑھ کر خیرات لینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب

(۱) مستحب ہے (۲)جہالت وممنوع ہے (۳) ناجائز ہے (۴) جائزہے (۵)  ناجائز ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۲۵۶: از بنگالہ ضلع میمن سنگھ موضع مرزا پور مرسلہ منشی آدم غرہ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ

ماتقولون یا علماء الفحول فی ھذہ المسئلۃ کافرمات واراد ورثہ ان یطعمو اطعاما للمسلمین ھل یجوز الاکل للمسلمین ام لا۔
اس مسئلہ میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں ایک کا فر فوت ہوا اب اس کے ورثہ مسلمانو ں کو کھانا کھلانا چاہتے ہیں، تو

مسلمانوں کو کھانا جائز ہے یا نہیں؟ (ت)
الجواب 

  لا ینبغی لھم ان یجیبوا لانھا ان کانت ضیافۃ فالضیافۃ فی الموت من النیاحۃ روی الامام احمد وابن ماجۃ بسند صحیح عن جریر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال کنا نعد الاجتماع الی اھل المیّت وصنعۃ الطعام من النیاحۃ ۱؎ وان کانت بزعمہ صدقۃ مع انہ لاصدقۃ من کافر ولالکافر ففیہ ازدراء بالمسلمین لانہ یعد نفسہ الخبیثۃ متفضلۃ علیھم بالتصدق و ایاھم آکلی صدقتہ و الید العلیا خیر من الید السفلی ولاینبغی لید کافر ان تکون علیا بل الاسلام یعلوہ ولایعلی ھذا ماظھر لی و       ار جو ان تکون صوابا ان شاء اﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
انھیں یہ دعوت نہ قبول کرنا چاہئے اس لیے کہ یہ اگر ضیافت ہے توموت میں ضیافت نیاحت سے ہے، امام احمد اور ابن ماجہ نے بسند صحیح حضرت جریر بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی: ہم گروہ صحابہ میّت کے پاس جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرنے کو نیاحت سے شمار کرتے تھے____اور اگر اس کے خیال میں صدقہ ہو___ جبکہ صدقہ کسی  کافر سے اور کسی کافر کے لیے ہو ہی نہیں سکتا___ تو اس میں مسلمانوں کی بے عزتی ہے اس لیے کہ وہ صدقہ کرکے اپنے نفس خبیث کو ان پر احسان کرنے والا اور انھیں صدقہ کھانے والا سمجھا جاتا ہے۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہوتاہے ___ اور کسی کافر کا ہاتھ اونچا نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا ____ یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا، اور امید کرتاہوں کہ ان شاء اللہ تعالٰی درست ہوگا، اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     از مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ    دارالفکر بیروت        ۲ /۲۰۴)

(سنن ابن ماجہ    باب ماجاء فی النہی عن الاجتماع الی اہل المیّت الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۱۷

(کنز العمال    حدیث ۲۴۶                 موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱ /۶۶)
مسئلہ۲۵۷: از بریلی مسئولہ شیخ  عبدالعزیز بساطی دوم ذوالقعدہ ۱۳۳۰ھ 

اہل ہنود اگر فاتحہ دلوانا چاہیں تو دینی چاہئے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

فاتحہ ایصالِ ثواب ہے۔ کافر کی طرف سے یا کافر کے مال کا ثواب پہنچانا کیا معنی؟ کافر اصلاً اہل ثواب نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۵۸: از عثمان پور ڈاکخانہ کوٹھی ضلع بارہ بنکی مرسلہ محمد حسن یار خاں صاحب ۱۷ربیع الاول شریف۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی مسلمان کسی کافر یا مشرک یا رافضی کو قرآن خوانی اور کسی ذریعہ سے ایصال ثواب کرے تو اس کافر یا مشرک یا رافضی کو ثواب پہنچے گا یا نہیں؟ اور ایصال ثواب کرنے والے کی بابت کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب

کافر خواہ مشرک ہو یا غیر مشرک جیسے آج کل کے عام رافضی کہ منکرانِ ضروریات دین ہیں، اسے ہرگز کسی طرح کسی فعل خیر کا ثواب نہیں پہنچ سکتا،
قال اﷲ تعالٰی
ومالھم فی الاٰخرۃ من خلاق ۱؎
(اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: اور ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ ت)
(۱؎ القرآن        ۲ /۲۰۰)
اور انھیں ایصال ثواب کرنا معاذ اﷲ خود راہ کفر کی طرف جانا ہے کہ نصوص قطعیہ کو باطل ٹھہرانا ہے۔ رافضی تبرائی کا فقہائے کرام کے نزدیک یہی حکم ہے، ہاں جو تبرائی نہیں جیسے تفضیلی، انھیں ثواب پہنچ سکتاہے اور پہنچانا بھی حرام نہیں جبکہ ان سے دینی محبت یا ان کی بدعت کو سہل وآسان سمجھنے کی بنا پر نہ ہو، ورنہ انکم اذامثلھم یہ بھی انھیں میں شمار ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۵۹: از منڈی ہلد وانی ضلع نینی تال مرسلہ حفیظ احمد مستری ۲۵ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

ہندو میّت کے ثواب کے لیے میلاد شریف کے واسطے کچھ روپیہ دے تو اس ہندو کے روپے سے میلاد شریف پڑھوانا کیسا ہے؟
الجواب

ہندو سے روپیہ اس واسطے نہ لیا جائے۔ حدیث میں ہے:
انی نھیت عن زبدا لمشرکین ۲؎
 (مجھے مشرکین کی جھاگ سے منع کیا گیا ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۲؎ سنن ابی داؤد    باب فی الامام یقبل ہدایا المشرکین    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۷۸)
Flag Counter