Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
156 - 243
مسئلہ ۲۴۲: از الہ آباد مدرسہ سبحانیہ دارالطباء مرسلہ محمد سعید الحسن صاحب ۱۱ صفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے یہ دستور مقرر کر رکھا ہے کہ ہر ششماہی یا سالانہ یوم معین وتاریخ مقررہ پر اپنے پیر کا عرس ہوا کرے، لوگوں کو یہ کہتا ہے کہ جو شخص یہ عرس کرے اور عرس کی نیاز کردہ  شیرینی کھائے گا او پر بلا شبہہ جنت مقام دوزخ حرام ہے، یہ کہنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب

یہ کہنا جزاف اور یاوہ گوئی ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کس کاجنت مقام اور کس پر دوزخ حرام، عرس کی شیرینی کھانے پر اللہ تعالٰی ورسول کا کوئی وعدہ ایسا ثابت نہیں جس کے بھروسہ پر یہ حکم لگاسکیں، تو یہ
تَقَوُّل علی اﷲ
(اللہ تعالٰی پر اپنی طرف سے لگا کر کچھ بولنا ۔ت) ہوا اور وہ ناجائز ہے۔
قال اللہ تعالٰی:
اطلع الغیب ام اتخذ عند الرحمٰن عھدا۱؎
کیا اس نے غیب دیکھ لیا ہے یا  رحمان کے یہاں کوئی عہد کررکھا ہے۔ (ت)
(۱؎ القرآن        ۱۹ /۷۸)
قال اللہ تعالٰی:
اتقولون علی اﷲ مالا تعلمون ۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیا تم خدا پر وہ بولتے ہو جس کا تمھیں علم نہیں۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ القرآن            ۷ /۲۸)
مسئلہ ۲۴۳ تا ۲۴۴: از بنگال ضلع سلہٹ موضع شوبید پور مرسلہ مولوی انوارالدین صاحب۳ ربیع الاول شریف۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) میّت کے ثواب رسانی کے لیے قرآن شریف کر ہدیہ کرنایا چندنماز و روزہ وغیرہ کے کفارہ کے عوض میں قرآن شریف کو حیلہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے ہو تو کون کون صورتوں میں؟ یعنی بعض میّت کے ثلث مال قدر کفارہ کے ہے اور بعض کے کم اور بعض کے بالکلیہ نہیں۔ اور ان صورتوں میں مع وصیت کے کیا حکم ہے؟

(۲) بوقت دفن میّت کے دعا غیرہ پڑھ کر چھوٹے چھوٹے ڈھیلا وغیرہ پر دم کر کے قبر کے اندر رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب

(۱) قرآن مجید کسی مسلمان کو دے کر اس کا ثواب میّت مسلم کو پہنچانا جائز ہے، کفارے کے عوض میں قرآن مجید دے کر جو حیلہ یہاں عوا م میں رائج ہے محض باطل وبے سود ہے، بلکہ بحال وصیت ثلث مال یا باجازت ورثہ بالغین ا س سے زائد ، اور بلا وصیت جس قدر مال پر وارث عاقل بالغ چاہے اگر کفارہ واجبہ کی قدر کو کافی  نہ ہو بطریق دور پورا کریں یعنی ایک بار فقیر کو دے دیں ا س قدر کا کفارہ اداہوا۔ فقیر بعد قبضہ پھر اسے اپنی طرف ہبہ کردے۔ وارث پھر فقیر کو کفارہ میں دے، یہاں تک کہ الٹ پھیر میں قدر کفارہ تک پہنچ جائے
کمانص علیہ فی الدر وغیرہ من الا سفار الغر وقد حققنا ہ فی فتاوٰنا
( جیساکہ درمختار اوراس کے علاوہ کتب مبارکہ میں اس کی تصریح ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)
 (۲) کوئی حرج نہیں جبکہ قبر میں جگہ نہ گھیرے
لعدم المنع وما لم یمنع لایمنع
 ( کیونکہ اس سے ممانعت نہ آئی اور جس سے منع وارد نہیں وہ ممنوع نہ ہوگا۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۵: ا زپوسٹ فراش گنج ضلع نواکھالی    ملک بنگالہ ۱۰ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ثواب رسانی کی نیت سے قرآن مجید پڑھ کر اس پر اُجرت دینااور لینا جائزہے یانہیں؟ اور ایک قرآن مجید پڑھ کر چالیس درم سے کچھ کم اُجرت لینا اور پڑھانے والے کے لیے چالیس درہم سے کم اُجرت دینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب

ثواب رسانی کے لیے قرآن مجید پڑھنے پر اجرت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہے، اور چالیس درہم اجرت محض بے اصل ہے۔
مسئلہ ۲۴۶: از بنارس کچی باغ مسئولہ مولوی محمد ابراہیم صاحب ۱۸ ذی القعدہ  ۱۳۳۹ھ

دستور ہے کہ اغنیاء قرآن خوانی کے واسطے بُلائے جاتے ہیں اور ان کی دعوت دی جاتی ہے، کیا ان اغنیاء کو بعد قرآن خوانی دعوت طعام چہلم جائز ہے ؟ اور یہ فعل شرعا کیسا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب

موت میں دعوت بے معنی ہے، فتح القدیر میں  اسے بدعت مستقبحہ فرمایا
لان الدعوۃ شرعت فی السرور لافی الشرور ۱؎
 ( اس لیے کہ دعوت  خوشی میں مشروع ہے غمی میں نہیں۔ت) اغنیا کا اس میں کچھ حق نہیں اور اگر بنظر المعھود عُرفاً کالمشروط لفظا (جو عرفا معلوم ہے اسی کی طرح ہے جو لفظاً مشروط ہے۔ ت)
 (۱؎ فتح القدیر            فصل فی الدفن    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۲ /۱۰۲)

(مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    فصل فی حملہا ودفنہا    نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۳۳۹)
وہ اجرت قرآن خوانی کی حد تک پہنچ گیا ہو، کھلانے والا جانتا ہو ان کی تلاوت کے عوض مجھے کھانا دینا ہے، یہ جانتے ہوں ہمیں قرآن پڑھ کر کھانا لینا ہے، تو آپ ہی حرام ہے، کھانا بھی حرام اور کھلانا بھی حرام،
لا تشتروا باٰیتی ثمناً قلیلا ۲؎
 (میری آیتوں کے بدلے حقیر مال دُنیا نہ لو۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ القرآن        ۲ /۴۱)
مسئلہ۲۴۷: ا ز لکھنؤ محلہ فرنگی محل احاطہ حیدر جان طوائف بردوگان ہیزم سوختنی مسئولہ زین العابدین ۲۰ محرم ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ضلع اعظم گڑھ کے قریب وجوار یہ رسم قدیم میّت کے ایصال ثواب کے واسطے جاری تھی کہ ورثاء میّت چہلم تک قرآن خوانی کراتے تھے اور بعد اختتام میعاد قرآن خوانی کی اجرت بصورت نقد و پارچہ اور اشارے قرآن خوانی میں کھانا دیاکرتے تھے، اب چند لوگوں دیوبند سے تعلیم پا کر اسی ضلع میں آئے اور ہم لوگوں کے طریقہ مستمر ایصال ثواب کو ممنوع وناجائز کہتے اور فعل عبث قرار دیتے ہیں، پس علمائے اہلسنت وجماعت سے استدعا ہے کہ طریقہ مروجہ ایصال ثواب عند الشرع جائز ودرست ہے یا ممنوع، اور میّت کو ثواب قرآن خوانی وکھانا وغیرہ کا ملتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

دیوبندی عقیدہ والوں کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالا تفاق تحریر فرمایا ہے کہ یہ لوگ اسلام سے خارج ہیں، اور فرمایا:
من شک فی عذابہ وکفرہ وفقد کفر ۱؎
جو ان کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ ان کی کوئی بات نہ سنی جائے نہ ان کی کسی بات پر عمل کیا جائے جب تک اپنے علماء سے تحقیق نہ کرلیں۔ 

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
وایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتونکم ۲؎۔
ان سے دور بھاگو اور انھیں اپنے سے دور کریں۔ کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
 (۱؎ درمختار        باب المرتد            مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۳۵۶)

(۲؎ مشکوٰۃ        باب الاعتصام بالکتاب    فصل اول    مطبع مجتبائی دہلی    ص۲۸)
اور ان کا بتایا ہوا کوئی مسئلہ اگر صحیح بھی نکلے توا س سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ عالم ہیں، یا ان کے اور مسائل بھی صحیح ہوں گے۔ دنیا میں کوئی ایسا فرقہ نہیں جس کی کوئی نہ کوئی بات صحیح نہ ہو، مثلاً یہود ونصارٰی کی یہ بات صحیح ہے کہ موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نبی ہیں۔ کیا اس سے یہودی اور نصرانی سچے ہوسکتے ہیں، رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الکذوب قد یصدق ۳؎
بڑا جھوٹا بھی کبھی سچ بولتا ہے،
(۳؂مجمع بحار الانوار    تحت لفظ صدق        نولکشور لکھنؤ        ۲ /۲۳۹)
دیوبند ی تو اموات مسلمین کو ثواب پہنچانے ہی سے جلتے ہیں، فاتحہ، سوم،دہم، چہلم سب کو حرام کہتے ہیں، یہ سب باتیں جائز ہیں، میّت کو قرآن خوانی وطعام دونوں کا ثواب پہنچتا ہے، تیجے وچالیسویں وغیر کا تعین عرفی ہے جس سے ثواب میں خلل نہیں آتا، ہاں قرآن خوانی پر اُجرت لینا دینا منع ہے، اس کا طریقہ یہ کیا جائے کہ حافظ کو مثلاًچالیس دن کے لیے نو کر رکھ لیں کہ جو چاہیں کام لیں گے اور یہ تنخواہ دیں گے، پھراس سے قبر پر پڑھنے کا کام لیاجائے، اب یہ اجرت بلاشبہہ جائزہے کہ اس وقت کے مقابل ہے نہ کہ تلاوت قرآن کے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter