بالجملہ اہدائے ثواب ہمچو روشن کردن چراغ از چراغ ست کہ ازیں چراغ چیزے نہ کاہد۔ وہ چراغ دیگر روشنائی یابد، وشک نیست کہ صبی ازہمچو تبرّع زنہار محجور نیست بلکہ چراغ افروختن نیز نظیر او نتوان شد کہ آنجار اگر از چراغ چیزے کم نشود فزوں ہم نشود واینجا ثواب واہب یکے دہ می شود واﷲ یضٰعف لمن یشاء واﷲ واسع علیم۔
مختصر یہ کہ ثواب ہدیہ کرنا ایسا ہے جیسے چراغ سے چراغ جلانا کہ اس چراغ سے کچھ کم نہیں ہوتا اور دوسرے چراغ کو روشنی مل جاتی ہے ____ اور بلاشبہہ بچہ اس طرح کے تبرُّع سے ہر گز محجور نہیں ___ بلکہ چراغ جلانا بھی اس کی نظیر نہیں ہوسکتی کہ وہاں اگر چراغ سے کچھ کم نہیں ہوتا تو کچھ زائدبھی نہیں ہوتا۔ اور یہاں ہبہ کرنیوالے کا ثواب ایک کا دس ہوجاتا ہے۔ اور اﷲ جس کیلئے چاہے اورزیادہ کرتاہے۔ اور اﷲ وسعت والا علم والا ہے۔
بمثل فرض کن اگر در محسوس نیز صورتے ہمچناں یافتہ شدے کہ صبی درہمی دہد وآن درہم ہم بموہوب لہ رسد و ہم بدست صبی برقرار ماند و یکے دہ گرد د آیا معقول بود کہ شرع مطہر صبی رااز ہمچوتصرف بازداشتے حاش ﷲ حجر برائے نظر ووضع ضرراست نہ بہر دفع نفع والحاق بحجراین ست دریں مسئلہ طریق نظر۔
بطور مثل فرض کیجئے اگر عالم محسوس میں بھی کوئی ایسی صور ت ہوتی کہ بچہ ایک درہم دے وہ درہم موہوب لہ کے پاس بھی پہنچے اور بچے کے ہاتھ میں بھی برقرار رہے اور ایک کا دس ہوجائےے تو کیا یہ متصور تھا کہ شرع مطہر بچے کو ایسے تصرف سے روک دیتی____ حاشاﷲ! حجر ضرر دورکرنے پر نظر کے لیے ہے نفع دورکرنے اور حجر (پتھر) سے لاحق کرنے کے لیے نہیں ہے____ یہ اس مسئلہ میں طریق نظر ہے۔ (ت)
ثم اقول وباﷲ التوفیق ہمانا از کلمات علماء نص جزیہ برآریم علمائے مادر عامہ کتب تصریح فرمودہ اند کہ مسئلہ حج عن الغیر برہماں اصل کلی مبتنی ست کہ انسان رامی رسد کہ ثواب عملش ازاں دیگرے کند۔ فی الہدایہ باب الحج عن الغیر: الاصل فی ھذا الباب ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلٰوۃ ا او صوما او صدقۃ اوغیرھا عنداھل السنۃ والجماعۃ ۱؎ اھ ومثلہ فی خزانۃ المفتین برمز ''ہ'' لھا۔
ثم اقول وباﷲ التوفیق ( پھر میں کہتاہوں اور توفیق خداتعالٰی ہی سے ہے ۔ت) کلمات علماء سے ہم خود اس جزءیہ کی صراحت لائیں۔ ہمارے علماء نے عامہ کتب میں تصریح فرمائی ہے کہ دوسرے کی جانب سے حج کی بنیاد اسی قاعدہ کلیہ پر ہے کہ انسان اپنے عمل کا ثواب دوسرے کے لیے کرسکتا ہے ____ ہدایہ باب الحج عن ا لغیر میں ہے : اس باب میں اصل یہ ہے کہ اہلسنت وجماعت کے نزدیک انسان کو حق حاصل ہے کہ اپنے عمل کا ثواب کسی دوسرے کے لیے کردے۔نماز ہویا روزہ یا صدقہ یا اور کچھ، اھ اسی کے مثل خزانۃ المفتین میں ہدایہ کے لیے ''ہ'' کے رمز کے ساتھ ہے۔
(۱؎ الہدایۃ باب الحج عن الغیر المکتبہ العربیہ کراچی ۱ /۲۷۶)
و فی الدر باب الحج عن الغیر الاصل ان کل من اتی بعبادۃ مّالہ جعلُ ثوابہا لغیرہ ۱؎ اھ
درمختار باب الحج عن الغیر میں ہے: اصل یہ ہے کہ جو شخص بھی کوئی بھی عبادت کرے اسے اختیار ہے کہ اس کا ثواب دوسرے کے لیے کردے اھ،
(۱؎ درمختار باب الحج عن الغیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۸۱)
وفی الہندیہ عن الغایۃ کالھدایۃ مع زیادۃ مفیدۃ وفی ملتقی الابحر اخر الباب وللانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ فی جمیع العبادات ۲؎ اھ قال فی شرح مجمع الانھر ھذا وقع فی معرض العلۃ لما قبلہ ۳؎ اھ پس ثابت شدکہ حج ازدیگرے کردن از باب اہدائے ثواب است، ورنہ این تفریع راچہ محل بودے، حالا باید دیدکہ صبی نیز حج عن الغیر تواں کرد یانہ، درکتب مذہب تصریحات جلیہ است کہ می تواں کرد۔ در تنویر الابصار است یشترط اھلیۃ المامور لصحۃ الافعال ۴؎۔
ہندیہ میں غایہ کے حوالے سے عبارت ہدایہ کی طرح ایک مفید اضافے کے ساتھ ہے _ ملتقی الابحر باب مذکور کے آخر میں ہے: انسان کوتمام عبادات پراختیار ہے کہ اپنے عمل کا ثواب دوسرے کے لیے کردے اھ اس کی شرح مجمع الانھر میں ہے : یہ عبادت بیان ماقبل کے علت کی منزل میں ہے ____تو ثابت ہوا کہ دوسرے کی جانب سے حج کرنا اہدائے ثواب کے باب سے ہے ___ ورنہ اس تفریع کاکیا موقع ہوتا___ اب دیکھناچاہئے کہ بچہ بھی دوسرے کی جانب سے حج کرسکتاہے یا نہیں؟ ___ کتب مذہب میں روشن تصریحات موجود ہیں کہ کرسکتاہے __تنویر الابصار میں ہے: صحتِ افعال کے لیے مامور کا اہل ہونا شرط ہے
(۲؎ ملتقی الابحر باب الحج عن الغیر موسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۲۳۴)
(۳؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحربا ب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۱۰)
(۴؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الحج عن الغیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۸۱)
درحاشیۃ علامہ طحطاوی است عبر بالصحۃ دون الوجوب لیعم المراھق فانہ اھل للصحۃ دون الوجوب۵؎۔
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے: '' صحت'' سے تعبیر فرمائی ''وجوب'' سے نہیں۔ تاکہ مراہق (قریب البلوغ لڑکے)کو بھی شامل ہو کیونکہ حج کی ادائیگی اس سے صحیح ہے مگر اس پر واجب نہیں
(۵؎ طحطاوی علی الدرالمختار باب الحج عن الغیر دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۵۴۹)
در درمختار است فجاز حج الصرورۃ والمرأۃ والعبد والمراھق وغیرہم اولی لعدم الخلاف ۶؎ اھ ملخصا۔ ودر ردالمحتار است الشرط ھو الاھلیۃ دون الذکورۃ والحریۃ والبلوغ ۷؎ اھ ملخصا
درمختار میں ہے: صرورہ ( جس نے اپنا حج اسلام نہ کیا ہو) عورت، غلام اور مراہق کا حج جائزہے ا ور ان کے علاوہ (حج بدل کے لیے) ہوں توبہتر ہے تاکہ اختلاف ائمہ نہ رہے اھ ملخصا___ ردالمحتار میں ہے: شرط صرف اہلیت ہے۔ مرد ہونا، آزاد ہونا، بالغ ہونا شرط نہیں اھ ملخصا
(۶؎ درمختار باب الحج عن الغیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۸۲)
(۷؎ ردالمحتار باب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۴۱)
وہم دراں ازلباب درتعداد شرائط آورد والتاسع عشر تمیز المامور فلا یصح احجاج صبی غیر ممیز ویصح احجاج المراھق ۱؎
ہم دراں ست ھذہ الشرائط کلھا فی الحج الفرض واما النفل فلا یشترط فیہ شیئ منھا الا السلام والعقل والتمییز ۲؎ ___ ہمچناں در مناسک علامہ سندی است
اسی میں لباب سے تعداد شرائط میں نقل ہے: انیسویں شرط یہ ہے کہ مامور باتمیز سمجھدار رہو، تو ناسمجھ بچے سے حج کرانا صحیح نہیں اور مُراہق سے حج کرانا صحیح ہے ____ اسی میں ہے: یہ ساری شرطیں حج فرض میں نفل میں اسلام، عقل او ر تمیز کے سوا کوئی شرط نہیں اسی طرح مناسک علا مہ سندی میں ہے___
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ اللباب باب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۴۰)
(۲؎ ردالمحتار بحوالہ اللباب باب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۴۰)
ودر ہندیۃ ازغایۃ السروجی شرح ہدایۃ از علامہ کرمانی آورد الافضل ان یکون عالما بطریق الحج وافعالہ ویکون حرا عاقلا بالغا ۳؎ اھ
ہندیہ میں غایۃ السروجی از علامہ کرمانی کے حوالے سے ہے : افضل یہ ہے کہ طریقہ حج اور افعال حج سے باخبر ہو اور آزاد ، عاقل، بالغ ہو اھ
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع فی الحج عن الغیر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۲۵۷)
اقول المراد بالعاقل مایقابل المعتوہ الذی حکمہ حکم الصبی العاقل دون ما یقابل المجنون لان اصل العاقل شرط صحۃ العبادات والکلام ھٰھنا فی الافضلیۃ وکان الحاصل ان الافضل ان لایکون عبد اولامعتوھا ولا صبیا ممیزا وانما اکثرنا من النقول فی المسئلۃ لما وقع فی بعض نسخ اللباب من تصحیف اوقع الشارح فی بحث مضطرب وقداجبنا بحول اﷲ تعالٰی فی ما علقنا علی طرقہ بمالا مزید علیہ ولاحاجۃ بنا الی الاطالۃ بایراداہ ھنا ط باز برظاہر الروایۃمو ید بنصوص صراح احادیث صحاح کہ نفس عمل از جانب آمرواقع شود۔ ایں معنی درایں کارما رامؤ ید راست کہ چوں صبی ممیزاصل عمل بہر دیگرے وازا ں او مے تواں کرد وہبہ ثواب یکے از توابع اوست وذلک قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیما روینا عنہ تقبل منہ ومنھما کما اسفلنا پس از مجرد اہدائے ثواب مانع کیست وجا حر چیست ،سخن اینجا درازاست ودرفیض الٰہی بازامابرہمیں قدر بسندہ کنیم حامدین لربنا علٰی جودہ ونو الہ ومصلین علی سیدنامحمد واٰلہ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اقول یہاں عاقل سے مراد معتوہ کا مقابل ہے جس کا حکم عاقل بچے کا ہے، مجنون کا مقابل مراد نہیں اس لیے کہ نفس عقل توتمام عبادات کی ''صحت'' کے لیے شرط ہے، اور یہاں کلام ''افضلیت'' کے بارے میں ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ افضل یہ ہے کہ نہ غلام ہو،نہ معتوہ۔ نہ ممیز بچہ___ ہم نے اس مسئلہ میں حوالے زیادہ پیش کئے جس کی وجہ یہ ہے کہ لباب کے بعض نسخوں میں کچھ خطائے کتابت واقع ہوئی جس نے شارح کوایک بااضطراب بحث میں ڈال دیا جس کاجواب بعونہٖ تعالٰی ہم نے اس کے حاشیہ میں کامل طور پر دے دیا ہے یہاں اسے ذکر کرکے کلام طویل کرنے کی ضرورت نہیں____ پھر ظاہر الروایہ کی بنیاد پر جو صحیح احادیث کے صریح نصوص سے تائید یافتہ ہے کہ نفس عمل آمر کی جانب سے واقع ہوتا ہے۔ یہ معنی اس کام میں ہمارے لیے زیادہ مؤید ہے کہ جب ممیز بچہ اصل عمل دوسرے کے لیے اور اس کے حق میں کرسکتا ہے اور ثواب ہبہ کرنا بھی اس کے توابع میں سے ایک ہے اور وہ رسول کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاروایتِ مذکورہ میں یہ ارشاد ہے کہ ''اس سے اوراس کی ماں باپ دونوں کی جانب سے قبول کیا جائے'' تو ثواب ہدیہ کرنے سے مانع کون ہے اور رکاوٹ کیا ہے؟ کلام یہاں طویل ہے اور فیض الہی کا دروازہ کشادہ ،مگر ہم اسی قدر پر اکتفا کرتے ہیں اس کے سا تھ اپنے رب کی ، اس کے جود وکرم پر حمد کرتے ہیں اور اپنے آقا حضرت محمد اور ان کی آل پردرود بھیجتے ہیں اور خدائے پاک وبرتر خوب جاننے والاہے، او راس ذات بزرگ کا علم زیادہ کامل اور محکم ہے۔ (ت)