Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
154 - 243
ہمچناں کہ باکسیکہ جماعت نیافت اقتداء نمودن احمد وابوداؤد وابن حبان والحاکم عن ابی سعید الخدری رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الارجل یتصدق علی ھذا فیصلی معہ ۴؎۔
اسی طرح جس شخص نے جماعت نہ پائی اس کی اقتداء کرنا ____ امام احمد، ابوداؤد، ابن حبان اور حاکم حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں  کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: '' ارے کوئی ایسا شخص نہیں جو اس پر صدقہ کردے کہ اس کے ساتھ نماز اداکرے۔'' (ت)
 (۴؎سنن ابی داؤد    باب فی الجمع فی المسجد مرتین        آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۸۵)

( مسند احمد بن حنبل    مروی ازابوامامہ        دارالفکر بیروت        ۵ /۲۵۴)
ہمچناں انواع برکثیر ووافراست ودرآنہائے وبرروئے صبیان مسلمین فراز نیست تازیانے یااندیشہ اونباشد ازیں ہمہ بگز روبالا تر شنو، ترامیر سد کہ پسر خود پسران ماذون ہر کرا خواہی کہ بے حاجت با ذن کسے و محجور  را از ولی پر سیدہ در  خصومات خویش وکیل کنی یامتاع خودت فروختن یاکالائے برائےتوخریدن فرمائی بےآ نکہ نام اجر ے درمیان  باشد، ایں خود خبر تبرع چیست۔ اماروا داشتند کہ زیانے نہ پنداشتند بلکہ تصحیح عبارات او ر اسود نگاشتند، درجامع الصغار است فی وکالۃ الذخیرۃ اذا وکل صبیا یبیع عبدہ، او وکلہ بان یشتری لہ شیئا فباع واشتری جاز اذاکان یعقل ذلک فلا عھدۃ علی الصبی وانما العھدۃ علی الاٰمر، وکذلک لو وکل صبیا بالخصومۃ جاز بعد ان یکون الصبی بحیث یعقل مایقول ومایقال وھذہ المسئلۃ فی الحاصل علی وجہین اما ان یکون صبیہ اوصبی غیرہ فان وکل صبیہ جاز ولایستامر احد ا وان وکل صبی غیرہ فان کان ماذونا لہ فی التجارۃ لایستامرولیہ فان اذن ولیہ جاز لہ ان یوکلہ وھذا لان استعمال صبی الغیر بغیر اذن الولی لایجوز، وباذنہ  یجوز، قالو اوھذہ المسئلۃ روایۃ ان للاب ان یعیرہ ولدہ وقد اتفق علیہ المشائخ وھل لہ ان یعیر مال ولدہ بعض المتاخرین قالو الہ ذلک وعامتھم علٰی انہ لیس لہ ذلک ثم ان محمدً ا رحمہ اﷲ تعالٰی جوز بیع الصبی المحجور علیہ وشراہ لغیرہ ولم یجوز بیعہ وشراءہ لنفسہ لان بیعہ و شراہ لنفسہ مترددان بین النفع والضرر واما بیعہ وشراءہ لغیر علٰی وجہ لایلزم العھدۃ نفع محض لان فیہ تصحیح عبارتہ والصبی العاقل من اھل التصرفات النافعۃ المحضۃ کقبول الھبۃ وغیر ذلک وانما لایلزم العھدۃ لان فیہ ضرر للصغیرا الخ ۱؎
اس طرح کی بہت سی اور کثیر نیکیاں ہیں ____ اور ان کا دروازہ مسلمان بچوں پر بند نہیں جب تک کہ کوئی نقصان یا اندیشہ نقصان نہ ہو۔ان سب سے آگے بڑھئے اور بلند تر سنئے ____ انسان اپنے لڑکے کو، یا ماذون لڑکوں میں سے جس کو چاہے ____ بغیر اس کے کہ کسی کے اذن کی حاجت ہو ___ اور محجور ہو تو اس کے ولی سے پوچھ کر، اپنے مقدمات میں وکیل بناسکتا ہے یا اسے اپنا سامان بیچنے یااپنے لیے کوئی سامان خریدنے کاحکم دے سکتا ہے، بغیر اس کے کہ درمیان میں کسی اجرت کا نام ہو ___ یہ خود تبرُّع نہیں تو اور کیا ہے؟ مگر علما نے اسے ناجائز رکھا کیونکہ اس میں کوئی نقصان نہ سمجھا، بلکہ اس کی عبارت کی تصحیح کو فائدہ قراردیا۔ جامع الصغار میں ہے: ذخیرہ کتاب الوکالۃ میں ہے: اپناغلام بیچنے کے لیے کسی بچے کو وکیل بنایا اور بچے نے خرید وفروخت کیا تو جائز ہے جبکہ بچہ اسے سمجھتاہو اور ذمہ بچے پر نہیں بلکہ آمر پر ہوگا ____ اسی طرح اگر کسی بچے کو مقدمے کا وکیل بنایا تو جائزہے جبکہ یہ سمجھتا ہو کہ خود کیا کہہ رہاہے اور اس سے کیا کہا جارہا ہے، بلحاظ حاصل اس مسئلہ کی دوصورتیں ہیں: (۱) یا تو خود اس کا بچہ ہوگا (۲) یا دوسرے کا ہوگا، اگر اپنے بچہ کو وکیل بنایا تو جائز ہے اور کسی سے اجازت نہیں لینا ہے۔اور اگر دوسرے کے بچے کو وکیل بنایا تو (دو حالت ہے) اگر وہ تجارت کے لیے ماذون تھا توا س کے ولی سے اجازت لے ___ اگر اس نے اجازت دے دی تو اسے وکیل بنانا جائز ہے ____ یہ اس لیے کہ دوسرے کے بچےسے اجازت ولی کے بغیر کا م لینا جائز نہیں،ا ور اس کے اذن سے ہوتو جائز ہے___ علماء نے فرمایا: اس مسئلہ سے متعلق ایک روایت ہے وہ یہ کہ باپ اپنے بچے کو عاریۃً دے سکتا ہے، اس پر مشائخ کا اتفاق ہے۔ اپنے بچے کے مال کو عاریۃً دے سکتا ہے یا نہیں؟ بعض متاخرین نے کہا دے سکتاہے ۔ اوراکثر اس پرہیں کہ باپ کواس کا اختیار نہیں ____ پھر جو بچہ محجور ہے وہ اگر دوسرے کے لیے خرید وفروخت کرے تو امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے اسے جائز رکھا ہے، اور اپنے لیے خرید وفروخت کرے توا س کو جائز نہ قرار دیا اس لیے کہ اپنے لیے اس کی جو خرید وفروخت ہوگی اس میں نفع ونقصان دونوں کا احتمال ہے اور دوسرے کے لیے جب اس طور پر خرید وفروخت ہوگی کہ ذمہ بچے پر نہ آئے تواس میں اس کے لیے محض نفع ہے کیونکہ اس کی تعبیر اور گفتگو صحیح قرار پا جاتی ہے ___اور عاقل بچہ ایسے تصرفات کا اہل ہے جن میں صرف نفع ہو جیسے ہبہ قبول کرنا وغیرہ ____ اورذمہ بچہ پر نہ آئےگا اس لیے اس میں بچہ کا ضرر ہے الخ (ت)
 (۱؎ جامع احکام الصغار علٰی ھامش جامع الفصولین    مسائل الوکالۃ    مطبعۃ الازہریہ مصر    ۱ /۷۶۔ ۲۷۵)
ہمچناں درفصل سی وچہارم از جامع الفصولین در احکام الصبیان ۲؎ست والعبارۃ الاولی اتم فائدۃ  واعظم عائدۃ
اس طرح جامع الفصولین کی فصل ۳۴ میں بچوں کے احکام کے بیان میں ہے ____ مگر عبارت بالازیادہ مفید اور عظیم نفع کی حامل ہے۔
 (۲؎ جامع الفصولین            فصل ۳۴ احکام الصبیان    مطبعۃ الازہریہ مصر    ۲ /۰۸ ۔ ۲۰۷)
پس بوضوع پیوست کہ صبی اگر چہ محجور است ازتبرع بے ضرر، محجور نیست ھذہ کبری ولنبین صغری چوں بتوفیقہ  تعالٰی  برہنمائی فقہ وحدیث درمانحن فیہ، نظر مے کنیم ہبہ ثواب واہدائے اوبمسلمانے رابحمد اللہ تعالٰی نفع بے ضرر مے یابیم این نہ ہمچور ہبہ مال ست کہ چو بکسےدہی از خود گم کنی، تانز دتست بدیگرے نہ رسد چوں بدیگرے رسد پیش تونماند این جابسعت فضل وکمال کرم رب العزۃ جل جلالہ ہم ثواب تونزد توماند۔ وہم بموہوب لہ پرسد بلکہ بایں کار خوب ثواب تودہ بالاشود ۔ پس این نفع بقصور وتجارۃ لن تبورا ست۔
اس کی تفصیل سے واضح ہوگیا کہ بچہ اگر چہ محجور ہو مگر بے ضرر تبرُّع سے محجور نہیں ہے یہ کبرٰی ہو ا اب ہم صغرٰی بیان کرتے ہیں، بتوفیق الہٰی جب ہم فقہ وحدیث کی رہنمائی میں زیربحث مسئلہ میں غور کرتے ہیں توکسی مسلمان کو ثواب ہبہ وہدیہ کرنے کو بحمدہٖ تعالٰی ہم نفع بے ضرر پاتے ہیں____ یہ ہبہ مال کی طرح نہیں کہ مال جب کسی کو دیا تو اپنے پاس سے گیا۔ اور جب تک اپنے پاس ہے دوسرے کے پاس پہنچ جائیگا تو اپنے پاس نہ رہے گا۔ یہاں وسعتِ فضل الہٰی اور کمال ربانی سے ہدیہ کرنے والے کا ثواب خود اس کے پاس بھی رہتاہے، اور موہوب لہ کے پا س بھی پہنچتا ہے بلکہ اس عمل کی وجہ سے خود اس کا ثواب د س گنا ہوجاتاہے تو یہ ایسا نفع ہے جس میں کوئی کمی نہیں، اور ایسی تجارت ہے جس میں ہر گز کوئی خسارہ نہیں۔
درحدیث (۱): است کہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسم فرمود من حج عن میّت فللذی حج مثل اجرہ ۱؎۔ ہر کہ از جانب مردہ حج کند مراد ر ا مثل ثواب آں میّت باشد رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
حدیث  ۱: حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی وفات یافتہ کی جانب سے حج کرے اس کے لیے بھی ثواب میّت کے مثل ثواب ہو، اسے طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
 (۱؎ مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط    کتاب الحج   باب فیمن مات وعلیہ الحج    دارالکتاب بیروت    ۳ /۲۸۲)
حدیث (۲): کہ حضور اقدس صلوات اللہ تعالی  و سلامہ علیہ فرمود اذا تصدق احدکم بصدق تطوعا فلیجعلھا من ابویہ فیکون لھما اجرھا فلا ینقص من اجرہ شیئ ۲؎۔ چوں کسے از شما صدقہ نافلہ کردن خواہد باید کہ اورا از مادر وپدر خود گرداند کہ ایشاں راثواب اوباشد واز ثواب ایں کس چیز نکاہد رواہ  الطبرانی فی الاوسط وابن عساکر عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
حدیث (۲): حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نفل صدقہ کرنا چاہے توچاہیے کہ اسے اپنے ماں باپ کی جانب سے کردے کہ انھیں اس کا ثواب ملے گاا ور اس شخص کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا۔ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں اور ابن عساکر نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔
 (۲؎ مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط   کتاب الزکوٰۃ    باب الصدقہ علی المیّت    دارالکتاب بیروت    ۳ /۱۳۸)
حدیث (۳): روی نحوہ الدیلمی فی مسند الفردوس عن معاویۃ بن حَیَدۃ القُشَیری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
حدیث۳: اسی کے ہم معنی دیلمی نے مسند الفردوس میں معاویہ بن حَیَدہ قُشَیری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔
حدیث (۴): کہ فرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من مرعلی المقابر وقرأ قل ھواﷲ احد، احدٰی عشرۃ مرۃ ثم وھب اجرھا للاموات اعطی من الاجر بعدد الاموات ۱؎ ہر کہ بگورستان گزرد وسورہ اخلاص یازدہ بارخواندہ بمردگان بخشد بشمار مردگان ثوابش دادہ شود۔ رواہ الدار قطنی والطبرانی والدیلمی والسلفی عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجھہ۔
حدیث ۴: حضوراکرم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جو قبرستان سے گزرے اور سورہ  اخلاص گیارہ بار پڑھ کراس کا ثواب مردوں کو بخش دے اسے مردوں کی تعداد کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ اسے دارقطنی، ویلمی اور سلفی نے امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہ سے روایت کی ہے۔
 (۱؎ کنز العمال    بحوالہ رافعی عن علی     حدیث ۴۲۵۹۶    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت        ۱۵ /۶۵۵)

(اتحاف السادۃ المتقین     بحوالہ ابو محمد سمرقندی    فی فضائل سورۃ الاخلاص    دارالفکر بیروت        ۱۰ /۳۷۱)
حدیث (۵): کہ فرمود  صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا حج الرجل عن والدیہ تقبل منہ ومنھما۲؎ الحدیث چوں کسے ازوالدین خودش حج کند ہم ازقبول کردہ شود وہم ایشاں رواہ الدارقطنی عن زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
حدیث ۵: رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی اپنے والدین کی طر ف سے حج کرے تواس کی جانب سے بھی قبول کیا جائے  اور ان کی جانب سے بھی ___ اسے دارقطنی نے حضرت زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
(۲؎ سنن الدارقطنی    کتاب الحج    نشر السنۃ ملتان        ۲ /۲۶۰)
پیداست کہ معنی قبول ہمیں عطائے ثواب ست کما نص علیہ العلماء ولذا قال فی التیسیر ای اثابہ واثابھما علیہ فیکتب لہ ثواب حجۃ مستقلۃ ولھما کذالک ۳؎۔
ظاہر ہے کہ قبول کامعنٰی یہاں ثواب دینا ہے۔ جیسا کہ علماء نے اس کی تصریح فرمائی۔ اسی لیے تیسیر میں فرمایا: یعنی اس پر اسے بھی ثواب دے اور اس کے ماں باپ کو بھی ثواب دے توا س کے لیے بھی مستقل حج لکھے او ران کے لیے بھی ویسا ہی۔
 (۳؎ التیسیر         شرح الجامع الصغیر    تحت حدیث ماقبل    مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ    ۱/۸۹)
حدیث (۶): کہ فرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من حج عن  ابیہ اوعن امہ فقد قضی عنہ حجتہ وکان لہ فضل عشر حجج ۱؎ ہر کہ از پدر و مادر خود حج کردپس بدر ستے کہ حج ازاو اداکرد خودش فضیلت دہ حج یافت رواہ الدارقطنی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
حدیث ۶: رسول انور  صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے  باپ یا ماں کی طرف سے حج کیا توبے شک اس کی جانب سے حج ادا کردیااور خود دس حج کی فضیلت پائی ___ اسے دارقطنی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔
(۱؎ سُنن الدارقطنی    کتاب الحج            نشر السنۃ ملتان        ۲ /۲۶۰)
در ردالمحتار است الثواب لاینعدم کما علمت ۲؎ اھ ای اذا  اھدی ثواب علمہ لغیرہ وصل الیہ ولم ینعدم من عندہ۔
ردالمحتار میں ہے :ثواب معد وم نہیں ہوجاتا جیساکہ معلوم ہوا اھ___ یعنی جب اپنے عمل کا ثواب دوسرے کو ہدیہ کیا تو اس کے پاس پہنچ گیا اور خود ہدیہ کرنے والے کے پاس سے فنا نہ ہوا۔
 (۲؎ ردالمحتار     باب الحج عن الغیر        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۲۳۶)
وفیہ عن العلامۃ نوح اٰفندی عن مناسک القاضی حج الانسان عن غیرہ افضل من حجہ عن نفسہ ۳؎ الخ
اسی ردالمحتار میں علامہ نوح آفندی سے منقول ہے وہ مناسک قاضی سے ناقل ہیں: انسان کا دوسرے کی جانب سے حج کرنا خود اپنی طرف سے حج کرنے سے افضل ہے الخ۔
 (۳؂ردالمحتار         باب الحج عن الغیر        داراحیاء التراث العربی بیروت   ۲ /۲۴۱)
وفیہ عن التاتار خٰانیۃ عن المحیط، الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المومنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولاینقص من اجرہ شیئ اھ قال وہو  مذہب اھل السنۃ والجماعۃ ۴؎ الخ۔
اور اسی میں تاتار خانیہ سے ، اس میں محیط سے منقول ہے: جو کوئی نفل صدقہ کرے اس کے لیے افضل یہ ہے کہ تمام مومنین ومومنات کی نیت کرلے کہ وہ ان سب کو پہنچے اور اس کے اجر سے کچھ کم نہ ہوگا اھ ___ فرمایا: یہی اہل سنت وجماعت کا مذہب ہے الخ۔
 (۴؎ ردالمحتار        باب مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۶۰۵)
Flag Counter