Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
153 - 243
علامہ زین العابدین ابن نجیم مصری دراحکام الصیبان از کتاب الاشباہ فرماید : علامہ زین العابدین ابن نجیم مصری کتاب الاشباہ کے احکام الصیبان میں فرماتے ہیں :
تصح عباداتہ وان لم تجب علیہ واختلفوا فی ثوابھا والمعتمد انہ لہ وللمعلم ثواب التعلیم، وکذا جمیع حسناتہ ۲؎ ۔
بچے کی عبادتیں صحیح ہیں اگر چہ اس پر واجب نہیں ،ان کے ثواب کے بارے میں اختلاف ہے۔ معتمد یہ ہے کہ ثواب بچے ہی کے لیے ہوگا،ا ور معلم کو سکھا نے کا ثواب ملے گا۔ اسی طرح اس کی تمام نیکیوں کا حال ہے۔ (ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر      احکام الصیبان    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۴۲)
باز علمائے مااصولاً وفروعاً تصریحات جلیہ دارند کہ انسان رامی ر سد کہ ثوا ب اعمال خودش ازاں با غیرے کند کما نص علیہ فی الھدایۃ وشروحھا و الملتقی والدر و خزانۃ المفتین والھندیۃ وغیرھا من کتب المذہب۔ علمائے کرام ایں سخن راہمچناں مرسل ومطلق گزاشتہ اند وہیچ بو ئے از تخصیص وتقیید ندادہ، پس آن چنانکہ باطلاق اعمال برشمول فرائض وتناول عملیکہ ابتداء برائے خود بےنیت غیر کردہ باشد وبہ ارسال غیر  بر دخول حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ و الثناء استدلال کردہ اند ہمچناں اطلاق انسان بردخول صبیان دلیلے کافی است تا آنکہ برہانے صحیح استثنائے آناں قائم شود و خو د آں برہان کجا وکدام ۔
پھر کتب اصول وفروع میں ہمارے علماء کی روشن تصریحات موجود ہیں کہ انسان اپنے اعمال کا ثواب دوسرے کے لیے کرسکتاہے۔جیسا کہ ہدایہ، شروح ہدایہ، ملتقی، درمختار، خزانۃ المفتین، ہندیہ وغیرہا کتب مذہب میں اس کی صراحت ہے (ت)
علمائے کرام نے یہ کلام اسی طرح مُرسَل ومطلق رکھا ہے۔ کسی تخصیص وتقیید کا اشارہ ونشان نہ دیا___ تو جس طرح اعمال کو مطلق ذکر کرنے سے علماء نے یہ استدلال کیا کہ یہ حکم فرائض کوبھی شامل ہے اوراس عمل کو بھی جسے ابتداء میں اپنے لیے دوسرے کی نیت کے بغیر کیا ہو ___ اور جس طرح ''غیر'' کے عموم سے یہ استدلال کیا کہ اس میں حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ والثناء بھی داخل ہیں اسی طرح لفظ ''انسان'' مطلق مذکور ہونااس بات کی کافی دلیل ہے کہ اس میں بچے بھی داخل ہیں جب تک کہ کوئی صحیح برہان ان کے  استثناء پر قائم نہ ہوجائے مگر ایسی برہان کہاں  ا ور کون؟ (ت)
فی ردالمحتار فی البحر بحثا ان اطلاقھم شامل للفریضۃ ۱؎ اھ وفیہ' عنہ ان  الظاھر انہ لافرق بین ان ینوی بہ عند الفعل للغیر اوبفعلہ لنفسہ ثم بعد ذلک یجعل ثوابہ لغیرہ لاطلاق کلامھم ۲؎ اھ
ردالمحتار میں ہے: بحر میں بطور بحث ہے کہ علماء کا اعمال کو مطلق ذکر کرنا فرض کو بھی شامل ہے اھ اور اسی میں اسی بحر کے حوالے سے ہے: ظاہر یہ ہے کہ میرے نزدیک اس میں کوئی فرق نہیں کہ عمل کے وقت دوسرے کے لیے کرنے کی نیت کی ہو یا اپنے لیے کرنے کی نیت کی ہو، پھر ا س کا ثواب دوسرے کے لیے کردے۔ اس لیے کہ کلام علماء میں اطلاق ہے، ایسی کوئی قید نہیں اھ
(۱؎ ردالمحتار    باب الحج عن الغیر        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۲۳۶)

 (۲؎ ردالمحتار    مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۶۰۵)
فیہ قلت وقول علمائنا لہ ان جعل ثواب عملہ لغیرہ یدخل فیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ احق بذلک حیث انقذنا من الضلالۃ ۳؎ اھ۔
اسی میں ہے: میں نے کہا: ہمارے علما کا قول ہے کہ '' وہ اپنے عمل کا ثواب ''دوسرے'' (اپنے غیر) کے لیے کرسکتا ہے'' ___ تو اس میں ہمارے  نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھی داخل ہیں ا س لیے کہ وہ ا س کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ حضور نے ہی ہمیں گمراہی سے نجات دی اھ (ت)
(۳؎ ردالمحتار    مطلب فی اہداء ثواب القرأۃ الخ    داراحیاء التراث العربی بیروت   ۱ /۶۰۶ ۔ ۶۰۵
نہایت آنچہ اینجا بخاطر خطور تو ان کرد آن ست کہ نزد اصحاب معشر حنفیہ عمہم اللہ بالطافہ الخفیہ ۔ این کار ہبہ ثواب وابدائے آنست وصبی ازاہل تبرع نیست۔
زیادہ سے زیادہ جو شبہ یہاں دل میں گزرسکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے علمائے حنفیہ کے نزدیک ____ ان پر اللہ کی پوشیدہ عنایتیں عام ہوں ___ یہ عمل ثواب کا ہبہ اور ہدیہ ہے اور بچہ تبرّع (اپنی طرف سے بھلائی اور احسان کے طور پر کچھ کرنے) کا اہل نہیں ہے ۔(ت)
اقول وبا ﷲ التوفیق صبی عاقل ازہر گونہ تبرع محجورنیست۔ منشائے حجر ہمیں ضررست ۔ ولو فی الحال کما فی القرض ولوبالا حتمال کمافی البیع آنجا کہ ہیچ ضرر  نیست در حجر نظر نیست بلکہ خلاف نظر وعین اضرار ست کہ بمشابہ الحاق اوبجماد واحجار ست۔ آخر نہ بینی کہ صبی بالاجماع ازاہل ابتداء بسلام است بلکہ مودبش را با ید کہ اگرخود گرنبا شد تعلمیش نماید۔ حالانکہ این نیز از باب تبرع است تاآنکہ درحدیث او را صدقہ نامیدہ اند ابو داؤد عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حدیث قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تسلیمہ علی من لقی صدقۃ ۱؎ ۔ ہمچنان بابرادر خود بکشادہ روی سخن فرمودن وباظہار بشاشت دندان سپیدہ نمودن البخاری فی الادب المفرد والترمذی وابن حبان  فی صحیحھما عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تبسمک فی وجہ اخیک لک صدقۃ ۲؎۔

اقول وبا ﷲ التوفیق
(میں کہتا ہوں ،ا ور توفیق خداہی سے ہے۔ ت) عاقل بچہ ہر طرح کے تصرف سے محجور نہیں (حَجْر کا معنٰی تصرف سے روک دینا) حجر کا منشا یہی ضرر ہے اگر چہ فی الحال نقصان ہو جیسے قرض دینے میں یااس کا احتمال ہو جیسے بیع میں ___ جہاں کوئی ضرر نہیں وہاں حجر میں نظر اور بچہ کی رعایت نہیں بلکہ یہ خلاف نظر اور بعینہٖ ضرر رسانی ہے کہ گویا اسے جماد اور پتھر سے لاحق کردینا ہے۔

دیکھئے کہ بچہ بالاجماع اس کا اہل ہے کہ سلام میں پہل کرے بلکہ ا س کے مربی کو چاہئے کہ اگر خود اس کا عادی نہ ہو تو اسے سکھا ئے حالانکہ یہ بھی تبرع ہی کے باب سے ہے یہاں تک کہ حدیث میں اسے صدقہ کانام دیاگیا ہے۔ ابوداؤد  حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ایک حدیث میں راوی ہیں  کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو ملے اس سے سلام کرنا صدقہ ہے۔''
اسی طرح اپنے بھائی سے کشادہ روئی سے بات کرنا اور اظہار بشاشت کے ساتھ مسکرانا___ امام بخاری نے ادب المفرد میں اور ترمذی وابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں ان ہی حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ  صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: '' اپنے بھائی کے سامنے تیرا تبسم کرنا تیرے لیے صدقہ ہے۔ (ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الادب باب فی اماطۃ الاذی    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۳۵۵)

 (۲؎ جامع الترمذی    ا بواب البر والصلۃ     امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲ /۱۷)
ہمچنان راہ گم کردہ را بذکر معالم طریق دلالت کرد ن احمد والشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دل الطریق صدقۃ ۱؎ وفی حدیث ابی ذر المذکور ارشادک الرجل فی ارض الضلال صدقۃ ۲؎۔
اسی طرح راستہ بھول جانے والے کو راہ کے نشانات بتاکر راہنمائی کردینا___ امام احمد اور بخاری و مسلم حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''راستہ بتانا صدقہ ہے'' ____ اور حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث مذکور میں ہے: ''جہاں کوئی راہ بھٹک جائے  اس کی رہنمائی کردینا صدقہ ہے۔'' (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری    کتاب الجہاد    باب الخدمۃ فی الفزو    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۴۰۴ (

(۲؎ جامع الترمذی    ابواب البرو الصلۃ            امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲ /۱۷)
ہمچنان کر راسخن شنواند ان الخطیب فی جامعہ عن سہل بن سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اسماع الاصم صدقۃ ۳؎۔
اسی طرح بہرے شخص کو بات سنوانا ___ خطیب اپنی جامع میں سہل بن سعد رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''بہرے کو سنانا صدقہ ہے۔''
(۳؎ جامع للخطیب    مروی از مسند ابی سعید الخدری    دارالفکر بیروت   ۳ /۶۴)
Flag Counter