Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
152 - 243
حضرت جامی قدس سرہ، السامی نفحات الانس شریف میں فرماتے ہیں:
شیخ مفرح رحمہ اﷲ تعالٰی ازاہل صعید مصرست بسیار جلیل القدر وکبیر الشان بود ، ویکے از اصحاب او وے را روز عرفہ در عرفات دیدویکے دیگر درہمان روز درخانہ خویش دید وتمام روز باوے بود چو آں دو شخص بہم رسید ند  و ہریک آنچہ دیدہ بود باھم گفتند میان ایشاں نزاع شدیکے گفت وے روز عرفہ درعرفات بود، برصدق آں سوگند بطلاق خورد، یکے گفت تمام آں روز درخانہ خود بود، وے نیز سو گند بطلاق خورد، پس خصومت کنان پیش مفرح آمد ند، شیخ گفت ہر دوراست گفتہ اید بذن ہیچکدام طلاق نشدہ است، یکے از  اکابر میگو یدکہ من از شیخ مفرح پر سیدم کہ صدق ہریک موجب حنث دیگر ست، چوں سوگند ہیچکش حانث نہ شدہ باشد، ودراں مجلس کہ من ایں پر سیدم جماعتے از علماء حاضر بودند، شیخ اشارت بہمہ کر د کہ دریں مسئلہ سخن گویند ہر کس چیزے گفت اماہیچکس جواب شافی وکافی نہ گفت، دراں اثنا جواب آں برمن ظاہر شد کہ شیخ اشارت بمن کرد کہ جواب آؓں بگو، من گفتم چوں ولی بولایت متحقق گردو دراں معنی کہ روحانیت وے مصور بصورتے تواند شد، متمکن بود کہ در وقت واحد درجہات مختلفہ خود رابصور تہائے متعددہ بنماید چنانکہ خواہد، پس آنکس کہ وے رادربعضے ازاں صور بعرفات دیدہ باشد، ہم راست دیدہ باشد وآنکہ دربعضے دیگرازان صور درخانہ خودش دیدہ باشد ہم راست دیدہ باشد وبسو گند ہیچ یک حانث نہ شود، وشیخ مفرح فرمود کہ جواب صحیح این است کہ تو گفتی رضی اﷲ تعالٰی عنہ و نفعنابہ ۱؎
شیخ مفرح رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ مصر کے اہل دل حضرات سے ہیں، بزرگ رتبہ اور بڑی شان رکھتے تھے، ان کے ایک مرید نے عرفہ کے دن انھیں عرفات میں دیکھا اور دوسرے مرید نے اسی دن انھیں اپنے گھر میں دیکھا اور دن بھر ان کے ساتھ رہا، جب دونوں مریدوں کی ملاقات ہوئی اور ایک نے جو دیکھا تھا آپس میں بیان کیا توا ن کے درمیان اختلاف ہوا۔ ایک نے کہا: حضرت عرفہ کے دن عرفات میں تھے، اور اس کی صداقت پر طلاق کی قسم کھائی۔ دوسرے نے کہا: اس روز دن بھر اپنے گھر میں تھے، اس نے بھی طلاق کی قسم کھائی، پھر جھگڑتے ہوئے شیخ مفرح کے پاس آئے۔ شیخ نے کہا: دونوں سچ کہتے ہیں، کسی کی بیوی کو طلاق نہیں ہوئی، اکابر میں سے ایک کا بیان ہے کہ میں نے شیخ مفرح سے پوچھا: ہر ایک کی صداقت دوسرے کی قسم ٹوٹنے کی مقتضی ہے پھر کسی کی قسم کیسے نہیں ٹوٹی؟___ جس مجلس میں میں نے سوال کیا علماء کی ایک جماعت موجود تھی، شیخ نے سب کوا شارہ کیا کہ اس مسئلہ میں کلام کریں، ہر شخص نے کچھ نہ کچھ بیان کیا مگر کسی نے شافی وکافی جواب نہ دیا۔ اسی اثناء میں جواب مجھ پر منکشف ہوگیا او رشیخ نے میری طرف اشارہ فرمایا کہ تم اس کا جواب دو___ میں نے عرض کیا کہ جب ولی کی ولایت اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ اس

کی روحانیت کسی صورت سے مصوَّر ہوسکے تو ممکن ہوتا ہے کہ ایک ہی وقت کے اندر مختلف جہتوں میں اپنے کو متعدد صورتوں میں جیسے چاہے دکھائے۔ تو جس شخص نے حضرت کوان صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں عرفات میں دیکھا صحیح دیکھا، اور اسی وقت دوسرے نے کسی اور صورت میں اپنے گھر کے اندر تشریف فرما دیکھا اس نے بھی سچ دیکھا، اور کسی کی قسم نہ ٹوٹے گی، شیخ مفرح نے فرمایا: صحیح جواب یہ ہے کہ جوتم نے دیا ____ خدا ان سے راضی ہوا و رہمیں ان سے نفع دے (ت)
 (۱؎ نفحات الانس    شیخ مفرح رحمۃ اﷲ علیہ    انتشارات کتاب فروشی مطبع توحیدی    ص ۸۲۔ ۵۸۱)
حضرت میر سید عبدالواحد قدس سرہ، الماجد سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں:
مخدوم شیخ ابوالفتح جونپوری راقدس اﷲ تعالٰی روحہ، درماہ ربیع الاول بجہت عرس رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ازدہ جااستدعا آمدہ کہ بعد از نماز پیشین حاضر شوند ہر دہ استدعا راقبول کردند۔ حاضران پرسیدند اے مخد وم ہر دہ استدعاراقبول فرمود وہرجا بعدا ز نماز پیشین حاضرباید شد چگونہ میسر خواہد آمد۔ فرمود کِشن کہ کافر بود چند صد جاحاضرمی شد، اگر ابوالفتح دہ جاحاضر شود چہ عجب بعد از نماز پیشین از ہردہ جاچوڈول رسید مخدوم ہربارے از حجرہ بیرون می آمد برچوڈول سوار میشد و می رفت ونیز ودرحجرہ حاضر می ماند۔ خردمند ا تو ایں رابرتمثیل حمل مکن یعنی مپندار کہ تمثیلہائے  شیخ بچندیں جاہا حاضر شدہ است۔ لاواﷲ بلکہ عین ذات شیخ بہر جا حاضر شدہ بود، ایں خوددریک شہرویک مقام واقع شد۔ وذات ایں موحد خود دراقصائے عالم حاضراست خواہ علویات خواہ سفلیات ۱؎ ۔
ماہ ربیع الاول میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے عرس پاک کی وجہ سے مخدوم شیخ ابوالفتح جونپوری قدس سرہ، کی دس جگہ سے دعوت آئی کہ بعد نماز ظہر تشریف لائیں۔ حضرت نے دسوں دعوتیں قبول کیں۔ حاضرین نے پوچھا: حضور نے دسوں دعوتیں قبول فرمائی ہیں اور ہرجگہ نماز ظہر کے بعد پہنچنا ہے یہ کیسے میسر ہوگا؟ فرمایا: کِشن جو کافر تھا سیکڑوں جگہ حاضر ہوتا تھا اگر ابوالفتح دس جگہ حاضر ہوتو کیا عجب ہے؟ نماز ظہر کے بعد دسوں جگہ سے پالکی پہنچی، مخدوم ہربار حجرہ سے آتے، سوار ہوجاتے، تشریف لے جاتے اور حجرہ  میں بھی موجود رہتے___ اے عقل مند! اسے تمثیل پر محمول نہ کرنا، یعنی یہ نہ سمجھنا کہ شیخ کی مثالیں اتنی جگہوں میں حاضر ہوئیں ۔ یہ تو ایک شہر اور ایک مقام میں واقع ہوا خود اس موحد کی ذات عالم کے سروں میں موجود ہے خواہ علویات ہوں خواہ سفلیات۔ (ت)
 (۱؎ سبع سنابل    سنبلۂ ششم درحقائق وحدت الخ            مکتبہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص ۱۷۰)
جس کا دل ان حقائق کی وسعت نہ رکھے اور امور برزخ وآخرت کو اپنے مشہودات دنیا ہی پر قیاس کرے اس پر یہ ماننا لازم ہو گا کہ حنفیہ کے نزدیک بھی میّت کو مثل قاری ثواب پہنچتا ہے کہ قاری کا ثواب تو ا س کے پاس سے نہیں جاتا اور فرق مذہبین اتنا رہے گا کہ حنفیہ کے نزدیک وہ ثواب اثر ہبہ قاری ہے اور شافعیہ کے نزدیک اجابت دعائے قاری بہر حال وہ استبعاد جس کی بنا پر تقسیم ثواب لازم سمجھے تھے باطل ہوگیا۔ لاکھوں ہو تو لاکھوں کوا تنا ہی ثواب پہنچے گا اور قاری کا ثواب کم نہ ہوگا ، بلکہ بعدد اموات ترقی کرے گا۔ حدیث میں ہے رسول اﷲ  صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من قرأ الاخلاص احدی عشر مرّۃ ثمّ وھب اجرھا للاموات اعطی من الاجر بعدد الاموات ۲؎ ۔رواہ الطبرانی والدارقطنی۔
جو سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھ کر اموات مسلمین کو اس کاثواب بخشے بعدد اموات اجر پائے۔ (اسے طبرانی اور دارقطنی نے روایت کیا ۔ت)باقی اصل مسئلہ کی تحقیق اور ہر ایک کو پورا ثواب پہنچنے کی توثیق ہمارے فتوٰی میں ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ کنز العمال بحوالہ رافعی  عن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۴۲۵۹۶    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۵ /۶۵۵)

(فتح القدیر        عن علی رضی اﷲ عنہ باب الحج عن الغیر        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳ /۶۵)

(ردالمحتار             باب الحج عن الغیر        مصطفی البابی مصر        ۲ /۲۵۷)
مسئلہ ۲۴۱: از بندر کراچی محلہ جمعدار گل محمد مکرانی مرسلہ مولوی عبدالرحیم مکرانی ۲۷ شعبان ۱۳۱۱ھ

چہ می فرمایند علمائے کرام ومفتیان عظام رحمکم ربکم اندرین مسئلہ کہ اگر گروہ صبیان قرآن خواندہ یا دیگر اعمال حسنہ کردہ وثواب بموتٰی بخشد، شرعامی رسد یا نہ؟ بینوا الجواب بسند الکتاب وتوجروا عند اللہ بحسن المآب صاحباً حسبۃ للہ تعالٰی، جواب این مسئلہ بعبارت شافی و دلائل کافی از کتب فقہ حنفیہ و حدیث شریفہ مع حوالہ کتبِ فقہ نوشتہ وبمواہیر علمائے اعلام آنجائے ثبت نمودہ بفرستند کہ عند اللہ ماجور وعندالناس مشکور خواہند شد، چراکہ درباب این مسئلہ درمیان علمائے بندر کراچی مباحثہ واختلاف افتادہ است آخر الامر طرفین بریں قرار دادہ اند کہ ہر جوابیکہ علمائے کرام بریلی دہند، بباید کہ جانبین تسلیم نمایند۔
علمائے کرام ومفتیان عظام، آپ پر خدا کی رحمت ہو، اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہے کہ اگر بچوں کی جماعت قرآن پڑھ کر یادوسرے نیک اعمال کرکے اس کا ثواب مردوں کو بخشے توشرعا پہنچتا ہے یا نہیں؟ کتاب کی سند سے واضح جواب دیں اور خدا کے یہاں حسن انجام کا ثواب لیں۔حضور! خالصاً للہ اس سوال کا جواب شافی عبارت اورکتب فقہ حنفی وحدیث شریف کے دلائل سے کتب فقہ کے حوالوں کے ساتھ تحریر فرما کر اور وہاں کے علمائے اعلام کی مہریں ثبت فرماکر  ارسال فرمائیں، خدا کے یہاں اجر پائیں گے اور لوگ شکر گزار ہوں گے ا س مسئلہ میں بندر کراچی کے علماء میں مباحثہ اور اختلاف واقع ہوا۔ آخر طرفین نے یہ طے کیا کہ بریلی کے علمائے کرام جو جواب دیں وہ جانبین تسلیم کریں۔ (ت)
الجواب

اللھم لک الحمد صل علی المصطفی واٰلہ العمد ہر قربتے کہ صبی اہل آنست (نہ ہمچو اعتاق و صدقہ وہبہ مال کہ اصلا از وصور ت نہ بندد) چو از صبی عاقل اداشود برقول جمہو ر ومذہب صحیح ومنصور ثوابش ہم ازان ا وباشد علامہ استروشنی درجامع صغار فرماید حسنات الصبی قبل ان یجری علیہ القلم للصبی لا لا بویہ لقولہ تعالٰی وان لیس للانسان الاماسعٰی ھذا قول عامۃ مشائخنا ۱؎ ۔
اے اللہ! تیرے  ہی لیے حمد ہے حضرت محمد مصطفی اور ان کی آل معتمد پر درود نازل فرما۔ ہر وہ قربت کہ بچہ جس کا اہل ہے (غلام آزاد کرنا، صدقہ کرنا، مال کا ہبہ کرنا اور اس طرح کی قربتیں نہیں، کہ یہ بچےّ سے واقع ہو نہیں سکتیں) جب عاقل بچّے سے وہ ادا ہوگی توقول جمہور اور مذہب صحیح و منصور یہ ہے کہ اس کا ثواب بھی بچے ہی کے لیے ہوگا، علامہ استروشنی جامع صغار میں فرماتے ہیں: بچے کی نیکیاں جواس پر قلم جاری ہونے سے قبل ہوں وہ بچے ہی کے لیے ہیں اس کے والدین کے لیے نہیں کیونکہ ارشاد باری ہے: انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کوشش کی___ یہ ہمارے عامہ مشائخ کا قول ہے ۔ (ت)
 (۱؎ جامع احکام الصغار علی ھامش جامع الفصولین    مسائل الکراہیۃ    مطبع ازہر یہ مصر    ۱ /۱۴۸)
Flag Counter