اور بکر کہتاہے کہ سوال میں دو باتیں مذکور ہوئیں: ایک تو ایصال ثواب قراءت اور اس کے ساتھ تقسیم ثواب مقرؤ، اور دوسرے وصول مثل ثواب، چونکہ عند الشافعیہ عبادات بدنیہ کا ثواب ہی نہیں پہنچتا۔ اس لیے علامہ ابن حجر نے اول جواب سے تو بالکل سکوت فرمایا اور فقط شق ثانی کا بموجب مختار متاخرین شافعیہ جواب دیا جس کی تشریح علاّمہ شامی اس عبارت سے کچھ اوپر بایں الفاظ فرماتے ہیں:
والذی حررہ المتاخرون من الشافعیہ وصول القرأۃ للمیّت اذاکانت بحضرتہ اودعی لہ عقبھا، والدعاء عقبہا ارجی للقبول ومقتضاہ ان المراد انتفاع المیّت بالقرأۃ لاحصول ثوابھالہ ولھذا اختاروا فی الدعاء اللھم اوصل مثل ثواب ماقرأتہ الٰی فلاں واماعندنا فالو اصل الیہ نفس الثواب ۱؎ ۔
متاخرینِ شافعیہ نے جو تنقیح کی ہے وہ یہ ہے کہ قرأت میّت کو پہنچتی ہے جبکہ قرأت اس کے پاس ہو یا بعد قرأت اللہ سے دعا کی جائے اس لیے کہ قرأت قرآن کے بعد دعامیں امید قبول زیادہ ہے ۔ اس کا مقتضاء یہ ہےکہ میت کو قراءت سے فائدہ ملتا ہے یہ نہیں کہ قرأت کا ثواب اسے حاصل ہوتا ہے اسی لیے دعامیں وہ یہ الفاظ اختیار کرتے ہیں کہ اے اللہ! میں نے جو پڑھا اس کے ثواب کا مثل فلاں کو پہنچا مگر ہمارے نزدیک خود ثواب اسے پہنچتا ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۰۵)
غرض بموجب مذہب حنفیہ کہ وہ وصول ثواب مقرؤ کے قائل ہیں تقسیم لابدی ہے کیونکہ ہر عمل کا ثواب خواہ بتضاعیف ہی سہی عند اللہ ایک امر معدود ہے جس کا وصول دوچار شخصوں کو بلاتقسیم کے عقلاً ممتنع ہے۔ اور ابن حجر کا قول ثانی کو ''لائق بسعۃ الفضل'' فرمانا بھی اسی کو مقتضی ہے کہ قائلین وصول ثواب قرأت کے نزدیک تقسیم ضروری ہے اگراول صورت بھی وصول کامل ہو تو ثانی لائق بسعۃ الفضل فرمانا بالکل بے معنی ہے
(کیونکہ دونوں میں فرق نہ ہوگا ۔ت) اب علمائے کرام فرمائیں کہ حق بجانب کون شخص ہے زید یا بکر؟ اور بموجب مذہب حنفیہ تقسیم ضروری ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
عبارت فتاوٰی ابن حجر مکی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کا مطلب بہت صاف ہے، بکر نے بالکل تحویل کردیا۔ امام ابن حجرمکی سے ایک سوال ہے جس میں سائل دریافت کرتاہے کہ متعدد مسلمانوں کے لیے فاتحہ پڑھےتو ثواب ان پر تقسیم ہو گا یا ہرمیّت کو کامل ثواب ملے گا مثل لفظ کہ شق ثانی میں سائل شافعی المذہب نے اپنے مذہب کی رعایت سے بڑھایا، شقِ اول میں بھی ان کے طور پر ملحوظ ہے ولھذا ثوابھا نہ کہا بلکہ الثواب بلام عہد یعنی وہی ثواب کہ ہم شافعیہ کے نزدیک معروف ومعہود ہے کہ مثل ثواب قاری ہے۔ آیا اموات پر تقسیم ہوگا یا ہر ایک کو پورا ملے گا۔ روشن ہے کہ یہ ایک ہی سوال ہے اور اس میں مقصود بالاستفادہ تقسیم وتکمیل کی دو شقوں سے ایک متعین جس کا جواب امام نے دیا کہ ایک جماعت نے شق دوم پر فتوٰی دیا یعنی ہر ایک کو پوراثواب پہنچے گا اور یہی وسعتِ رحمت الہٰیہ کے لائق ہے نہ یہ کہ دوسوال تھے، پہلا مذہب حنفیہ اوردوسرا مذہب شافعیہ سے امام نے پہلے جواب سے سکوت کیاا ور د وسرے کا جواب دیا۔ یوں ہوتا تو تقسیم او رلکل منھم فضول تھا کہ حنفیہ وشافعیہ کا یہ اختلاف ایک جماعت اموات کے لیے قرأت سے خاص نہیں ایک میّت کے لیے قرأت بھی یہی ہے کہ ہمارے نزدیک نفس ثواب پہنچتاہے او ران کے نزدیک اس کا مثل ۔ ایسا ہوتا تو امام اس غلطی پر متنبہ فرماتے۔ پھر جواب یُوں نہ ہوتا کہ ایک جماعت نے ثانی پر فتوٰی دیا،بلکہ یوں ہوتا کہ ہمارا مذہب شق ثانی ہے پھر نفس ومثل میں سعتہ رحمت کا کیا فرق ہے جسے امام ھو اللائق بسعۃ الفضل فرمارہے ہیں۔ بکر کا استدلال کہ ''ابن حجر کے قول ثانی کو الخ'' عجیب ہے ۔ شق اول میں لفظ تقسیم خود مصرح ہے۔ سائل پوچھتا ہی یہ ہے کہ ثواب جو کچھ بھی پہنچے کہ وہ ان کے نزدیک مثل ثواب قاری ہے نہ نفس تقسیم ہوگا یا ہر ایک کو پورا پہنچے گا؟ امام نے جواب دیا کہ ہرایک کو پورا پہنچنا الیق ہے، تو قائلین وصول ثواب سے یہ بھی ہوئے۔ شق اول میں نفس ثواب القاری کہاں تھا۔
(میں پھر اللہ تعالٰی کی مدد سے کہتاہوں ۔ت) یہاں تحقیق امر ا ور ہے جو شبہ کو راساً ختم کردے۔ جب نظر عامہ اہل ظاہر پر شے واحد کا دو شخصوں کو بلاتقسیم وصول عقلاً ممتنع ہے یعنی عرض واحد دومحل سے قائم نہیں ہوسکے (ورنہ اس تعبیر میں تو صریح منع ہے) تو واجب کہ حنفیہ کے نزدیک جب نفس ثواب قاری میّت کو پہنچے قاری کے پاس نہ رہے، ورنہ یہ بھی عرض واحد کا دو محل سے قیام ہوگا حالانکہ احادیث وحنفیہ وسائر علماء کرام خلاف پر تصریح فرماہیں،
محیط پھر تاتار خانیہ پھر ردالمحتار میں ہے :
الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المومنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولا ینقص من اجرہ شیئ ۱؎ ۔
صدقہ نفل کرنے والے کے لیے بہتر یہ ہے کہ تمام مومنین و مومنات کی نیت کرے کہ وہ سب کو پہنچے گا او راس ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا (ت)تو جب وہی ثواب اس کے پاس بھی رہا اورد وسرے کو بھی پہنچا اور تقسیم نہ ہوا کہ لاینقص من اجرہ شیئ اس کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوا، تقسیم ہوتا تو قطعاً کم ہوتا، توا گر دوسو یا لاکھ یا سب اولین وآخرین مومنین ومومنات کے وہی ثواب پورا پورا پہنچے اور تقسیم نہ ہو کیااستحالہ ہے، جیسے دو ویسے کروڑہا کروڑ۔
(۱؎ ردالمحتار مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۰۵)
امام جلال الملۃ والدین سیوطی زہر الربٰی شرح سنن نسائی میں نقل فرما تے ہیں:
ان للروح شانا اخرفیکون فی الرفیق الاعلی وھی متصلۃ بالبدن بحیث اذاسلم المسلم علی صاحبہ ردعلیہ السلام وھی فی مکانھا ھناک وھذا جبریل علیہ السلام راہ النبی صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولہ ستمائۃ جناح منھا جناحان سدا الافق وکان ید نو من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی یضع رکبتیہ الی رکبتیہ ویدیہ علی فخذیہ وقلوب المخلصین تتسع للایمان بانہ من الممکن انہ کان ھذا الدنو وھو فی مستقرہ من السمٰوٰت، وھذا محمل تنزلہ تعالٰی الٰی سماء الدنیا ودنوہ عشیۃ عرفۃ ونحوہ فھو منزہ عن الحرکۃ والانتقال وانما یأتی الغلط ھھنا من قیاس الغائب علی الشاھدفیعتقد ان الروح من جنس مایعھد من الاجسام التی اذا شغلت مکانا لم یمکن ان تکون فی غیرہ وھذا غلط محض، فثبت بھذا انہ لا منافاۃ بین کون الروح فی علیین او الجنۃ اوالسماء وان لھا بالبدن اتصالا بحیث تدرک وتسمع وتصلی وتقرء بھا وانما یستغرب ھذالکون الشاھد الدنیوی لیس فیہ مایشاھد بہ ھذا وامور البرزخ والاٰخرۃ علٰی نمط غیر المالوف فی الدنیا ۱؎ اھ مختصراً۔
روح کی شان ہی کچھ اورہے وہ ملاء اعلٰی میں رہ کر بھی بدن سے متصل ہوتی ہے کہ جب مسلمان صاحب قبر کو سلام کرتاہے تو وہ اسے جواب دیتاہے جبکہ روح وہاں اپنے مقام میں ہے___ یہ حضرت جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام ہیں جنھیں نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس حالت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پَر ہیں جن میں سے دو پر پورے افق پر چھائے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قریب آتے ہیں یہاں تک کہ اپنے زانو حضور کے زانوؤں کے متصل اور اپنے ہاتھ حضور کی رانوں پر رکھ دیتے ، مخلصین کے قلوب اس بات پر ایمان لانے کی وسعت رکھتے ہیں کہ یہ امر ممکن ہے کہ ان کا حضور سے یہ قرب عین اسی حالت میں ہو جب وہ آسمانوں کے اندر اپنے مستقر میں موجود ہوں۔ یہی حال اس کا بھی ہے جو مروی ہے کہ رب تعالٰی آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور قریب ہوتا ہے عرفہ کی شام کو اور اس کے مثل ، کیونکہ وہ تو حرکت وانتقال سے منزّہ ہے۔ یہاں غلطی غائب کو شاہد پر قیاس کرنے سے ہوتی ہے۔ آدمی یہ اعتقاد کرتاہے کہ روح بھی معہود اجسام کی جنس سے ہے کہ جب ایک مقام میں ہو تو دوسرے مقام میں ہونا ممکن نہیں، یہ محض غلط ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس میں کوئی منافات نہیں کہ روح علیین ا ور جنت اور آسمان میں ہو اور بدن سے بھی اس کا ایسا اتصال ہو کہ ادراک، سماعت، نماز، قرأت سارے کام کرتی ہے۔
یہ بات صرف اس لیے عجیب معلوم ہوتی ہے کہ دنیاوی محسوسات میں ایسی کوئی چیز نہیں پاتے جو اس سے ملتی جلتی ہو مگر برزخ اور آخرت کے معاملات تو دنیا کے طرز مالوف سے جداگانہ شان رکھتے ہیں اھ مختصراً (ت)
(۱؎ زہرالربی علی ھامش سنن النسائی ارواح المومنین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/۲۹۲)