مسئلہ ۲۳۶ تا ۲۳۹:از شہر کہنہ محلہ کوٹ مرسلہ محمود علی صاحب بنگالی ۲ صفر المظفر ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین وفضلائے شریعت امین ان مسئلوں میں :
اول یہ کسی شخص نے ایک کلام مجید تلاوت کر کے ختم کیا ور اس کا ثواب پندرہ شخصوں کی ارواح کو للہ بخشا ان روحوں میں تقسیم ہوجائے گا یعنی فی روح دوپارے پہنچے گا یا فی روح کو پورے کلام مجید کا ثواب پہنچے گا؟
اور نتیجہ ا س کا دنیا میں ملے گا یا عقبٰی میں؟
دوسرے یہ کہ ثواب کس طرح کہہ کر پہنچائے؟
تیسرے یہ کہ حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی آلہٖ واصحابہٖ واہل بیتہٖ وسلم کو ثواب پہنچائے تو اس کی شمول میں اور ارواح بھی شامل کرسکتا ہے یا نہیں، اور پچھلے اولیاء اور انبیاء کا نام بھی لیا جائے یا نہیں؟
چوتھے یہ کہ دنیا میں کیا فائدہ او رعقبی میں کیا بدل حاصل ہوگا؟ بینو توجروا
الجواب
اللہ عزوجل کے فضل سے امید ہے کہ ہر شخص کو پورے کلام مجید کا ثواب پہنچے گا۔ ردالمحتار میں ہے:
سئل ابن حجرمکی عمالو قرأ لاھل المقبرۃ الفاتحۃ ھل یقسم الثواب بینھم اویصل لکل منھم مثل ثواب ذلک کاملا فاجاب بانہ افتی جمع بالثانی وھو اللائق بسعۃ الفضل ۱؎ ۔
امام ابن حجر مکی سے سوال ہوا: اگر قبرستان والوں کے لیے فاتحہ پڑھی تو ثواب ان کے درمیان تقسیم ہوگا یا ہر ایک کو اسی کے مثل پورا پوراثواب ملے گا؟۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایک جماعت علماء نے دوسری صورت پر فتوٰی دیا ہے اور۳ وہی فضل الہٰی کی وسعت کے لائق ہے ۔(ت)
ا س مسئلہ کی پوری تحقیق فتاوٰی فقیر میں ہے۔ نتیجہ ملنا اللہ سبحٰنہ، وتعالٰی کے اختیار میں ہے مسلمانوں کو نفع رسانی سے اللہ عزوجل کی رضا و رحمت ملتی ہے او راس کی رحمت دونوں جہان کا کام بنادیتی ہے۔ آدمی کو اللہ کے کلام میں اللہ کی نیت چاہئے۔ دنیا اس سے مقصود رکھنا حماقت ہے۔ دعا کرے کہ الہٰی! یہ جو میں نے پڑھا اس کا ثواب فلاں شخص یا فلاں فلاں اشخاص کو پہنچا، اور افضل یہ ہے کہ تمام مسلمین ومسلمات کو پہنچائے۔ مسلک متقسط میں ہے :
یقرأ ماتیسرلہ من الفاتحہ والاخلاص سبعا اوثلثا ثم یقول اللھم اوصل ثواب ماقرأ الٰی فلان او الیھم ۲؎ ۔
جو میسر آئے پڑھے سورہ فاتحہ، سورہ اخلاص سات بار یا تین بار۔ پھر کہے: اے اللہ! ہم نے جو پڑھا ا س کا ثواب فلاں کو یاان سب کو پہنچا۔ (ت)
(۲؎ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط مع ارشاد الساری فصل یستحب زیارۃ اہل المعلی دارالکتاب العربیہ بیروت ص۳۳۴)
محیط و تتارخانیہ وشامی میں ہے :
الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولا ینقص من اجرہ شیئ ۱؎ ۔
جو کوئی نفل صدقہ کرے اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ تمام مومنین ومومنات کی نیت کرے اس لیے کہ وہ ان سب کو ملے گا اور اس کے اجر سے کچھ نہ گھٹے گا ۔(ت)
حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے طفیل میں تمام انبیاء واولیاء ومومنین ومومنات جو گزرگئے اور جو موجود ہیں اور جو قیامت تک آنے والے ہیں سب کو شامل کرسکتا ہے اور یہی افضل ہے۔
صحیحین میں ہے :
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ضحٰی بکبشین املحین احدھما عن نفسہ والاخر عن امتہ ۲؎۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی ، جن کے رنگ سفیدی سیاہی ملے ہوئے تھے، قربانی کی، ایک کی اپنی طرف سے ، دوسرے کی اپنی امت کی طرف سے
(۲؎ فتح القدیر بحوالہ الصحیحین عن الحج عن الغیر نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۶۵)
(مجمع الزوائد باب اضحیۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتاب بیروت ۴ /۲۲)
وزادا بن ماجۃ ذبح احدھما عن امتہ لمن شھد ﷲ بالتوحید وشھد لہ بالبلاغ وذبح الاخر عن محمد واٰل محمد ۳؎
ابن ماجہ میں یہ اضافہ ہے: ایک اپنی امت کی طرف سے قربان کیا ہر اس شخص کی طرف سے جس نے کلمہ طیبہ کی شہادت کی اور حضور اکرم کے لیے تبلیغ رسالت کی گواہی دی ور دوسرا حضرت محمد اور آلِ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نام سے ذبح کیا
(۳؎ سنن ابن ماجہ ا بواب الاضاحی باب اضاحی رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۲)
ولاحمد وغیرہ عن ابی ھریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قولہ عند التضحیۃ اللھم لک ومنک عن محمد وامتہ ۴؎ ۔
امام احمد وغیرہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں کہ قربانی کے وقت حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یوں کہا تھا: اے اللہ! تیرے لیے اورتجھ سے، یہ محمد اور اس کی امّت کی جانب سے ہے۔ (ت)
(۴سنن ابن ماجہ ا بواب الاضاحی باب اضاحی رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳)
بحرالرائق میں ہے:
لافرق بین ان یکون المجعول لہ میّتا اوحیا ۱؎۔
اس میں کوئی فرق نہیں کہ جس دوسرے کے لیے اپنا ثواب ہدیہ کرے وہ وفات پاچکا ہو یا زندہ ہو۔ (ت)
(۱؎ بحرالرائق باب الحج عن الغیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۵۹)
جو کچھ اللہ چاہے
قال اللہ تعالٰی:
ومن یرد ثواب الدنیا نؤتہ منھا ومن یرد ثواب الاٰخرۃ نؤتہ منھا وسنجزی الشکرین ۲22؎ ۔
جو کوئی دنیا کا عوض چاہے ہم اسے اس میں سے دیں گے اور جو آخرت کا ثواب چاہے ہم اسے اس میں سے عطافرمائیں گے او رقریب ہے کہ ہم شکر کرنے والوں کو جزا بخشیں۔
(۲؎ القرآن ۳ /۱۴۵)
اور فرماتا ہے عزوجل:
من کان یرید العاجلۃ عجّلنا لہ فیھا مانشاء لمن یرید ثم جعلنا لہ جھنم یصلیہا مذموما مدحورا ومن ارادا الاٰخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مؤمن فاولئک کان سعیھم مشکورا ۳؎ ۔
جو دنیا چاہے ہم اس میں سے جتنا چاہیں یہاں دے دیں، پھر اس کے لیے جہنم رکھیں اس میں بیٹھے مذمتیں ہوتا، دھکّے دیاجاتا، اور جو آخرت چاہے اس کی سی کوشش کرے اورہو مسلمان ، تو ایسے ہی لوگوں کی کو شش ٹھکانے لگتی ہے۔