اقول وباﷲ التوفیق علماء کہ سب کو ثواب کامل ملے گا، اس قولِ ابن قیم پر بچند وجہ مرجح ہے :
اولاً ابن قیم بد مذہب ہے، تواس کا قول علمائے اہلسنت کے مقابل معتبر نہیں۔
ثانیاً وہ اسی کا قول ہے اور یہ یک جماعت کا فتوٰی
والعمل بما علیہ الاکثر
(اور عمل اس پر ہوتا ہے جس پر اکثر ہوں ۔ت)
ثالثاً وھو الطراز المعلم
(اور وہی نقش بانگارہے، یعنی زیادہ مضبوط جواب ہے۔ ت) ثواب واحدہ کا سب پر منقسم ہونا ایک ظاہری بات ہے جسے آدمی بنظرِ ظاہر اپنی رائے سے کہہ سکتا ہے۔ عالم شہود میں یونہی دیکھتے ہیں، ایک چیز دس کو دیجئے توسب کو پوری نہ ملے گا ہر ایک کو ٹکڑا ٹکڑا پہنچے گا۔ غالباً اس ظاہری نے اسی ظاہری بات پر نظر اور معقول پر محسوس کو قیاس کرکے تقسیم کا حکم دے دیا۔ نہ کہ حدیث سے اس پر دلیل پائی ہو بخلاف اس حکم کمال کے کہ اگر کروڑوں کو بخشو توہر ایک کو پورا ثواب ملے گا، ایسی بات بے سند شرعی اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتے توظاہر کہ جماعت اہل فتوٰی نے جب تک شرع مطہر سے دلیل نہ پائی ہر گز اس پر جزم نہ فرمایا بلکہ تصریح علماء سے ثابت کہ جوبات رائے سے نہ کہ سکیں وہ اگرچہ علماء کا ارشاد ہو حدیثِ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حکم میں سمجھا جائے گا۔ آخرجب یہ عالم متدین ہے اوربات میں رائے کو دخل نہیں تو لاجرم حدیث سے ثبوت ہوگی، امام علامہ قاضی عیاض نے سریج بن یونس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے نقل کیا کہ اللہ تعالٰی کے کچھ سیاح فرشتے یہں جن کے متعلق یہی حدیث ہے کہ جس گھر میں احمد یا محمد نام کوئی شخص ہو اس گھر کی زیارت کیا کریں۔ علامہ خفاجی مصری اس کی شرح نسیم الریاض میں فرماتے ہیں :
فھو ظاھر وان کان لسریج فھو فی حکم المرفوع لان مثلہ لایقال بالرای ۱؎ اھ ملخصا۔
یہ اگر چہ سریج کا قول ہے مگر وہ مرفوع کے حکم میں ہے اس لئے کہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جاتی اھ ملخصاً (ت)
(۱؎ نسیم الریاض الباب الثالث فصل الاول دارالفکر بیروت ۲ /۲۲۵)
یہ سریج نہ صحابی ہیں نہ تابعی نہ تبع تابعین میں ہے، بلکہ علمائے مابعد سے ہیں، بایں ہمہ علامہ خفا جی نے ان کے قولِ مذکور کو حدیث مرفوع کے حکم میں ٹھہرایا کہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جاتی، اسی طرح
مانحن فیہ
(زیر بحث مسئلہ ۔ت) میں بھی کہہ سکتے ہیں کہ علماء کا وہ فتوٰی بھی حدیث مرفوع کے حکم میں ہونا چاہئے،
ثم اقول وباﷲ التوفیق
( میں پھر اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ت) فقیر غفر اللہ تعالٰی لہ،نے خاص اس بات میں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے تین حدیثیں پائیں:
حدیث اول: امام ابوالقاسم اصبہانی کتاب الترغیب اورامام احمد بن الحسین بیہقی شعب الایمان میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من حج عن والد یہ بعد وفاتھما کتب اﷲ لہ عتقا من النار وکان للمحجوج عنہما اجر حجۃ تامۃ من غیر ان ینقص من اجورھما شیئ ۱؎۔
جو اپنے ماں باپ کی طرف سے ان کی وفات کے بعد حج کرے اللہ تعالٰی اس کے لیے دوزخ سے آزادی لکھے، او ران دونوں کے لئے پورے حج کا اجر بغیر اس کے کہ ان کے ثوابوں میں کچھ کمی ہو۔
(۱؎ شعب الایمان باب فی براالوالدین حدیث ۷۹۱۲ دارالمکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۲۰۵)
اگر ثواب نصف نصف ملتا تو اس آدھے میں سے کمی ہوجانے کا کیا احتمال تھا جس کی نفی فرمائی گئی۔ ہاں وہی اجر یہاں اجور ہوجائے۔ ہر ایک پور ا پورا بے کمی پائے، یہ خلاف عقل ظاہر تھا۔ تو اسی کا افادہ ضرور مفید واہم ہے۔
حدیث دوم: طبرانی اوسط میں اور ابن عساکر حضرت عبداللہ بن عمر ابن العاص رضی ﷲ تعالٰی عنہما سے روای، حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ماعلی احد کم اذا ارادان یتصدق اﷲ صدقۃ تطوعا ان یجعلھا عن والدیۃ اذاکانا مسلمین فیکون لوالدیہ اجرھا، ولہ مثل اجورھما بعد ان لا ینقص من اجورھما شیئ۲؎۔
یعنی جب تم میں سے کوئی شخص کسی صدقہ نافلہ کا ارادہ کرے تو اس کا کیا حرج ہے کہ وہ صدقہ اپنے ماں باپ کی نیت سے دے کہ انھیں اس کا جواب پہنچے گا اور اسے ان دونوں اجروں کے برابر ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے ثوابوں میں کچھ کمی ہو۔
(۲؎ الجامع الصغیر مع فیض القدیر بحوالہ ابن عساکر حدیث ۷۹۴۳ دارالمعرفۃ بیروت ۵ /۴۵۶)
ان دونوں حدیثوں میں اگر کچھ تشکیک کی جائے تو حدیث سوم گویا نص صریح جس نے بحمدہٖ تعالٰی اس امید کمال کو قوی کردیا ، اور فتوٰی علماء کی تاکید اکید فرمادی کہ ہر ایک کو کامل ثواب ملے گا۔ اما م دارقطنی اور ا بوعبداللہ ثقفی فوائد ثقفیات میں حضرت زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت فرماتے ہیں، حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا حج الرجل عن والدیہ تقبل منہ ومنہما، واستبشرت ارواحھما، وکتب عند اﷲ برا ۳؎۔
جب آدمی اپنے والدین کی طرف سے حج کرے وہ حج اس حج کرنے والے اور ماں باپ تینوں کی طرف سے قبول کیا جائے اور ان کی روحیں خوش ہوں، اور یہ اللہ تعالٰی کے نزدیک ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا نیکو کار لکھا جائے۔
(۳؎سن الدارقطنی کتاب الحج نشرت السنۃ ملتان ۲ /۲۶)
یہ لفظ دارقطنی کے ہیں، اور ثقفیات میں ان لفظوں سے ہے :
من حج عن ابویہ لم یحجا اجزاء عنہا وبشرت ارواحھما فی السماء وکتب عند اﷲ برا ۱ ۔
جس کے ماں باپ بے حج کئے مرگئے ہوں یہ ان کی طرف سے کرے وہ ان دونوں کا حج ہوجائے اور ان کی روحوں کو آسمان میں خوشخبری دی جائے اور یہ شخص اللہ تعالٰی کے نزدیک ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنیوالا لکھا جائے۔
(۱؎ فوائد ثقفیات لابی عبداللہ ثقفی)
ظاہر ہے کہ حج ایک عبادت ِ واحدہ ہے جس کا بعض کافی نہیں، نہ وہ کل سے مغنی ہو، بلکہ قابل اعتبار ہی نہیں، جیسے فجرکی دو رکعتوں سے ایک رکعت، یا صبح سے دوپہر تک کا روزہ، تو یہ حج کہ ان دونوں کی طرف سے کافی ہو، ضرور ہے کہ ہر ایک کی جانب سے پورا حج واقع ہو، مگر فقھ میں مبین ومبرہن ہولیا کہ یہ اجزاء بمعنی اسقاط فرض نہیں تولاجرم یہی معنی مقصود کہ دونوں کو کامل حج کاثواب ملے۔ محدّث جلیل امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی اس حدیث کی تفسیر فرماتے ہیں :
لااعلم احدا قال بظاھر من الاجزاء عنھا بحج واحدہ وھو محمول علی وقوعہ الاصل فرضا وللفرغ نقلا ۲؎ اھ نقلہ فی التیسیر مع التقریر والحمد اﷲ رب العٰلمین ھذا واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ، اتم واحکم۔
جہاں تک مجھے علم ہے کوئی ا س کے ظاہر کا قائل نہیں یعنی یہ کہ وہ ایک ہی حج دونوں کی طرف سے کافی ہوجائیگا۔ وہ اس پر محمول ہے کہ اصل کے لئے فرض اداہوگا اورفرع کے لیے نفل ہوگا اھ۔ اسے تیسیر میں نقل کیا اور برقرار رکھا۔ اور ساری خوبیاں اللہ کے لئے جو سارے جہانوں کے پروردگار ہے۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے اور اس رب بزرگ کا علم سب سے زیادہ کامل اور محکم ہے۔ (ت)
(۲؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث من حج عن ابیہ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض سعودیہ ۲ /۴۱۳)