مسئلہ ۲۳۰: از شہر محلہ ذخیرہ مسئولہ منشی شوکت علی صاحب محرر چنگی ۱۷ جمادی الآخر
کیا حکم ہے علمائے اہلسنت والجماعت کا اس مسئلہ میں کہ چنوں پرجو سویم کی فاتحہ کے قبل کلمہ طیبہ پڑھا جاتا ہے اس کے کھانے کو بعض شخص مکروہ جانتے ہیں او رکہتے ہیں کہ قلب سیاہ ہوتا ہے، آیا یہ صحیح ہے توان کوکیا کرناچاہئے؟ اسی طرح فاتحہ کو جو عام لوگوں کی ہوتی ہے کہتے ہیں ایک موضع میں ان سوم کے پڑھے ہوئے چنوں کومسلمان اپنا اپنا حصہ لے کر مشرک چماروں کو دے دیتے ہیں، وہاں یہی رواج ہمیشہ سے چلاآتا ہے۔ لہذا ان کلمہ طیبہ کے پڑھے ہوئے چنوں کو مشرک چماروں کو دینا جائز ہے یا نہیں؟ کیا یہ گناہ ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
یہ چیزیں غنی نہ لے۔ اور وہ جوان کا منتظر رہتاہے ان کے نہ ملنے سے ناخوش ہوتا ہے اس کا قلب سیاہ ہوتا ہے مشرک یا چمار کو اس کا دینا گناہ ، گناہ۔ فقیر لے کر خود کھائے اور غنی لے ہی نہیں، اور لے لئے ہوں تومسلمان فقیر کو دے دے۔ یہ حکم عام فاتحہ کا ہے، نیاز اولیائے کرام طعامِ موت نہیں وہ تبرک ہے فقیر وغنی سب لیں۔ جبکہ مانی ہوئی نذر بطور نذر شرعی نہ ہو، شرعی پھر غیر فقیرکو جائز نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۱: از قصبہ رچھاروڈ ـ ضلع بریلی مسئولہ حکیم محمد احسن ۹ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ سوم کے چنوں کا کھانا علاوہ چھوٹوں کے بڑوں کو بھی جائز ہے یا نہیں؟ بیّنوا توجروا
الجواب
یہ چنے فقراء ہی کھائیں، غنی کو نہ چاہئے بچہ یا بڑا، غنی بچوں کو ان کے والدین منع کریں، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۲: از بلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدان پورہ مرسلہ سید محمد تقی صاحب قادری ابوالحسینی ۲۶ صفر ۱۳۳۷ھ
اگرمردہ کو اس کا خویش واقارب خواب میں دیکھے تنہا یا اس کو کسی قسم کی چیز طلب کرتے ہوئے دیکھے توا یسی حالت میں مردہ کا فاتحہ کھانے پر دلانا جائز ہے یا نہیں؟ یاوہ چیز جو اس نے خواب میں طلب کی ہے وہ اس کے نام پر فاتحہ دلاکر خیرات کرناجائز ہے یا نہیں؟ اور فاتحہ کے وقت ہمراہ کھانے کے پانی کا رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
بہتر ہے کہ جو چیز طلب کی محتاج کواس کی طرف سے دی جائے او رکھانے پر فاتحہ اس کے سبب سے منع نہ ہوگی وہ بھی اور پانی رکھنے میں حرج نہیں۔ محتاج کو وہ کھانا کھلائیں اور پانی پلائیں سب کا ثواب پہنچے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۳: امانت علی شاہ قصبہ نواب گنج ضلع بریلی ۱۷ رمضان ۱۳۳۱ھ
مٹی کے چراغ میں گھی ڈال کر جلانا چاہئے یا نہیں؟ آٹے کے چراغ میں گھی ڈال کر جلا کرکھانا یا ملیدہ کے اوپر رکھ کر فاتحہ دینا چاہئے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
بلاضرورت گھی جلانا اسراف ہے اور اسراف حرام ہے۔ اور فاتحہ وقرآن خوانی اور درود خوانی کے لئے اگر چراغ کے قرب کی حاجت ہو اور اس خیا ل سے کہ تیل میں کھبی بد بوُ آتی ہے گھی سے چراغ روشن کرے اور اس لحاظ سے کہ استعمال چراغ صاف نہیں ہوتا او رکورے میں جلائیں توگھی پئے گا اور بےکار جائے گالہٰذا آٹے کا چراغ بنائیں کہ آٹے پئے توا س کی روٹی پک سکتی ہے، تواس میں حرج نہیں، مگریہ عادت کرلینی کہ بلا ضرورت بھی فاتحہ کے لیے گھی جلائیں وہی اسراف وحرام ہے ، اور وہ صورتِ جواز جو ہم نے لکھی اس میں بھی وہ چراغ کھانے کے اوپر نہ رکھا جائے بلکہ کھانے سے الگ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۴: از ریاست جاورہ مکان عبدالمجید خاں صاحب سہ راستہ دار بتاریخ ۱۸ /۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فاتحہ وغیرہ میں اکثر لوگ گھی کے چراغ، کپڑے ، جوتی وغیرہ رکھتے ہیں، یہ اشیاء رکھنا کیساہے؟ فقط
الجواب
کپڑا، جوتے یا جو چیز مسکین کو نفع دینے والی مسکین کی نیت سے رکھیں کوئی حرج نہیں ثواب ہے، مگر فاتحہ کے وقت گھی کا چراغ جلانافضول ہے، اور بعض اوقات داخلِ اسراف ہوگا، اس سے احتراز چاہئے، واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۵: مرزا باقی بیگ رام پوری ۱۶ محرم ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس فعل نیک کا ثواب چنداموات کو بخشا جائے وہ ان پر تقسیم ہوگا یا سب کو اس پورے فعل کا ثواب ملے گا؟ بینوا توجروا
الجواب
اللہ عزوجل کے کرمِ عمیم وفضل عظیم سے امید ہے کہ سب کو پورا پورا ثواب ملے گا، اگر چہ ایک آیت یا درود یا تہلیل کا ثواب آدم علیہ السلام سے قیامت تک کے تمام مومنین ومومنات احیا واموات کے لیے ہدیہ کرے، علمائے اہلسنت سے ایک جماعت نے اسی پر فتوٰی دیا۔ امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :وسعت فضل الٰہی کے لائق یہی ہے۔ علامہ شامی ردالمحتارمیں فرماتے ہیں :
سئل ابن حجر المکی عما لو قرأ لاھل المقبرۃ الفاتحۃ ھل یقسم الثواب بینھم اویصل لک منھم مثل ثواب ذلک کاملہ فاجاب بانہ فتی جمع بالثانی وھو اللائق بسعۃ الفضل ۱؎ اھ۔
حضرت ابن حجر مکی سے سوال ہوا اگر اہل مقبرہ کے لئے فاتحہ پڑھا توا ب ان کے درمیان تقسیم ہوگا یا ہرایک کو اس کا پور ا ثواب ملے گا؟ انھوں نے جواب دیا کہ جماعت نے دوسری صورت پر فتوٰی دیا ہے اور وہی فضل ربانی کی وسعت کے شایان ہے اھ (ت)
اورہر شخص کو افضل یہی کہ جو عمل صالح کرے اس کا ثواب اولین وآخرین احیاء واموات تمام مومنین ومومنات کے لیے ہدیہ بھیجے سب کو ثواب پہنچے گا اور اُسے اُن سب کے برابر اجرملے گا۔
فی ردالمحتار عن التاتارخانیۃ عن المحیط الافضل لمن یتصدق نفلہ ان ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولاینقص من اجرہ شیئ ۲؎ا ھ
ردالمحتار میں تارتار خانبیہ سے، اس میں محیط سے منقول ہے کہ جو کوئی نقل صدقہ کرے توبہتر یہ ہے کہ تمام مومنین ومومنات کی نیت کرے اس لیے کہ وہ سب کو پہنچے گا او راس کے اجر سے کچھ کم نہ ہوگا اھ (ت)
دارقطنی و طبرانی ودیلمی وسلفی امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مرعلی المقابر وقرأ قل ھو اﷲ احد احدی عشرۃ مرۃ ثم وھب اجرھا للاموات اعطی اعطی من الاجر بعد دالاموات ۳؎ ۔
جو مقابر پر گزرے اور قل ھواﷲ گیارہ بار پڑ ھ کر اس کا ثواب اموات کو بخشے بعدد تمام اموات کے ثواب پائے۔
(۳؎ فتح القدیر عن علی رضی اﷲ عنہ باب الحج عن الغیر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۶۵)
(کنز العمال رافعی عن علی حدیث ۴۲۵۹۶ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱۵ /۶۵۵)
(ردالمحتار عن علی مطلب فی اہدا الثواب الاعمال لغیر مصطفی البابی مصر ۲ /۲۵۷)
رہا ابن قیم ظاہری المذہب کا کتاب الروح میں تقسیم ثواب کو اختیار کرنا یعنی ایک ہی ثواب ان پر ٹکڑے ہو کر بٹ جائے گا