مسئلہ ۲۲۳: از رامپور پور گول بازار ممالک متوسط مرسلہ محمد سلیم خاں کتب فروش ۲ جمادی الاخرٰی ۱۳۳۰ھ
ایک شخص ہے وہ کہتا ہے کہ فاتحہ میں ثواب رسانی کے سلسلہ میں ایسا لفظ کہنا کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ارواح متبر کہ کوا س کا ثواب پہنچے۔ ایسا لفظ حضرت کی شان میں ارواح کا لفظ لانا بے ادبی میں داخل ہے۔ ارواح کا لفظ مت شامل کرو۔ ایسا مت کہو کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ارواح کو ثواب پہنچے ، آپ حیات النبی ہیں، فقط
الجواب
رُوح زندہ کے لیے بھی ہے بلکہ روح ہی سے زندگی ہے اور درود شریف کے صیغوں میں ہے :
اللھم صل علی روح سیدنا محمد فی الارواح
تو اصل لفظ کے کہنے میں کوئی حرج نہیں، مگر جہاں عوام سے یہ سمجھتے ہوں جیسے اس نیک پاکیزہ خیال نے سمجھے تو ضرور اس کہنے سے ان کو روکا جائے یایہ وہم ان کے دلوں سے نکال دیا جائے کہ ارواح کا اطلاق اموات ہی کے حق میں ہوتا ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور تمام انبیاءِ کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام حیقیقۃ ایسے ہی زندہ ہیں جیسے رونق افروزی دنیا کے زمانہ میں تھے، ان کی موت یک آن کے لئے تصدیق وعدہ الٰہیہ
کل نفس ذائقۃ الموت ۱؎
(ہر جاندار نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ت)
(۱؎ االقرآن ۲ /۱۸۵)
کے واسطے ہوتی ہے، پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ بحیات حقیقی جسمانی دنیاوی زندہ ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں، مجالس خیرمیں تشریف لے جاتے ہیں، کھانا پینا سب کچھ دنیا کی طرح بے کسی آلائش کے جاری ہیں
کما نطقت بہ الاحادیث وائمۃ القدیم والحدیث
(جیسا کہ اس بارے میں احادیث اورزمانہ قدیم وجدید کے ائمہ کے ارشادات موجود ہیں ۔ت)
واﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۲۴: از بہیرہ ضلع شاہ پور ، ملک پنچاب، ملتانی دوازہ، مسئولہ فضل حق صاحب چشتی ۵ رمضان ۱۳۳۹ھ
بخدمت جناب سلطان العلماء، المتبحرین، برہان الفضلاء، المتصدرین، کنز الہدایہ والیقین، شیخ الاسلام والمسلمین مولٰنا المفتی العلامۃ الشاہ محمد احمد رضا خاں صاحب مدظلہ العالی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گیارھویں شریف کس چیز پر دینی افضل ہے۔ چاول یا حلوہ وغیرہ اور کن کن لوگوں میں بانٹنی چاہئے؟ آپ بھی تبرک چکھنا چاہئے یا نہیں؟ اور کس پیر صاحب یا سید کو اس میں سے حصہ دینا یا نہیں؟ ایک مسجد میں چند ایک اصحاب مل کر گیارھویں پکاتے ہیں تو کیا وہ گیارھویں شریف پکی ہوئی، مسجد کے نمازیوں میں بانٹنی چاہئے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
نیاز کا ایسے کھانے پر ہونا بہتر ہے جس کا کوئی حصہ پھینکا نہ جائے، جیسے زردہ یا حلوا یاخشکہ، یا وہ پلاؤ جس میں سے ہڈیاں علیحدہ کر لی گئی ہوں، بانٹنے کا اختیار ہے، جس سنی مسلمان کو چاہے دے اگر غنی کو ہو اگر چہ سید ہو۔ اور خود بھی تبرک کھائے تو حرج نہیں۔ شاہ عبدالعزیز صاحب نے فتاوٰی میں لکھا ہے: نیاز کا کھانا تبر ک ہوجاتاہے، ہاں اگر شرعی منت مانی ہو توا س میں سے نہ خود کھا سکتا ہے نہ کسی غنی یا سید کو دے سکتاہے، وہ غیر ہاشمی فقرائے مسلمین کا حق ہے۔ اور بدمذہبوں خصوصاً وہابیوں رافضیوں کو دینا جائز نہیں، چندے والے جس نیت سے پکائیں اس میں صرف کریں، اگر خاص نمازیوں کے لئے پکائی ہے تو صرف انھیں کو دیں، اور سب کے لئے تو سب کو۔ ہاں کافر کو دینا جائز نہیں جیسے بھنگی، چمار، وہابی، رافضی، قادیانی۔ ہاں جس کی بدمذہبی حدِ کفر تک نہ پہنچے جیسے تفضیلہ، اسے دینے میں حرج نہیں، اور سنی کو دینا افضل ۔ حدیث میں ہے :
لایاکل طعامک الاتقی ۱؎۔ رواہ احمد وابوداؤد والترمذی وابن حبان والحاکم باسانید صحیحۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
تیرا کھانانہ کھائے مگر پر ہیز گار۔ (اسے امام احمد ، ابوداؤد، ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے صحیح سندوں سے بنی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ مسند احمد بن حنبل مروی از مسدن ابو سعید الحذری دارالفکر بیروت ۳ /۳۸)
مسئلہ ۲۲۵: از شہر محلہ گلاب نگر ۱۹ رجب ۱۳۲۷ھ
تبارک جو کیا جاتا ہے اس کی اصل کیاہے؟ اور کس شیئ پر ادا کیا جانا افضل ہے؟ جس شیئ پر پڑھا جائے وہ شیئ اگر کھانے کی ہے تو کس کو کھلانا بہتر زیادہ ہے؟ اس کا جو رواج ہے اس سے جناب خوب واقف ہیں اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔ بینوا توجروا
الجواب
تبارک کی اصل ایصال ثواب ہے جس کا حکم احادیث کثیرہ میں ہے اور خاص سورہ تبارک الذی شریف کی تخصیص اس لیے کی صحیح حدیثوں میں اسے عذاب قبر سے بچانے والی، نجات دینے والی فرمایا، جس شے پر کرتے ہیں محتاج کی حاجت روائی زیادہ ہو اس میں زیادہ ثواب ہیں، ایام قحط میں کھانے پرہونا زیادہ مناسب ہے۔ فقیر کے یہاں کھانے پر ہوتی ہے۔ کپڑے کے جوڑوں کھبی روپوں پر موافق حالت برادران مساکین مسلمین کے جو مناسب سمجھا گیا کیاجاتا ہے۔ کھاناہو یا کپڑے یا دامِ دنیا سب سے پہلے اپنے عزیزوں، قریبوں کا حق ہے جو حاجتمند ہوں، پھر ہمسایوں، پھر یتیم،بیوہ، مسکین مسلمانانِ اہل شہر کا، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۲۶ تا ۲۲۸: از اجمیر شریف کارخانہ کرتباں علاقہ نمبر ۳ لوہار خانہ مرسلہ جمال محمد ۴ جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ
(۱) مردہ کے ساتھ کھانا لے جانا حلال ہے یا حرام؟
(۲)گلاب قبر میں چھڑکنا جائز ہے یا ناجائز؟
(۳) اور قبر سے چالیس قدم جاکر دعا مانگنا؟
الجواب
(۱) مردہ کی طرف سے تصدق کرنا چاہئے او رساتھ لے جانا فضول ہے۔ اور علامہ طحطاوی نے اسے بدعت لکھاہے۔ وھو تعالٰی اعلم
(۲) قبر میں گلاب وقت دفن کے چھڑکنے میں حرج نہیں اور اوپر چھڑکنا فضول اور مال کا ضائع کرنا۔ وھو تعالٰی اعلم
(۳)دعا مانگنا ہر وقت جائز ہے اور چالیس قدم کی خصوصیت بلاوجہ۔ وھو تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۲۹: از کرتپور ضلع بجنور مرسلہ طفیل احمد صاحب بچڑابونی ۲۷ صفر المظفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں جو اطعام بہ نیت ایصال ثواب بروح مردگان تقسیم کیا جاتا ہے اس کو اغنیاء بھی کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ عام اموات مومنین کے لیے جوکھانا وغیرہ دیا جاتا ہے اس میں اور اس طعام میں جو انبیاء عظام اور اولیاء کرام کے ارواح کے لیے ہدیہ کیا جاتا ہے کچھ ذاتی فرق ہے یا نہیں؟ برکت وعدم برکت کے اعتبار سے دونوں حالتوں میں مصروف ایک ہوگا یعنی صرف فقراء کو دینا یا اغنیاء کے لیے بھی کھانا جائز ہوگا۔ فقط بینوا توجروا
الجواب
طعام تین قسم ہے: ایک وہ کہ عوام ایامِ موت میں بطور دعوت کرتے ہیں یہ ناجائز وممنوع ہے۔
لان الدعوۃ انما شرعت فی السرور لا فی الشرور ۱؎ کمافی فتح القدیر وغیرہ من کتب الصدور۔
اس لیے کہ دعوت کو شریعت نے خوشی میں رکھا ہے غمی میں نہیں، جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ کتبِ اکابر میں ہے ۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر فصل فی الدفن مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۰۲)
(مراقی الفلاح علٰی ھامش حاشیہ الطحطاوی فصل فی حملہا ودفنہا نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۳۹)
اغنیاء کو اس کاکھانا جائز نہیں۔
دوسرے وہ طعام کہ اپنے اموات کو ایصال ثواب کے لیے بہ نیت تصدق کیا جاتا ہے فقراء اس کے لیے احق ہیں، اغنیاء کو نہ چاہئے۔
تیسرے وہ طعام کہ نذور ارواح طیبہ حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کیاجاتا ہے اور فقراء واغنیاء سب کو بطور تبرک دیا جاتا ہے یہ سب کو بلاتکلف رواہے۔ او روہ ضرور باعث برکت ہے۔ برکت والوں کی طرف جو چیز نسبت کی جاتی ہے اس میں برکت آجاتی ہے۔ مسلمان اس کھانے کی تعظیم کرتے ہیں اور وہ اس میں مصیب ہیں، ائمہ دین نے بسندِصحیح روایت فرمایا کہ ایک مجلس سماع صوفیاء کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں نذر حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ایک بدرہ زر رکھا ہوا تھا، یہ حالت وجد میں ایک صاحب کا پاؤں اس سے لگ گیا فوراً رب العزت وعلانے ان کا حالِ ولایت سلب فرمالیا