| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز) |
ان ا بن عمر کان یعتمر عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عمرا بعد موتہ من غیر وصیۃ وحج ابن الموفق (رحمۃ اﷲ تعالٰی) وھوفی طبقۃ الجنید قدس سرہ) عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سبعین حجۃ وختم ابن السراج عنہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اکثر من عشر الاف ختمۃ وضحٰی عنہ مثل ذلک (نقلہ عن الامام ابن حجر المکی عنب الامام الاجل تقی الملۃ والدین السبکی رحمہا اﷲ تعالٰی ثم قال اعنی الشامی) احمد بن الشلبی شیخ صاحب البحر نقلا عن شرح الطیبۃ للنویری (رحمہم اﷲ تعالٰی ثم قال) وقول علمائنا لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ یدخل فیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہی احق بذٰلک حیث انقدنا من الضلالۃ ففی ذلک نوع شکر واسداء جمیل لہ والکامل قابل لزیادۃ الکمال ملخصا ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے وصا ل کے بعد بغیر کسی وصیت کے ان کی طرف سے عمرے کیا کرتے تھے، ابن موفق رحمہ اﷲ نے (جو حضرت جنید بغدادی قدس سرہ، کے طبقہ سے ہیں) حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے ستّر حج کیے، ابن سراج نے حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے دس ہزار ختم سے زیادہ پڑھے، اور اسی کے مثل سرکار کی جانب سے قربانی بھی کی۔ اسے امام ابن حجر مکی سے انھوں نے امام اجل تقی الملۃ والدین سبکی سے نقل کیا، رحمہما اﷲتعالٰی، آگے علامہ شامی نے لکھا : اسی جیسا مضمون مفتی حنفیہ شہاب الدین احمد الشلبی شیخ صاحب بحر کی قلمی تحریر میں نویری کی شرح طبیہ کے حوالے سے دیکھا رحمہم اﷲ۔ آگے علامہ شامی نے فرمایا ، اور ہمارے علماء کا یہ قول کہ انسان اپنے عمل کا ثواب دوسروں کے لیے کرسکتا ہے، اسی میں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھی داخل ہیں اسی لیے کہ وہ اس سے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ حضور ہی نے ہمیں گمراہی سے نکالاتو اس میں ایک طرح کی شکرگزاری اور حسن سلوک ہے او رصاحب کمال مزید کمال کے قابل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ردالمحتار مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۰۵ و ۶۰۶)
مسئلہ ۲۱۴: از موضع سرینا ضلع بریلی تحصیل بریلی مسئولہ عبدالکریم صاحب ۶۰صفر المظفر ۱۳۳۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید دریافت کرتا ہے کہ کفن میں تہبند ورومال ، سرمہ، کنگھی وغیرہ کم کرنا جائز ہے یا نہیں بلکہ ہو بہتر ہے۔ او ر ہر روز خوراک پہ میّت کے فاتحہ دکھانا او رہرجمعرات کو چند مسکین کو دعوت کرکے کھلانا اور چالیس یوم تک ہر روز فاتحہ دلانا اور جمعرات کو فقیروں کو کھلانا اور چالیسویں یوم کو گھڑے یا مٹکے میں پانی بھر کر اس پر چادر رکھتے ہیں، کچھ پکا کر فاتحہ دیتے ہیں او راس کو روح نکالنا مکان سے قرار دیتے ہیں اور جریس یعنی چاول میں شکر ڈال کر تقسیم کرتے ہیں، او رحلوہ روٹی بہ جریس برادری میں تقسیم کیاجاتا ہے اور شب برات وعرفہ تک اس میّت کی فاتحہ علیحدہ ہوتی ہے۔ بعد عرفہ شب برات کے یعنی شب برات کو شامل ہوتی ہے اوربرادری کو دعوت فاتحہ میّت میں شامل نہ کریں تو بہت بُرامانتے ہیں، یہ رسمیں جوناجائز ہوں وہ علیحدہ تحریر فرمائی جائیں۔
الجواب مرد کے لیے کفن کے تین کپڑے سنت ہیں اور عورت کے لیے پانچ۔ ان کے سوا کفن میں کوئی او ر تہبند یا رومال دینا بدعت وممنوع ہے۔ سُرمہ، کنگھی اگر فقیر کو بطور صدقہ دیں تو حرج نہیں اور کفن میںرکھناحرام ہے۔ ہر روز ایک خوراک پر میّت کی فاتحہ لاکر مسکین کودینا او رہر پنجشنبہ کی رات چند مساکین کو کھلانا، چالیس ، روز تک ایسا ہی کرنا اور ہوسکے تو سا ل بھر تک یا ہمیشہ کرنا یہ سب باتیں بہتر ہیں او را س طرح روح نکالنا محض جہالت و حماقت وبدعت ہے۔ ہاں فاتحہ دلانا اچھاہے، شکر ، چاول مساکین کو تقسیم کرنا خوب ہے مگر برادری میں موت کے لئے نہ بانٹا جائے، عرفہ تک یابعد تک اگر الگ ہمیشہ فاتحہ دیں تو حرج نہیں، شامل رکھیں تو حرج نہیں، یہ سمجھنا کہ عرفہ تک الگ کا حکم ہے پھر شامل کا، یہ غلط وجہالت ہے ، میّت کی دعوت برادری کے لیے منع ہے ان کا بُرا ماننا حماقت ہے، ہاں برادری میں جو فقیر ہو اسے دینا اور فقیر کے دینے سے افضل ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۱۵ تا ۲۱۶: از مراد آباد مدرسہ اہلسنت بازار دیوان مرسلہ مولوی عبدالودود صاحب قادری برکاتی بنگالی طالب علم مدرسہ مذکوہ ۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ (۱) گھر میں بیٹھ کر فاتحہ پڑھ کر ثواب رسانی کرنے سے زیادہ ثواب ہے یا قبرستان پر، اور فاتحہ پڑھنے کا وقت قبر پر پانی ڈالنا ۔ (۲) اکثر مساجد بنگال میں دستور ہے کہ محلہ والے جمعہ کے دن چاول روٹی کھانے کی چیزیں پکاکر فاتحہ کے واسطے اورنمازیوں کو تقسیم کرنے کے لیے مسجدوں میں بھیجا کرتے ہیں، ان اشیاء موصوفہ کو کھانمازیوں کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ او ران چیزوں کو مسجد کے اندر تقسیم کرنا چاہئے یا باہر؟ یا بالکل ممانعت کردی جائے او ر کہہ دیاجائے کہ مسجدوں میں نہ بھیجا کرو۔
الجواب (۱) قبرستان میں جاکے پڑھنے میں زیادہ ثواب ہے کہ زیارتِ قبور بھی سنت ہے او روہاں پڑھنے میں اموات کا دل بھی بہلتاہے۔ اور جہاں قرآن مجید پڑھا جائے رحمتِ الٰہی اترتی ہے۔ قبر اگر پختہ ہے اس پر پانی ڈالنا فضول وبے معنی ہے، یونہی اگر کچی ہے اور اس کی مٹی جمی ہوئی ہے۔ ہاں اگرکچی ہے اور مٹی منتشر ہے تو اس کے جم جانے کوپانی ڈالنے میں حرج نہیں، جیسا کہ ابتدائے دفن میں خود سنت ہے۔ (۲) بھیجنا جائز ہے۔ اور جبکہ بھیجنے والے عام نمازیوں کے لئے بھیجیں تو اغنیاء کوناجائز ہے۔ اور مسجد کے اندر کسی چیز کے کھانے کی غیر معتکف کو اجازت نہیں بلکہ مسجد سے باہر کھائیں، اسی کی تاکید کی جائے اور بھیجنے سے ممانعت نہ کی جائے، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۱۷ تا ۲۱۸: از باگ ضلع الچہرہ ریاست گوالیار مکان منشی اوصاف علی صاحب مرسلہ اشر ف علی صاحب پنشر ریاست کوٹہ ۱۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ (۱) کھانا پانی سامنے رکھ کر اور اس پر ہاتھ اٹھاکر فاتحہ دینا یہ طریقہ سنت ہے یاکیا؟ (۲) جو کھان بہ نیت خاص برائے ایصال ثواب خواہ بزرگان دین سے ہوں یا عام مسلمان، پکوایا جائے تو اس کھانے کو اغنیا کھا سکتے ہیں؟
الجواب (۱) کھانا پانی سامنے رکھ کرفاتحہ دینا جائز ہے۔ (۲) اغنیا بھی کھا سکتے ہیں سوا اس کھانے کے جوموت میں بطور دعوت کیا جائے وہ ممنوع و بدعت ہے۔ اور عام مسلمین کی فاتحہ چہلم، برسی، ششماہی کاکھانا بھی اغنیاء کو مناسب نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۱۹ تا ۲۲۲: از شہر کوٹہ راجپوتانہ محلہ لارڈ پورہ معرفت گانس بہرو مسئولہ الٰہی بخش صاحب ۱۸ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ (۱) حضرت مولانا صاحب! واقعات کو بغور ملا حظہ فرمائیں، مسجد کے پیش امام کو محلہ میں ایک جگہ پر فاتحہ و ایصال ثواب کو بلالے گئے، چند عورتیں تھیں، گھر کا دروازہ بند کر کے کہا بیوی صاحبہ کی فاتحہ پڑھ دو۔ ملاّں جی نے کہا کہ پردہ کرکے یا کپڑے سے بند کر کے دلانا، یہ عورتو ں کا مسئلہ ہے شریعت میں ایسا نہیں ہے، خیر کپـڑا ڈال دو مگر کھانا تو سامنے رکھو۔ خیر بند کرکے بھی کھانا سامنے نہیں رکھا گیا۔ تھوڑا سا دروازہ کھولا گیا، پردہ کردیا گیا، ملاّ ں جی نے فاتحہ پڑھ دی، عورتیں کہنے لگیں یہ تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تھی اب بیوی کی پڑھو اور اسی طرح سے علی کی پڑھ دینا، ملاّں جی ناراض ہو کر بولے کہ تم خلاف قاعدہ اور خلاف اصولِ شرع فاتحہ دلاتی ہو اس طرح سے میں نہیں دے سکتا میرے عقیدے میں خلل ہوتا ہے اور میں اپنا اسلام نہیں بیچ سکتا ہوں، یہ کہہ کر مکان پر چلے آئے۔ بعد میں ایک عورت نے ملاّں جی کو بہت سخت وسست کہاا ور لعن طعن کی۔ انھوں نے صبر کیا۔ دلی مطلوب ملاّں جی کا یہ تھا کہ سلف سے جو طریقہ فاتحہ خوانی اور ایصال ثواب کا چلا آتا ہے اور تمام بزرگان دین ایصال ثواب کرتے چلے آئے ہیں وہ بات ہونا چاہئے نئے نئے طریقے کیوں نکالتی ہو؟ جس پر اس عورت کے بعض عزیز بھی ملاّں جی پر ناراض ہوئے۔ یہ واقعات ہیں۔ (۲) یہ عورتیں حضرت بی بی فاطمہ خاتونِ جنت کی فاتحہ پردہ ڈال کر یا کپڑا ڈال کر امہات المومنین حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات اور جملہ پیغمبروں کی بیویوں سے علیحدہ دلاتی ہیں اور چند قیدیں لگاتی ہیں کہ سوائے شوہر والی بیوہ یا عقد ثانی والی یا مردیہ کھانا نہ کھائیں، آیا اس کا ثبوت کہیں شریعت سے بھی ہے یا کیا؟ جیسا ہو ویسا بحوالہ کتب تحریر فرمائیں۔ (۳) حضور کی نیاز یا صحابہ کی نیاز بھی پردہ کرکے یا کپڑا ڈال کر دلانے کا کہیں حکم ہے یا ویسے ہی لغو ہے؟ اور جو لوگ امام مسجد یا کوئی دوسرا شخص کسی کے کہنے سے اس کام کو نہ کرے کیا وہ مستحق لعن ہے؟ جیساہو ویسا حوالہ کتاب تحریر فرمائیں۔ (۴) یہاں پر اکثرشب برآءت یا عید بقرہ یا عید الفطر یا شادی بیاہ دیگر خوشی کے وقت دودھ روٹی یا تھوڑا تھوڑا کھانا الگ الگ رکھ فاتحہ دلاتی ہیں اور کہتی ہیں اس پر میرے دادا کی یا باپ کی یا فلاں کی دے دو،۔ شرع شریف میں یہ بات جائز ہے یا ناجائز؟
الجواب (۱) فاتحہ وایصال ثواب کے لیے کھانے کا پیش نظر ہونا کچھ ضرور نہیں، یہ اس پیش امام کی غلطی تھی، اور حضرت خاتون جنت کی نیاز کا کھانا پردے میں رکھنا اور مردوں کو نہ کھانے دینا یہ عورتوں کی جہالتیں ہیں انھیں اس سے باز رکھا جائے پیش امام اور عورتیں دونوں اپنی اپنی غلطی سے توبہ کریں اور جس عورت نے پیش امام کو سخت وسست کہا وہ اس سے معافی مانگے۔ (۲) یہ محض بے ثبوت اور نری اختراعی باتیں ہیں ، مردوں پر لازم ہے کہ ان غلط خیالوں کو مٹائیں۔ (۳) کسی نیاز پر پردہ ڈالنے کا کہیں حکم نہیں اور جو امام ایسا نہ کرے ا س نے اچھا کیا۔ اس وجہ سے اس پرلعن سخت حرام ہے، ایسی لعنت خود لعنت کرنے والے پر پلٹتی ہے۔ (۴) ایک جگہ سب کی فاتحہ دلائیں تو جائز ، اور جدا جدا دلائیں تو جائز ، جیسے حیات دنیا میں،
لاجناح علیکم ان تأکلوا جمیعا او اشتاتا ۱؎
( تم پر حرج نہیں کہ مل کر کھاؤ یا جدا جدا ۔ ت) وا ﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ القرآن ۲۴ /۶۱)