Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
145 - 243
مسئلہ ۲۱۰: از حب والہ ضلع بجنور تحصیل دھانپور مرسلہ منظور صاحب ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میّت کا تیجہ ، دسواں، بیسواں، چالیسواں متعین کر کے کرنا جائز ہے یا نہیں؟ میں نے ایک اشتہار میں جوآپ کی جانب سے تھا اور مشتہر اس کے لعل خاں تھے ، دیکھا تھا کہ دسواں بیسواں متعین کرکے کرنا او رمیلاد مروجہ بہتر نہیں ۔ الفاظ اس کے بعینہٖ مجھے یاد نہیں۔
الجواب

اموات کو ایصال ثواب قطعاً مستحب۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۳؂۔
جو اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکے تو چاہیے کہ اسے نفع پہنچائے۔(ت)
 (۳؎ صحیح مسلم    باب استحباب الرقیۃ من العین الخ    نور محمد اصح المطا بع کراچی    ۲ /۲۲۴)
اور یہ تعینات عرفیہ ہیں، ان میں اصلاً حرج نہیں جبکہ انھیں شرعاً لازم نہ جانے، یہ نہ سمجھے کہ انہی دنوں ثواب پہنچے گا آگے پیچھے نہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فر ماتے ہیں:
صوم یوم السبت لالک ولاعلیک ۱؎
 (روز شنبہ کا روزہ نہ تیرے لیے، نہ تیرے اوپر۔ ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    حدیث امرأۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا    دارالفکر بیروت    ۶ /۳۶۸)
میرے فتاوٰی ورسائل مجلس مبارک کے استحباب ا وران اشیاء کے جوا سے مالامال ہیں، حامیِ سنت حاجی لعل خاں نے کوئی اشتہار اس مضمون کا نہ دیا۔ وہابیہ کا کوئی افتراء آپ کی نظر پڑا ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۱۱: از شہر بازار بانس منڈی معرفت عبدالحکیم طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۲۷ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص گیارھویں شریف کومنع کرے اور اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ اور گیارھویں شریف کا کرنا سنت ہے یا مستحب؟ا گر ستنت ہے تو زائد ہے یاموکد؟ا ور سنت سے کو ن سی سنت مراد ہوگا؟ آیا سنتِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا سنتِ صحابہ رضوان علیہم اجمعین؟ اور جیسے گیارھویں شریف کو ہم لوگ گیارہ تاریخ میں ضرور سمجھتے ہیں، یہ سمجھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگرگیارہ تاریخ کے بجائے بارہ یا تیرہ کو کرے توہوگی یا نہیں؟ اور ایسے ہی تیجے کو یا چہلم کو ایک دن یا دو دن آگے پیچھے کریں تو کرسکتے ہیں یانہیں؟ اگر نہیں توجیسے ہم لوگ کرتے ہیں کہ تیسری کو تیجا اور گیارہ تاریخ کو گیارھویں اور چہلم کو چہلم کر نا ضروری ہے یا نہیں؟ اور بتاسے اور ریوڑی وغیرہ سامنے لانے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اور بجز لانے کے نیاز ہوسکتی ہے یا نہیں؟ا ور چند سورہ جو مروجہ ہیں ان کے علاوہ او رکوئی سورہ شریف پڑھ کر فاتحہ ونیازہوسکتی ہے یانہیں؟
بیّنوا بالدلیل توجروا عندالجلیل باجر جزیل۔
الجواب

یہاں گیارھویں شریف کو منع کرنے والے نہیں مگر وہابی یا رافضی، اور دونوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ گیارھویں شریف اپنے مرتبہ فردیت میں مستحب ہے، اور مرتبہ اطلاق میں کہ ایصال ثواب سنت ہے، او رسنت سے مراد سنتِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔ اور یہ سنت قولیہ مستحبہ ہے۔ یہ "ہم لوگ" کہنا اپنی تہ میں وہابیت کا فریب رکھتا ہے، سنیوں میں کوئی  اسے خاص گیارھویں تاریخ ہونا شرعاًواجب نہیں جانتا، ور جوجانے محض غلطی پر ہے۔ ایصال ثواب ہر دن ممکن ہے او کسی خصوصیت کے سبب ایک تاریخ کا التزام جبکہ ایسے شرعاً واجب نہ جانے مضائقہ نہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہرپیر کو نفلی روزہ رکھتے کیا اتوار یا منگل کو رکھتے تو نہ ہوتا، یا اس سے یہ سمجھا گیا کہ معاذاﷲ حضورنے پیر کا روزہ واجب سمجھا؟ یہی حال تیجے او ر چہلم کا ہے۔ روٹی کھاتے وقت روٹی کو سامنے لانے کی ضرورت نہیں، پیٹھ کے پیچھے بھی رکھ کر کھا سکتے ہیں او رسر پررکھ کر بھی توڑسکتے ہیں مگروہابیہ بھی التزاماً سامنے ہی رکھ کر کھاتے ہیں کیا شرعاً فرض واجب ہے ؟ وہابیہ کے نزدیک جو واجب نہ ہو ا س کے التزام سے شیطان کا حصہ آجاتا ہے۔ توثابت ہوا کہ وہابیہ شیطان کا حصہ کھاتے ہیں، ایصال ثواب میں کوئی سورہ شرعاً معیّن نہیں، اوربلا اعتقاد وجوب معین کرنے میں حرج نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۱۲: از پیلی بھیت محلہ پکر یا متصل سٹی ڈاکخانہ مسئولہ ملاّ لطیف احمدسوداگر لکڑی ۲۷صفر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آٹا جو روزمرہ پکانے کونکالا جاتا ہے اس میں سے ایک چٹکی نکال کر جمع کی جائے، جب تین تیس دین مہینے کے پورے ہوجائیں اور گیارھویں شریف کا دن آئے تو اس آٹے جمع کئے ہوئے پر گیارھویں شریف کی فاتحہ درست ہے یا نہیں؟ او ر روز مرہ ایک چٹکی آٹا برائے فاتحہ گیارھویں شریف جائز ہے یا نہیں؟ اگر روز مرہ چٹکی نکالناجائز ہے تودوسرا طریقہ کون ساہے؟ بینوا توجروا

الجواب

یہ طریقہ بہت برکت کا باعث ہے اوراس میں آسانی رہتی ہے، روز کے آٹے میں سے ایک چٹکی نکالنا معلوم بھی نہیں ہوتا اور وہ مہینہ بھر بعد ایک مقدار معتدبہ ہوجاتا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۱۳: از موضع گہر کھالی تھانہ منگنڈوا بازار ہانچورانہ ضلع ارکان عرف اکباب مسئولہ مولوی ابوالحسن صاحب ۲۸ جمادی الآخر ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید مسلم صالح کا انتقال بروز جمعہ بوقت صبح ہوا۔ اب زید کے واسطے قبل نماز جمعہ تسبیح وتہلیل وختم قرآن مجید پڑھ کر ایصا ل ثواب جائزہے یا نہیں؟ برتقدیر اول جب زید قبر کے عذاب سے محفوظ ہے پھر ایصال وثواب کی کیا ضرورت، بناءً علیہ بعض علماء ان امور مذکورہ کو جائز مانتے ہیں، اب قول فیصل کیا ہے؟ بینوا جروا
الجواب

جائز ہے، جبکہ میّت کی تجہیز وتکفین میں اس کے باعث تاخیرنہ ہو، اس کا اہتمام اور لوگ کرتے ہوں نہ اس کے سبب ان پڑھنے والوں کو جمعہ میں تاخیر ہوجائے، اس کے اہتمام کاوقت انے سے پہلے فارغ ہوجائیں ۔ا ب یہ نفع بلاضرورت اور اس حدیث صحیح کو عموم میں داخل ہے کہ:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلیفعل ۱؎ رواہ مسلم عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جو اپنے بھائی کو فائدہ پہنچاسکتا ہو تو چاہئے کہ اسے فائدہ پہنچائے، اسے امام مسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم    کتاب السلام    باب استحباب الرقیۃ من العین الخ    نور محمد اصح المطابع کراچی    ۲ /۲۲۳)
یہ خیال کہ جب ہو حکم حدیث ان شاء اللہ العزیز فتنہ قبرسے مامون ہے کہ اس مسلم کی موت روز جمعہ واقع ہوئی خصوصاً وہ خودہی صالحین سے تھا تواب ایصال ثواب کی کیا حاجت، محض غلط اور بے معنی ہے۔ ایصال ثواب جس طرح منعِ عذاب عقاب میں باذن اللہ تعالٰی کام دیتا ہے یونہی رفعِ درجات وزیادت حسنات میں اور حق سبحانہ وتعالٰی کے فضل اور اس کی زیادت وبرکت سے کوئی غنی نہیں۔
قال تعالٰی للذین احسنوا الحسنٰی وزیادۃ ۱؎ ۔
اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے: نیکوکاروں کے لیے بھلائی ہے اور مزید بھی ہے ۔(ت)
(۱؎ القرآن    ۱۰ /۲۶)
سید نا ایوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کی مولٰی جلا وعلانے اموال عظیمہ عطافرمائے تھے، ایک روز نہارہے تھے کہ اسمان سے سونے کی ٹیریاں برسیں، ایوب علیہ الصلٰوۃ والسلام چادر میں بھرنے لگے، رب عزوجل نے ندا فرمائی:
یا ایوب الم اکن اغنیک عماتری
اے ایوب! جو تمھارے پیشِ نظر ہے کیا میں نے تمھیں اس سے بے پروا نہ کیا تھا؟ عرض کی:
بلٰی وعزتکی ولکن لا غنی عن برکتک ۲؎
ضرو غنی کیا تھا تیری عزت کی قسم مگر مجھے تیری برکت سے توبے نیازی نہیں
رواہ البخاری واحمد والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ
(اسے امام بخاری وامام احمد ونسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے ۔ت)
 (۲؎ صحیح البخاری    کتاب الابنبیائ    باب قول اللہ عزوج وایوب الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۴۸۰)

(درمنشور بحوالہ احم وبخاری وبہیقی         آیہ وایوبیہ اذنادٰی ربہ    مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران    ۴ /۳۳۰)
جب حق جل وعلا کی دینوی برکت سے بندہ کوغنا نہیں تو اس کی دینی برکت سے کون بے نیاز ہوسکتا ہے۔ صلحاء تو صلحا خود امام اعاظم اولیاء بلکہ حضرات انبیاء خود حضور پر نور نبی الانبیاء علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ایصال ثواب زمانہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے اب تک معمول ہے حالانکہ انبیاء کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام قطعاً معصوم ہیں تو موتِ جمعہ یا صلاح کیا مانع ہوسکتی ہے۔
Flag Counter