Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
144 - 243
مسئلہ ۲۰۵: از سہسوان ضلع بدایوں مسئولہ سید پرورش علی صاحب یکم ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقابر میں ایک شخص سورہ اخلاص وفاتحہ ومعوذتین وغیرہ پڑھ کر ہاتھ اٹھا کر دعا کرتاہے : یا اللہ! ان آیات کا ثواب مقدس حضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور صحابہ تابعین او راولیائے امت اورآدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اس وقت تک جو مسلمان مرے ہیں او رجویہاں مدفون ہیں سب کی ارواح کو پہنچے یا پہنچادے، اس کی اصلاح فرمائی جائے۔
الجواب

اس میں اتنا او راضافہ کرنا انسب ہے کہ جتنے مسلمان مردوعورت اب موجود ہیں اور جتنے قیامت تک آنے والے ہیں، ان سب کی روح کو پہنچادے اسے تمام مومنین ومومنات اولین وآخرین سب کی گنتی کے برابر ثواب ملے گا ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۰۶: از کانپور محلہ بوچڑ خانہ مسجد رنگیاں مرسلہ مولوی عبدالرحمن حبشانی طالبعلم مدرسہ فیض عام ۲۳ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
ماجو ابکم ایھا االعلماء رحمکم اﷲ تعالٰی
 ( اے علماء کرام رحمکم اﷲ تعالٰی! تمھارا کیا جواب ہے ۔ ت) اس مسئلہ میں کہ مُردہ کا نام لے کر فاتحہ بخش دینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب

ہاں۔
وقد حققناہ فی البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقہ فی المسلک المتقسط للملا علی القاری وعنہ نقل فی ردالمحتار یقرأ مایتسرلہ من الفاتحۃ والاخلاص سبعاً او ثلثاً ثم یقول اللھم اوصل ثواب ماقرأناہ الٰی فلان اوالیھم ۱؎ اھ ملخصاً وفی الشامیۃ ایضا صرح علماؤنا فی باب الحج عن الغیر بان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلٰوۃ او صوما او صدقۃ اوغیرھا کذا فی الھدایۃ۱؎ الخ واﷲ تعالٰی اعلم
اور ہم نے اس کی تحقیق البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ میں کی ہے۔ ملاّ قاری کی المسلک المتقسط میں ہے اور اس کے حوالے سے ردالمحتارمیں بھی نقل ہے کہ سورۃ فاتحہ ا ور سورہ اخلاص سات بار یا تین بار جس قدر میسر ہو پڑھے، پھر یہ کہے کہ اے اللہ! ہم نے جو پڑھا اس کا ثواب فلاں کو یاان سب کو پہنچادے اھ ملخصاً۔ شامی ہی میں یہ بھی ہے کہ ہمارے عماء نے باب الحج عن الغیر میں صراحت فرمائی ہےکہ انسان اپنے عمل کا ثواب دوسرے کے لیے کرسکتا ہے نمازہو یاروزہ یاصدقہ یا کچھ اور۔ ایسا ہی ہدایہ میں ہے الخ__اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے (ت)
 (۱؎ المسلک المقسط فی المنسک المقسط مع ارشاد الساری    فصل یستحب زیارۃ اھل المصلی    دارالکتاب العربیہ بیروت    ص۳۳۴)
مسئلہ ۲۰۷ تا ۲۰۹: از رائے بریلی مدرسہ رحمانیہ مرسلہ حافظ نیاز حسین صاحب ۱۷ شعبان ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

(۱) بوقت ایصال ثواب فلان بن فلان کہنے کی ضرورت ہوگی یا محض اس کا نام لیناکا فی ہوگا؟ اگر ولدیت کے اظہار کی ضرورت ہوگی او ر اس سے لاعلمی ہے توایصال ثواب کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟

(۲)بروز وفات جو کھانا اہل میّت کے یہاں بطریق بھاتی بھیجاجاتا ہے اس کو اہل میّت کے اعزاء قریب یاا عزاء پڑوسی خواہ مردہو ں یا عورت جو بعض مصروفیت تجہیز وتکفین رہتے ہیں اور بعض اگر چہ اپنے یہاں کھانا پکا کر کھا سکتے ہیں مگر عرفاً معیوب سمجھ کر محض بخیال ہمدردی اہل میّت اس کے شریک حال رہتے ہیں اس کھانے کو کھاسکتے ہیں یا نہیں؟ بصورت عدم جواز کھانا مکروہ ہوگا یا حرام؟

(۴) بروز سوم، دہم، چہلم، ششماہی وغیرہ کھانا بغرض ایصال ثواب پکاکر مساکین کو تقسیم کیا جاتا ہے ا س میں بقدر ضرورت اضافہ کرکے علاوہ مساکین کے دیگر اعزّہ واحباب کو کھلایا ا و راہل برادری میں تقسیم کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ بصورت جواز کتب فقہ کی اس عبارت کا کیا مطلب ہوگا:
التقریب للسرور لاللحزن
(تقریب خوشی کے لیے ہوتی ہے غمی کے لیے نہیں ۔ت) بصورت عدم جواز کھان اس کا مکروہ ہو گا یا حرام؟
الجواب

(۱) ایصال ثواب بذریعہ دعاہے اور دعا رب عزو جل سے۔ اور عزوجل بکل شیئ علیم ہے۔ وہ جانتا ہے کہ فلاں سے اس کی  مراد وہ شخص ہے ولدیت وغیرہ کی کوئی حاجت نہیں۔

(۲) پہلے دن صرف اتنا کھانا کہ میّت کے گھروالوں کو کافی ہے بھیجنا سنت ہے۔ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں نہ دوسرے دن بھیجنے کی اجازت، نہ اوروں کے واسطے بھیجا جائے نہ اوراس میں کھائیں،
وبیان ذلک فی فتاوٰنا
 (اور اس کابیان ہمارے فتاوٰی میں ہے ۔ت)
 (۱؎ ردالمحتار  مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ  داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۰۵)
 (۳) ایصال ثواب سنت ہے او رموت میں ضیافت ممنوع ۔ 

فتح القدیر وغیرہ میں ہے :
یکرہ اتخاذالضیافۃ من الطعام من اھل المیّت لانہ شرع فی السرور لافی الشرور وھی بدعۃ مستقبحۃ۔ روی الامام احمد وابن ماجۃ باسناد صحیح عن جریر بن عبداﷲ قال کنا نعد الاجتماع الٰی اھل المیّت وصنعھم الطعام من النیاحۃ ۱؎ ۔
اہل میّت کی طرف سے کھانے کی ضیافت تیار کرنی منع ہے کہ شرح نے ضیافت خوشی میں رکھی ہے نہ کہ غمی میں، اور یہ بدعتِ شنیعہ ہے۔ امام احمد اور ابن ماجہ بسند صحیح حضرت جریر بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں ہم گروہ صحابہ اہل میّت کے یہاں جمع ہونے اور کھانا تیار کرنے کو مردے کی نیاحت سے شمار کرتے تھے ۔(ت)
 (۱؎ فتح اکقدیر    فصلہ فی الدفن        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۱۰۳)
جب علماء نے اسے غیر مشروع وبدعتِ قبیحہ کہا تو اس کا کھانا بھی غیر مشروع و بدعت قبیحہ ہوا کہ معصیت پراعانت ہے اور معصیت پرا عانت گناہ۔
قال اﷲ تعالٰی ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان ۲؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے: گناہ او رزیادتی پرا یک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ القرآن        ۵ /۲)
Flag Counter