ثواب رسانی میں کہے کہ الٰہی! جو ثواب تونے مجھ کو عطا فرمایا وہ میری طر ف سے فلاں شخص کو پہنچادے غنی ہو یا فقیر ہو، اگرصرف فاتحہ دے گا تو اسی کا ثواب پہنچے گا او رصرف کھانا دے گا تو اسی کا، اور دونوں تو دونوں کا، اور ثواب پہنچانا صرف نیت ہی سے نہ ہو بلکہ اس کی دعا بھی ہو۔ یہ سوال کہ (اگر محتاج ایسے نہ ملیں جن پر شرائط محتاجِ شریعت ثابت ہوں) خلاف واقع ہے۔ وہ کون سی جگہ ہے جہاں محتاج نہیں۔حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایصال ثوا ب کے لیے حکم بھی دیا، او رصحا بہ نے ایصال ثواب کیا، او ر آج تک کے مسلمانوں کا اس پرا جماع رہا، تخصیصات عرفیہ جبکہ لازم شرعی نہ سمجھی جائیں خدانے مباح کی ہیں ۔ حدیث میں ہے : صوم یوم السبت لالک ولاعلیک ۱؎ (شنبہ کا روزہ نہ تیرے لیے زیادہ نافع نہ کچھ مضر ۔ ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل حدیث امرأۃ رضی اﷲ عنہا دارالفکر بیروت ۶ /۳۶۸)
(۳) مزار اولیاء پر نفع رسانی زائرین حاضرین کے لیے شامیانہ کھڑا کرنا، یونہی ان کے نفع کو چراغ جلانا، اور عرس کہ منہاتِ شرعیہ سے خالی ہو اور شرینی پر ایصال ثوابِ۔ یہ سب جائز ہیں، اور نزد قبررکھنے کی ضرورت نہیں، نہ اس میں جرم جبکہ لازم نہ جا نے، چراغ کی تفصیل ہمارے رسالہ بریق المنار بشموعد المزارمیں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۹:ا ز شہر علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مسئولہ احمد سوداگر پارچہ بنارسی ۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
مُردہ کو جو پڑھ کر کلام مجید یا درود شریف یا کھانا مساکین کو کھلائیں یا کپڑا خیرات کریں تو اس کا ثواب مردہ کو پہنچتا ہے یانہیں اور وہ کس صور ت میں مردہ کو پہنچتا ہے ؟ ا ور مردہ کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کے فلاں شخص یا عزیز نے بھیجا ہے یا نہیں؟ معلوم ہوتا ہے اگر معلوم ہوتا ہے تو کس طریقہ سے؟ فقط
الجواب
مسلمان میّت کو جو ثواب پہنچایا جائے اسے پہنچتاہے اور اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جیسے حیات میں تحفہ بھیجنے سے اسے معلوم ہوتا ہے کہ میرے فلاں عزیز یا دوست یامسلمان نے بھیجا ہے۔ یہ سب مضامین احادیث میں وارد ہیں
بینھا الامام الجلیل الجلال السیوطی فی شرح الصدور
(ان کو امام جلیل الدین سیوطی نے شرح الـصدور میں بیان فرمایا ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۰۰: ا زشہرعلی گڑھ محلہ مدار دروازہ مسئولہ احمد سوداگ پارچہ بنارسی ۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
زید تین مرتبہ یٰس شریف او رایک مرتبہ سورہ فاتحہ، تین مرتبہ سورہ اخلاص او ر ایک سومرتبہ درود شریف او راس کے علاوہ جو کچھ ہوسکتا ہے پڑھ کر بخشتا ہے او ردعا اس کے واسطے مغفرت کے کرتا ہے وہ اس کوپہنچتاہے یا نہیں؟ اور یہ دعا او راس کاپڑھنا اس کی مغفرت کو کافی ہے یا نہیں؟ اگر کافی نہیں ہے تو موافق شرع شریف کے کوئی عمل یا دعا تحریر فرمائے تاکہ اس کے پڑھنے سے ہندہ کے مغفرت کو کافی ہو۔ فقط
الجواب
ثواب پہنچتا ہے او رمغفرت باختیار خدا ہے، قل ہو اللہ شریف گیارہ بار کرے اور سورہ ملک شامل کرے کہ وہ بالخصوص عذابِ قبر سے بچانے کو اکسیراعظم ہے۔ اس کانام واقعہ مانعہ منجیہ ہے۔ حفاظت کرنے والی، عذاب دفع کرنے والی، نجات دینے والی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۰۱ تا ۲۰۴: از شفا خانہ فرید پور، ڈاکخانہ خاص اسٹیشن پتمبر پور ضلع بریلی مسئولہ عظیم اللہ کمپاونڈر ۷ رمضان ۱۳۳۹ھ
(۱) زید کو گیارھویں شریف کس طریقے سے کرنی چاہئے؟ آیا اس کو دل میں یہ نیت یا خیال کر نا چاہئے یا سمجھنا چاہئے کہ یہ کھانا اللہ تعالٰی کے لیے کرتا ہوں، او رجو کچھ ثواب ملے وہ ثواب گیارھویں والے میاں صاحب کو پہنچے، یا اس خیال او ر نیت سے کرے کہ یہ کھانا میں گیارھویں شریف والے میاں صاحب کو کرتا ہوں وہ مجھ سے خوش او رراضی ہوں گے اور اللہ تعالٰی سے دعاکریں گے یا مجھ کو اس کا بدلہ دیں گے، اس طریقہ سے جائز ہے یا ناجائز؟
(۲) فاتحہ دینا کس طریقہ سے جائز ہے، کھانے کے اوپر سے دعاکریں گے جائز ہے یا نہیں؟ جس کھانے پر زید کوفاتحہ دینا ہے اس کو تناول کرنے کے بعد یعنی کھانا چکنے کے بعد فاتحہ دینا جائز ہے یا ناجائز؟
(۳) زید کے پاس ایک شخص تین جگہ بتاسے لایا کہ ایک پر اللہ رسول کے نام پر فاتحہ دے دو، دوسری جگہ یوسف علیہ الصّلٰوۃ والسلام کی تیسری جگہ محلہ میاں صاحب کی بعد فاتحہ کے ان بتاسوں کو کھانا جائز ہے یانہیں؟
(۴) امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نام کا شربت کرنا اور پینا جائزہے یا نہیں؟ اور اگر جائز ہے تو کس طریقہ سے کرنا اور پینا چاہئے او رکیا نیت ہونا چاہئے؟
الجواب
(۱) یہ دو طریقے نہیں بلکہ ایک ہی طریقہ ہے۔ حضور غوث پاک رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لیے ہونے کے یہ معنی نہیں کہ خود یہ کھانا حضور کے واسطے ہے، بلکہ قطعاً ثواب ہی مراد اور ان کی رضا جوئی او ران سے حسن جزا اور نیک دعا کی طلب، ان میں سے کوئی بات شرعاً ممنوع نہیں۔
(۲) کھانے پر فاتحہ جائز ہے، قبل کھانے کے بھی اور بعد بھی، اور قبل دینے میں ایصال ثواب میں تعجیل ہے اور تعجیل خیر خیر ہے۔
(۳) فاتحہ یعنی ایصال ثوا ب ہے۔ اور اللہ عزوجل کے نام کی فاتحہ ہونا بے معنٰی ہے، و ہ ثواب سے پاک منزّہ ہے۔ باقی یہ تین متفرق فاتحہ ہونے نے بتاسوں کو کیوں ناجائز کردیا۔
(۴) نیت ایصال ثواب کی ہو اور یا وغیرہ کو دخل نہ ہو، ا س کے جواز میں کوئی شبہہ نہیں، شربت کریں اور عرض کریں کہ الٰہی! یہ شربت ترویح رُوح حضرت امام کے لیے کیا ہے۔ اس کا ثواب انھیں پہنچا اورساتھ فاتحہ وغیرہ پڑھیں تو اور افضل ، پھر مسلمانوں کو پلائیں او رمن واذی سے بچیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم