| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز) |
مسئلہ ۱۸۸ تا ۱۹۸: از اودے پور میواڑ محلہ مہاوت دوڑی مرسلہ فتح محمد ورحیم بخش نعلبند ۱۴ رمضان ۱۳۳۸ھ میرے آقا میرے ہادی، حضرت مولٰنا دام اقبالہ، متوفی کے نام پر دونوں وقت مساکین کو کھانا کھلانے اور خیرات کرنے سے مرحومہ کو ثواب ملے گا یا نہیں؟ (۲) مرحومہ کے نام پر ایک پانی کا برتن پرندوں کے پانی کے لیے رکھا ہے اور انھیں اناج بھی ڈالنا ، اور مرحومہ کے نام پر کُتے کو بھی روٹی ڈالنا اس کا ثواب پہنچے گا یا نہیں؟ (۳) بیس روپے کے ہدیہ میں تیس پارے علیحدہ علیحدہ منگاکر مرحومہ کے نام پر مسجد میں نمازیوں کے پڑھنے کے لیے رکھے ہیں، اور فقیر ومساکین کو جوڑا کپڑا بھی دیا جائے تو ان کا بھی مرحومہ کوثواب ہوتا ہے یا نہیں؟ (۴) مرحومہ کی قبر پر دونوں وقت پھول چڑھانا اور اگر بتّی جلانا اور فاتحہ پڑھنا اس سے بھی ثواب ملے گا؟ اور میرے قبر پر جانے کا حال مرحومہ کو معلوم ہوتا ہے یا نہیں؟ (۵) اور میلاد شریف مرحومہ کے نام سے کرنا اس کا بھی ثواب ملے گا ؟ (۶) ربیع الاول کے ماہ ختم ہونے کی پنجشنبہ چاند رات کی صبح کو انتقال ہوا اور دوبجے دفن ہوئی اور بعد مغرب تک قرآن پڑھنے والے کو جمعہ کو سپرد کرنے کے لیے رکھا او ریہ جمعہ میں شریک ہوئے یا نہیں؟ (۷) مرحومہ کو شروع نو ماہ کا حمل تھا ، خون جاری ہوکر انتقال ہوا اور کفن پر بھی خون کا داغ تھا ، گو میّت کو غسل دے دیاتھا مگر وقتِ دفن بھی خون کا داغ نظر آیا، ا س کی نسبت کیا حکم ہے؟ (۸) مرحومہ میرے خواب میں آئیں، ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے چھوٹے چھوٹے بچوں کو پڑھاتے ہوئے نظر آئیں، اور کسی روز خواب میں بنگلے باغیچے میں بیٹھے ہوئے خرش وخُرم دیکھنا ور مجھے صبر کے لیے کہنا اور مجھ سےاپنا حال ظاہر کرنا، یہ معاملہ کیسا ہے؟ کوئی دن خواب میں نہیں ٹلتا۔
الجواب اللہ تعالٰی مرحومہ کو جنت عطافرمائے او رآپ کو صبر جمیل دے۔ لاحول شریف ۶۰ بار پڑھ کر ایک گھونٹ پانی پر دم کر کے پی لیا کیجئے، مساکین کو کھانا کھلانا اور نیک نیت سے خیرات کرنا جس میں نہ محتاج پر احسان رکھا جائے نہ اس کو تکلیف دی جائے، پرندوں کے لیے پانی رکھنا، دانا ڈالنا حتی کہ روٹی دینا ، مسکین کو کپڑا دینا، میلاد شریف پڑھوانا،۔ یہ سب اجر وثواب کی باتیں ہیں ان کا ثواب میّت کو پہنچتا ہے اور و ہ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے دنیا میں دوستوں کے ہدیے سے۔ ملائکہ ان ثوابوں کے نور طبق میں رکھ کر میّت کے پاس لے جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ اے گہری گور والے ! یہ ثواب تیرے فلاں عزیز یا دوست نے تجھے بھیجا ہے۔ قرآن مجید کے پارے پڑھنے کے لیے مسجد میں رکھنے کا صدقہ جاریہ ہے جب تک وہ رہیں گے اور پڑھے جائیں گے اس ر کھنے والے اور میّت کو ثواب پہنچے گا، اور کیسا ثواب پہنچے گا، ہر حرف پر دس نیکیاں، اور صحیح حدیث میں فرمایا :''میں نہیں فرماتا الم ایک حرف ہے بلکہ الف الگ حرف ہے، لام الگ حرف ہے ، میم الگ حرف ہے ۔''۱؎
(۱؎ جامع الترمذی باب ماجاء فی من قرأ حرفا من القرآن امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۱۱۵)
میّت کی قبر پر پھول چڑھانا مفید ہے، وہ جب تک تر ہے رب العزت کی تسبیح کرتا ہے اور میّت کادل بہلتا ہے اگر کوئی بتی جلانا اگر تلاوت قرآن کے وقت تعظیم قرآن کے لیے ہو یا وہاں کچھ لوگ بیٹھے ہوں ان کی ترویح کے لیے ہو تو مستحسن ہے۔ ورنہ فضول اور تضییع مال، میّت کو اس سے کچھ فائدہ نہیں۔ قبر مسلم پر جو زیارت کے لیے جاتا ہے میّت اسے دیکھتا ہے اور اس کی بات سنتا ہے۔ اگر دنیا میں اسے پہچانتا تھا اب بھی پہچانا ہے کہ میرا فلاں عزیز یا دوست میرے پاس آیا۔ اوراگر نہیں پہچانتا تھا تو اتنا جانتاہے کہ ایک مسلمان آیا اور ثواب رسانی کرتا ہے۔ جمہ کو سپرد کرنا کوئی چیز نہیں، نہ غیر جمعہ میں مرنے والے کو اس سے جمعہ مل سکے۔ حمل میں انتقال شہادت ہے۔ صحیح حدیث میں فرمایا:
المرأۃ تموت بجمع شہیدا ۲؎
(عورت جو حمل کی وجہ سے مرے شہید ہے ۔ت)خواب بہت اچھا ہے ان شاء اﷲ ان کے لیے دلیل مغفرت ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ مؤطا امام مالک النہی عن البقاء علی المیّت میر محمد کتب خانہ کراچی ص۲۱۶)
مسئلہ ۱۹۶ تا ۱۹۸: از چمن سرائے سنبھل مرسلہ احمد خان صاحب ۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ : (۱) عشرہ محرم الحرام میں کھانے یاشیرینی یا مالیدہ یا شربت جس قدر میسر ہو رو برو رکھ کر ہاتھ اٹھا کر الحمد شریف قل ہو اللہ شریف ، درود شریف پڑھ کر یہ کہنا کہ نذر اللہ رسول، میں اس کھانے اور جو کھانے اور جو کلام پڑھا ہے اس کا ثواب بروحِ پاک جناب امامین وجمیع شہدائے دشتِ کربلا پہنچانا بخشتا ہوں یہ جائزہے یا نہیں؟ا وریہ کھانا یا جو کچھ فاتحہ کا ہے یہ حق محتاجین ہے یا غنی بھی کھاسکتے ہیں؟ او رشریعت میں شرائط اور صفات محتاج کیا ہیں؟ او رجو شخص مسلمان ہو کر نذر ونیاز بزرگانِ دین کو حرام بتائے بلکہ یہ کہے کہ شربت سبیل جناب امام حسین عالی مقام کا نعوذ باﷲ مثل پیشاب ہے، ایسا کہنے والا مسلمان ہے یا نہیں؟ اور ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ او سلام یا مصافحہ ایسے شخص سے کرے یا نہیں؟ (۲) تیجہ ، دسواں، چہلم، ششماہی، برسی جائز ہے یا نہیں؟ او رروحیں ان ایما میں اتی ہے یا نہیں؟ او راپنے عزیزوں کا ان کو علم ہوتا ہے یا نہیں؟ اور کھانا ان کی فاتحہ کا کس کا حق ہے؟ اور اگر فاتحہ دلانے والا خود محتاج ہے تو فاتحہ دلا کر خود کھالے اور بچوں کو کھلائے تو جائز ہے یا نہیں؟ او رالفاظ ثواب رسانی کیا ادا کرے ؟ا ور اگر غنی فاتحہ دے او رثواب پہنچائے بروحِ اموات، تو ثوا ب کھانے او رفاتحہ کا فوراً اس میّت کو پہنچے گا یا ایک عبادت کا؟ اگر محتاجین کو کھانا فاتحہ دے تو نیت پر ثواب پہنچایا نہیں؟ اگر محتاج ایسے نہ ملیں جن پرشرائط محتاج ثابت ہوں تو پھر کھانا کسے دے اور کہاں صرف کرے؟ اور حضرت رسول خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اور حضور کے صحابہ نے فاتحہ دی یا نہیں؟ اور تیجہ صحابہ میں ہوتا رہا یا نہیں؟ (۳) قبر اہل۔ اﷲ پر شامیانہ چڑھانا یا شیرینی نزد قبر رکھ کر ایصال ثواب کرنا یا چراغ نز د قبر جلانا یا عروس کرناجائز ہے یا حرام ہے؟
الجواب (۱) شیرینی وغیرہ پر حضرت شہدائے کرام کی نیاز دینا بیشک باعثِ اجرو برکات ہے اور عشرہ محرم شریف اس کے لیے زیادہ مناسب، اور جبکہ وہ منّت مانی ہوئی نہ تو اغنیاء کو بھی اس کا کھانا جائزہے۔ اور وقت فاتحہ کھانا سامنے رکھنے کی ممانعت نہیں مگر اسے ضروری جاننایایہ سمجھنا کہ بے اس کے فاتحہ نہیں ہوسکتی یا ثواب کم ملے گا، غلط وباطل خیال ہے ۔ فاتحہ پڑھ کر جب ایصال ثواب کاوقت جس میں دعا کی جاتی ہے کہ الٰہی! یہ ثواب فلاں کو پہنچا، س وقت ہاتھ اٹھا نا چاہئے کہ یہ دعا کی سنت ہے۔ جس وقت تک قرآن مجید کی تلاوت کررہا ہے ہاتھ اُٹھانے کی حاجت نہیں۔ ہاں سورۃ فاتحہ شریف خود دعاہے، یوں ہی درود شریف، حدیث میں فرمایا:
افضل الدعاء الحمد اﷲ ۱؎
( سب سے افضل دعا الحمد اﷲ ہے ،ت) او ر قل ھواللہ شریف ذکر حمد الٰہی ہے۔
(۱؎ سنن ابن ماجہ باب فضل الحامدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۸) (المستدرک علی الصحیحین کتاب الدعاء دارالفکر بیروت ۱ /۴۹۸)
اور علماء فرماتے ہیں: کُل دعا ذکر او رکل ذکر دعا، تو وہ بھی دعاہے ۔ اس نیت سے ان کے بڑھتے وقت ابتداء ہی سے ہاتھ اٹھائے توضروربجا ہے اور اکا بر کو ثواب رسانی میں بخشنے کا لفظ کہنا بیجا ہے بخشنا بڑے سے چھوٹے کے لیے ہوتا ہے اور ایصال ثواب میں نذر اﷲ نہ کہنا چاہئے، اﷲ عزوجل اس سے پاک ہے کہ ثواب اسے نذر کیا جائے، ہاں نذرِ رسول اﷲ کہناصحیح ہے۔ معظمین کی سرکار میں جو ہدیہ حاضر کیا جاتا ہے اسے عرف میں نذر کہتے ہیں، جیسے بادشاہوں کو نذر دی جاتی ہے، اولیاء کی نذر کے بہت ثبوت ہمارے فتاوٰی افریقہ میں ہیں۔ او رتازہ ثبو ت یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب انسان العین فی مشائخ الحرمین میں حالِ سید عبدالرحمن ادریسی قدس سرہ، میں فرماتے ہیں :
از اطراف دیار اسلام نذور برائے وے می آوردند ۱؎ ۔
مسلمان علاقوں سے ان کے لے نذریں پیش کی جاتی ہیں (ت)جو مالک نصاب نہ ہو شرعاً اسے محتاج کہتے ہیں، جو نذر ونیاز کو حرام بتائے اور شریعت نیاز کی نسبت وہ ناپاک ملعون لفظ وہ نہ ہوگا مگر وہابی، اور وہابیہ اصلاً مسلمان نہیں اور ان کے پیچھے نماز باطل محض ، اوراس سے مصافحہ حرام اور اسے سلام کرنا جائز وگناہ۔
(۱؎ انسان العین فی مشائخ الحرمین )