Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
141 - 243
مسئلہ ۱۸۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میّت کے تیسرے دن مسلمانوں کا جمع ہوکر قرآن مجید و کلمہ طیبہ پڑھنا اور چنوں وغیر  پر کچھ پڑھ کر تقسیم کرنا، جسے سوم یا تیجا کہتے ہیں جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب

صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ نیک اعمال کا مردہ کو ثواب پہنچتا ہے۔ اور یہ بھی حدیثوں میں آیا ہے کہ وہ ثواب پا کر خوش ہوتا ہے اور ثواب کا منتظر ہوتا ہے اور ثواب پہنچنے کا منتظر رہتا ہے، تو قرآن شریف وکلمہ طیبہ پڑھ کر ثواب پہنچانا اچھی بات ہے اور تیسرے دن کی خصوصیت بھی مصالح عرفیہ شرعیہ کی بنا پر ہے۔ اس میں بھی حرج نہیں، حدیث میں ہے :
صوم یوم السبت لالک ولاعلیک ۱؎
 ( سنیچر کے  روزہ میں نہ تیرے لیے کوئی مزید فائدہ ہے نہ کوئی نقصان۔ ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    حدیث انصماء بنت بسرا رضی اﷲ عنہا    دارالفکر بیروت    ۶ /۳۶۸)
اور جو کچھ تقسیم کیا جائے محتاجوں کو دیاجائے کہ یہ بھی ثواب کی بات ہے، غنی لوگ اس میں سے نہ لیں، باقی جوبیہودہ باتیں لوگوں نے نکالی ہیں مثلاً  اس میں شادی کے سے تکلفات کرنا، عمدہ عمدہ فرش بچھانہ، یہ باتیں بیجاہیں، اور اگر یہ سمجھتا ہے کہ ثواب تیسرے دن پہنچتا ہے  یا اس دن زیادہ پہنچے گا اور روزکم، تو یہ عقیدہ بھی اس کا غلط ہے۔ اسی طرح چنوں کی کوئی ضرورت نہیں، نہ چنے بانٹنے کے سبب کئی برائی پیدا ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۶: از کرہ ڈگسائی ضلع شملہ بمعرفت کمال الدین مرچنٹ مرسلہ حبیب اللہ ۹ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لوگ جو کہتے ہیں کہ کھانے کے اوپر کلام الٰہی یعنی الحمد اور قل ہواللہ  پڑھنا منع ہے، ا ور پڑھنے سے طعام حرام ہوجاتا ہے، لہٰذا امیدوار ہوں کہ کلام الٰہی سے کھانا کیوں حرام ہوگیا، اور کلام الٰہی کیا ایسا خراب  ہے جس کے  پڑھنے سے حلال چیز حرام ہوجائے ؟
الجواب

فاتحہ بیشک جائز ہے ۔ وہ مسلمان میّت کو نفع  پہنچنا ہے، اور فرض کے بعد کوئی چیز مولٰی تعالٰی کو اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں کہ مسلمان کو نفع  پہنچایا جائے۔

حدیث میں ہے :
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۲؎ ۔
جو  اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہو تو چاہئے کہ اسے نفع پہنچائے ۔ (ت)
 (۲؎ صحیح مسلم        باب استحباب الرقیۃ من العین        نور محمد اصح المطابع کراچی    ۲ /۲۲۴)
دوسری حدیث میں ہے :
احب الاعمال الی المولٰی تعالٰی بعد الفرائض ادخال السرور فی قلب المسلم ۱؎ ۔
اﷲ تعالٰی کی بارگاہ میں فرائض کے بعد سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ مسلمان کا دل خوش کرے (ت)
 (۱؎ مرقات المفاتیح     عن ابن عباس بحوالہ الطبرانی    کتاب الاد ب    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۸ /۷۵۳)

(مجمع الزوائد    بحوالہ الطبرانی لاوسط        باب فضل قضاء الحوئج    دارالکتاب بیروت    ۸ /۱۹۳)

(الترغیب والترہیب    کتاب البروالصلۃ                مصطفی البابی مصر        ۳ /۳۹۴)
جو لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجید پڑھنے سے کھانا حرام  ہوجاتا ہے وہ کذاب ہیں ،۔ شرع مطہرہ پر افتراء کرتے ہیں، قرآن مجید میں ہے ایسے لوگ فلاح نہ پائیں گے ان کے لیے سخت عذاب ہے ۔ حدیث شریف میں ہے : ان  پر  زمین و آسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔
من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السماء والارض ۲؎ ۔
جو  بغیر علم کے فتوٰی دے اس پر اسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت ہو۔ (ت)
 (۲؎ کنز العمال     بحوالہ ابن دساکر عن علی    حدیث ۲۹۰۱۸    موسستہ الرسالہ بیروت     ۱۰ /۱۹۳)
ایسے لوگوں کے  پاس بیٹھنا جائز نہیں۔ حدیث میں ہے :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۳؎ ۔
ان سے دور  رہو اور ان کو اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں (ت)
 (۳؎ صحیح مسلم        باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ        قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۰)
مسئلہ ۱۸۷: از الہ آباد مسئولہ محمود مستری صاحب ۱۳۳۲ھ

اپنے بزرگوں وں کے نام پر کھانا پکوا کر اس کو آگے رکھ کر، پانی وغیرہ رکھ کر فاتحہ دینا جائز ہے یا نا جائز؟ موافق حدیث شریف نیت گیارھویں شریف کر کے فاتحہ پیران پیر صاحب کی جائز ہے یانہیں؟ کس کا طریقہ ہے؟ یاسنت ہے؟ فقط
الجواب

امواتِ مسلمین کے نام پر کھانا پکاکرا یصال ثواب کے لیے تصدق کرنا بالا شبہہ جائز ومستحسن ہے اور اس پر فاتحہ سے ایصال ثواب دوسرا مستحسن ہے ، اور دو چیزوں کو جمع کرنا زیادتِ خیر ہے۔ اور پانی سے بھی ایصال ثواب کرسکتے ہیں ۔ بلکہ حدیث میں ہے:
افضل الصدقہ سقی الماء ۴؎ ۔
سب سے بہتر صدقہ پانی پلاناہے۔
 (۴؎ الدار المنشور    زیر آیۃ افیضوا علینا من الماء الخ            مکتبہ آیۃ اللہ العظمی قم ایران    ۳ /۹۰)
ایک حدیث میں ہے: جہاں پانی نہ ملتاہو کسی کو پانی پلانا ایک جان کو زندہ کر نے کی مثل ہے اور جہاں پانی ملتا ہو وہاں پلانا غلام کو آزاد کرنے کے مثل ہے
اوکما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
 ( جیسا کہ سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے ۔ت) یوں ہی گیارھویں شریف جائز ہے اور باعث برکات اور وسیلہ مجربہ قضاء حاجات ہے۔ اورخاص گیارھویں کی تاریخ کی تخصیص خصیصِ عرفی اور مصلحت پر مبنی ہے جبکہ اسے شرعاً واجب نہ جانے،
کمابیناہ فی فتاوٰنا وقد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صوم یوم السبت لالک ولاعلیک ۱؎
 (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ۔ اور  حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے شنبہ کا روزہ تیرے لیے زیادہ نافع نہ کچھ مضر ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل        حدیث انصماء بنت بسرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا    دارالفکر بیروت    ۶ /۳۶۸)

(الجامع الصغیر مع فیض القدیر    حدیث۵۱۳            دارالمعرفۃبیروت    ۴ /۲۳۰)
Flag Counter