Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
140 - 243
مسئلہ ۱۸۴: از  بغداد شریف، آرمرڈ کا ر ٹینک کو مسئولہ علی رضا خاں فٹر مستری ۷ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ فاتحہ دلانہ شرع سے جائز ہے یا نہیں؟ کوئی ایسی حدیث لکھ دیجئے جس سے یہ ثابت ہو کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اسی طرح فاتحہ دلائی تھی؟ بینوا توجروا
الجواب

فاتحہ دلانہ شریعت میں جائز ہے۔ درمختار میں ہے :
الاصل ان کل من ابی بعبادۃ مالہ جعل ثوابہا لغیرہ وان نواھا عند الفعل لنفسہ لظاھر الادلۃ ۱؎ ۔
اصل یہ ہے کہ جو کوئی عبادت کرے اسے اختیار  ہے کہ اس کا ثواب دوسرے کے لیے کردے اگر چہ ادائے عبادت کے وقت خود اپنے لیے کرنے کی نیت رہی ہو، ظاہر دلائل سے یہی ثابت ہے ۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الحج عن الغیر    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۸۱)
ردالمحتار میں ہے :
سواء کانت صلٰوۃ اوصوما اوصدقۃ اوقراءۃ ۲؎ ۔
خواہ نماز ہو یا روزہ یا صدقہ یا قراءت ۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار   باب الحج عن الغیر ادارۃ الطباعۃا لمصریۃ مصر    ۲ /۲۳۶)
اور جس طرح مدار اور خانقا ہیں اور مسافر خانے بنائے جاتے ہیں او رسب مسلمان ان کو فعل ثواب سمجھتے ہیں، کیا کوئی ثبوت دے سکتا ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس طرح بنوائے تھے، یا کوئی ثبوت دے سکتا ہے کہ فاتحہ جس طرح اب دی جاتی ہے جس میں قرآن مجید اور کھانے دونو ں کا ثواب میّت کو پہنچاتے ہیں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ اور جب ممانعت کا ثبوت نہیں دے سکتا اور بیشک ہر گز نہیں دے سکتا توجس چیز سے اﷲ ورسول نے منع نہ فرمایا دوسرا کہ منع کرے گا اپنے دل سے شریعت گھڑے گا۔
ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون۔ متاع قلیل ولھم عذاب الیم ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
بیشک جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگام، تھوڑا برتنا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ القرآن      ۱۶ /۱۷ ۔ ۱۱۶)
Flag Counter