(۱؎ درمختار باب الحج عن الغیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۸۱)
سواء کانت صلٰوۃ اوصوما اوصدقۃ اوقراءۃ ۲؎ ۔
خواہ نماز ہو یا روزہ یا صدقہ یا قراءت ۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الحج عن الغیر ادارۃ الطباعۃا لمصریۃ مصر ۲ /۲۳۶)
اور جس طرح مدار اور خانقا ہیں اور مسافر خانے بنائے جاتے ہیں او رسب مسلمان ان کو فعل ثواب سمجھتے ہیں، کیا کوئی ثبوت دے سکتا ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس طرح بنوائے تھے، یا کوئی ثبوت دے سکتا ہے کہ فاتحہ جس طرح اب دی جاتی ہے جس میں قرآن مجید اور کھانے دونو ں کا ثواب میّت کو پہنچاتے ہیں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ اور جب ممانعت کا ثبوت نہیں دے سکتا اور بیشک ہر گز نہیں دے سکتا توجس چیز سے اﷲ ورسول نے منع نہ فرمایا دوسرا کہ منع کرے گا اپنے دل سے شریعت گھڑے گا۔
ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون۔ متاع قلیل ولھم عذاب الیم ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
بیشک جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگام، تھوڑا برتنا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔