(۳؎ فتاوٰی شاہ رفیع الدین)
ثم اقول بلکہ اگر اینجار خود ہیچ مصلحتے دینی بناشد تاعدمِ وجود مفسدت نیست کہ موجب انکار این کار شود ورنہ مباح کجارود۔ امام احمد در مسند بسند حسن از خاتونے صحابیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا راوی ست حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود صیام السبت لالک ولاعلیک ۱؎ روز ہائے روز شنبہ نہ مرتراست نہ بر توعلماء درشرحش فرمایند لالک فیہ مزید ثواب ولاعلیک فیہ ملامہ ولا عتاب ۲؎ نہ ترا در وے افزونی ثوابے نہ برتو دروے ملامتے وعتاب۔ روشن شد کہ تخصیص بے مخصص اگر نافع نیاید مضر ہم نباشد ،وھو المراد۔
ثم اقول بلکہ اگر یہاں خود کوئی دینی مصلحت نہ ہو (تو بھی حرام نہیں ہوسکتا) کیونکہ مصلحت نہ ہونے کا معنٰی یہ نہیں کہ مفسدہ موجودہ ہے کہ باعثِ انکار ہوجائے ورنہ مباح کہا جائے گا؟ امام احمد مسند میں بسندِ حسن ایک صحابیہ خاتون رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے راوی ہے کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ سنیچر کے روزے نہ تیرے لیے نہ تیرے اوپر __ علماء نے اس کی شرح میں فرمایا: نہ تیرے لیے اس میں کسی ثواب کی زیادتی ہے نہ اس میں تجھ پر کوئی عتاب اور ملامت ہے ___ واضح ہوا کہ بے وجہ تخصیصِ کے خاص کرلینا اگر مفید نہ ہوتو مضربھی نہ ہوگا، اور یہی ہمارا مقصود ہے۔
(۱؎ مسند احمد بن حنبل حدیث امرأۃ رضی اﷲ عنہا دارالفکر بیروت ۶ /۳۶۸)
(۲؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر حدیث ۵۱۲۰ دارالمعرفت بیروت ۴ /۳۳۰)
آرے ہر عامی کہ ایں تعین عادی راتوقیت شرعی داندوگمان بروکہ ایصالِ ثواب درغیراین ایام صورت نہ بندد یاروانہ باشد ایں ایام ازایامن دیگر اتم است وافر بلاشبہہ غلط کار و جاہل ودرین خاطی ومبطل ست، اما این قدرگمان معاذاللہ دراصل ایمان خلل نیارد نہ موجب قطعی ووعید حتمی گردد۔ چنانکہ امام الطائفہ دررتقویۃ الایمان اعتقاد دارد واین جہالتِ فاحشہ او ازجہل آں عامی بدر جہاتبر ست آں از جہلے وجزافے بیش نیست وایں ضلال بعید و اعتزال شدید است ولاحول ولاقوۃ الاّ باﷲ العزیز الحمید۔
ہاں جو عامی شخص اس تعین عادی کو توقیتِ شرعی جانے اور گمان کرے کہ ان کے علاوہ دنوں میں ایصال ثواب ہوگا ہی نہیں، یا جائز نہیں، یا ان ایام میں ثواب دیگرا یام سے زیادہ کامل و وافر ہے، تو بلاشبہہ وہ شخص غلط کار اور جاہل ہے اورا س گمان میں خطا کار اور صاحب باطل ہے ___ لیکن اتنا گمان اصل ایمان میں خلل نہیں لاتا، نہ ہی کسی قطعی عذاب اور حتمی وعیدکا سبب ہوتا ہے جیساکہ امام الطائفہ کا اپنی تقویۃ الایمان میں یہ اعتقاد ہے اور اس کی یہ جہالتِ فاحشہ اس عامی کی جہالت سے بدرجہا بدتر ہے__ وہ ایک نادانی اور اٹکل سے زیادہ نہیں، اور یہ بڑی گمراہی اور شدید اعتزال ہے والاحول والاقوۃ الاّباﷲ العزیز الحمد ___۔
اینجانیز حصہ امام الطائف درسفاہت وسخافت و حمق وجزافت پیداست یقال لھم لیس من یعلم کمن لا یعلم ہمچناں انچہ عوام جہلہ درباب ایصال ثواب امور مستنکرہ احداث کردہ اند مثلاً ریاء وسُمعہ و تفاخرجمع اغنیاء ومنع فقراء وآنکہ ورسوم جماعتے یکجا نشستہ ہرہمہ قرآن بجہر خوانند وفریضہ استماع ازدست دہندایں ہمہ ممنوع ومخطور مکروہ ومحذ درست علما راباید کہ برمفاسد زوائد سرزنش کنند نہ آں کہ باطلاق لسان وسلاطب ز بان اصل کار راز نند،چنانکہ بسیارے از عوام درنماز خصوصاً نوافل کہ تنہا گزارند بعدم مراعات تعدیل ارکان وغیرہ محظورات عدیدہ خوکردہ اند، ایں معنی مستلزم وترہیب می باید کرد، وبرادائے نماز تحریص وترغیب این ست، سخن مجمل و قولِ فیصل کہ خواص آنسود کہ حق این است واز حق نشاید گزشت واﷲ الہادی الٰی سبیل الرشاد والصلٰوۃ والسلام علی المولی الجوادس محمد واٰلہٖ وصحبہ الامجاد، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ، اتم۔
یہاں بھی سفاہت۔ سخافت، حماقت اور جزافت میں امام الطائفہ کا حصہ نمایا ہے، ان سے کہا جائے گا جاننے والا انجان کی طرح نہیں، اسی طرح جاہل عوام نے ایصال ثواب کے باب میں جو جو ناپسندیدہ امور پیدا کرلیے ہیں ___ جیسے نمائش، ناموری، مفاخرت، مالداروں کو جمع کرنا، محتاجوں کو منع کرنا، اور یہ کہ سوم میں ایک جماعت اکٹھا بیٹھی ہے اور سب کے سب بلند آواز سے قرآن پـڑھتے ہیں اور سننے کا فرض ترک کرتے ہیں ، یہ سب ممنوع وناروا ہے ، مکروہ اوربرا ہے ___ علماء کو چاہئے کہ ان زائد مفاسد پر سرزنش کریں نہ یہ پوری بے لگامی اور زبان درازی سے خصوصاً نوافل میں جنھیں تنہا ادا کرتے ہیں تعدیل ارکان وغیرہ کی عدم رعایت جیسے متعدد ممنوعات کے عادی ہیں، یہ حالت اس کو مستلزم نہیں کہ انھیں نماز سے روک دیا جائے ،بلکہ ان بری عادات سے بچانا اور ڈرانا چاہئے اور نماز اداکرنے کی تشویق وترغیب ہونی چاہئے ___ یہ ہے اجمالی کلام اور قولِ فیصل، جو اس طرف کے خواص اور اس طرف کے بعض عوام دونوں پر گراں گزرے گا، مگر کیا کیا جائے کہ حق یہی ہے اور حق سے تجاوز نہیں ہوسکتا ___ اور خدا ہی راہ ہدایت کی جانب ہادی ہے ____ فیاض آقا حضرت محمد اور انکی بزرگ واصحاب پر درود وسلام ہو اور خدائے برتر خوب جاننے والاہے، ور اس ذات بزرگ کا علم سب سے کامل ہے ۔ (ت) ÷