Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۹(کتاب الجنائز)
138 - 243
و عبداللہ  ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ وعظ وتذکیر را روز پنجشنبہ۶؂ کما فی صحیح البخاری  عن وائل وعلماء ہدایت  درس را روز چہار شنبہ ۷؂ کما فی تعلیم المتعلم للامام برھان الاسلام الزر نوجی حکایت کردش ازاُستاد خود امام برہان الدین مرغینانی صاحب ہدایہ وگفت ھکذا کان یفعل ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱؎۔ صاحب تنزیہہ الشریعۃ فرمود وکذا کان جماعۃ من اھل العلم۲؎۔
 (۷) اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے وعظ وتذکیر کے لیے  پنچشنبہ کا دن مقرر کیا، جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت ابوا وائل سے مروی ہے۔(۸) اور علما نے سبق شروع کرنے کے لیے بدھ کا دن رکھا، جیساکہ امام برہان الاسلام زرنوجی کی تعلیم المتعلم میں ہے۔ انھوں نے اپنے استاد امام برہان الدین مرغینانی صاحب ہدایہ سے اس کی حکایت فرمائی اور کہا کہ اسی طرح امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہا کرتے تھے، صاحب تنزیہہ الشریعۃ نے فرمایا اوراسی طرح ایک جماعت کےعلماء کا دستور رہا ہے۔
 (۶؎ صحیح البخاری        باب من جعل لاہل العلم ایاما معلومۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۶)

(۷؎ تعلیم المتعلم        فصل فی بدایۃ السبق            مطبع علیمی دہلی        ص۴۳)

(۱؎ تعلیم المتعلم    فصل فی بدایۃ السبق الخ            مطبع علیمی دہلی        ص۴۳)

(۲؎ تنزیہہ الشریعۃ    باب ذکر البلدانج والایام الخ    فصل ثانی حدیث۲۴    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲ /۵۶)
اینہمہ ہا ازباب توقیت عادی ست حاشاکہ مراد سیدالاسیاد علیہ افضل الصلٰوۃ من الملک الجواد آن باشد کہ زیارت جز  بر منتہائے سال زیارت نیست یا روا نباشد یا اجر عظیم کہ این روز بربندہ نوازی وامت پروری وتشریف مزارات شہدائے کرام بتراب اقدام برکت نظام نصیب آن شاہ عالم پناہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کنندر  وز دیگرنہ کنند ہمچناں مقصودابن مسعود آں نہ بود کہ وعظ جزبروز  پنجشنبہ وعظ نیست یا درغیر اوجواز نے یاروز دیگر ایں اجر مقصود یا شرع مطہر این تعیین نمود، حاش اﷲ، بلکہ ہمیں عادتے التزام فرمودہ تاہر ہفتہ بتذکیر مسلماناں پرداز وتعیین یوم طالبا ن خیر را بآسانی جمع دربعضے ازانہا مرجحی جداگانہ حاصل ست ہمچو وقوع بعثت وحصول علم نبوت در روز دوشنبہ وعظم برکت دربکور  پنچشنبہ درجائے اتمام در بدایت چار شنبہ کہ حدیثے ذکر کنند مامن شیئ بدی، یوم الاربعاء الاتم ۳؎ ودر بعض دیگر ہمیں ترجیح  ارادی ست کہ مصلحت ودروے کم از کم وتیسیرنیست۔ ہم ازیں باب ست تعینات مردم درسوم  و چہلم وشش ماہ سرسال کہ بعضے ازانہار مصلحتے خاص وارد وبعض آخر بقصد آسانی ویاد دہانی معتاد معہود گردید ولامشاحتہ فی الاصطلاح ۔
یہ سب توقیت عادی کے باب سے ہیں، حاشا کہ سید سرداراں علیہ الصلٰوۃ والسلام کی مراد یہ ہےکہ انتہائے سال کے علاوہ کسی دوسرے وقت ، زیارت نہیں، یا جائز نہیں، یا اس دن بندہ نوازی امت پروری اور قدم مبارک کی خاک پاک سے مزاراتِ شہدائے کرام کو شرف بخشنے پر جو اجر عظیم اس شاہ عالم پناہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو عطا ہوگا وہ دوسرے دن نہ ملے گا۔ اسی طرح حضرت ابن مسعود کا مقصود یہ نہ تھا کہ پینچ شنبہ کے علاوہ کسی اوردن وعظ نہیں، یا دوسرے دن اس کا جواز نہیں، یا دوسرے دن یہ اجر فوت ہوجائے گا، شرع مطہر نے یہ تعیین فرمائی تھی۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ یہی ایک عادت مقرر کرلی تھی تاکہ ہر ہفتہ میں مسلمانوں کی تذکیر کا کام انجام دیتے ہیں، اور دن متعین ہونے کی وجہ سے طالبان خیر آسانی سے جمع ہوجائیں___ اسی طرح باقی امور کو قیاس کرو۔ ہاں ان میں سے بعض میں کوئی الگ مرجح بھی موجود ہے۔ جیسے دوشنبہ کے دن بعثت کا وقود اور علم نبوت کا حصول ___ اور پنجشنبہ کو صبح سویرے نکلنے میں عظیم برکت کا وجود   ____ اور چہار شنبہ (بدھ) کو شروع کرنے میں تکمیل کی امید___ کہ یہاں ایک حدیث ذکر کرتے ہیں کہ ''جو کام کی بھی چہارشنبہ کو شروع کیا جائے وہ پورا ہو۔'' اور بعض دیگر میں یہی ترجیح ارادی ہے جس میں کم از کم یاد دہانی اور آسانی کی مصلحت ضرور کار فرما ہے۔ اسی باب سے سوم، چہلم، چھ ماہ، اور انتہائے سال کے تعینات سے جو لوگوں نے جاری کر رکھے ہیں۔ ان میں سے بعض میں کوئی خاص مصلحت بھی ہے اور بعض دیگر آسانی ویاد دہانی کے خیال سے رائج ومعمول ہیں ۔ اور اصطلاح میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ (ت)
 (۳؎ تعلیم المتعلم    فصل فی بدایہ السبق الخ            مطبع علیمی دہلی        ص۴۳)

(تنزیہی الشریعۃ    باب ذکر البلدان والایام الخ    فصل ثانی حدیث ۲۴    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲/ ۵۶)
اینجا کلام مولٰنا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی کہ امام الطائفہ راعم نسب وپدر وجد طریقت بود شنیدن دارد۔ درتفسیر عزیزی زیر قولہ عز وجل والقمر اذا تسق فرمود۔ واردست کہ مردہ درین حالت مانند غریقے ست کہ از انتظار فریاد رسی می برد۔ وصدقات وادعیہ وفاتحہ درین وقت بسیار بکار  او می آید وازین ست کہ طوائف بنی آدم تایکسال و علی الخصوص تایک چلہ ازموت دریں نوع امداد کوشش تمام می نمایند'' ۱؎ اھ
یہاں مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی (جو امام الطائفہ کے نسبی چچا، علمی باپ اور طریقت میں دادا تھے) کا کام سننے کے قابل ہے۔ تفسیر عزیزی میں قولِ باری عزوجل ''والقمر اذا اتسق'' کے تحت فرماتے ہیں: ''وارد ہے کہ مُردہ اس حالت میں کسی ڈوبنے والے کی طرح فریاد رس کا منتظر ہوتا ہے اور اس وقت صدقے، دعائیں اور فاتحہ اسے بہت کام آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ، موت سے ایک سال تک، خصوصاً چالیس دن تک اس طرح کی امداد میں بھر پور کوشش کرتے ہیں۔'' اھ (ت)
(۱؎ تفسیر عزیزی    آیہ والقمر اذا اتسق کے تحت مذکور ہے    لال کنواں دہلی    ص۲۰۶)
ولطیف تر آنکہ شاہ صاحب موصوف عرس پیران وپدراں خودشاں باہتمام تمام بجامی آوردند وپیش ایشاں برقبور درویشاں اجتماع مردم و فاتحہ خوانی وتقسیم طعام وشرینی بتجویز وتقریر ایشاں می شد چنانکہ درعامہ اہل سجادہ جاری و ساری است۔ مفتی عبدالحکیم پنجابی بریں افعال شاہبہ بہماں شبھات  واہیہ کہ حضرات منکرین بکار می برند برشاہ صاحب زبانِ مطاعن ومثالب کشود ورقم نمود ''کسانیکہ اقوال اینہا مطابق افعال شان نیستندی، عرس بزرگاں خودبر خود مثل فرض دانستہ سال بسال برمقبرہ اجتماع کردہ طعام وشیرنیی درانجار تقسیم نمودہ مقابر راوثنا یعبدمی کنند ۱؎ اھ ملخصا
زیادہ پر لطف بات یہ ہے کہ شاہ صاحب موصوف اپنے پیروں اور باپ دادا کا عرس پورے اہتمام سے کرتے تھے اور ان کے سامنے ان کی اجازت سے ، اور ان کے برقرار رکھنے سے درویشوں کی قبروں پر آدمیوں کا اجتماع ، فاتحہ خوانی اور طعام وشیرینی کی تقسیم ہوتی تھی، جیسا کہ سبھی اہل سجادہ میں جاری وساری ہے۔ مفتی عبدالحکیم پنجابی نے ان ہی بے وزن شبہات کے تحت جو حضرات منکرین پیش کرتے ہیں، شاہ صاحب کے ان افعال کے باعث شاہ صاحب زبان لعن طعن دراز کی اور لکھا کہ وہ لوگ جن کے اقوال افعال  کے مطابق نہیں اپنے بزرگوں کا عرس اپنے اوپر فرض کی طرح لازم جان کر سال بہ سال مقبرے پر اجتماع کرکے وہاں طعام وشیر ینی تقسیم کرکے ان مقبروں کو بُتِ معبود بناتے ہیں۔'' اھ ملخصاً (ت)
 (۱؎ مفتی عبدالحکیم پنجابی)
شاہ صاحب در رسالہ ذبیحہ مطبوعہ مجموعہ زبدۃ النصائح بپاسخ ایں طعن فرمایند قولہ ''عرس بزرگان خود آہ ایں طعن مبنی ست برجہل باحوال مطعون علیہ زیراکہ غیر ازفرائض شرعیہ مقررہ راہیچکس فرض نمیداندآرے زیارت وتبرک بقبور صالحین و امدادایشاں باہدائے ثواب وتلاوت قرآن ودعائے خیر وتقسیم طعام وشیرینی امر مستحسن وخوب است باجماع علماء وتعین روز عرس برائے آن ست کہ آن روز مذکر انتقال ایشامی باشد، از دارالعمل بدار الثواب والا ہرروز کہ ایں عمل واقع شود موجبِ فلاح ونجات ست وخلف را لازم ست کہ سلف خود رابایں نوع برواحسان نماید۱؎ ۔ باز تعین سرسال والتزامش راسند از احادیث آور ندکہ ابن المنذرو ابن مردویہ ازانس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ روایت کردند ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یاتی احدا کل عام فاذا بلغ الشعب سلم علی قبور الشھداء فقال سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار ۲؎ یعنی حضور سید عالم صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہر سال باُحد تشریف ارزانی میداشت ، چوں بردرہ کوہ می رسید برگور شہیداں سلام می کردو می فرمود سلام باد بشمابہ شکیبائی شما۔ پس چہ نیکوست سرائے آخرت،
شاہ صاحب ''رسالہ ذبیحہ'' میں جو مجموعہ زبدۃ النصائح میں چھپا ہے اس طعن کے جواب میں فرماتے ہیں ''قولہ عروس بزرگان خود الخ۔ یہ طعن مطعون علیہ کے حالات سے بے خبری پر مبنی ہے اس لیے شریعت میں مقررہ فرائض کے سوا کسی کا م کو کوئی فرض نہیں جانتا۔ ہاں قبور صالحین کی زیارت قرآن ، دعائے خیر اور تقسیم شرینی وطعام سے ان کی امداد باجماع علماء مستحسن اور اچھا عمل ہے ___ اور روز عرس کا تعین اس لیے ہے کہ وہ دن دارالعمل سے دارالثواب کی جانب ان کے انتقال فرمانے کی یاد دہانی کرنے والا ہے ورنہ جس دن بھی یہ کام ہو فلاح ونجات کا سبب ہے۔ اور خلف پر لازم ہے کہ اپنے سلف کے لیے اسی طرح کی بھلائی اور نیکی کرتا رہے۔ پھر سال کے تعین اور اس کے التزام کے سلسلے میں احادیث سے سند ذکر فرمائی کہ ابن المنذر اور ابن مردویہ نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہر سال احد تشریف لاتے، جب درہ کوہ پر پہنچتے تو شہیدوں کی قبر  پر  سلام کرتے اور  فرماتے : تمھیں سلام ہو تمھارے صبر  پر کہ دارِ آخرت کیا ہی عمدہ گھر ہے،
 (۱؎ زبدۃ النصائح)

(۲؎ دمنشور بحوالہ ابن منذر وابن مردویہ    زیر آیۃ سلام علیکم الخ    منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران    ۴ /۵۸)
وامام ابن جریر درتفسیر خودش از محمد بن ابراہیم روایت نمود قال کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یأتی قبور الشہداء علی راس کل حول فیقول السلام علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الدارط وابوبکر وعمر وعثمٰن ۳؎ یعنی سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سر ہر سال برخاک شہداء قدم رنجہ می فرمود می گفت سلام علیکم الآیۃ ۔ بعدہ، حضرت صدیق فاروق وذی النورین نیز ہمچناں میکردند رضی اﷲ تعالٰی عنہم ۔
اور امام ابن جریر نے اپنی تفسیر میں حضرت محمد بن ا براہیم سے روایت کی ہے کہ سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہر سال کے شروع میں شہداء کی خاک پر قدم رنجہ فرماتے اور کہتے تم پر سلام ہو ___ آخر تک __ حضور کے بعد حضرت صدیق و فاروق اور ذی النورین بھی ایسا ہی کرتے ،ر ضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
 (۳؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر)  زیر آیۃ سلام علیکم الخ    مطبعۃ میمینہ مصر        ۱۳ /۸۴)
ودرتفسیر کبیر ست عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یأتی قبور الشہداء راس کل حول فیقول السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدارo والخلفاء الاربعۃ ھکذا کانوا یفعلون ۱؎ یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہر سال بمزار شہداء می  شدو آیہ مذکورہ می خواند وہمچنان حضرات خلفاء اربعہ می کردند رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین۲؎ ۔
اور تفسیر کبیر میں ہے: حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہر سال شہداء کے مزار پر تشریف لے جاتے اور آیۃ مذکورہ پڑھتے ۔ اور اسی طرح حضرات خلفائے اربعہ بھی کرتے۔ رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین ۔ (ت)
 (۱؎ التفسیر الکبیر للرازی    زیرآیۃ سلام علیکم    مطبعۃ البہیۃ الہمصریۃ مصر    ۱۷ /۴۵)

(۲؂ زبدۃ النصائح        )
بالجملہ حق آنست کہ تخصیصات مذکورہ ہمہ تعینات عادیہ است کہ زنہار جائے طعن ملامت نیست۔ این قدر احرام وبدعت شنیعہ گفتن جہلے ست صریح و خطائے قبیح۔ شاہ الدین مرحوم دہلوی برادر مولٰنا شاہ عبدالعزیز صاحب درفتوٰی خودش چہ خوش سخن انصاف گفتہ عبارتش چناں آور دہ اند۔
الحاصل حق یہ ہے کہ مذکورہ تخصیصات سبھی تعینات عادیہ سے ہیں جو ہر گز کسی طعن اور ملامت کے قابل نہیں ۔ اتنی بات کو حرام اور بدعت شنیعہ کہنا کُھلی ہوئی جہالت اورقبیح خطا ہے ۔
مولانہ شاہ عبدالعزیز صاحب کےبھائی شاہ رفیع الدین دہلوی نے اپنےفتاوٰی میں کیا ہی عمدہ انصاف کی بات لکھی ہے۔  ان کی عبارت یُوں نقل کی گئی ہے :
Flag Counter